| عنوان: | معاشرے میں اصلاح کی ضرورت |
|---|---|
| تحریر: | فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان مفتی اعظم، شاہ جہان پور |
حالاتِ حاضرہ کے پیشِ نظر معاشرے میں اصلاح کی اشد حاجت ہے، کیونکہ آج کل ہمارے معاشرے میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا جوش و جذبہ پست ہو چکا ہے، عدل و انصاف کے تقاضے کما حقہ ادا نہیں کیے جا رہے ہیں، والدین، حکام اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار افراد بھی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کا شکار ہیں۔ اسی بے حسی اور لاپرواہی کے نتیجے میں برائیاں عام ہوتی جا رہی ہیں، اور امتِ مسلمہ عزت و وقار کے بجائے زوال، ذلت اور پسماندگی کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ بیماریاں نہ صرف افراد کی شخصیت کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کے امن، سکون، ترقی، اور خوشحالی کو بھی متاثر کر دیتی ہیں۔ اسی لیے ہر مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ذات کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے کی اصلاح میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔
سمجھاؤ! کہ سمجھانا فائدہ دیتا ہے
موقع کی نزاکت کو سمجھ کر حکمت عملی اور پیار و محبت سے سمجھایا جائے، نیکی کی دعوت پیش کی جائے تو اس کا واقعی اثر ہوتا ہے۔
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
ترجمہ کنز العرفان: اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ [پارہ: 3، سورۂ آل عمران، آیت: 104]
دوسرے مقام پر اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ
ترجمہ کنز العرفان: بے شک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کوئی پھیرنے والا نہیں اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں۔ [پارہ: 13، سورۂ رعد، آیت: 11]
اس آیت میں قدرت کا ایک قانون بیان کیا گیا ہے کہ اللہ رب العزت اس وقت تک کسی قوم سے اپنی عطا کردہ نعمت واپس نہیں لیتا جب تک وہ قوم خود اپنے اچھے اعمال کو برے اعمال سے تبدیل نہ کر دے۔ [صاوی: الرعد، تحت الآیۃ: 11]
تیسرے مقام پر ربِ قدیر کا فرمان ہے:
وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ کنز العرفان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ دیتا ہے۔ [پارہ: 27، سورۂ ذاریات، آیت: 55]
علامہ محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ اس آیتِ کریمہ کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیشہ وعظ و نصیحت کرتے رہیے کہ بے شک وعظ و نصیحت سے ایمان والوں کی بصیرت بڑھتی اور ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ [تفسیرِ روح المعانی: پارہ: 27، سورۂ ذاریات، آیت: 55]
معلوم ہوا نیکی کی دعوت دینا کسی بھی وقت نہیں چھوڑنا چاہیے۔ حالات کیسے ہی ہوں، بندہ نیکی کی دعوت اور برائیوں سے منع کرتا رہے ان شاء اللہ عزوجل اس کا فائدہ ہی ہوگا، نقصان نہیں۔
اصلاحِ معاشرہ دین کا بنیادی مقصد ہے
اصلاحِ معاشرہ دین کے اہم اور بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم ترین مقصد ہے۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
الٓر ۚ كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ
ترجمہ کنز العرفان: یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے اجالے میں لاؤ۔ [پارہ: 13، سورۂ ابراہیم، آیت: 1]
معلوم ہوا: قرآنِ کریم کے نزول کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے معاشرے کے افراد کو اندھیرے سے نکال کر نور اور روشنی میں لایا جائے۔ جو کفر کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں، انہیں نورِ ایمان کی طرف لایا جائے، جو گناہوں کے اندھیرے میں ہیں، انہیں نیکی کے نور کی طرف لایا جائے، جو جہالت کی تاریکیوں میں ہیں، انہیں علمِ دین کے نور سے آراستہ کیا جائے، جو بد اخلاقی اور برے کردار کے اندھیرے میں ہیں، انہیں اعلیٰ اخلاق و کردار کے نور کی طرف لایا جائے، جو نفسانی خواہشات کے پیروکار ہیں، انہیں اطاعت و عبادت کے نور کی طرف لایا جائے، جو محبتِ دنیا اور حرصِ مال کے اندھیرے میں ہیں، انہیں فکرِ آخرت کے نور سے آراستہ کیا جائے۔ غرض، معاشرے کا ہر وہ فرد جو کسی طرح کے اندھیرے میں ہے اسے اندھیرے سے نکال کر نور اور روشنی فراہم کرنا یہ نزولِ قرآن کا اہم اور بنیادی مقصد ہے۔ [تفسیرِ خازن: پارہ: 13، سورۂ ابراہیم، آیت: 1]
المختصر: یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح صرف مخصوص افراد کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ جب ہم اپنی اصلاح کریں گے، اپنے اہلِ عیال کو دینی اور اخلاقی اقدار کا مرکز بنائیں گے، دوسروں کے حقوق کا احترام اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں گے اور کرائیں گے تو ہمارا معاشرہ بھی امن، سکون، ترقی، انصاف، محبت، عقیدت، الفت، اور خوشحالی کا گہوارہ بن جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اصلاح کرنے، دوسروں کی بھلائی کا ذریعہ بننے اور ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
