| عنوان: | حیاتِ سیدنا مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ |
|---|---|
| پیش کش: | فقیرِ بارگاہِ مخدومِ سمنان محمد ارمان علی القادری العلیمی |
نام و نسب اور ولادت
تارکُ السَّلطنت، سرکار اوحد الدین، غوثُ العالم حضرت سیدنا مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کی ولادتِ باسعادت تقریباً ۷۰۸ھ میں ایران کے شہر سمنان میں ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق آپ کی ولادت ایک مجذوبِ خدا حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الرحمہ کی دعا کی برکت سے ہوئی۔ آپ کے والدِ گرامی حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الرحمہ سمنان کے بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جلیل القدر ولیِ کامل بھی تھے۔
تعلیم و تربیت
آپ نے بچپن ہی سے دینی ماحول میں پرورش پائی۔ جب آپ کی عمر چار سال، چار ماہ اور چار دن ہوئی تو رسمِ بسم اللہ ادا کی گئی۔ آپ نے قرآنِ مجید حفظ فرمایا اور قراءتِ سبعہ بھی حاصل کی۔ اس کے بعد قلیل مدت میں مروجہ علوم و فنون میں مہارت حاصل کر لی۔
سلطنت سے دستبرداری اور سیر و سیاحت
جب آپ کی عمر مبارک تقریباً سولہ سال ہوئی تو والدِ گرامی کا وصال ہوگیا، جس کے بعد سلطنت کی ذمہ داری آپ کے سپرد ہوئی۔ آپ نے عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کی اور دینِ اسلام کی نشر و اشاعت اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ بالآخر دنیاوی سلطنت کو خیر باد کہتے ہوئے آپ نے باگ ڈور اپنے چھوٹے بھائی کے سپرد کی، والدۂ محترمہ سے اجازت حاصل کی اور مرشدِ کامل کی تلاش میں روانہ ہوگئے۔
سفر کے دوران آپ اوچ شریف پہنچے جہاں حضرت مخدوم سید جلال الدین بخاری المعروف جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ نے آپ کو خرقۂ خلافت سے نوازا اور فرمایا: "حضرت مخدوم علاء الحق آپ کے منتظر ہیں۔" اس کے بعد آپ بہار پہنچے جہاں حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری علیہ الرحمہ کا جنازہ پڑھایا، اور پھر پنڈوہ (بنگال) میں اپنے مرشدِ گرامی حضرت مخدوم علاء الحق گنجِ نبات علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ وہاں آپ نے تقریباً بارہ سال تک عبادت، ریاضت اور مجاہدہ میں مشغول رہ کر باطنی علوم میں کمال حاصل کیا۔
تصنیفی خدمات اور کچھوچھہ شریف کا قیام
مرشد کی اجازت کے بعد آپ نے مختلف علاقوں میں تشریف لے جا کر تبلیغِ اسلام کے فرائض انجام دیے۔ آپ مؤثر خطیب، بلند پایہ عالم اور صاحبِ قلم ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد کتب کے مصنف بھی تھے۔ بالآخر آپ اتر پردیش کے ضلع امبیڈکر نگر کے مشہور قصبے کچھوچھہ شریف تشریف لائے، جہاں آپ نے اپنی خانقاہ قائم فرمائی جو رشد و ہدایت کا عظیم مرکز بنی۔
وصالِ مبارک
وصال سے قبل آپ نے حضرت سیدنا عبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، وصیت نامہ تحریر فرمایا، اور ۲۸ محرم الحرام ۸۰۸ھ کو اس دارِ فانی سے پردہ فرما گئے۔ آپ کا آستانۂ عالیہ آج بھی لاکھوں عقیدت مندوں کے لیے مرجعِ خلائق اور روحانی فیض کا مرکز ہے۔
