| عنوان: | امام ابو بکر ابن ابی عاصم کا تعارف |
|---|---|
| تحریر: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
نام، نسب اور ولادت
امام ابو بکر ابن ابی عاصم کا اسم گرامی احمد، کنیت ابوبکر، ابن ابی عاصم، اور لقب نبیل تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے: أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَاصِمٍ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رَافِعِ بْنِ رَفِيعِ بْنِ زُهْلِ بْنِ شَيْبَانَ الشَّيْبَانِيُّ ہے۔ آپ کی ولادت باسعادت 206 ہجری میں عراق کے مشہور شہر بصرہ کے مشہور قبیلہ بنو شیبان میں ہوئی۔ آپ کا خاندان علمی خاندان خصوصاً علم حدیث میں نہایت لائق و فائق تھا۔
آپ کے دادا ابو عاصم الضحاک بن مخلد رحمۃ اللہ علیہ کا شمار بڑے بڑے حفاظ حدیث اور محدثین میں کیا جاتا تھا اور آپ کے بارے میں آتا ہے کہ یہ ہمیشہ اپنی یاد داشت کی بنیاد پر ہی حدیث بیان کیا کرتے تھے۔
امام ابو داود فرماتے ہیں:
“ابو عاصم تقریباً ایک ہزار عمدہ احادیث حفظ کیے ہوئے تھے۔” [طَبَقَاتُ الْحُفَّاظِ لِلذَّهَبِيِّ، الطَّبَقَةُ السَّابِعَةُ مِنَ الْكِتَابِ، ج: 1، ص: 269، دَارُ الْكُتُبِ الْعِلْمِيَّةِ، بَيْرُوتَ - لُبْنَانَ]
آپ کے نانا امام ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل تبوذکی رحمۃ اللہ علیہ علم کے سمندر تھے۔
عباس بن محمد الدوری کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے سنا، انہوں نے فرمایا:
“میں جب بھی کسی شیخ کے پاس بیٹھا، تو وہ یا تو مجھ سے ڈرتا (مرعوب ہوتا) یا میری عزت پہچانتا تھا۔ صرف ایک شیخ ایسا تھا – یہ أثرم تبوذکی – جس نے نہ مجھ سے رعب کھایا، نہ کوئی خاص وقعت دی۔ میں نے یحییٰ بن معین کے لیے شمار کیا تو ہم نے اس أثرم سے پینتیس ہزار احادیث لکھی تھیں۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 10، ص: 361، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
آپ کے والد عمرو بن ابی عاصم رحمۃ اللہ علیہ نے شام کے شہر حمص میں قضا (عدالت) کی خدمت انجام دی۔ وہ وہیں قاضی کی حیثیت سے 242 ہجری میں وفات پا گئے، بوقت وفات ان کی عمر 60 سال سے کچھ زائد تھی۔ آپ کی والدہ محترمہ اسماء بنت حافظ موسیٰ بن اسماعیل تبوذکی ہیں۔
آپ کے بھائی عثمان بن عمرو بن ابی عاصم بھی علم و فضل میں بلند مقام رکھتے تھے۔
ابن عبدکویہ فرماتے ہیں:
“میں نے عاتکہ بنت احمد بن ابی عاصم کو کہتے سنا: میرے والد فرمایا کرتے تھے کہ میرے بھائی عثمان کو جب سامرہ کی قضا (عدالت) سونپی گئی تو انہوں نے کہا: کیا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے قاضی بن کر بیٹھوں؟ اسی صدمے سے ان کی تلی پھٹ گئی اور وہ وفات پا گئے۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 431، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
تحصیل علم
امام احمد بن عمرو بن ابی عاصم (المتوفی 287ھ) کا شمار محدثینِ کرام کے ممتاز و معتبر طبقہ میں ہوتا ہے۔ آپ نے طلبِ حدیث کے لیے مختلف شہروں کا سفر کیا اور بڑے بڑے محدثین سے استفادہ کیا۔ ان کی علمی سیرت میں طلبِ علم کا مرحلہ ایک روشن باب ہے، جس سے آپ کے شوقِ حدیث، جدوجہد اور بلند علمی مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔
امام ابن ابی عاصم بچپن سے سن بلوغت کے ایام تک فقط عبادت میں مشغول رہے اور سن بلوغت کے بعد آپ نے علمِ حدیث کی طرف رغبت اختیار کی۔
آپ کی بیٹی عاتکہ فرماتی ہیں:
“میں نے اپنے والد (امام احمد بن عمرو بن ابی عاصم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے سترہ سال کی عمر تک حدیث لکھنا شروع نہیں کیا، کیونکہ میں بچپن میں عبادت میں مشغول رہتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے مجھ سے ایک حدیث پوچھی جو مجھے یاد نہ تھی، تو اس نے کہا: ابنِ ابی عاصم ہو کر تمہیں حدیث یاد نہیں؟! پھر میں نے اپنے والد سے اجازت مانگی، انہوں نے اجازت دی تو میں علمِ حدیث کے لیے سفر پر روانہ ہوا۔”
ایک حیران کن بات انہوں نے یہ کہی:
“میں کوفہ سے مکہ روانہ ہوا، پہلا کھانا کوفہ میں کھایا، اور دوسرا مکہ میں جا کر۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 431، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
صلاح الدین صفدی کہتے ہیں:
“آپ نے کوفہ، بصرہ، بغداد، دمشق، مصر، حجاز اور دیگر علاقوں میں کثیر علما سے حدیث سنی۔” [الْوَافِي بِالْوَفَيَاتِ، ج: 7، ص: 176، دَارُ إِحْيَاءِ التُّرَاثِ - بَيْرُوتَ]
مشہور اساتذہ
امام ابن ابی عاصم نے مختلف شہروں کا سفر کیا اور بے شمار اساتذہ سے علم حاصل کیا جن میں سے چند مشہور اساتذہ کے نام درج ذیل ہیں:
1. ابو الولید الطیالسی، 2. عمرو بن مرزوق، 3. ابو عمر الحوضی، 4. محمد بن کثیر، 5. محمد بن ابی بکر المقدمی، 6. شیبان بن فروخ، 7. ہدبہ بن خالد، 8. محمد بن عبداللہ بن نمیر، 9. ابراہیم بن محمد الشافعی، 10. یعقوب بن حمید بن کاسب، 11. ابراہیم بن حجاج السامی، 12. الحوطی عبدالوہاب بن نجدہ، 13. دُحَیم، 14. ہشام بن عمار، 15. ابو بکر بن ابی شیبہ، 16. عبد الاعلیٰ بن حماد، 17. کامل بن طلحہ الجحدری، 18. ابو کامل الجحدری، 19. عبداللہ بن محمد بن اسماء۔ [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 436، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
مشہور تلامذہ
امام ابن ابی عاصم سے روایت کرنے والے چند جلیل القدر ائمہ و حفاظِ حدیث کے صرف نام (بغیر علمی حیثیت بیان کیے، اختصار کے پیش نظر) درج ذیل ہیں:
1. آپ کی بیٹی اُمّ الضحاک عاتکہ، 2. احمد بن جعفر بن معبد، 3. قاضی ابو احمد عسال، 4. محمد بن اسحاق بن ایوب، 5. عبدالرحمٰن بن محمد بن سیاہ، 6. احمد بن محمد بن عاصم، 7. احمد بن بندار الشعار، 8. محمد بن معمر بن ناصح، 9. ابو الشیخ، 10. ابو بکر قبّاب (جو آپ کے آخری وفات پانے والے شاگرد تھے)، 11. ابو عبداللہ محمد بن احمد کسائی۔ [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 437، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
عقیدہ
امام احمد بن عمرو بن ابی عاصم رحمہ اللہ کا عقیدہ نہایت صاف اور اہلِ سنت کے مطابق تھا۔ ان کی مشہور کتاب “السُّنَّة” سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ سلف صالحین کے عقیدہ پر قائم تھے، اور اسی عقیدہ کے دفاع میں سرگرم رہتے تھے۔ انہوں نے سنت کی روشنی میں صفاتِ باری تعالیٰ، ایمان، قرآن، صحابہ کی فضیلت اور دیگر مسائل میں سلف کا موقف اپنایا۔
علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں:
“کتاب السُّنَّة، صفاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں سلف کے طریقے پر احادیث کا مجموعہ ہے۔”
امام صاحب خود فرماتے تھے:
“مجھے پسند نہیں کہ میری مجلس میں کوئی بدعتی، دعوے باز، لعنت کرنے والا، فحش گو، بدزبان، یا امام شافعی اور اہلِ حدیث کے طریقے سے منحرف شخص بیٹھے۔” [الْبِدَايَةُ وَالنِّهَايَةُ، ج: 11، ص: 96، دَارُ إِحْيَاءِ التُّرَاثِ الْعَرَبِيِّ]
فقہی مسلک
جہاں تک فقہی مسلک کا تعلق ہے، تو ابو نعیم الاصبہانی نے کہا:
“وہ ظاہری (ظاہریہ) مذہب کے فقیہ تھے۔” [تَارِيخُ أَصْبَهَانَ = أَخْبَارُ أَصْبَهَانَ، ج: 1، ص: 135، دَارُ الْكُتُبِ الْعِلْمِيَّةِ - بَيْرُوتَ]
لیکن امام ذہبی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
“اس میں نظر ہے، کیونکہ انہوں نے داؤد ظاہری کے رد میں ایک کتاب لکھی، جس میں داؤد کی مردود احادیث کے مقابلے میں چالیس صحیح احادیث جمع کیں۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 431، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
صلاح الدین الصفدی فرماتے ہیں:
“وہ فقیہ، امام، اور ظاہری روایت پر فتویٰ دینے والے عالم تھے، جنہیں زہد و ورع اور عبادت میں مقام حاصل تھا۔” [الْوَافِي بِالْوَفَيَاتِ، ج: 7، ص: 176، دَارُ إِحْيَاءِ التُّرَاثِ - بَيْرُوتَ]
ان تمام باتوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امام ابن ابی عاصم کا کوئی خاص فقہی مسلک (مثلاً حنفی، شافعی، مالکی یا حنبلی) متعین نہ تھا، بلکہ وہ خود مجتہد تھے جو قرآن و حدیث سے مسائل اخذ کرکے فتویٰ دیا کرتے تھے۔
علمائے کرام کے اقوال
امام احمد بن عمرو بن ابی عاصم کے علم، دیانت اور مقام پر بہت سے جلیل القدر ائمہ و محدثین نے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کے چند اقوال درج ذیل ہیں:
ابو بکر بن مردویہ نے فرمایا:
“یہ امام حدیث کے حافظ اور کثیر الحدیث تھے۔ انہوں نے مسند اور دیگر کئی کتابیں تصنیف کیں۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 10، ص: 460، دَارُ الْحَدِيثِ - الْقَاهِرَةُ]
ابن عساکر نے کہا:
“یہ محدث، محدث کے بیٹے اور محدث کے پوتے تھے۔ اصل میں بصری تھے، پھر اصفہان میں سکونت اختیار کی اور وہیں قاضی مقرر ہوئے۔ حدیث کے میدان میں بہت زیادہ تصنیف کی۔ دمشق اور دیگر شہروں کا سفر کیا۔” [بُلُوغُ الْأَمَانِي، ج: 1، ص: 176، دَارُ الْعَاصِمَةِ لِلنَّشْرِ وَالتَّوْزِيعِ، السُّعُودِيَّةُ]
ابو العباس نسوی فرماتے ہیں:
“یہ اہلِ بصرہ میں سے تھے، مسجد کے صوفیہ میں شمار ہوتے تھے۔ اہلِ سنت و حدیث اور عبادت گزار تھے۔ معروف پر امر اور منکر سے نہی کرنے والے تھے۔ یہ ثقہ (قابل اعتماد)، نبیل (عقلمند)، اور عمر رسیدہ تھے۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 10، ص: 460، دَارُ الْحَدِيثِ - الْقَاهِرَةُ]
امام ابن صلاح نے بلوغ الامانی میں فرمایا:
“ثقہ، حافظِ کبیر، وسیع علمی سفر کرنے والے، نفع بخش تصنیفات کے مصنف، زاہد اور متقی تھے۔” [بُلُوغُ الْأَمَانِي، ج: 1، ص: 179، دَارُ الْعَاصِمَةِ لِلنَّشْرِ وَالتَّوْزِيعِ، السُّعُودِيَّةُ]
ابو سعید بن الاعرابی نے اپنی کتاب “طَبَقَاتُ النُّسَّاكِ” میں لکھا:
“جہاں تک ابو بکر بن ابی عاصم کا تعلق ہے، میں نے سنا کہ وہ شقیق بلخی سے منسوب ایک ہزار مسائل کو یاد رکھتے تھے۔ وہ حدیث اور فقہ کے حافظ تھے۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 437، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیر أعلام النبلاء میں فرمایا:
“یہ ایک عظیم حافظِ حدیث، ماہر عالم، آثارِ نبویہ کے پیروکار، اور کثرت سے تصانیف کرنے والے امام تھے۔ اصفہان آئے، وہاں قضا (عدالت) کے عہدے پر فائز ہوئے اور اپنے علم کو پھیلایا۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 10، ص: 460، دَارُ الْحَدِيثِ - الْقَاهِرَةُ]
تذکرۃ الحفاظ میں امام ذہبی نے الْحَافِظُ الْكَبِيرُ، الْإِمَامُ، أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو... إِلَخ ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
“ان کا سفر وسیع تھا اور ان کی تصانیف نفع بخش تھیں۔” [تَذْكِرَةُ الْحُفَّاظِ لِلذَّهَبِيِّ، ج: 2، ص: 158، دَارُ الْكُتُبِ الْعِلْمِيَّةِ، بَيْرُوتَ - لُبْنَانَ]
کتاب العبر میں امام ذہبی لکھتے ہیں:
“ابن ابی عاصم امام، فقیہ، ظاہری مذہب کے حامل، صالح، پرہیزگار، بلند مقام رکھنے والے اور صاحب مناقب (فضائل) تھے۔” [بُلُوغُ الْأَمَانِي، ج: 1، ص: 177، دَارُ الْعَاصِمَةِ لِلنَّشْرِ وَالتَّوْزِيعِ، السُّعُودِيَّةُ]
زہد و تقویٰ اور دیانت داری
امام احمد بن عمرو بن ابی عاصم رحمہ اللہ کو زہد، تقویٰ، ورع اور پاکدامنی میں بہت اونچا مقام حاصل تھا۔
ابو الشیخ نے کہا:
“آپ نہایت پاکیزگی اور عفت کے مقام پر فائز تھے، جو کہ باعثِ تعجب ہے۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 10، ص: 460، دَارُ الْحَدِيثِ - الْقَاهِرَةُ]
ابو الشیخ مزید روایت کرتے ہیں:
“میں نے اپنے بیٹے عبدالرزاق کو ابو عبداللہ کسائی سے روایت کرتے سنا، وہ کہتے ہیں: ‘میں نے ابن ابی عاصم کو یہ فرماتے سنا کہ: جب بصرہ میں علوی فتنے کا واقعہ پیش آیا، میری ساری کتابیں ضائع ہوگئیں، کوئی ایک بھی باقی نہ رہی۔ لیکن میں نے پچاس ہزار احادیث اپنے حافظے سے دوبارہ لکھیں۔ میں ایک بقال (کریانہ والے) کی دکان پر جا کر اس کے چراغ کی روشنی میں لکھا کرتا تھا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ میں نے چراغ کے مالک سے اجازت نہیں لی تھی۔ اس پر میں نے لکھی ہوئی سب تحریریں سمندر میں جا کر دھو دیں، اور دوبارہ انہیں ازبر کر کے لکھا۔’” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 433، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
ابو الشیخ مزید نقل کرتے ہیں:
“میں نے اپنے بیٹے عبدالرزاق سے سنا کہ وہ احمد بن محمد بن عاصم سے نقل کرتے ہیں کہ: ‘میں ابن ابی عاصم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک شخص نے کہا: اے قاضی صاحب! ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ تین اشخاص صحرا میں ریت الٹ پلٹ رہے تھے، ان میں سے ایک نے دعا کی: اے اللہ! تو اس بات پر قادر ہے کہ ہمیں اسی رنگ کی ریت پر رکھا ہوا خبیص (حلوہ) کھلا دے۔ اتنے میں ایک اعرابی (دیہاتی) ہاتھ میں گرم خبیص کا تھال لیے آیا اور ان کے درمیان رکھ دیا۔ ابن ابی عاصم نے فرمایا: “ہاں، یہ واقعہ پیش آیا تھا”۔’ اور پھر فرمایا: ‘وہ تین افراد تھے: عثمان بن صخر الزاہد، ابو تراب، اور میں (ابن ابی عاصم)، اور یہ دعا میں نے کی تھی۔’” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 432، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
اور یہ بھی فرمایا:
“جب سے میں اصفہان میں قاضی مقرر ہوا، تب سے آج تک مجھے قضا کی طرف سے چار لاکھ درہم سے زائد مال ملا، لیکن اللہ تعالیٰ مجھے قیامت کے دن اس کا محاسب نہ فرمائے گا کہ میں نے اس مال سے ایک گھونٹ پانی بھی پیا ہو، یا کھانے کا نوالہ لیا ہو، یا کوئی کپڑا پہنا ہو۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 433، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
مصنفاتِ امام ابن ابی عاصم
ائمۂ حدیث کی طرح امام ابن ابی عاصم کی بھی بہت سی تالیفات ہیں، جن کا تذکرہ تمام سوانح نگاروں نے کیا ہے۔ ان میں سے بعض کتابیں ضائع ہوچکی ہیں اور بعض نایاب نسخوں کی صورت میں کتب خانوں میں موجود ہیں۔ ذیل میں وہ کتابیں درج ہیں جن تک رسائی ممکن ہوئی:
1. الْآحَادُ وَالْمَثَانِي، 2. الْأَشْرِبَةُ، 3. الْأَطْعِمَةُ، 4. الْأَوَائِلُ، 5. التَّوْبَةُ، 6. الْجِهَادُ، 7. الْخِضَابُ، 8. خِلَافٌ فِي السُّنَنِ، 9. الدُّعَاءُ، 10. الدِّيَاتُ، 11. الزُّهْدُ، 12. السُّنَّةُ، 13. الصِّيَامُ، 14. الطِّبُّ وَالْأَمْرَاضُ، 15. عِلَلُ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، 16. الْعِلْمُ، 17. الْفَرَائِضُ، 18. فَضَائِلُ الصَّحَابَةِ، 19. مَعَانِي الْأَخْبَارِ، 20. الْمُخْتَصَرُ مِنَ الْمُسْنَدِ، 21. الْمُذَكِّرُ وَالتَّذْكِيرُ وَالذِّكْرُ، 22. الْمُسْنَدُ الْكَبِيرُ۔ [الْأَوَائِلُ لِابْنِ أَبِي عَاصِمٍ، ص: 40، دَارُ الْخُلَفَاءِ لِلْكِتَابِ الْإِسْلَامِيِّ - الْكُوَيْتُ]
وفات
امام ابن ابی عاصم کی وفات کے بارے میں ابو بکر ابن مردویہ کہتے ہیں: میں نے احمد بن اسحاق کو یہ کہتے ہوئے سنا:
“احمد بن عمرو (ابن ابی عاصم) کا انتقال 287 ہجری میں، ربیع الآخر کی پانچ تاریخ، منگل کی رات کو ہوا۔”
اور انہوں نے ابو الشیخ سے یہ بات نقل کی:
“میں نے ابو بکر (ابن ابی عاصم) کا جنازہ دیکھا، اور اس میں دو لاکھ (200,000) افراد شریک ہوئے، کچھ سواریوں پر سوار تھے اور کچھ پیدل تھے — سوائے ایک شخص کے جو قاضی تھا، اسے جنازہ میں شریک ہونے سے محروم کر دیا گیا تھا، کیونکہ وہ نظریۂ جہمیہ کا قائل تھا (یعنی جَہْم بن صفوان کے عقائد رکھتا تھا، جو معتزلہ کی ایک گمراہ شاخ تھی)۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 435، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
ابو الشیخ روایت کرتے ہیں:
“میں نے اپنے بیٹے عبدالرزاق کو ابو عبداللہ کسائی سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا:
میں نے خواب میں ابن ابی عاصم کو جامع مسجد میں دیکھا، وہ بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔
میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا۔
میں نے کہا:
“کیا آپ احمد بن ابی عاصم ہیں؟”
انہوں نے فرمایا: “ہاں۔”
میں نے پوچھا:
“اللہ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟”
فرمایا: “میرا رب مجھے انس (محبت و سکون) عطا فرماتا ہے۔”
میں نے حیرت سے پوچھا:
“آپ کو آپ کا رب انس دے رہا ہے؟”
انہوں نے فرمایا: “جی ہاں۔”
یہ سن کر میں نے ایک زوردار سسکی لی اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔” [سِيَرُ أَعْلَامِ النُّبَلَاءِ، ج: 13، ص: 436، مُؤَسَّسَةُ الرِّسَالَةِ]
اللہ تعالیٰ امام ابو بکر احمد بن عمرو بن ابی عاصم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
