| عنوان: | آج کا معاشرہ اور ہماری بیٹیاں |
|---|---|
| تحریر: | نغمہ سلامی مرادآبادی |
بیٹی صرف ایک فرد نہیں، بلکہ ایک خاندان، ایک نسل اور ایک معاشرے کی معمار ہوتی ہے۔ آج ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ترقی کی رفتار بہت تیز ہے، مگر اخلاقی اقدار تیزی سے کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، بے پردگی، وقت کا ضیاع اور مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نے نوجوان نسل، خصوصاً لڑکیوں کے لیے نئی آزمائشیں پیدا کر دی ہیں۔
اسلام نے عورت کو عزت، عفت، حیا اور وقار کا تاج پہنایا ہے۔ مسلمان لڑکی کی اصل پہچان اس کا ایمان، اس کا کردار، اس کی حیا اور اس کا علم ہے، نہ کہ اس کی ظاہری نمائش۔ جو بیٹی قرآن سے جڑی ہو، نماز کی پابند ہو، والدین کی فرمانبردار ہو اور اپنے اخلاق کو سنوارنے کی کوشش کرے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری بیٹیاں اپنی صلاحیتوں کو علم، ادب اور دین کی خدمت میں استعمال کریں۔ سوشل میڈیا کو بے مقصد تفریح کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے علم، دعوت اور اچھے اخلاق کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ یاد رکھیں، ایک لمحے کی غفلت انسان کی برسوں کی عزت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جبکہ ایک اچھا کردار نسلوں تک یاد رکھا جاتا ہے۔
اے میری بہن! تمہاری حیا تمہارا زیور ہے، تمہارا علم تمہاری طاقت ہے، تمہارا کردار تمہاری پہچان ہے، اور تمہارا دین تمہاری سب سے بڑی دولت ہے۔ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔
آئیے! عہد کریں کہ ہم اپنے کردار، حیا، عبادت اور علم کو مضبوط کریں گے، اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے، اور ایسا معاشرہ تعمیر کریں گے جس کی بنیاد ایمان، اخلاق اور پاکیزگی پر ہو۔ حیا ایمان کا حصہ ہے، اور باکردار بیٹیاں ہی ایک بہترین معاشرے کی ضمانت ہیں۔
