Loading...

راہِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت و رفعت

راہِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت و رفعت
عنوان: راہِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت و رفعت
تحریر: مولانا عمران رضا عطاری مدنی (بنارس)

مدینۂ منورہ کی وہ مبارک گلیاں کتنی خوش نصیب ہیں جنہیں تاجدارِ کائنات، رحمۃٌ للعالمین ﷺ کے قدمینِ مبارک چومنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ میری جان ان مقدس راستوں پر قربان، جن پر محبوبِ خدا ﷺ تشریف لے کر گزرے۔ آپ ﷺ کی آمد سے وہ راہیں ایسی معطر و معنبر ہوئیں کہ رہتی دنیا تک ان کی فضاؤں میں محبت، رحمت، سکون اور نورانیت کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔

یہ وہی مبارک گلیاں ہیں جن میں کبھی رحمتِ عالم ﷺ کی مبارک چال کے نقوش ثبت ہوئے، جہاں آپ ﷺ کے قدموں کی برکت اتری، جہاں صحابۂ کرام نے آپ ﷺ کی معیت میں چلنے کی سعادت حاصل کی، اور جہاں کی مٹی کو آپ ﷺ کے قدموں نے ایسا شرف بخشا کہ وہ دنیا کی ہر سرزمین سے ممتاز و مکرم ہوگئی۔

عاشقانِ رسول جب ان راستوں پر قدم رکھتے ہیں تو ان کے دل ادب، عقیدت اور محبت سے بھر جاتے ہیں۔ ہر گلی، ہر کوچہ اور ہر راستہ گویا زبانِ حال سے یہ اعلان کرتا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سے محبوبِ ربِّ کریم ﷺ گزرے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ محبت کے نزدیک مدینۂ منورہ کا ذرہ ذرہ، اس کی گلیاں، اس کی فضائیں اور اس کی خاک بھی انتہائی محترم اور جان سے زیادہ عزیز ہے۔

عاشقانِ رسول ﷺ ان مبارک راہوں کی زیارت، ان پر چلنے اور ان کی خاک کو بوسہ دینے کے لیے دعائیں مانگتے اور تڑپتے رہتے ہیں۔ جب کسی خوش نصیب کو ان مقدس گلیوں میں حاضری نصیب ہوجاتی ہے تو وہ اپنے مقدر پر ناز کرتا ہے، اور یہ تصور اس کے دل کو عشق و کیف سے بھر دیتا ہے، اشک جاری کردیتا ہے کہ یہ وہی مبارک راستے ہیں جن سے کبھی میرے آقا و مولیٰ ﷺ گزرے تھے۔

وہ راستے کیسے تھے، ان گلیوں کی پاکیزہ فضائیں کس قدر معطر تھیں، احادیث کی زبانی سنیے!

❶ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا مَرَّ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَجَدُوا مِنْهُ رَائِحَةَ الطِّيبِ، وَقَالُوا: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ هَذَا الطَّرِيقِ»

ترجمہ: رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم جب مدینے کے کسی راستے سے گزر جاتے تو لوگ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی خوشبو کو سونگھتے تھے۔ صحابہ کرام کہتے کہ اس راستے سے نبی مکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم گزرے ہیں۔

اس حدیث کی ترجمانی میں امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا شعر دیکھیے!

گزرے جس راہ سے وہ سیِّدِ والا ہو کر
رہ گئی ساری زَمیں عَنْبرِ سارا ہو کر

یعنی: آقاے دو جہاں صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم جن راہوں سے ایک بار گزر گئے، وہ راستے قیامت تک کے لیے عنبر خالص سے بھی زیادہ خوشبودار ہو گئے ۔

ہمارے خوش بو والے آقا ﷺ کی پہچان کا طریقہ کیا تھا، ❷ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری حدیث میں ہے:

«أَنَّ رَسُولَ الله ﷺ كَانَ يُعْرَفُ بِرَائِحَةِ الطِّيبِ»

ترجمہ: نبی اكرم صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم اپنی مبارک اور پاکیزہ خوشبو کے ذریعے پہچان لیے جاتے تھے۔

اب امامِ اہلِ سنت رحمۃُ اللہ علیہ کا ایک دوسرا شعر نظر نواز فرمائیں اور غور کیجیے کہ آپ نے راہِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت، رفعت اور تقدس کو کس قدر دل نشین، لطیف اور حسین تشبیہ کے ذریعے بیان فرمایا ہے۔

عَنبر زَمیں عبیر ہوا مشک تر غبار!
ادنیٰ سی یہ شناخت تِری رہ گزر کی ہے

یعنی: مدینہ منورہ کی پاکیزہ اور خوشبو دار زمین کی معمولی سی علامت یہ ہے، کہ زمیں عنبر جیسی ہے، ہوا مشک گلاب اور صندل کے مجموعہ خوشبو کی طرح ہے اور آپ کے گلی کوچوں کا گردو غبار کستوری سے بڑھ کر خوشبو دار ہے۔ یہ میرے آقا صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے راستے کی ادنی سی شناخت اور پہچان ہے۔

حاشیہ حدائق بخشش میں ہے: یعنی جس راہ سے حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم گزر فرما ئیں، وہاں کی زمیں عنبر ہو جاتی ہے، ہوا عنبر بن جاتی ہے، غبار مشک تَر ہو جاتا ہے۔ جب صرف گزرنے سے حال یہ ہو جاتا ہے، تو جس گنبدِ خضریٰ میں حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم صدیوں سے آرام فرما ہیں، اس کا رتبہ کیوں نہ عرش سے بڑھ جائے۔

خوشبوئے نبی ﷺ کا عالم کیا تھا، اس کے سامنے دنیا کی خوشبوؤں کی کیا وقعت! ❸ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا اندازِ بیان تو ملاحظہ کیجیے، کہتے ہیں:

«كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ الله ﷺ، فَقَالَ: "ادْنُ مِنِّي" فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَمَا شَمَمْتُ مِسْكًا وَلا عَنْبَرًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ الله ﷺ»

ترجمہ: میں نبی اكرم صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے ساتھ چل رہا تھا کہ فرمایا: مجھ سے قریب ہو جاؤ! جب میں حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم سے قریب ہوا، میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی وہ مبارک خوشبو سونگھی، جو مشک و عنبر میں بھی نہیں ہے۔

[كشف الأستار عن زوائد البزار، ۳/۱۶۱، حديث: ۲۴۷۸ - مذکورہ تینوں احادیث اسی کتاب سے لی گئی ہیں۔]

امام کے تیسرے شعر سے نظر شاداب کریں!

بِھینی خوشبو سے مہک جاتی ہیں گلیاں واللہ
کیسے پھولوں میں بسائے ہیں تمہارے گیسو

یعنی: اے میرے اللہ! تو نے اپنے محبوب کی زلفوں کو کس باغ کے پھولوں سے بسایا، بنایا سنوارا ہے، کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم جدھر جاتے ہیں، تیری ذات کی قسم ہے، کوچہ و بازار مہک جاتے ہیں، اور ایسے کہ دنیا کے کسی پھول سے تو یہ خوشبو ملتی نہیں ہے، یقیناً تو نے جنت کے پھولوں سے ہی زلفِ محبوب کو سنوار ہوگا ۔

شارحِ مشکاۃ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ خوشبو حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے جسمِ اطہر سے ہر وقت مہکتی تھی، بہت تیز تھی، اور دور دور پہنچتی تھی، حتی کہ گلی سے گزرتے تو گھروں والے اندرونِ خانہ محسوس کرلیتے تھے، پھر یہ خوشبو بہت دیر تک پھیلی رہتی تھی، کہ جس گلی سے گزر جاتے، بعد میں بہت دیر تک وہ گلی مہکتی رہتی تھی، کہ بعد میں آنے والے پہچان لیتے، کہ یہاں سے حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم گزر گئے ہیں۔

بلکہ اب بھی روضۂ اطہر پر خصوصًا مواجہہ شریف جہاں کھڑے ہوکر سلام پڑھا جاتا ہے، کبھی کبھی نہایت نفیس خوشبو محسوس ہوتی۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ کبھی کسی کو اپنے گھر میں خصوصًا تہجد کے وقت غیبی خوشبو محسوس ہوتی ہے اس وقت درود شریف پڑھنا چاہیے، یہ خیال کرے کہ یہاں سے حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم گزرے ہیں۔ بعض لوگوں کی وفات کے بعد ایسی خوشبو محسوس ہوتی ہے سمجھو حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم تشریف لائے ہوئے ہیں، اس میت کو لینے آئے ہیں۔

[مرآۃ المناجیح، ۸/۴۵]

ربِ کریم ہمیں بھی اس مبارک خوش بو کا صدقہ نصیب کرے اور ہمارے ظاہر و باطن کو معطر و معنبر فرمائے، آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!