| عنوان: | امام احمد رضا اور فنِ نحو (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | سعدیہ سلطانہ عطاریہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
قاعدة تنازع فعلان سے مسئلہ طاعون کی توضیح
بعض لوگوں نے کہا کہ طاعون کے وقت شہر سے باہر جانا ممنوع ہے۔ اسی شہر میں ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہونا ممنوع نہیں ہے۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رسالہ: "تیسیر الماعون للسكن في الطاعون“ میں نحوی قانون کی روشنی میں حدیث نبوی کی تشریح کرتے ہوئے ثابت فرمایا کہ اس شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر چلا جانا بھی ممنوع ہے اور اس گھر سے بھاگ کر دوسرے گھر میں منتقل ہو جانا بھی ممنوع ہے، گرچہ وہ گھر اسی شہر میں ہو۔
امام احمد رضا نے مقام طاعون سے نہ بھاگنے سے متعلق متعدد حدیثیں نقل کی ہیں۔ تنازع فعلین کے قاعدہ کی روشنی میں مسند احمد بن حنبل اور صحیح بخاری کی روایتوں کی قابل قبول تشریح فرمائی اور مسئلہ حاضرہ کی عمدہ تفہیم فرمائی۔
عن عائشة رضى الله تعالى عنها انها قالت: سألت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم عن الطاعون فاخبرني رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم انه كان عذابًا يبعثه الله تعالى على من يشاء فجعله رحمةً للمؤمنين فليس من رجل يقع الطاعون فيمكث في بيته صابرا محتسبا يعلم انه لا يصيبه الا ما كتب الله له الا كان له مثل أجر الشهيد [مسند احمد بن حنبل، ج 6، ص 52]
ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طاعون ایک عذاب تھا کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا، بھیجتا اور اس امت کے لیے اسے رحمت کر دیا ہے تو جو شخص زمانہ طاعون میں اپنے گھر میں صبر کرے، طلب ثواب کے لیے اس اعتقاد کے ساتھ ٹھہرا رہے کہ اسے وہی پہنچے گا جو خدا نے لکھ دیا ہے، اس کے لیے شہید کا ثواب ہے۔
صحیح بخاری کی روایت میں ہے: ليس من عبد يقع الطاعون فيمكث في بلده صابرا [صحیح البخاری: کتاب الطب، ج 2، ص 853]
ترجمہ: کوئی ایسا بندہ نہیں کہ طاعون واقع ہو، اور وہ اپنے شہر میں صبر کے ساتھ ٹھہرا رہے۔ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا: ”اور بداہتاً معلوم ہے کہ مطلقاً روئے زمین میں سے کسی جگہ وقوعِ طاعون مراد نہیں، تو حدیث بخاری میں فی بلدہ اور حدیث احمد میں فی بیتہ برسبیلِ تنازعِ مملکت واقع دونوں سے متعلق ہیں۔ امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں: "قوله في بلده مما تنازع الفعلان فيه اعنى قوله يقع وقوله يمكث"۔ (آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ”فی بلدہ“ اس میں تنازع فعلین ہے، یعنی يمكث اور یقع کا تنازع ہے۔)“
تو دونوں روایتوں کا مطلب یہ ہوا کہ جس کے شہر میں طاعون واقع ہو، وہ شہر سے نہ بھاگے اور جس کے خود گھر میں واقع، وہ اپنے گھر سے نہ بھاگے، اور حاصل اسی طرف رجوع کر گیا کہ طاعون سے نہ بھاگے۔ شہر یا گھر سے بھاگنا لذاتہ ممنوع نہیں، اگر کوئی ظالم جبار شہر میں ظلماً اس کی گرفتاری کو آیا اور یہ اس سے بچنے کو شہر سے بھاگ گیا، ہرگز مواخذہ نہیں، اگرچہ زمانہ طاعون ہی کا ہو کہ یہ بھاگنا طاعون سے نہ تھا، بلکہ ظلم ظالم سے، اور اللہ عزوجل نیت کو جانتا ہے۔
قانون شرط و جزا سے مسئلہ دعائے افطار کی تشریح
دعائے افطار کب پڑھی جائے؟ اس سوال میں تین صورتیں پیش کی گئیں: (1) افطار سے قبل (2) افطار کے وقت (3) افطار کے بعد۔ فنِ نحو کے قاعدہ شرط و جزا کی روشنی میں حدیث شریف کے الفاظ و عبارات سے امام احمد رضا قادری نے ثابت فرمایا کہ افطار کے فوراً بعد یہ دعا پڑھی جائے گی۔
عن معاذ بن زهرة قال: كان رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم اذا افطر قال الحمد لله الذي اعانني فصمت و رزقنی فا فطرت [شعب الایمان، جلد 3، ص 406]
ترجمہ: حضرت معاذ بن زہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب افطار فرماتے تو یہ پڑھتے: سب حمد اللہ کی جس نے میری مدد فرمائی تو میں نے روزہ رکھا اور مجھے رزق عطا فرمایا تو میں نے افطار کیا۔
مذکورہ بالا احادیث میں ”اذا“ حرف شرط ہے، اور ”قال: اللهم الخ“ جزا ہے، یعنی قول اور مقولہ کا مجموعہ جزا ہے۔ امام احمد رضا نے فرمایا کہ بغیر مقولہ کے کسی قول کا تصور نہیں ہو سکتا۔ جزا اپنی شرط پر مرتب ہوتی ہے، لہذا جزا کا تأخر اور شرط کا تقدم ضروری ہے۔ حدیث شریف میں بتایا گیا کہ جب افطار فرما لیتے، تب آپ دعا پڑھتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ افطار پہلے فرماتے اور دعا افطار کے بعد پڑھتے۔
نحوی قانون سے مسئلہ طلاق کی تفہیم
عربی زبان میں لفظ "نعم" تصدیق اور وعدہ، دونوں معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر کسی خبر کے بعد نعم ہے تو یہ تصدیق ہے، اور اگر امر و نہی کے بعد واقع ہو تو یہ وعدہ کو بتاتا ہے۔ شرعی امور میں اردو اور فارسی زبان میں لفظ "ہاں" کا بھی یہی مفہوم مراد لیا جائے گا۔
سائل نے سوال کیا تھا کہ چند آدمیوں نے مل کر ایک شخص سے کہا کہ تو اپنی اہلیہ کو طلاق دے دے، پس اس کی زبان سے طلاق کی نیت کے بغیر نکل پڑا کہ: ”ہاں، ہاں۔“ امام احمد رضا قادری نے جواب میں تحریر فرمایا: ”جب کہ ان اشخاص نے اس سے طلاقِ زن کی درخواست کی اور اس کے جواب میں اس نے ”ہاں، ہاں“ کہا، طلاق اصلا نہ ہوئی، اگر چہ بہ نیتِ طلاق ہی کہتا ہو کہ لفظ ”ہاں“ جب امر کے جواب میں واقع ہو تو اس کا حاصل وعدہ ہوتا ہے، یعنی ہاں طلاق دے دوں گا اور اس سے طلاق نہیں ہو سکتی۔ ہاں، اگر وہ یوں کہتے کہ تو نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی تو یہ اخبار ہوتا۔ اس کے جواب میں اگر وہ ”ہاں“ کہتا، ضرور وقوعِ طلاق کا حکم دیا جاتا۔“
