| عنوان: | موضوع: عمامہ شریف مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت |
|---|---|
| تحریر: | محمد شاہد علی اشرفی فیضانی |
| پیش کش: | محمد کوثر العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
طبی تحقیق کے مطابق دردِ سر کے لیے عمامہ بہت مفید ہے۔ عمامہ شریف سے دماغ کو تقویت ملتی ہے اور حافظہ مضبوط ہوتا ہے۔ عمامہ شریف باندھنے سے دائمی نزلہ نہیں ہوتا، ہوتا بھی ہے تو اس کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے جو دین و مذہب لے کر تشریف لائے اس کو مذہبِ اسلام کہتے ہیں، اور مذہبِ اسلام کے متبعین کو مسلمان کہا جاتا ہے اور مسلمان کے لیے اللہ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ان کی اتباع و پیروی لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک میں متعدد مقامات پر اپنی محبت واطاعت و پیروی کے ساتھ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت واطاعت و پیروی کو لازم قرار دیا ہے۔ چنانچہ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ. (آلِ عمران، آیت: ۳۱) اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔ (کنزالایمان) وَمَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا (الحشر، آیت: ۷) اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ (کنزالایمان) مذکورہ آیاتِ مقدسہ سے اچھی طرح واضح ہو گیا کہ ایک مسلمان کے لیے اطاعت و محبت الہی کے ساتھ اطاعتِ رسول و محبتِ رسول بھی ضروری ہے۔ بغیر اس کے کوئی مسلمان مسلمان اور مومن کامل ہو ہی نہیں سکتا، یہ دونوں چیزیں ایمان کا جزوِ حصہ ہیں۔ سچی محبت کا تقاضا اور دلیل یہ ہے کہ محبوبِ خدا کی سنتوں کو عملی جامہ پہنایا جائے اور ان کی اتباع و پیروی کر کے ان کے نقشِ قدم پر چلا جائے یہی سچے مومن اور عاشقِ رسول ہونے کی ایک علامت ہے۔ اب مزید اطاعتِ رسول و محبتِ رسول کے حوالے سے چند احادیثِ مبارکہ پیش کی جا رہی ہیں، ملاحظہ ہوں ۔ حدیث (۱)۔ عن أنس لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين. (بخاری شریف، کتاب الایمان، ج: ۱) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، تم میں کا کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور بیٹا اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ حدیث (۲)۔ من رغب عن سنتي فليس مني. (مشکوٰۃ شریف، ص: ۲۷) فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے: جو میری سنت سے منہ موڑے وہ مجھ سے نہیں۔ (یعنی میرا نہیں) حدیث (۳)۔ عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهدين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ. (مشکوٰۃ شریف، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ص: ۳۰) تم پر میری اور میرے خلفائے راشدین مہدین کی سنت لازم ہے، اسے اختیار کرو اور مضبوط پکڑو۔ حدیث (۴)۔ لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به. (مشکوٰۃ، ص: ۳۰) تم میں کوئی مومنِ کامل نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش اس شے کے تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا۔ (یعنی میرے طریقے اور میری سنت کے مطابق نہ ہو جائے ۔) حدیث (۵)۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے بیٹے ! اگر تجھ سے ہو سکے تو صبح و شام اس حال میں کر کہ تیرے دل میں کسی مسلمان کی طرف سے برائی نہ ہو تو تو ایسا کر ...... پھر فرمایا: اے فرزند! اور یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا۔ (مشکوٰۃ شریف، ص: ۳۰) حدیث (۶):- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جو میری امت میں فساد کے وقت میری سنت کو سختی سے پکڑے گا تو اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ (مشکوٰۃ شریف، ص:۳۰) حدیث (۷):- رحمتِ عالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: المتمسك بسنتي عند اختلاف امتي كالقابض على الجمر. (نوادر الاصول، ج:۱، ص:۶۸) یعنی فسادِ امت کے وقت میری سنت کو تھامنے والا آگ کا انگارہ تھامنے والے کی طرح ہوگا۔ آج فتنوں کا دور ہے، مسلمان قسم قسم کے مسائل اور اختلافات میں الجھ کر رہ گئے ہیں اور مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا ترک کر دیا ہے، عصرِ حاضر کے ساتھ شانہ بشانہ چل کر اپنی زندگی گزارنے کو کامیابی تصور کرتے ہیں۔ ایسے نازک دور میں اگر کوئی مسلمان اپنے آقاو مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرتا ہے تو یقیناً وہ اس حدیث کا مصداق ہے کہ ”جو فسادِ امت کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے پکڑے گا تو اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔“ یوں تو مصطفےٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہزاروں پیاری پیاری سنتیں ہیں مگر یہاں پر اختصار کے ساتھ صرف ایک پیاری سنت عمامہ شریف کے فضائل بیان کر رہا ہوں، ملاحظہ فرمائیں۔ (۱) عمامے کے ساتھ ایک جمعہ ادا کرنا بغیر عمامے کے ۷۰ ؍ جمعوں کے برابر ہے۔ (ابن عساکر) (۲) عمامے عرب کے تاج ہیں تو عمامہ باندھو تمہارا وقار بڑھے گا اور جو عمامہ باندھے اس کے لیے ہر پیچ پر ایک نیکی ہے۔ (کنز العمال) (۳) عمامے کے ساتھ دو رکعت نماز بغیر عمامے کے ستر رکعتوں سے افضل ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۳، ص:۷۸) (۴) عمامے کے ساتھ نماز ادا کرنا دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۳، ص:۷۸) (۵) بے شک اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں، جمعے کے روز عمامہ والوں پر (فتاویٰ رضویہ، ج:۳، ص:۷۸) *عمامہ شریف باندھنے کے آداب* : مناسب یہ ہے کہ پہلا پیچ سیدھی جانب جائے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۲۲، ص:۱۱۹) سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عمامے کا شملہ پشت کے پیچھے ہوتا اور کبھی کبھی سیدھی جانب، کبھی دونوں کندھوں کے درمیان دو شملے ہوتے، الٹی جانب شملہ لٹکانا خلافِ سنت ہے۔ (اشعۃ اللمعات، ج:۳، ص:۵۲۸) عمامے کے شملے کی مقدار کم از کم چار انگل اور زیادہ سے زیادہ ایک ہاتھ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۲۲، ص:۱۸۲) عمامے میں سنت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو، نہ چھ گز سے زیادہ ہو اور اس کی بندش گنبد نما ہو۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۲۲، ص:۱۸۶) عمامے کو جب از سرِ نو باندھنا ہو تو جس طرح لپیٹا ہے اسی طرح کھولے اور ایک بارگی زمین پر نہ پھینک دے۔ (فتاویٰ عالمگیری، ج:۵، ص:۳۳) عمامہ شریف قبلہ رو کھڑے کھڑے باندھے۔ (کشف الالتباس فی استنجاب اللباس، ص:۳۵) عمامہ کھڑے ہو کر باندھے اور پاجامہ بیٹھ کر پہنے، جس نے اس کا الٹا کیا وہ ایسے مرض میں مبتلا ہوگا جس کی دوا نہیں۔ (بہارِ شریعت، ج:۳، ص:۲۶۰، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، دعوتِ اسلامی) *عمامہ شریف کے طبی فوائد* : سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی سنت پر دنیاوی اور طبی فوائد حاصل کرنے کے لیے عمل نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے رضاۓ الہی عزوجل کے لیے سنتِ رسول سمجھ کر ہی اپنائیں، اس سے سنت پر عمل کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور انشاء اللہ عزوجل دنیاوی اور طبی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ اب ذیل میں عمامہ شریف کے چند طبی فوائد بھی ملاحظہ فرمائیں: امیرِ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری رضوی فرماتے ہیں کہ: ”طبی تحقیق کے مطابق سر کے لیے عمامہ بہت مفید ہے۔ عمامہ شریف سے دماغ کو تقویت ملتی ہے اور حافظہ مضبوط ہوتا ہے۔ عمامہ شریف باندھنے سے دائمی نزلہ نہیں ہوتا، ہوتا بھی ہے تو اس کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ ننگے سر رہنے والوں کے بالوں پر سردی، گرمی اور دھوپ وغیرہ براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے اس سے نہ صرف بال بلکہ دماغ اور چہرہ بھی متاثر ہوتا ہے اور صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عمامہ شریف کا شملہ نچلے دھڑ کے فالج سے بچاتا ہے کیوں کہ شملہ حرام مغز کو موسمی اثرات مثلاً سردی، گرمی وغیرہ سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ شملہ ”سرسام“ کے مرض کے خطرات میں کمی لاتا ہے ”دماغ کے ورم یعنی سوجن کو سرسام کہتے ہیں۔“ (۳؍ مدنی پھول، ص:۲۵) *سرکارِ دو عالم ﷺ نے کس کس رنگ کا عمامہ شریف باندھا؟* اس بارے میں علمائے محققین و محدثین کا اختلاف ہے، بعض نے کہا کہ سیاہ رنگ کا اور بعض نے سفید بتایا ہے۔ اور محقق علی الاطلاق حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی تحقیق یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں ”دستارِ مبارک آں حضرت ﷺ در اکثر سفید بود، گاہے سیاہ و احیاناً سبز۔“ یعنی نبی کریم ﷺ کا عمامہ شریف اکثر سفید کبھی سیاہ اور کبھی سبز ہوتا تھا۔ (ضیاء القلوب فی لباس المحبوب، ص:۴۷) شیخ محقق کی اس تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ سفید و سبز عمامہ شریف باندھنا بھی سنت ہے۔ پیارے اسلامی بھائیو! آپ کوئی رنگ کا عمامہ شریف سنت سمجھ کر باندھیں سنت ادا ہو جائے گی اس لیے کہ حدیث شریف میں ہے: ”انما الاعمال بالنیات“ (بخاری شریف، ج:۱،) یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ آج اس پیاری سنت عمامہ شریف پر عمل کرنا بہت دشوار ہو گیا ہے۔ آج اس پر عمل کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ انگارا ہاتھ میں لینا۔۔ اگر کوئی اسلامی بھائی اس دور میں اس سنت پر عمل کرنے کے لیے اپنے سر پر سفید و سبز رنگ کا عمامہ شریف سجاتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس پر طرح طرح کے اعتراضات کیے جاتے ہیں اور سنت کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اور معاذ اللہ آج کل تو کچھ ایسے افراد پیدا ہو گئے ہیں جو اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں اور مسلکِ اعلیٰ حضرت پر عمل کرنے والا بتاتے ہیں مگر یہی لوگ جب کسی سنی مسلمان کے سر پر سفید و سبز عمامہ دیکھتے ہیں تو اسے کبوتر اور طوطا کا نام دے دیتے ہیں، کیا یہ سنتِ رسول کا مذاق نہیں؟ کیا یہ سنت کی توہین نہیں؟ اور بعض دیوث بے غیرت تو ایسے جری اور بے باک ہو کر بولتے ہیں کہ یہ سفید و سبز عمامہ والے صلح کلی ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں ان لوگوں سے جو اپنے آپ کو سنی اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کا پاسبان کہتے ہیں۔ کیا یہی مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے کہ سنتوں کا مذاق اڑاؤ اور جس مسلمان کو جو چاہو کہو کہ یہ صلح کلی ہے، یہ گمراہ ہے، یہ فلاں ہے یہ فلاں ہے۔۔۔۔۔۔۔ اے مسلکِ اعلیٰ حضرت کا نعرہ بلند کرنے والو، اپنے آپ کو سنی کہلوانے والو! ذرا ایک لمحہ کے لیے سوچو کہ کیا کبھی امام اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے بھی کسی مسلمان کو کافر، گمراہ یا اور کچھ کہا ہے۔ اعلیٰ حضرت تو اس معاملے میں اس قدر محتاط تھے کہ آپ نے اکابرینِ وہابیہ کو بھی اتنی جلد کافر و گمراہ نہیں کہا، بلکہ آپ نے ان کو کئی مرتبہ مہلت دی۔ مگر جب ان لوگوں نے اپنے عقائدِ کفریہ اور خیالاتِ فاسدہ سے توبہ نہ کی تو پھر آپ نے عشقِ رسول کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر ان لوگوں پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا۔ اب وہ لوگ ذرا سوچیں جو آپسی اختلافات اور فروعی مسائل کی بنیاد پر اپنے سنی مسلمان بھائیوں کو چلتے پھرتے صلح کلی، گمراہ، بددین اور نہ جانے کیا کیا کہہ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے ایمان کی خیر منائیں۔ سچ کہا ہے کسی نے؎ دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ عمامہ شریف باندھنا سرکارِ دو عالم ﷺ کی سنت ہے۔ جب ہم نے اس بات کو تسلیم کر لیا کہ عمامہ شریف سنتِ رسول ہے۔ تو پھر اس سنت کا مذاق اڑانا کیسا؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو ایک طرف تو غلامِ رسول اور محبِ رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف سنتِ رسول کی توہیں کر کے اس کا مذاق اڑا کر رسول اللہ ﷺ کو اذیت اور تکلیف پہنچاتے ہیں۔ آئیے ذیل میں سنتِ رسول کا استہزا کرنے، یا اسے ہلکی سمجھنے والوں کا شرعی حکم ملاحظہ کریں۔ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ عمامہ حضور پر نور سید عالم ﷺ کی سنتِ متواترہ ہے جس کا تواتر یقیناً سرحدِ ضروریاتِ دین تک پہنچا ہے۔ و لہذا علمائے کرام نے عمامہ تو عمامہ ار سالِ عذبہ یعنی شملہ چھوڑنا کہ اس کی فروع اور سنت غیر مؤکدہ ہے، یہاں تک کہ مرقاة میں فرمایا: قد ثبت سی السیر بروایات الصحيحة ان النبي ﷺ كان يرخى عمامه احانا كتفيه و احيانا يلبس العمامة من غير علامة فعلم ان الاتيان بكل واحد من تلك الأمور سنة۔ اس کے ساتھ استہزا کو کفر ٹھہرایا۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۳، ص: ۶۷) حدیثِ متواتر کے انکار پر تکفیر کی جاتی ہے خواہ متواتر باللفظ ہو یا متواتر بالمعنیٰ اور حدیث ٹھہرا کر جو کوئی استخفاف کرے تو یہ مطلقاً کفر ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۶، ص:۳۲) اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی اس عبارت سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ سنتِ رسول کو ہلکا سمجھنا یا اس کے ساتھ استہزا یعنی مذاق کرنا کفر ہے، لہذا وہ لوگ جو عمامہ شریف جیسی سنتِ مبارکہ یا کسی بھی سنت کا مذاق اڑاتے ہیں وہ توبہ کریں ورنہ ان کا ایمان خطرے میں ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو سرکارِ دو عالم ﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کرنے کی توفیقِ خیر عطا فرمائے اور نفس و شیطان کے فتنہ و فساد سے بچائے۔ آمین -
