Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات طیبہ|محمد اسجد رضا قادری امجدی

خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات طیبہ
عنوان: خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات طیبہ
تحریر: محمد اسجد رضا قادری امجدی
پیش کش: محمد عارف رضا قادری امجدی

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت پاک 573ء میں ہوئی۔

آپ کی وفات 22 جمادی الآخر 13ھ مطابق 634ء دوشنبہ کا دن گزار کر مغرب اور عشاء کے درمیان ہوئی۔

آپ کا نام ایام جاہلیت میں عبد الکعبہ تھا۔ پھر اسلام لانے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام عبداللہ رکھا۔

آپ کے والد ماجد کا اسم پاک عثمان بن عامر تھا، ابو قحافہ کنیت تھی۔

آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سلمیٰ بنت صخر تھا، کنیت ام الخیر تھی۔

صدیق کا لقب مبارک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔

آپ کو سب لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے خلیفہ ہیں۔

کچھ جاہل لوگ کہتے ہیں کہ شیر خدا یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پہلے خلیفہ ہیں حالانکہ یہ غلط ہے!

صحیح یہ ہے کہ پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

جو یہ کہتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے خلیفہ ہیں تو وہ گستاخ ابوبکر صدیق ہے۔ گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

رفیقان ملت اسلامیہ

خود بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت دل میں بڑھائیے اور اپنی اولاد کو بھی صدیق اکبر کی محبت کے جام بھر بھر کر پلائیں۔

حضرت مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلے کے نیک لوگ اپنی اولاد کو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی محبت یوں سکھایا کرتے تھے:

كَمَا يُعَلِّمُونَ السُّورَةَ أَوِ السُّنَّةَ.

کہ جیسے قرآن پاک کی کوئی سورت یا سنت مصطفیٰ سکھائی جاتی ہے۔

علامہ حسن رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یار غار محبوب خدا صدیق اکبر کا

الٰہی رحم فرما خادم صدیق اکبر ہوں
تیری رحمت کے صدقے واسطہ صدیق اکبر کا

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصال سے پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے وصیت کی کہ دیکھو جب میرا وصال ہو جائے تو میری میت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے جانا، روضہ اقدس کے سامنے رکھ دینا اور حضور سے کہنا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابوبکر صدیق آپ کی بارگاہ میں حاضر ہے۔ اگر اندر سے اجازت مل جائے تو اندر ہی حضور کے قدموں میں دفن کر دینا اور اگر اجازت نہ ملے تو جنت البقیع میں دفنا دینا۔ آج صدیق اکبر مزار میں بھی حضور کے ساتھ موجود ہیں، سبحان اللہ!

حضور نے فرمایا: میرے اوپر جس نے نیکی کی تھی میں نے اسے بدلہ دے دیا۔ یہ جو میرے ابوبکر صدیق ہیں، ان کو میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لے جاؤں گا اور کہوں گا: مالک! ان کو تو ہی بدلہ عطا فرما۔

حضرت ابوبکر صدیق بہت بڑی شخصیت کا نام ہے۔ جو ان کے صحابی ہونے کا انکار کرے وہ کافر ہے، کافر ہے، کافر ہے۔

حضرت ابوبکر و علی کا زبردست واقعہ

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق آ گئے تو دیکھ کر مسکرانے لگے۔ مولا علی شیر خدا کہنے لگے: ابوبکر! ہنستے کیوں ہو؟ کیا حضور نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن علی جنت کی ٹکٹیں تقسیم کرے گا؟ کہنے لگے: لگتا ہے حضور نے تمہیں پوری بات نہیں بتائی ہے۔ تو ابوبکر کہنے لگے: پوری بات کیا ہے؟ فرمانے لگے: مجھے نبی پاک نے کہا تھا کہ علی! جنت کی ٹکٹ اس کو دینا جو ابوبکر سے محبت کرے۔

ضروری اعلان

22 جمادی الآخر 14 دسمبر کو آپ لوگ اپنے گھروں میں حضرت صدیق اکبر کے نام سے فاتحہ خوانی کا اہتمام کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سچی پکی محبت کرنے کی توفیق و رفیق عطا فرمائے۔ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کرنے کی توفیق و رفیق عطا فرمائے۔ اپنی محبت اور اپنا خوف سینے میں ڈال دے، اپنے محبوب کی محبت سینے میں ڈال دے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!