Loading...

اصلاحِ معاشرہ اور ردِ اوہام

اصلاحِ معاشرہ اور ردِ اوہام
عنوان: اصلاحِ معاشرہ اور ردِ اوہام
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

یہ وہ چند اہم مسائل، دینی احکام اور معاشرتی غلط فہمیاں ہیں جن میں عوام الناس لاعلمی یا کچی باتوں کی وجہ سے مبتلا ہیں۔ مستند فقہی کتابوں کی روشنی میں ان کی حقیقت درج ذیل ہے:

۱۔ طہارت، نماز اور مساجد سے متعلق غلط فہمیاں

ڈھیلے اور پانی کا استعمال: کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈھیلے سے استنجا کرنے کے بعد پانی سے دھونا فرض یا ضروری ہے، حالانکہ پانی کا استعمال افضل اور سنت ہے، شرط یا ضروری نہیں۔

[تفصیل کے لیے دیکھیے: فتاویٰ رضویہ، جلد ۲، صفحہ ۱۶۵]

بے وضو اذان: عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وضو کے بغیر اذان نہیں ہوتی۔ یہ غلط فہمی ہے، بے وضو دی گئی اذان درست ہے اور اس اذان پر نماز بھی ہو جائے گی۔

نماز میں پیر کا انگوٹھا سرکنا: عوام میں مشہور ہے کہ نماز کے دوران اگر داہنے پیر کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ذرا بھی سرک جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، یہ محض جہالت اور غلط فہمی ہے۔

نمازی کے سامنے سے ہٹنا: عام لوگوں میں مشہور ہے کہ نمازی کے سامنے سے "ہٹنا" منع ہے، حالانکہ منع ہٹنا نہیں بلکہ نمازی کے آگے سے "گزرنا" ہے۔

لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھنا: بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پاجامہ یا تہبند کے نیچے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی یا اس میں نقص آتا ہے، یہ غلط ہے، لنگوٹ سے نماز میں کوئی کمی نہیں آتی۔

[فتاویٰ فیض الرسول، جلد ۱، صفحہ ۲۵۲]

عمامہ اور امامت: یہ گمان بھی باطل ہے کہ عمامہ والے مقتدی کی نماز بغیر عمامہ والے امام کے پیچھے نہیں ہوتی، نماز بلا کراہت ہو جائے گی۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۳، صفحہ ۲۷۳]

نسبندی کرانے والے کی امامت: کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ نسبندی کرانے والے شخص کے پیچھے نماز جائز نہیں، حالانکہ اگر وہ علانیہ توبہ کر لے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا بالکل جائز ہے۔

[فتاویٰ فیض الرسول، جلد ۱، صفحہ ۲۷۷]

سینے کی ہڈی کا ظاہر ہونا: یہ مشہور ہے کہ اگر مرد کے سینے کی ہڈی (کپڑا باریک یا کھلا ہونے کی وجہ سے) دکھ جائے تو نماز مکروہ ہو جاتی ہے، یہ پرانے دور کی غیر مستند باتوں پر مبنی غلط فہمی ہے، نماز ہو جاتی ہے۔

پانی کو پانچ انگلیوں سے چھونا: یہ جاہلانہ بات مشہور ہے کہ برتن یا پانی کو پانچ انگلیوں سے پکڑنے سے پانی مکروہ ہو جاتا ہے، اس بات کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔

۲۔ جنازہ، موت اور مزارات سے متعلق احکام

بیوی کے انتقال پر شوہر کے احکام: عوام میں یہ سخت غلط فہمی ہے کہ بیوی کے مرنے کے بعد شوہر نہ اس کا چہرہ دیکھ سکتا ہے، نہ جنازے کو ہاتھ لگا سکتا ہے اور نہ کندھا یا قبر میں اتار سکتا ہے۔ صحیح مسئلہ یہ ہے کہ شوہر کے لیے اپنی متوفی بیوی کو دیکھنا، جنازے کو اٹھانا، کندھا دینا اور قبر میں اتارنا سب جائز ہے۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۴، صفحہ ۹۱]

میت کے بال سنوارنا: بعض جگہ غسل کے بعد تجہیز و تکفین کے وقت میت کے بالوں میں کنگھی کی جاتی ہے، یہ عمل شرعاً ممنوع ہے۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۴، صفحہ ۳۳]

میت یا ولادت والے گھر کی ناپاکی: یہ جاہلانہ وہم ہے کہ جس گھر میں میت ہو جائے یا بچہ پیدا ہو، وہ گھر ناپاک ہو جاتا ہے اور اس کی پوتائی یا خاص صفائی کرنا لازم ہے۔ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں۔

حالتِ نفاس میں وفات: عوام میں مشہور ہے کہ جو عورت ولادت (بچے کی پیدائش) کے وقت مر جائے وہ چڑیل بن جاتی ہے یا جہنمی ہوتی ہے، یہ سراسر کفر و جہالت پر مبنی بات ہے کیونکہ ایسی عورت احادیث کی روشنی میں شہادت کی موت مرتی ہے۔

مرنے کے بعد بھوت بننا: انسان مرنے کے بعد بھوت نہیں بنتا، بھوت یا جنات ایک الگ مخلوق ہیں جنہیں جنات کی قسم کہا جاتا ہے۔

تیجے اور چالیسویں کی عام دعوتیں: میت کے تیجے، دسویں یا چالیسویں کے موقع پر برادری کی عام دعوت کرنا اور مالداروں (اغنیاء) کا وہ کھانا کھانا خلافِ شرع اور ممنوع ہے۔ ہاں، اگر غریبوں اور فقیروں کو بلا کر کھلایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: "مردے کا کھانا صرف فقراء کے لیے ہے، عام دعوت کے طور پر جو کرتے ہیں یہ منع ہے، غنی نہ کھائے۔"

[احکامِ شریعت، حصہ دوم، صفحہ ۱۶]

مزارات پر حاضری کا طریقہ: مزاراتِ اولیاء پر حاضری کے آداب اور درست طریقے کے لیے فتاویٰ رضویہ، جلد ۴، صفحہ ۱۶۳ کا مطالعہ کریں۔

قبرستان میں موم بتی اور لبان: قبروں پر یا قبرستان میں اس نیت سے موم بتی یا لوبان جلانا کہ اس سے میت کو ثواب ملتا ہے، محض ایک غلط فہمی اور جاہلانہ بے وقوفی ہے۔ (اگر اندھیرا ہو تو روشنی کے لیے یا زندہ حاضرین کے لیے خوشبو کا الگ معاملہ ہے، مگر ثواب کا عقیدہ باطل ہے)۔

۳۔ روزہ، اعتکاف اور رمضان کے مسائل

انجکشن سے روزہ: بعض لوگوں میں مشہور ہے کہ انجکشن لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، یہ غلط فہمی ہے۔ انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

[فتاویٰ فیض الرسول، جلد ۱، صفحہ ۵۱۷]

رمضان کی راتوں میں زوجین کے تعلقات: کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ رمضان کی راتوں میں میاں بیوی کا ہم بستری کرنا گناہ ہے، یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ جس طرح رمضان کی راتوں میں افطار سے سحر تک کھانا پینا جائز ہے، اسی طرح ہم بستری بھی بالکل جائز ہے۔

اعتکاف میں مکمل خاموشی: بعض لوگ اعتکاف میں بالکل چپ چاپ بیٹھے رہنے کو ضروری سمجھتے ہیں، حالانکہ اعتکاف میں بلا وجہ خاموش رہنا نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی یہ کوئی عبادت ہے، بلکہ چپ رہنے کو ثواب کی بات سمجھنا مکروہِ تحریمی ہے۔

[بہارِ شریعت، حصہ ۵، صفحہ ۵۳]

من گھڑت روزے اور خرافات: بعض جگہ عورتیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام پر (مخصوص من گھڑت) روزہ رکھتی ہیں، آدھی رات کو افطار کرتی ہیں اور گھر کا دروازہ کھول دیتی ہیں، یہ سب من گھڑت خرافات ہیں جن سے بچنا لازم ہے۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۴، صفحہ ۶۶۰]

۴۔ نکاح، طلاق اور خاندانی مسائل

خطبہٴ نکاح کا وقت: نکاح پڑھانے میں ایجاب و قبول کے بعد خطبہ پڑھنے کا رواج غلط ہے۔ سنت یہ ہے کہ خطبہٴ نکاح، ایجاب و قبول سے پہلے پڑھا جائے۔

حمل میں طلاق: کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر بیوی حاملہ ہو تو حالتِ حمل میں طلاق واقع نہیں ہوتی، حالانکہ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: "جائز و حلال ہے اگرچہ ایامِ حمل میں طلاق دی جائے۔"

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۵، صفحہ ۶۲۵]

طلاق کے وقت عورت کی موجودگی یا سننا: یہ غلط فہمی ہے کہ طلاق کے مؤثر ہونے کے لیے الفاظِ طلاق کا عورت کا سننا یا اس کا سامنے موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر عورت ہزاروں میل دور ہو اور نہ بھی سنے، تب بھی شوہر کے طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۵، صفحہ ۶۱۸]

سمدھن، چچی اور ممانی سے نکاح: کچھ لوگ سمدھن، چچی یا ممانی سے (ان کے شوہر کے انتقال یا طلاق کے بعد) نکاح کو معیوب یا ناجائز سمجھتے ہیں، حالانکہ شرعاً ان سے نکاح بالکل جائز ہے۔

[ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، جلد ۳، صفحہ ۱۰]

زانیہ حاملہ سے نکاح: زنا سے حاملہ ہونے والی عورت سے نکاح کو بہت سے لوگ حرام جانتے ہیں، حالانکہ اس سے نکاح کرنا جائز ہے۔ اگر نکاح کرنے والا وہی شخص ہے جس کا وہ حمل ہے، تو وہ نکاح کے فوراً بعد تعلقات (وطی) قائم کر سکتا ہے۔ لیکن اگر نکاح کرنے والا کوئی دوسرا شخص ہے، تو نکاح تو ہو جائے گا مگر وضعِ حمل (بچے کی پیدائش) سے پہلے وہ اس سے تعلقات قائم نہیں کر سکتا۔

بچوں کی تعداد اور نکاح: عام لوگوں میں یہ مضحکہ خیز بات مشہور ہے کہ اگر کسی عورت کے ۲۰ بچے ہو جائیں تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، یہ محض جاہلانہ اور باطل خیال ہے، نکاح نہیں ٹوٹتا۔

سالی اور بھاوج سے مذاق: بعض لوگ سالی اور بھاوج سے ہنسی مذاق اور بے تکلفی کو جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ سخت گناہ ہے۔ حدیث شریف میں دیور، جیٹھ اور بہنوئی وغیرہ سے پردے کی سخت تاکید آئی ہے (دیور کو موت قرار دیا گیا ہے)۔ لہٰذا عورتوں کا اپنے دیور یا بہنوئی سے اور مردوں کا سالی یا بھاوج سے بے تکلف ہونا اور مذاق کرنا حرام ہے۔

۵۔ پیر و مرید اور بیعت کے مسائل

پیر سے پردہ کا مسئلہ: یہ جو مشہور ہے کہ مریدنی کے لیے اپنے پیر سے پردہ کرنا ضروری نہیں، یہ سخت گمراہی اور غلط فہمی ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: "ہر معاملے میں پیر اور غیر پیر (اجنبی) کا حکم یکساں ہے۔ جوان عورت کو چہرہ کھول کر پیر کے سامنے آنا بھی منع ہے، ہاں بوڑھی عورت جس سے فتنے کا اندیشہ نہ ہو اس میں مضائقہ نہیں۔"

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۲۲، صفحہ ۱۰۲]

پیر کے لیے سید ہونا: عوام میں یہ مشہور ہے کہ پیر کا سید ہونا ضروری ہے، یہ غلط فہمی ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ اگر پیر کے لیے سید ہونا شرط مان لیا جائے تو (معاذ اللہ) تمام سلاسلِ طریقت ہی باطل ہو جائیں گے (کیونکہ بہت سے کبار اولیاء سید نہیں تھے)۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۹، صفحہ ۱۱۴]

بے پیر کا شیطان ہونا: معاشرے میں رائج ہے کہ "جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہوتا ہے" اور اسے لوگ حدیث سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی حدیث نہیں ہے، بلکہ بعض بزرگوں کا قول ہے اور یہاں پیر سے مراد عام رہبر و رہنما (قرآن، حدیث، اجماع اور علمائے دین) ہیں، نہ کہ صرف بیعت والا پیر۔

۶۔ متفرق معاشرتی اوہام، نام اور رسومات

شمال (اتر) کی طرف پاؤں کرنا: عوام میں مشہور ہے کہ اتر کی طرف پاؤں کر کے نہیں سونا چاہیے کیونکہ وہاں قطب تارا ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ جہلاء میں مشہور ہے، ستارے تو چاروں طرف ہیں، اس بنیاد پر پیر کرنا منع نہیں (صرف کعبہ روڈ پیر کرنا منع ہے)۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۱۰]

بلی کا راستہ کاٹنا: یہ وہم کہ اگر بلی راستہ کاٹ جائے تو وہاں رک جانا چاہیے یا راستہ بدل لینا چاہیے، ہندووانہ وہم ہے، اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

نحس تاریخیں اور محرم میں شادی: بعض لوگ کچھ تاریخوں یا مہینوں کو منحوس سمجھتے ہیں اور ان میں شادی بیاہ یا خوشی تقاریب کو ناجائز کہتے ہیں۔ اسلام میں کوئی دن یا مہینہ منحوس نہیں، محرم الحرام میں بھی نکاح و شادی کرنا بالکل جائز ہے۔

امریکی گائے کا گوشت و دودھ: امریکی یا جرسی گائے کے بارے میں لوگ شبہات کا شکار ہیں، حالانکہ وہ بھی گائے ہی ہے، اس کا گوشت کھانا اور دودھ پینا شرعاً بالکل جائز ہے۔

دوا کھاتے وقت بسم اللہ: یہ جاہلانہ بات مشہور ہے کہ دوا کھاتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہیے (کہ بیماری کو برکت ملے گی)۔ یہ غلط فہمی ہے، دوا کھاتے وقت بسم اللہ ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ اللہ کے نام کی برکت سے شفا حاصل ہو۔

صفر کا آخری بدھ: صفر کے مہینے کے آخری بدھ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض سے شفا پائی تھی، اس بات کی کوئی تاریخی یا شرعی حقیقت نہیں، یہ محض عوامی غلط فہمی ہے۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۱۰، صفحہ ۱۱۷]

عیسائیوں کا نیا سال (New Year): بہت سے مسلمان انگریزی نئے سال کی آمد پر خوشیاں مناتے ہیں اور مٹھائیاں بانٹتے ہیں، یہ جائز نہیں کیونکہ یہ اصل میں عیسائیوں کا مذہبی و تہذیبی تہوار ہے۔

قربانی میں والدین کا نام لینا: جن مالداروں پر صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے اپنی قربانی واجب ہوتی ہے، وہ ذبح کے وقت اپنے نام کی بجائے اپنے فوت شدہ یا زندہ ماں باپ کا نام لے کر ان کی طرف سے قربانی کر دیتے ہیں اور اپنی واجب قربانی چھوڑ دیتے ہیں، یہ طریقہ غلط ہے، پہلے اپنی واجب قربانی ادا کریں۔

درختوں پر شہید مرد کا وہم: یہ کہنا کہ فلاں درخت پر "شہید مرد" رہتے ہیں اور وہاں اگر بتیاں یا موم بتیاں جلانا، محض جاہلانہ وہم ہے، اس سے بچنا چاہیے۔

مخصوص نام رکھنا: بچوں کے نام "احمد نبی"، "محمد نبی" یا "رسول احمد" رکھنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے غلط مفہوم کا وہم ہوتا ہے۔ ان ناموں کے شروع میں "غلام" کا لفظ لگانا چاہیے (جیسے غلام احمد، غلام محمد)۔

مچھلی اور ارہر کی دال پر فاتحہ: عوام میں مشہور ہے کہ مچھلی اور ارہر کی دال پر فاتحہ پڑھنا جائز نہیں، یہ غلط فہمی ہے۔ ہر وہ چیز جو شرعاً حلال اور پاک ہے، اس پر فاتحہ دلانا اور ایصالِ ثواب کرنا بالکل جائز ہے۔

سور کا نام لینے سے زبان کی ناپاکی: یہ جو مشہور ہے کہ "سور" کا نام لینے سے زبان ۴۰ دن تک ناپاک رہتی ہے، سراسر غلط فہمی ہے۔ کسی بھی نجس چیز کا صرف نام زبان پر لینے سے زبان ناپاک نہیں ہوتی۔

عورت کا ذبح کرنا: عوام میں مشہور ہے کہ عورت جانور ذبح نہیں کر سکتی یا اس کا ذبح کیا ہوا جانور حرام ہے، یہ جہالت ہے۔ عورت کا جانور ذبح کرنا بالکل جائز ہے اور اس کا ذبح کیا ہوا گوشت کھانا بھی حلال ہے۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد ۸، صفحہ ۱۳۳۸]

دھوبی کے ہاں کھانا پینا: کچھ لوگ دھوبی کے گھر کھانا پینا ناپسند کرتے ہیں یا اسے ناجائز سمجھتے ہیں، یہ غلط فہمی ہے۔ اگر وہ مسلمان ہے اور سنت کا عامل ہے تو اس کے ہاں کھانا کھانے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں۔

خوش خوراکی اور چھینک و جمائی: کچھ لوگ اچھا کھانا کھانے کو (زہد کے خلاف سمجھ کر) ناپسند کرتے ہیں، حالانکہ اچھا اور حلال کھانا اللہ کی نعمت ہے۔ نیز حدیث پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند فرماتا ہے۔

رات میں جھاڑو دینا یا پیسے دینا: رات کے وقت جھاڑو دینے یا کسی ضرورت مند کو پیسے دینے کو منحوس سمجھنا غلط فہمی ہے۔ جب کچرا ہو جھاڑو لگائی جا سکتی ہے اور جب کوئی ضرورت مند ہو اسے رقم دی جا سکتی ہے، اس ممانعت کی کوئی شرعی حقیقت نہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!