| عنوان: | شیر بیشۂ اہل سنت علامہ حشمت علی خاں پیلی بھیتی (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ولادت با سعادت
شیرِ بیشۂ اہل سنت مناظرِ اعظم ہند عبید الرضا مولانا حشمت علی خاں قدس سرہ کی ولادت ۱۳۱۹ھ / ۱۹۰۱ء میں شہر لکھنؤ ہوئی، ”شیرِ بیشۂ اہل سنت قدس سرہ“ ”سگِ درگاہِ بغداد“ تاریخِ ولادت فرماتے تھے، آپ کے والدِ گرامی جناب نواب علی خاں نوری حضرت ابو الوقت مولانا ہدایت رسول نوری رام پوری خلیفہ امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہ سے بیعت تھے۔
تعلیمی سفر
حضور شیرِ بیشۂ اہل سنت کے والدِ گرامی حافظِ قرآن تھے، دینی علوم و مذہبی امور سے انہیں گہری دلچسپی تھی، انہوں نے آپ کی رسم ”بسم اللہ خوانی“ کی تقریب بڑی دھوم دھام سے منائی، اور ایک صوفی بزرگ الحاج کریم بخش کی ذاتِ بابرکت سے اس مبارک رسم کی ادائیگی عمل میں آئی، قاعدہ بغدادی اور ناظرہ قرآنِ کریم کی تعلیم کے لیے حافظ قاری غلام طہٰ کی خدمات حاصل کی گئیں، جب آپ نے ناظرہ قرآنِ پاک ختم کر لیا تو حفظِ قرآنِ کریم کے لیے والدِ ماجد نے مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ میں داخل کر دیا، اسی ادارہ میں دس سال کی مختصر عمر میں حفظِ قرآنِ کریم کی تکمیل کی، والدِ گرامی نے جشن تکمیل قرآنِ کریم بڑی شان و شوکت سے منایا۔
عربی کی ابتدائی تعلیم آپ نے مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ میں حاصل کی، حضور شیرِ بیشۂ اہل سنت کے والدین علامہ ہدایت رسول رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے، جب انہیں معلوم ہوا کہ نواب علی اپنے بچوں کو دیوبندیوں کے مدرسے میں پڑھا رہے ہیں تو بہت ناراض ہوئے اور انہیں بلا کر سخت تاکید کی اور فرمایا بلا تاخیر بریلی شریف سرکارِ اعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں پڑھنے کے لیے بھیج دو۔
۱۳۳۶ھ میں جب آپ کی عمر سولہ سال کی تھی۔ حصولِ علم کی خاطر لکھنؤ سے بریلی آکر مدرسہ منظر اسلام میں داخل ہو گئے، پہلے تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کو ان کے سپرد کر دیا، پھر تحصیلِ علم میں منہمک ہو کر پیر و مرشد کے زیرِ سایہ تعلیمی سفر شروع کیا۔ شیخِ کامل کی نگاہِ کیمیا نے آپ کو کندن بنا دیا، شعبان المعظم ۱۳۴۰ھ میں سالانہ جشنِ دستارِ فضیلت کے موقع پر آپ نے مدرسہ منظرِ اسلام سے علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کی اور مسجد بی بی جی میں دستارِ فضیلت سے نوازے گئے۔
تدریسی ذمہ داریاں
تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز مدرسہ منظرِ اسلام بریلی شریف سے کیا، دو سال کی تکمیل کے بعد حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں دار العلوم مسکینیہ، دھوراجی، گجرات سے صدرِ مدرسی کی جگہ کے لیے ایک عالم کی طلبی کی درخواست آئی، تو حضرت والا نے آپ کو وہاں کا صدر مدرس بنا کر بھیج دیا۔
بیعت و خلافت
آپ طالبِ علمی ہی کے زمانے میں حضورِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہو گئے تھے۔ آپ کو مرشدِ برحق امام احمد رضا محدثِ بریلوی سے خلافت بھی حاصل تھی، ان کے علاوہ حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خاں بریلوی، صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی، مفتیِ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں بریلوی، شاہ ابو القاسم سید اسماعیل مارہروی، علامہ شاہ سید فتح علی قادری، علامہ ضیاء الدین مدنی، علامہ ضیاء الدین پیلی بھیتی، الحاج ابوبکر کھتری، ایک روایت کے مطابق حضور تاج العلما شاہ سید اولادِ رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اجازت و خلافت کا انمول عطیہ ملا تھا۔
تصانیف و تالیفات
آپ کی تصانیف و تالیفات کی تعداد ۴۰ سے زائد ہیں، آپ نے مختلف علوم و فنون پر مشتمل کتابیں تحریر فرمائی ہیں، جن میں چند کے اسماء حسبِ ذیل ہیں:
- (۱) راد المھند
- (۲) اجمل انوار الرضا
- (۳) تقریر منیر قلب
- (۴) الصوارم الھندیہ
- (۵) مظاھر الحق الاجلی
- (۶) القول الاظہر
- (۷) الصوارم السندیہ
- (۸) سیفِ خداوندی
- (۹) الانوار الغیبیہ
- (۱۰) ردِ کیدِ الخبثاء
- (۱۱) قھر القہار
- (۱۲) عطر الصندل
- (۱۳) شمامۃ العنبر
- (۱۴) تفسیر امداد السبحان
- (۱۵) فتاویٰ شیرِ بیشہ اہل سنت
مناظرانہ صلاحیت
حضور شیرِ بیشہ اہل سنت کی زندگی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی مکمل آئینہ دار ہے، زندگی کا ہر لمحہ دشمنانِ رسول اور گستاخانِ رسول کی سرکوبی کے لیے وقف تھا، وہابی، دیوبندی، نجدی، رافضی، قادیانی، چکڑالوی، نیچری، آریہ ہر ایک باطل طاقت سے ٹکرائے اور انہیں شکست دی۔ ذیل میں ان مقامات کی صراحت پر اکتفا کیا جا رہا ہے جہاں آپ نے مناظرے فرمائے:
- (۱) ہلدوانی
- (۲) راندیر
- (۳) فیض آباد کورٹ
- (۴) ادری
- (۵) گیا
- (۶) سنبھل
- (۷) پنجاب
- (۸) ملتان
- (۹) رنگون
- (۱۰) حجازِ مقدس
- (۱۱) رسولی
- (۱۲) بارہ بنکی
- (۱۳) فیروزپور چھاونی
- (۱۴) آگرہ
- (۱۵) لکھنؤ
- (۱۶) چندوسی
- (۱۷) نان پارہ
- (۱۸) بسڈیلہ
- (۱۹) موراںواں (اناؤ)
- (۲۰) سلانواں، ضلع جہلم (پاکستان)
- (۲۱) بھاوپور (بستی)
- (۲۲) مہوہ پاکھر (گونڈہ)
- (۲۳) بھیساوہ (گونڈہ)
- (۲۴) سنہٹیا (گونڈہ)
- (۲۵) بازار باغ دھانے پور (گونڈہ)
سفرِ آخرت
آپ ۱۸ محرم الحرام ۱۳۸۰ھ / ۳ جولائی ۱۹۶۰ء بروز یک شنبہ دن میں ۱۰ بجے کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے اور تبسم فرماتے ہوئے آغوشِ رحمت میں چلے گئے۔
