| عنوان: | اسلام کا نظامِ میراث |
|---|---|
| تحریر: | محمد آصف امجدی |
| پیش کش: | محمد فرید خان قادری مدنی |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ شاہ جہان پور یوپی |
اسلام ایک مکمل دستورِ حیات ہے، حیاتِ انسانی کا کوئی گوشہ و زاویہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق اسلام نے رہنمائی نہ فرمائی ہو۔ خلوت ہو یا جلوت، حکومت ہو یا سلطنت کا منصب ہو یا مفلس و قلاش کا خانہ بے چراغ، میدانِ کارزار ہو یا محفلِ جشن و سرور، الغرض مہد سے لحد تک اور اول سے آخر تک زندگی کے تمام شعبوں کی رہنمائی کرنا اسلام کا امتیازی وصف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مذہبِ اسلام کے ذریعے جس طرح انسانی زندگی کے تمام تقاضوں اور مسئلوں کو حل کر کے نہایت ہی شاندار نظام قوم کے سامنے رکھ دیا ہے، اسی طرح انسان کے دارِ فانی سے کوچ کرنے کے بعد میت کے مالِ متروکہ کے بارے میں بھی ایک جامع نظام اور اس کی تقسیم کا عادلانہ طریقہ قوم کو عطا کیا ہے، جس کی مثال دوسرے مذاہب میں نہیں ملتی۔
اسلام کا نظامِ تقسیمِ میراث تخمین و ظن کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ وہ نظامِ الہی ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ"
ترجمہ: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔ (سورہ نساء، آیت: ۱۱)
سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی زبانِ وحی ترجمان نے اسے نصفِ علم قرار دیا ہے۔ علمِ میراث کا جاننا فرضِ کفایہ ہے۔ رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں:
"تعلموا الفرائض وعلموها الناس فانها نصف العلم وهو ينسا وهو اول شيء ينزع من امتي"
ترجمہ: تم لوگ علمِ فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ کیونکہ یہ نصف علم ہے، یہ علم بھلا دیا جائے گا اور میری امت سے جو چیز سب سے پہلے اٹھائی جائے گی وہ علمِ فرائض ہے۔ (سنن ابنِ ماجہ، ابواب الفرائض، باب الحث علی تعلیم الفرائض)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو قرآن کو سیکھے اور فرائض کو نہ دیکھے وہ ایسا انسان ہے جیسے بے سر کار آدمی بغیر فرائض سیکھے بے رونق رہے گا۔ (تفہیم الفرائض، صفحہ: ۱۷)
تقسیمِ میراث کے مسائل کو ناقصِ عقل و فہم کے میزان پر تولنا جہالت و نادانی ہے، ارشادِ ربانی ہے:
"آبَاؤُکُمْ وَ اَبْنٰؤُکُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا"
ترجمہ: تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا۔ (سورہ نساء، آیت: ۱۱)
اسلام کا نظریہ میراث
نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی ولادتِ باسعادت سے پہلے پورا عالم اندھیروں میں زندگی بسر کر رہا تھا۔ اسلام سے قبل جس طرح لوگ اپنی طاقت کے بل پر کارِ حیات کے ہر شعبے میں شر پسندی کی حدوں کو پار کر چکے تھے، اسی طرح میدانِ وراثت بھی عدل و انصاف کے ترازو سے خالی تھا۔ میت کے مالِ متروکہ میں حصہ داری کا حق صرف اور صرف ذکور کو حاصل تھا، وہ بھی ان ذکور کو جو جوان اور میدانِ حرب و ضرب کے لائق ہوتا۔
کمزور, ناتواں، ضعیف، بچے اور عورت حصہ داری سے محروم ہوتے۔ بے شرمی و بے غیرتی کا بازار یہاں تک گرم تھا کہ میت کے مالِ متروکہ میں اس کی بیوی بھی شامل ہوتی اور وہ بیوی جس کے حصے میں جاتی وہ اس کو اپنی بیوی یا لونڈی بنا لیتا۔ یعنی میت کے لڑکے اپنی سوتیلی ماں کو بھی مالِ میراث قرار دیتے۔
افقِ عالم پر جیسے ہی اسلام کا نیرِ تاباں طلوع ہوا، ظلم و بربریت کے بادل چھٹ گئے۔ ظلم و ستم کی زنجیریں ٹوٹ گئیں اور عالم کے ہر چہار جانب مسرتوں کا ساماں بندھ گیا۔ اسلام نے دنیا کے سامنے ایک ایسا معتدل نظامِ وراثت کا خاکہ پیش کیا جو فطرت اور خاندانی زندگی سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ انصاف کے پہلوؤں کا بھی احاطہ کیے ہوئے تھا۔
اسلام کے اس پیغام کو جاننے کے بعد کنتوں کی زندگی ایک نئے انداز میں شروع ہوئی، جو مایوسی و ناکامی اور مظلومیت کو اپنا مقدر تصور کر چکے تھے۔
مغربی ذہنیت رکھنے والے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا، اس نے مردوں کو عورت کا دوگنا حصہ دیا، جبکہ تقاضہ عدل تو یہ تھا کہ دونوں کو برابر حصہ ملے کیونکہ دونوں آدم ہی کی اولاد ہیں۔ ان کو کیا معلوم کہ اسلام نے عورتوں کو حصہ داری کا مستحق بنا کر ان پر کتنا احسان کیا، اور جہاں تک بات رہی عدل و انصاف کی تو اگر صداقت کے عینک سے دیکھا جائے تو عورتوں کو یہ حق بھی نہیں ملنا چاہیے کیونکہ عورت پیدائش سے لے کر موت تک مرد کی ذمہ داری میں ہوتی ہے، اس لیے کہ جب وہ شادی کے بندھن سے آزاد ہوتی ہے تو وہ اپنے باپ کی کفالت میں رہتی ہے اور ہر طرح کی معاشی ذمہ داریوں سے سبکدوش رہتی ہے اور جب شادی کے رشتے سے منسلک ہو جاتی ہے تو اس کے نان و نفقہ کا سارا بوجھ اس کے شوہر کے سر ہوتا ہے اور یہاں بھی معاشی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہوتی ہے، لہذا انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ میراث میں عورت کا حصہ مرد کی نسبت کم رکھا جائے۔
کیا معترض کو اسلام کی "اعلیٰ ظرفی" نظر نہیں آئی کہ اسلام نے میت کے ورثے میں صرف چار مردوں کو حصے داری کا مستحق قرار دیا جبکہ اس کے مقابلہ میں آٹھ عورتوں کو حق دیا ہے جو مرد کا دوگنا ہے۔
احکامِ تقسیمِ میراث
میت کے اموالِ متروکہ میں حکمِ میراث جاری کرنے سے پہلے ان چیزوں کا خاص دھیان رکھنا چاہیے۔
۱۔ تجہیز و تکفین: اعتدال کے ساتھ سنت کے مطابق میت کے کفن دفن کا انتظام کرنا۔
۲۔ ادائیگیِ قرض: تجہیز و تکفین کے بعد جو مال بچا اس سے میت کے قرضے چکائے جائیں۔ قرض کی ادائیگی وصیت پر مقدم ہے کیونکہ قرض یہ فرض ہے جبکہ وصیت کرنا ایک نفلی کام ہے۔ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے قرض وصیت سے پہلے ادا کرایا۔ (سنن ابنِ ماجہ، کتاب الوصایا، باب الدین قبل الوصیتہ)
۳۔ وصیت: ادائیگیِ قرض کے بعد وصیت کا نمبر آتا ہے۔ قرض کے بعد جو مال بچا ہو اس کے تہائی سے وصیتیں پوری کی جائیں گی۔ ہاں اگر سب ورثہ بالغ ہوں اور سب تہائی مال سے زائد سے وصیت پوری کرنے کی اجازت دے دیں تو جائز ہے۔
۴۔ میراث: وصیت کے بعد میت کا کل بچا ہوا مال کتاب و سنت اور اجماعِ امت کی روشنی میں اس کے وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ (بہارِ شریعت، جلد: سوم، حصہ: ۲۰، صفحہ: ۱۱۱۱)
