| عنوان: | امام احمدرضا اور علم سیرت و شمائل نبویہ (قسط چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد اظہار النبی حسینی |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
قبل از ولادت شہادتِ ایمان
زید بن عمرو بن نفیل کہ احد العشرۃ المبشرۃ سیدنا سعید بن زید کے والد ماجد ہیں، رضی اللہ تعالٰی عنہم و عنہ، موحدان و مومنان عہدِ جاہلیت سے تھے، طلوعِ آفتابِ عالمتابِ اسلام سے پہلے انتقال کیا مگر اسی زمانے میں توحیدِ الہی و رسالت حضرت ختم پناہی ﷺ کی شہادت دیتے۔ ابن سعد و ابو نعیم حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، میں زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملا مکہ معظمہ سے کوہ حرا کو جاتے تھے، انہوں نے قریش کی مخالفت اور ان کے معبودانِ باطل سے جدائی کی تھی، اس پر آج ان سے اور قریش سے کچھ لڑائی رنجش ہوچکی تھی، مجھے دیکھ کر بولے اے عامر! میں اپنی قوم کا مخالف اور ملتِ ابراہیم کا پیرو ہوا، اسی کو معبود مانتا ہوں جسے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پوجتے تھے۔
میں ایک نبی کا منتظر ہوں جو بنی اسرائیل اور اولادِ عبد المطلب سے ہوں گے، ان کا نامِ پاک احمد ہے، میرے خیال میں میں ان کا زمانہ پاؤں گا، میں ابھی ان پر ایمان لاتا اور ان کی تصدیق کرتا اور ان کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں، تمہیں اگر اتنی عمر ملے کہ انہیں پاؤ تو انہیں میرا سلام پہنچانا۔ اے عامر! میں تمہیں ان کی نعت و صفت بیان کیے دیتا ہوں کہ؛ تم خوب پہچان لو، درمیانہ قد ہیں، سر کے بال کثرت و قلت میں معتدل، ان کی آنکھوں میں ہمیشہ سرخ ڈورے رہیں گے، ان کی شانوں میں مہرِ نبوت ہے، ان کا نام احمد، اور یہ شہر ان کا مولد ہے، یہیں ان کی رسالت ظاہر ہوگی، ان کی قوم انہیں مکے میں نہ رہنے دے گی کہ؛ ان کا دین ان سے ناگوار ہوگا، وہ ہجرت فرما کر مدینے جائیں گے، وہاں سے ان کا دین ظاہر و غالب ہوگا، دیکھو تم کسی دھوکے فریب میں آکر ان کی اطاعت سے محروم نہ رہنا۔
"فانی بلغت البلاد کلھا اطلب دین ابراھیم، م کل من اسال من الیھود والنصاری والمجوس یقول ھذا الدین وراءک، و ینعتونہ مثل ما نعتہ لک، و یقولون لم یبقی نبی غیرہ"
کہ دینِ ابراہیمی کی تلاش میں شہروں شہروں پھرا، یہود و نصارٰی و مجوس جس سے پوچھا: سب نے یہی جواب دیا کہ یہ دین تمہارے پیچھے آتا ہے، اور اس نبی کی وہی صفت بیان کی جو میں تم سے کہہ چکا اور سب کہتے تھے کہ ان کے سوا کوئی نبی باقی نہ رہا۔ عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: جب حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت ظاہر ہوئی، میں نے زید رضی اللہ تعالٰی عنہ کی یہ باتیں حضور ﷺ سے عرض کیں، حضور ﷺ نے ان کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی اور ارشاد کیا: "قد رایتہ فی الجنۃ یسحب ذیلہ" میں نے اسے جنت میں دامن کشاں دیکھا۔ (ایضا، ص٦٤١,٦٤٢)
استقرارِ حمل کا دن
اصح یہ ہےکہ؛ شبِ جمعہ تھی، اسی لیے امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ شبِ جمعہ کو شبِ قدر سے افضل کہتے ہیں، کہ یہ خیر و برکت و کرامت و سعادت جو اس میں اتری اس کے ہمسر نہ کبھی اتری نہ قیامت تک اترے۔ "تنزل الملائکۃ والروح فیہا" (اس میں فرشتے اور روح الامین اترتے ہیں) یہاں مولائے ملائکہ و آقائے روح کا نزولِ اجلال عظیم الفتوح ہے ﷺ۔
مدارج النبوۃ میں ہے: "استقرار نطفہ زکیہ در ایام حج بر قول اصح در اوسط ایام تشریق شب جمعہ بود، و ازیں جہت امام احمد حنبل لیل الجمعہ را فاضل ترازو لیل القدر داشتہ الخ"
ترجمہ: اصح قول کے مطابق نطفۂ مطہرہ کا استقرار حج کے دنوں میں ایامِ تشریق کے درمیان جمعہ کی رات کو ہوا، اسی وجہ سے امام احمد رضا خاں شبِ جمعہ کو شبِ قدر سے افضل سمجھتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج، ص: ٤٠٧)
مدت حمل: صحیح نو مہینے ہیں، فی شرح زرقانی للمواھب: "اختلف فی مد الحمل بہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم فقیل تسع اشھر کامل و بہ صدر مغلطائی قال فی الغرر و ھو الصحیح الخ واللہ أعلم بالصواب و الیہ المرجع والماب۔"
ترجمہ: مواہب کی شرح زرقانی میں ہے: کہ رسول اللہ ﷺ کے مدتِ حمل میں اختلاف ہے، چنانچہ کہا گیا کہ پورے نو ماہ ہے، مغلطائی نے اسی قول کو مقدم کیا، غرر نے فرمایا کہ یہی صحیح ہے۔ (اللہ تعالیٰ درست بات کو خوب جانتا ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے)
ماہِ ولادت شریف
صحیح و مشہور قول جمہور ربیع الأول ہے، مدارج النبوۃ میں ہے: "مشہور آنست کہ در ربیع الأول بود"، مشہور یہ ہے کہ ولادتِ مبارکہ ربیع الأول شریف میں ہوئی۔
شرح الہمزیہ میں ہے: "الاصح فی شھر ربیع الأول"۔ اصح یہ ہے کہ ماہِ ربیع الأول شریف میں آپ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔
مواہب میں ہے: "و ھو قول جمہور العلماء" اور یہ جمہور علماء کا قول ہے، پھر کہا "فی شھر ربیع الأول علی الصحیح" صحیح قول کے مطابق ربیع الأول میں ہے۔
شرح زرقانی میں ہے: "قال ابن کثیر ھو المشہور عند الجمھور" ابن کثیر نے کہا جمہور کے نزدیک یہی مشہور ہے۔
صبحِ ولادت باسعادت
بالاتفاق دوشنبہ، صرح بہ العلام ابن حجر فی افضل القری، علامہ ابن حجر نے افضل القری میں اس کی تصریح فرمائی، سیدِ عالم ﷺ پیر کے دن کو فرماتے ہیں، "ذلک یوم ولدت فیہ"، رواہ مسلم عن أبی قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ واللہ أعلم ۔۔۔
ترجمہ: میں اسی دن پیدا ہوا ہوں، اس کو امام مسلم نے ابو قتادہ سے روایت کیا، واللہ أعلم (ایضا، ص: ٤٠٨)
یہاں تک کہ علامہ ابن الجوزی و ابن جزار نے اسی پر اجماع نقل کیا، نسیم الریاض میں تلقیح سے ہے: "اتفقوا علی انہ ولد یوم الاثنین فی شھر ربیع الأول"، اس پر علماء متفق ہیں کہ آپ ماہِ ربیع الأول پیر کے روز (دوشنبہ) کو پیدا ہوئے۔
اسی طرح ان کے صفوہ میں ہے: "کما للزرقانی ثم عزاہ ایضا لابن الجزار" (ترجمہ) جیسا کہ زرقانی کا قول ہے، پھر اس کو ابن جزار کی طرف منسوب کیا، پس اس کا انکار اگر ترجیحاتِ علماء و اختیارِ جمہور کی ناواقفی سے ہو تو جہل ورنہ مرکب کہ اس سے برتر۔ (ایضا، ص:٤٠٩)
دورانِ مدتِ حمل حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بشارت
ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایتِ حدیثِ طویلِ میلادِ جمیل میں راوی، حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: جب حملِ اقدس میں چھ مہینے گزرے ایک شخص نے مجھے ٹھوکر ماری اور کہا: "یا من انک قد حملت بخیر العالمین طرا فاذا و لدتہ فسمیہ محمدا"۔
ترجمہ: اے آمنہ! تمہارے حمل شریف میں وہ ہے جو تمام جہان سے بہتر ہے، جب وہ پیدا ہوں تو ان کا نام محمد رکھنا ﷺ۔
ابو نعیم حضرت بریدہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی، حضرت آمنہ نے ایامِ حملِ مقدس میں خواب دیکھا، کوئی کہنے والا کہتا ہے: "انک قد حملت بخیر البری و سید المرسلین فاذا ولدتہ فسمیہ احمد او محمدا"
ترجمہ: تمہارے حمل شریف میں بہترینِ عالم، سردارِ عالمیاں ہیں، جب پیدا ہوں تو ان کا نام احمد و محمد رکھنا ﷺ۔
ابن سعد و حسن ابن جرح زید بن اسلم سے راوی: حضرت آمنہ نے جناب حلیمہ سے فرمایا: مجھ سے خواب میں کہا گیا: "انک ستلدین غلاما فسمیہ احمدا وھو سید العالمین"
ترجمہ: عنقریب تمہارے یہاں لڑکا ہوگا، ان کا نام احمد رکھنا، وہ تمام عالم کے سردار ہیں ﷺ۔ (ایضا، ص،٣٠ ص: ٢٥٨.٢٥٩)
وقتِ ولادت شام کے محلات کا روشن ہونا
احادیثِ کثیرہ مشہور میں وارد، جب حضور پیدا ہوئے ان کی روشنی سے بصرہ اور روم و شام کے محل روشن ہوگئے۔
چند روایتوں میں ہے: "اضاء لہ ما بین المشرق و المغرب" آپ کے لیے مشرق سے مغرب روشن ہوگیا۔
اور بعض میں ہے: "امتلات الدنیا کلھا نورا"، تمام دنیا نور سے بھر گئی۔
حضرت آمنہ حضور ﷺ کی والدہ فرماتی ہیں: "رأیت نورا ساطعا من رأسہ قد بلغ السماء" میں نے ان کے سر سے ایک نور بلند ہوتا دیکھا کہ آسمان تک پہنچا۔ (ایضا، ص٧٠٩)
"رب ھب لی امتی" کہنا
جانِ برادر! تو نے کبھی سنا ہے کہ جس کو تجھ سے الفتِ صادقہ ہے، وہ تیری اچھی بات سن کر چیں بہ جبیں ہو اور اس کی محو کی فکر میں اور پھر محبوب بھی کیسا، جانِ ایمان و کانِ احسان، جس کے جمالِ جہاں آراء کی نظیر کہیں نہیں ملے گی، اور خامۂ قدرت نے اس کی تصویر بنا کر ہاتھ کھینچ لیا کہ اب پھر ایسا نہیں لکھے گا، کیسا محبوب، جسے اس کے مالک نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بھیجا، کیسا محبوب، جس نے اپنے تن پر ایک عالم کا بار اٹھا لیا، کیسا محبوب، جس نے تمہارے غم میں دن کا کھانا، رات کا سونا ترک کر دیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمک اور لہو و لعب میں مشغول ہو اور وہ تمہاری بخشش کے لیے شب و روز گریاں و ملول۔
شب، کہ اللہ تعالیٰ نے آسائش کے لیے بنائی، اپنے تسکین بخش پردے چھوڑے ہوئے موقوف ہے، صبح قریب ہے، ٹھنڈی نسیموں کا پنکھا ہو رہا ہے ہر ایک کا جی اس وقت آرام کی طرف جھکتا ہے، بادشاہ اپنے گرم بستروں پر، نرم تکیوں میں مستِ خوابِ ناز ہے، اور جو محتاج بے نوا ہے اس کے بھی پاؤں دو گز کی کملی میں دراز، ایسے سہانے وقت، ٹھنڈے زمانے میں، وہ معصوم، بے گناہ، پاک داماں، عصمت پناہ اپنی راحت و آسائش کو چھوڑ، خواب و آرام سے منہ موڑ، جبین آستانۂ عزت پر رکھے ہے۔ الہی! میری امت سیاہ کار ہے، درگزر فرما، اور ان کے تمام جسموں کو آتشِ دوزخ سے بچا۔
جب وہ جانِ رحمت، کانِ رافت پیدا ہوا بارگاہِ الہی میں سجدہ کیا اور "رب ھب لی امتی" فرمایا۔ جب قبر شریف میں اتارا، لبِ جاں بخش کو جنبش تھی، بعض صحابہ نے کان لگا کر سنا، آہستہ آہستہ "امتی امتی" فرماتے۔ قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے، تانبے کی زمیں، ننگے پاؤں، زبانیں پیاس سے باہر، آفتاب سروں پر، سائے کا پتہ نہیں، حساب کا دغدغہ، مالکِ قہار کا سامنا، عالم اپنی فکر میں گرفتار ہو گا، مجرمان بے یار دامِ آفت کے گرفتار، جدھر جائیں گے "نفسی نفسی اذھبوا الی غیری" کچھ جواب نہ پائیں گے، اس وقت یہی محبوبِ غمگسار کام آئے گا، قفلِ شفاعت اس کے زورِ بازو سے کھلے گا۔ عمامہ سرِ اقدس سے اتاریں گے، اور سربسجود ہوکر "یارب امتی" فرمائیں گے۔ (ایضا، ج، ص، ٧١٧,٧١٦)
(قسط پنجم جاری ہے...)
