| عنوان: | جان و مال کا بیمہ اور ان کی شرعی حیثیت (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا مفتی محمد نظام الدین صاحب رضوی |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
بیمہ فارسی زبان کے لفظ "بیم" سے ماخوذ ہے، جس کا معنی خوف و اندیشہ ہے۔ معاہدہ بیمہ سے اس لفظ کی تھوڑی سی مناسبت یہ ہے کہ اس میں معاشی زبوں حالی، یا مالی نقصانات کے اندیشہ سے تحفظ و امان حاصل ہوتا ہے، اس لئے اسے عہد قدیم میں "بیمہ" کے نام سے موسوم کیا گیا۔
اردو زبان کی مستند لغت "فرہنگ آصفیہ" میں ہے:
"بیمہ: از بیم۔ اندیشہ ضرر کا ذمہ، ضمانت، جب سوداگر لوگ نقدی یا جنس وغیرہ کہیں بھیجتے ہیں تو وہ اس شخص کو جو اس کے ضائع یا تلف ہو جانے پر دام بھر دینے کا اقرار کرتا ہے کچھ کمیشن دیتے ہیں اور اس شرط، یا اطمینان کو بیمہ کہتے ہیں۔"
[فرہنگ آصفیہ، ص ۲۶۹، ج ۱، ترقی اردو بیورو، دہلی]
انگریزی زبان میں اس کا متبادل "انشور" (Insure) ہے جس کا معنی "یقین دہانی" ہوتا ہے اور عربی میں اسے "عقد التأمين" کہتے ہیں، یعنی "معاہدۂ امان"۔ بیمہ، انشور، اور تامین سب میں حفظ و امان کا مفہوم قدرِ مشترک کے طور پر پایا جاتا ہے۔ بیمہ کی تاریخ بہت پرانی ہے، لیکن ہم اس تفصیل میں نہ جا کر عصرِ حاضر کے رائج بیمہ کا ایک جائزہ پیش کرتے ہیں۔
بیمہ کی اقسام
آج کا رائج بیمہ دو بنیادی حصوں میں بٹا ہوا ہے:
- بیمۂ زندگی: جسے عرفِ عام میں لائف انشورنس (Life Insurance) کہا جاتا ہے۔
- بیمۂ اموال: اسے عرفِ عام میں جنرل انشورنس (General Insurance) کہتے ہیں۔
ان کی قدرے تفصیل ہم علمِ معاشیات کی کتاب "کامرس" اور بھارتیہ جیون بیمہ نگم کے حوالے سے پیش کرتے ہیں۔ [کامرس، ص ۷۵ تا ۶۴، ترقی اردو بیورو، دہلی]
بیمہ کا پس منظر اور طریق کار
انسان کی زندگی اور اس کی املاک کو نقصان و بربادی کے بے شمار خطرات لاحق رہتے ہیں۔ ایک خاندان کا کمانے والا کسی وقت بھی دنیا سے رخصت ہو سکتا ہے، شاندار مکان آگ کی نذر ہو سکتا ہے، مال و اسباب سے لدا جہاز غرق ہو سکتا ہے، یا بیوپاری کا مال سیلاب، زلزلہ، چوری یا دھوکہ دہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسے حادثات سے بچاؤ کے لئے بیمہ کا طریقہ جاری کیا گیا ہے۔
اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہئے کہ بیمہ کسی نقصان کے خطرے کو ٹال نہیں سکتا بلکہ یہ نقصان کو مختلف لوگوں پر بانٹنے کا ایک طریقہ ہے۔ بیمہ کمپنی ایک معمولی رقم کی ادائیگی کے معاوضے میں کسی خاص حادثے پر ایک مقررہ رقم دینے کا اقرار کرتی ہے۔ اس میں "سماجی تعاون" (Social Co-operation) کا اصول کارفرما ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہزار مکانات ہوں اور سالانہ دو کے جلنے کا خدشہ ہو، تو تمام مالکان مل کر تھوڑی تھوڑی رقم جمع کر کے ایک فنڈ بناتے ہیں جس سے نقصان زدہ مالکان کی تلافی کی جاتی ہے۔ اس طرح ایک غیر یقینی بڑے نقصان کو تھوڑے یقینی نقصان (پریمیئم) سے پورا کیا جاتا ہے۔
معاہدہ بیمہ کی اصطلاحات
بیمہ ایک معاہدہ ہے جس کے فریقین درج ذیل ہیں:
- بیمہ کار (Insurer): جو خطرے کا تحفظ فراہم کرتا ہے (جیسے بیمہ کمپنی)۔
- بیمہ شدہ (Insured): جو شخص اپنا بیمہ کراتا ہے۔
- بیمہ پالیسی: وہ دستاویز جس میں معاہدہ کی شرائط درج ہوتی ہیں۔
- پریمیئم (Premium): وہ قسط جو بیمہ کرانے والا ادا کرتا ہے۔
- بیمائی مفاد (Insurable Interest): بیمہ کرانے والے کا بیمہ شدہ چیز سے وابستہ مفاد۔
بیمے کے بنیادی اصول
بیمے کا معاہدہ بھی قانونِ معاہدہ (Indian Contract Act) کے تحت آتا ہے۔ اس میں عام شرائط (جیسے راضی نامہ، آزادانہ مرضی، قانونی مقصد وغیرہ) کے علاوہ ایک خاص شرط بھی لازمی ہے، جسے مکمل صدقِ نیت (Utmost Good Faith) کہا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بیمہ کار اور بیمہ شدہ دونوں کو معاہدے سے متعلق تمام مادی حقائق بالکل صاف اور واضح طور پر ایک دوسرے پر ظاہر کرنے چاہئیں۔ کوئی بھی ایسی حقیقت جو دوسرے فریق کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہو، چھپانی نہیں چاہیے۔ اگر کوئی فریق جان بوجھ کر یا اتفاقیہ طور پر کوئی بات چھپاتا ہے، تو بیمہ پالیسی منسوخ (Void) ہو جاتی ہے۔ چونکہ بیمہ شدہ شخص کو اپنی چیز کے بارے میں زیادہ علم ہوتا ہے، اس لیے اس پر فرض ہے کہ وہ تمام حقائق کمپنی کو بتائے۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص اپنی دکان کا آگ کا بیمہ کراتے وقت یہ نہ بتائے کہ اس کی دکان کے قریب ایک پٹرول پمپ ہے، اور بعد میں آگ لگنے سے دکان جل جائے، تو حقائق چھپانے کی بنا پر بیمہ کمپنی پالیسی منسوخ کر سکتی ہے۔
