| عنوان: | جان و مال کا بیمہ اور ان کی شرعی حیثیت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد نظام الدین رضوی |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
(2) تاوان کا معاہدہ
زندگی، بیمہ اور شخصی حادثہ بیمہ کے علاوہ باقی تمام بیموں کے معاہدات تاوان کا معاہدہ کہلاتے ہیں کیوں کہ ان کی شرائط کے مطابق بیمہ کار بیمہ کرانے والے کو مقررہ جوکھم سے ہونے والے نقصان کی صورت میں اصل نقصان کا تاوان ادا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے۔ رقم جو واقعی بیمہ کرانے والے کو متوقع حادثے کے پیش آنے پر ادا کی جاتی ہے وہ بیمہ کرانے والے کے اصل نقصان ہی کے برابر ہوتی ہے۔ اصل نقصان سے نہ کم نہ زیادہ۔
مثال: ایک مکان کا پچاس ہزار روپے کا آگ کا بیمہ کرایا گیا۔ اس مکان کو آگ لگ گئی۔ بیمہ کمپنی کے تخمینہ کے مطابق تیس ہزار روپے کی رقم سے مکان تعمیر ہو کر اپنی ابتدائی شکل میں آ سکتا ہے، پس صرف تیس ہزار کی رقم بیمہ کرانے والے کو تاوان کے طور پر ادا کی جائے گی۔
تاوان کے اصول کی بنیاد اس نظریہ پر رکھی گئی ہے کہ بیمہ کرانے والے کو بیمہ کے معاہدے کے ذریعہ صرف اصل نقصان کی تلافی کی جا سکے اور یہ بیمہ اس کے لیے منافع کا ذریعہ نہ بن سکے۔ پس تاوان کے اصول کے پیشِ نظر بیمہ کے ذریعہ اصل مالیت سے زیادہ یا کم بیمہ کرانے کو روکنا ہے۔
(3) قابلِ بیمہ مفاد
در اصل بیمہ کا کوئی بھی معاہدہ بلا قابلِ بیمہ مفاد کی موجودگی کے مکمل نہیں ہو سکتا۔ بیموں کے بغیر، عدالت کی نظر میں اس کے اس معاہدے کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بیمہ کرانے والے کو بیمہ شدہ چیز سے ایسا تعلق ہو کہ اس چیز کی تباہی سے اس کا اپنا نقصان اور اس چیز کی حفاظت سے اس کا اپنا فائدہ ہوتا ہو۔ مختصر یہ کہ بیمہ شدہ چیز کی تباہی یا نقصان سے بیمہ کرانے والے کو مالی نقصان ہوتا ہو۔ پس بیمائی تعلق بیمہ شدہ چیز سے محض ایک جذباتی تعلق ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا مالی تعلق ہے جس کا نقصان کی صورت میں روپے پیسے میں شمار ہو سکے۔
مثال:
-
ایک شخص کا اپنی زندگی سے بیمائی مفاد وابستہ ہوتا ہے۔
-
ایک بیوی اپنے شوہر کی زندگی میں بیمائی مفاد رکھتی ہے۔
-
ایک تاجر کو اپنے کاروباری املاک یا اپنے تجارتی مال سے بیمائی مفاد ہوتا ہے۔
-
ایک قرض خواہ کو قرض کی رقم کی حد تک اپنے قرضدار کی زندگی سے بیمائی تعلق ہوتا ہے۔
بیمائی مفاد کا جن اوقات میں ہونا لازمی ہے، ان کا بیمہ کی حسبِ ذیل نوعیتوں پر انحصار ہوتا ہے:
-
آگ اور حادثہ کے بیمے: بیمہ کرانے کے وقت سے لے کر نقصان ہونے کے وقت تک۔
-
زندگی بیمہ: جس وقت بیمہ کرایا جائے، لیکن ضروری نہیں ہے کہ مطالبہ کرتے وقت بھی یہ صورت ہو جاتی ہو۔
-
سمندری بیمہ: صرف نقصان کے وقت۔
بیمہ کی قسمیں
بیمہ کی کئی قسمیں ہیں۔ بیشک آج کل سب ہی قسم کے خطرات یا جوکھموں کے لیے بیمہ کرایا جا سکتا ہے۔ بیمہ کی چند خاص قسموں کا بیان درج ذیل ہے۔
(1) زندگی کا بیمہ
یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس کے تحت بیمہ کمپنی بیمہ کرانے والے کی موت پر یا ایک مقررہ مدت گزر جانے کے بعد، ان میں سے جو بھی پہلے واقع ہو، ایک مقررہ رقم کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے، زندگی کا بیمہ تاوان (Indemnity) کا معاہدہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موت سے جو حقیقی نقصان ہوتا ہے اس کا نہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور نہ اس کی تلافی ہو سکتی ہے، اس لیے کوئی بھی شخص اپنی زندگی کا بیمہ کسی بھی رقم کا کرا سکتا ہے۔ اور موت واقع ہونے کی شکل میں اس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
زندگی کا بیمہ جوکھم یا خطرے سے تحفظ کا اور روپے پیسے کے جمع کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ایک مقررہ قسط یا پریمیئم کی ادائیگی کے بعد بیمہ کرانے والا شخص دو فائدوں کا حقدار ہو جاتا ہے۔ پہلا فائدہ تو یہ کہ اس کی موت واقع ہو جانے پر ایک مقررہ رقم اس کے وارث کو مل جائے گی۔ لہٰذا زندگی بیمہ کا یہ تحفظ کا عنصر ہوا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو رقم پریمیئم کی شکل میں وہ جمع کرتا ہے اس پر سود در سود کے حساب سے سود ہی نہیں ملتا بلکہ وہ انتہائی مستحکم سیکورٹی کی شکل میں جمع رہتی ہے اور مقررہ مدت کے بعد مع منافع واپس مل جاتی ہے۔ لہٰذا اس میں سرمایہ کاری کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔
1956ء میں زندگی بیمہ کے کاروبار کو قومی ملکیت میں لے لیا گیا ہے۔ اس وقت سے ہندوستان میں زندگی بیمہ کا کاروبار لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا کے ذریعہ عمل میں آتا ہے۔
(2) آگ کا بیمہ
آگ بیمہ کے معاہدہ کے ذریعہ بیمہ کمپنی ایک مقررہ حد تک بیمہ شدہ جائیداد کی آگ کے ذریعہ ہونے والے نقصانات کی تلافی کرنے کی ذمہ داری لیتی ہے۔ بیمہ کرانے والا اپنی عمارت یا گودام کا آگ بیمہ کرانے کے بعد ایک واجبی رقم بیمہ کمپنی کو پریمیئم کی شکل میں ادا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے۔ اس کے معاوضہ میں بیمہ کمپنی اقرار کرتی ہے کہ وہ بیمہ شدہ جائیداد کو ایک مقررہ مدت کے اندر اندر آگ سے نقصان ہونے کی صورت میں مقررہ حد تک نقصان کی تلافی کر دے گی۔ آگ بیمہ پالیسی کی مدت دس دن سے لے کر بارہ مہینے تک کی ہو سکتی ہے، لیکن مقررہ میعاد کے ختم ہو جانے کے بعد ضروری پریمیئم کی ادائیگی پر بیمہ پالیسی کی تجدید بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آگ بیمہ نقصان کی تلافی ہی کا معاہدہ ہے۔ بیمہ کرانے والا نقصان ہونے پر بیمہ شدہ رقم کے اندر صرف اصل نقصان ہی کے تاوان کا حقدار ہوتا ہے۔ اس سے اس کو کوئی منافع حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تاکہ کوئی شخص جائیداد یا مال کی اصل قیمت سے زیادہ رقم کا بیمہ کرا کر اور اسے آگ لگا کر بیمہ کمپنی سے منافع کمانے کا ذریعہ نہ بنا لے۔ علاوہ ازیں اگر کسی جائیداد کا دو یا دو سے زیادہ بیمہ کمپنیوں سے آگ بیمہ کرایا گیا ہے تو ایسی صورت میں بھی بیمہ کرانے والے کو جملہ بیمہ کمپنیوں سے مقررہ حد کے اندر اصل نقصان سے زیادہ کا معاوضہ نہیں مل سکتا۔ مزید یہ کہ جب بیمہ کرانے والے کو اصل نقصان کا معاوضہ مل جاتا ہے تو وہ ایسی نقصان شدہ جائیداد کے حقوق (نقصان کی حد تک) بیمہ کمپنی کے نام منتقل کر دیتا ہے۔
آگ بیمہ میں باہمی اعتماد اور سچائی کے اصول پر نہ صرف بیمہ کراتے وقت ہی کاربند ہونا ضروری ہے بلکہ بیمہ کی پوری مدت و میعاد اور مطالبہ کرتے وقت بھی اس پر کاربند ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بیمہ کرانے کے بعد اگر کوئی ایسی تبدیلی آ جائے جس سے جوکھم بڑھ جاتا ہے تو فوراً ہی بیمہ کمپنی کو اس تبدیلی کی اطلاع دینی چاہیے اس کے علاوہ بیمہ کرانے والے کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ جائیداد کو نقصان سے بچانے کے لیے ایمانداری کے ساتھ پوری پوری کوشش کرے۔
(3) حادثہ بیمہ
حادثہ بیمہ ایک ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس کے ذریعہ یہ کمپنی یہ ذمہ داری لیتی ہے کہ حادثے کی وجہ سے انسان کے کسی عضو کو یا املاک کو نقصان پہنچے تو ایسے نقصانات کی تلافی بیمہ کمپنی کی طرف سے کی جائے گی۔ حادثہ بیمہ پالیسی عام طور پر کار، اسکوٹر اور اسی قسم کے دوسرے حادثوں کے جوکھم کے تحفظ کے لیے جاری کی جاتی ہے۔ بڑے شہروں میں، جہاں کار اور اسکوٹر کے حادثات عام طور پر آئے دن پیش آتے رہتے ہیں اور لوگ انتہائی زخمی ہو جاتے ہیں، تو ایسے جوکھم کو حادثہ بیمہ کے ذریعہ گاڑیوں اور ڈرائیوروں کا بیمہ کر کے کم کیا جا سکتا ہے اور اس طرح حادثہ سے نقصانات کی تلافی کی جا سکتی ہے۔
اگر حادثہ ایک مقررہ مدت کے اندر پیش نہیں آتا تو حادثہ بیمہ پالیسی کے تحت بیمہ کرانے والے کو کوئی معاوضہ نہیں ملے گا۔ حادثہ بیمہ میں پریمیئم کی رقم پیشگی ادا کی جاتی ہے۔ عام طور پر حادثہ بیمہ پالیسیاں بارہ ماہ کی مدت سے زیادہ عرصہ کے لیے جاری نہیں کی جاتیں۔ حال ہی میں حکومتِ ہند نے وزیر اعظم کے بیس نکاتی معاشی پروگرام کے تحت حادثہ بیمہ کی نئی اسکیم جاری کی ہے۔ اس اسکیم کو “جنتا حادثہ بیمہ” کہا جاتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت پریمیئم کی واجبی رقم کی ادائیگی کے بعد حادثہ سے انشورنس پالیسی حاصل کی جا سکتی ہے، یہ اسکیم جنتا کے کمزور طبقوں میں بہت مقبول ہو رہی ہے۔
