Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جب امتحان قریب ہو۔۔تو۔۔تیاری کیسے کریں

جب امتحان قریب ہو۔۔تو۔۔تیاری کیسے کریں
عنوان: جب امتحان قریب ہو۔۔تو۔۔تیاری کیسے کریں
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ،گھوسی


امتحانی تیاری کے سنہری اصول

امتحان کے لیے سب سے اہم ہے تیاری، اچھی طرح تیاری۔ جس مضمون کا پرچہ ہے اس کے تمام اہم نکات آپ کو ذہن نشین ہو جانے چاہئیں۔ امتحان میں پراعتماد ہونے کے لیے اچھی تیاری سے بہتر کوئی متبادل نہیں ہے۔ آپ کو پڑھنا ہوگا، کانسپٹ پر توجہ دینی ہوگی اور جو پڑھا ہے، اسے یاد رکھنا ہوگا۔ مسلسل پڑھائی سے پرہیز کیجیے اور پڑھائی کے دوران وقفہ لیجیے؛ جیسے 20 منٹ کے بعد 5 منٹ اور 45 منٹ کے بعد 10 منٹ کا وقفہ۔

متعدد تحقیقات میں واضح ہوا ہے کہ جو طالب علم وقفہ لے کر پڑھائی کرتا ہے، وہ اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کرتا ہے اور اسے پرچہ لکھنے کے دوران نکات بھی یاد آتے ہیں۔ اسی طرح سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اکثر طلبہ امتحان کے دنوں میں 8 گھنٹے نہیں سوتے، اس سے ان کا ذہن کمزور ہوتا ہے اور وہ باتیں یاد نہیں رکھ پاتے۔ نیند کا براہ راست تعلق یادداشت سے ہے۔ جب آپ پڑھائی کرنے کے بعد سوتے ہیں تو آپ کا ذہن تمام معلومات اس میں محفوظ کرتا ہے۔

زیادہ پانی پئیں، صحت بخش غذائیں کھائیں

طلبہ کو امتحان کے دنوں میں صحت کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ وافر مقدار میں پانی پیجیے اور صحت بخش غذائیں، مثلاً تازہ پھل اور سبزیاں کھائیے۔ اس سے جسم کو توانائی اور دماغ کو طاقت ملے گی۔ ذہنی تناؤ کم کرنے میں صحت بخش غذائیں کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔

جب بھی ضروری ہو، مدد مانگئے

پڑھائی کے دوران اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض کانسپٹ یا سوالات سمجھ میں نہیں آتے۔ بیشتر طلبہ انہیں اپنے طور پر سمجھنے میں بے شمار وقت ضائع کر دیتے ہیں اور جب ان کے پاس وقت نہیں بچتا تو وہ پریشان اور گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کا اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اپنے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ جب بھی ضرورت ہو، مدد مانگئے۔ کوئی سوال سمجھ میں نہ آئے تو گھر کے بڑوں، دوستوں اور اساتذہ کی مدد لیجیے۔

اسباق کے بارے میں محاسبہ

ہر ایک مضمون کے بارے میں اپنا محاسبہ (Computation) کریں کہ امتحان میں شامل اسباق میں سے کون سے اسباق آپ کو نہیں آتے یا پھر کمزور ہیں۔ پھر ان اسباق کی فہرست بنا لیں اور سب سے پہلے انہی اسباق کو کسی استاذِ محترم یا کلاس کے کسی طالب علم اسلامی بھائی سے مختصر وقت میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسے وقت میں پریشانی (Tension) سے بچنے کے لیے ہمیں چاہئے کہ جب استاذ صاحب کلاس میں کوئی سبق پڑھا رہے ہوں تو مکمل توجہ کے ساتھ اس سبق کو سمجھنے کی کوشش کریں، پھر بھی اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے تو دائرہ ادب میں رہتے ہوئے متعلقہ استاذ صاحب سے دوبارہ پوچھ لیں اور پڑھے جانے والے سبق کو روزانہ دہرانے کی بھی ترکیب بنائیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں ہمارے کمزور اسباق کی فہرست بہت مختصر ہوگی۔

ایسا کرنے کے باوجود کسی مجبوری کی بنا پر کمزور رہ جانے والے اسباق بہت زیادہ ہوں تو مایوسی کا شکار نہ ہوں بلکہ رب عزوجل پر توکل کرتے ہوئے امتحانات کی تیاری کا آغاز فرما دیں کہ مشہور عربی مقولہ ہے: من جهد وجد یعنی "جس نے کوشش کی اس نے کامیابی کو پا لیا۔" جب آپ مذکورہ بالا اسباق کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ان سمیت ہر مضمون کے تمام اسباق کی دہرائی شروع کر دیں۔

سبق یاد کرنے کا طریقہ اور حافظہ کی کمزوری

طلباء کی بہت بڑی تعداد اس وجہ سے پریشان دکھائی دیتی ہے کہ ہمیں سبق یاد نہیں ہوتا، یا بہت دیر میں یاد ہوتا ہے، یا ہم نہایت محنت سے سبق یاد کرتے ہیں لیکن جلد ہی بھول جاتا ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں: حافظہ کی کمزوری یا سبق یاد کرنے کا طریقہ درست نہ ہونا۔

بلا شبہ اسباق کو یاد کرنے میں حافظہ (Memory) بنیادی اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس کی کمزوری کو علم کے لیے آفت قرار دیا گیا ہے، چنانچہ مشہور ہے: آفة العلم النسیان یعنی "بھول جانا علم کے لیے آفت ہے۔" لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی قوتِ حافظہ کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوشش کریں۔

حافظہ کی کمزوری کا علاج

  • بارگاہِ الٰہی میں دعا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے حافظے کی مضبوطی کے لیے دعا کریں کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر رب عزوجل کی حمد بیان کرنے اور رحمتِ عالم ﷺ پر درود پاک پڑھنے کے بعد یوں عرض کریں: اے میرے مالک و مولا! تیرا عاجز بندہ تیری بارگاہ میں حاضر ہے، اے اللہ! میں تیرے دین کا علم حاصل کرنا چاہتا ہوں لیکن میری یادداشت میرا ساتھ نہیں دیتی، اے ہر شے پر قادر رب! تو اپنی قدرتِ کاملہ سے میرے کمزور حافظے کو قوی فرما دے اور مجھے بھول جانے کی بیماری سے نجات دے دے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
  • باوضو رہنا: ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کریں، احساسِ کمتری ہمیں چھونے بھی نہ پائے گا جو کہ حافظے کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔
  • کثرتِ درود و سلام: سرکارِ مدینہ ﷺ پر درود و سلام کی کثرت کریں کہ اس کے نتیجے میں ثواب کے ساتھ بہتر یادداشت کا تحفہ بھی نصیب ہوگا، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب تم کسی چیز کو بھول جاؤ تو مجھ پر درود پاک پڑھو وہ چیز ان شاء اللہ عزوجل تمہیں یاد آ جائے گی۔" (القول البدیع، ص 217)
  • گناہوں سے پرہیز: حافظے کو نقصان دینے والی چیزوں سے بچیں مثلاً گناہوں سے پرہیز کریں کہ مشہور ہے: النسيان من العصيان یعنی "عصیاں سے نسیاں ہوتا ہے۔"
  • صحت کا خیال: اپنی صحت (Health) کا خاص طور پر خیال رکھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہر وقت پڑھتے رہنے کی بناء پر اتنے کمزور ہو جائیں کہ بیماریوں کا شکار ہو جائیں۔

سبق یاد کرنے کا بہتر طریقہ

کسی بھی سبق کو اچھی طرح یاد رکھنے کے لیے پہلے اسے زبانی یاد کر لیجیے پھر اسے لکھ کر دہرا لیجیے کیونکہ اس کی ترغیب حدیثِ پاک میں وارد ہوئی ہے۔ کنز العمال میں ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حافظہ کی خرابی کی شکایت کی تو آپ نے اپنے ہاتھ سے خط (یعنی لکھنے) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "اپنے دائیں ہاتھ سے مدد طلب کر۔" لکھ کر دہرا لینے کے بعد کسی دوسرے اسلامی بھائی کو زبانی سنا کر محفوظ ترین بنا لیجیے کہ ایک دوسرے کو سنا کر یاد کرنا صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت بھی ہے۔

حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام فرض نمازوں کے بعد مسجدِ نبوی میں بیٹھ کر قرآن و حدیث کا مذاکرہ کیا کرتے (یعنی ایک دوسرے کو سنایا کرتے) تھے۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے: "احادیث ایک دوسرے سے بیان کرتے رہا کرو، اگر تم ایسا نہ کرو گے تو یہ چلی جائیں گی۔" حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی اس بات کی تاکید فرمایا کرتے تھے کہ حدیثیں ایک دوسرے سے سنتے اور سناتے رہا کرو، اسی طرح یہ باقی رہ سکتی ہیں۔

پھر حمدِ باری تعالیٰ کی نیت سے الحمد للہ رب العالمین کہہ لیں کہ ذکر اللہ کا ثواب بھی ملے گا اور حدیث پاک میں ہے: "جو کام اللہ تعالیٰ کی حمد سے شروع نہیں کیا جاتا وہ ادھورا رہ جاتا ہے۔" اس کے بعد دل ہی میں سہی اللہ تعالیٰ سے دعا کر لیجیے کہ یا اللہ! میں تیرے دین کو سیکھنے کے لیے اس سبق کو یاد کرنا چاہتا ہوں، میری مدد فرما اور میرے حافظے کو قوی فرما دے۔

اب جس سبق کو یاد کرنا مقصود ہو، اسے پوری توجہ سے اول تا آخر پڑھ لیں اور اس میں بیان کردہ مفہوم کو بھی سمجھ لیجیے۔ اگر عربی کتاب سے یاد کر رہے ہوں تو پہلے عبارت پڑھ کر ترجمہ کریں پھر اس کے مفہوم کو بھی سمجھ لیجیے۔ اب اگر سبق طویل ہو تو اسے دو یا تین حصوں میں تقسیم کر لیجیے اور ہر حصے کے اہم الفاظ کو نشان زد (Highlight) کر لیں۔ پھر پہلے حصے کو چند مرتبہ درمیانی آواز کے ساتھ پڑھیں تاکہ آس پاس والے تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔ آواز کے ساتھ پڑھنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ یاد کرنے میں ہمارے تین حواس یعنی آنکھ، زبان اور کان استعمال ہوں گے اور جو بات تین حواس کے ذریعے دماغ تک پہنچے گی، ان شاء اللہ عزوجل جلد یاد ہوگی۔

اس کے بعد سبق کے مذکورہ حصے پر ہاتھ یا کوئی کاغذ وغیرہ رکھ کر نگاہیں جھکا کر یا آنکھیں بند کر کے اسے زبانی دہرانے کی کوشش کریں۔ نگاہیں جھکانے یا آنکھیں بند کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ سبق کے الفاظ کا نقشہ ہمارے ذہن میں بیٹھ جائے گا۔ اس دوران اگر کوئی لفظ بھول جائے تو ہاتھ اٹھا کر صرف اسی لفظ کو دیکھ کر دوبارہ ہاتھ رکھ دیجیے۔ اپنی اس مشق (Exercise) کو اس وقت تک جاری رکھیں جب تک آپ بغیر دیکھے اس حصے کو دہرانے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ پہلے حصے کو یاد کرنے کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے حصے کی طرف بڑھیں۔ جب سبق کے تمام حصوں کو الگ الگ یاد کر چکیں تو مکمل سبق کو اتنی مرتبہ زبانی دہرائیں کہ زبان میں روانی آ جائے۔ زبانی یاد کر چکنے کے بعد وقت میں وسعت ہو تو اسے لکھ کر بھی دہرائیں اور پھر کسی کو سنا کر پختہ کر لیں۔

کتنی مرتبہ دہرائی کریں؟

اس سوال کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ امتحانات میں کتنا عرصہ باقی ہے۔ اگر وقت میں وسعت ہو تو امتحانات سے قبل کم از کم دو مرتبہ تمام اسباق کی دہرائی کر لیں۔ دہرائی کر چکنے کے بعد کوشش کر کے سابقہ امتحانی پرچہ جات (Past Papers) کو حل کرنا بے حد مفید ہے۔

جب امتحان قریب ہو تو چار باتیں ضرور ذہن میں رکھیں

1۔ اسٹڈی پلان: اپنا اسٹڈی پلان بنائیں، جس میں ہر مضمون کے لیے روزانہ کا وقت طے ہو ۔ مشکل اسباق کو شروع میں رکھیں تاکہ پریشانی کم ہو جائے۔
2۔ روزانہ دہرائی اور پاسٹ پیپرز: جو سبق ایک بار پڑھیں اسے اگلے دن لازماً دہرائیں تاکہ یادداشت مضبوط رہے۔ پرانے پیپرز حل کرنا بھی فائدہ مند ہے، اس سے سوالات کا انداز اور اپنی کمزوریاں دونوں سمجھ آتی ہیں۔
3۔ وقت کی پابندی اور موبائل سے دوری: وقت کی پابندی اور موبائل سے دوری ضرور بنائیں۔ ہر گھنٹے بعد پانچ منٹ کا وقفہ لیں تاکہ دماغ تازہ رہے۔ اچھی نیند، صحیح خوراک اور سکون بھی امتحانی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
4۔ مشکل اسباق کا حل: مشکل اسباق کسی استاد یا ساتھی سے سمجھ لیے جائیں، اس سے وقت بچے گا اور غلطی کا امکان بھی ختم ہو جاتا ہے۔ مشکل اسباق کو ہرگز نہ چھوڑیں کہ یہ امتحان میں کمزوری کا سبب بنتا ہے۔

پرچہ لکھنے کے دوران ان باتوں کا خیال رکھئے

  • سوالیہ پرچہ ہاتھ میں آتے ہی ابتدائی 5 منٹ میں پورا پرچہ ایک نظر دیکھ لیں۔
  • جن سوالوں کے جواب اچھی طرح آتے ہیں، ان پر نشان لگا لیں اور پھر سب سے پہلے انہیں ہی حل کیجیے۔ اس سے آپ کا اعتماد بڑھے گا۔
  • جن سوالوں کے جواب میں کسی قسم کا شبہ ہو، انہیں شروع میں حل مت کیجیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جواب لکھتے وقت ان سوالوں کے جواب بھی یاد آ جاتے ہیں جو کسی وجہ سے ذہن سے محو ہو جاتے ہیں، لہٰذا دیگر سوالوں کے جواب کے لیے جگہ چھوڑتے جائیے۔
  • اب ان سوالوں کو حل کیجیے جن کے متعلق آپ شبہ میں مبتلا تھے، ہو سکتا ہے کہ ان کے جواب اب تک آپ کو یاد آ گئے ہوں، اگر ایسا نہ ہو تو ذہن پر زور ڈالیے۔ یاد رکھیے کہ اگر آپ نے ان سوالوں کے جواب پڑھے تھے تو وہ آپ کے ذہن میں ہیں، آپ کو صرف تھوڑی سی محنت کرنی ہے۔
  • اگر پھر بھی یاد نہ آئے تو "تصور" کیجیے کہ اس جواب کو یاد کرتے وقت آپ کے اطراف کون سے مناظر تھے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے جواب یاد آ جاتا ہے۔

راهِ محنت میں قدم رکھ دیں تو رستے خود بنیں
ہمتیں جاگیں تو پتھر بھی کرامات دکھائیں

عارفؔ! ہمت نہ ہار، محنت کو اپنا شعار رکھ
اللہ کے کرم سے ہر مشکل آسان ہو جائے گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!