| عنوان: | نکاح! اصلِ انسانی کی بقا کا ضامن |
|---|---|
| تحریر: | مولانا انیس الرحمن حنفی رضوی |
| پیش کش: | خوشبو فاطمہ قادریہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
انسانی تاریخ کے طویل اور پیچیدہ سفر پر اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت پوری قوت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان نے جس لمحے فطرت سے بغاوت کی، وہ لمحہ دراصل اس کے زوال کا نقطہ آغاز بن گیا۔ تہذیبیں عروج پر پہنچیں، علوم و فنون نے ترقی کی، طاقت اور دولت کے انبار لگے، مگر جب خاندانی نظام کمزور ہوا تو وہی تہذیبیں رفتہ رفتہ مٹ گئیں۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی فلسفیانہ موشگافی یا جدید سماجی تھیوری کی ضرورت نہیں، بلکہ خود انسانی تاریخ اس کی سب سے بڑی گواہ ہے۔ خاندان انسانی معاشرے کی پہلی اکائی ہے اور خاندان کی بنیاد نکاح پر قائم ہے۔ نکاح وہ مضبوط ستون ہے جس پر انسانی بقا، اخلاقی استحکام اور تہذیبی تسلسل کی عمارت کھڑی ہے۔ اگر یہ ستون متزلزل ہو جائے تو محض خاندان ہی نہیں، بلکہ پوری نسل خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تمام الہامی ادیان، بالخصوص اسلام نے نکاح کو محض ایک سماجی رسم نہیں بلکہ ایک مقدس، ذمہ دارانہ اور ہمہ گیر نظام کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلام نے انسان کو حیوانی خواہشات سے آزاد نہیں چھوڑا، نہ ہی رہبانیت کی طرف دھکیلا، بلکہ فطرت اور شریعت کے حسین امتزاج کے ذریعے نکاح کو وہ مقام عطا کیا جو نسل انسانی کی بقا کا حقیقی ضامن بن جاتا ہے۔ یہی نکتہ اس مضمون کی فکری اساس ہے کہ نکاح محض فرد کی تسکین نہیں، بلکہ انسانیت کے مستقبل کی ضمانت ہے۔
زوجیت کا اصول اور نسلِ انسانی کا پھیلاؤ
انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف زندہ رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا، بلکہ اس کے ذمے زمین پر ایک منظم، باوقار اور اخلاقی زندگی قائم کرنے کی ذمہ داری رکھی ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ انسانی نسل نہ صرف باقی رہے بلکہ پاکیزہ، واضح النسب اور باکردار ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نکاح کا تصور محض ذاتی معاملہ نہیں رہتا بلکہ اجتماعی، تہذیبی اور اخلاقی فریضہ بن جاتا ہے۔ قرآن مجید جب انسان کی تخلیق کا ذکر کرتا ہے تو اسے زوجیت کے اصول سے جوڑ دیتا ہے:
"يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً۔ (النساء: 1)
ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔"
یہ آیت محض تخلیقِ انسانی کا بیان نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ نسلِ انسانی کا پھیلاؤ، بقا اور نظم زوجیت کے بغیر ممکن نہیں اور زوجیت کا شرعی و مہذب نام نکاح ہے۔ نکاح دراصل فطرتِ انسانی کا جواب ہے۔ انسان محبت چاہتا ہے، انس چاہتا ہے، نسل چاہتا ہے اور تسلسل چاہتا ہے۔ اگر ان تمام خواہشات کو بغیر ضابطے کے چھوڑ دیا جائے تو نتیجہ انتشار، بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
اسلام نے انہی فطری میلانات کو ایک پاکیزہ، ذمہ دار اور نتیجہ خیز دائرے میں بند کیا، تاکہ خواہش بھی پوری ہو اور انسانیت بھی محفوظ رہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دے کر اس کی حیثیت کو مزید واضح فرما دیا:
"النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي۔ (سنن ابن ماجہ)
ترجمہ: نکاح میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں۔"
یہ حدیث نکاح کو محض ایک اجازت نہیں بلکہ ایک دینی ترجیح قرار دیتی ہے، کیونکہ سنتِ رسول ﷺ کا مقصد فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ امت اور نسل کی حفاظت بھی ہے۔
تحفظِ نسب اور زنا کی ممانعت
نسلِ انسانی کی بقا کا مسئلہ صرف پیدائش تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ نسب، شناخت، تربیت اور ذمہ داری کا ہے۔ زنا، آزاد تعلقات اور غیر شرعی روابط اگرچہ وقتی لذت فراہم کر سکتے ہیں، مگر وہ ایسی نسل کو جنم دیتے ہیں جو شناخت کے بحران، نفسیاتی الجھنوں اور اخلاقی محرومی کا شکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زنا کو صرف حرام نہیں کہا بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا:
"وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا۔ (الإسراء: 32)
ترجمہ: اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔"
یہ ممانعت دراصل نسلِ انسانی کے تحفظ کی ممانعت ہے، کیونکہ زنا نسب کو مشتبہ، خاندان کو غیر مستحکم اور معاشرے کو بے بنیاد بنا دیتا ہے۔ نکاح کے ذریعے پیدا ہونے والی نسل صرف جسمانی وجود نہیں رکھتی بلکہ ایک مکمل اخلاقی اور سماجی شناخت کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔ باپ کی سرپرستی، ماں کی آغوش، گھر کا نظم اور خاندان کی ذمہ داری؛ یہ سب عناصر مل کر ایک صحت مند انسان تیار کرتے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے خاندان کے نظام میں ذمہ داری کو بنیادی حیثیت دی:
"كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔ (صحیح البخاری / صحیح مسلم)
ترجمہ: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔"
عصرِ حاضر کا خاندانی بحران
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نکاح صرف رشتہ نہیں بلکہ امانت ہے اور یہ امانت نسل کی صورت میں اگلی نسل کو منتقل ہوتی ہے۔ عصرِ حاضر میں نکاح سے روگردانی دراصل انسانی بقا سے روگردانی ہے۔ شادی کو مشکل بنانا، اسے غیر ضروری قرار دینا اور آزاد تعلقات کو ترقی کا نام دینا وہ فکری زہر ہے جس نے مغربی معاشروں کو خاندانی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ آج وہاں نسل تو موجود ہے، مگر خاندان نہیں؛ اولاد تو ہے، مگر باپ کی شناخت نہیں؛ آزادی تو ہے، مگر سکون نہیں۔ یہ سب اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ نکاح کے بغیر نسل تو پیدا ہو سکتی ہے، مگر محفوظ نہیں رہ سکتی۔
اسلام نے نکاح کو آسان، بابرکت اور قابلِ عمل بنا کر انسانیت کو تباہی سے بچانے کا راستہ دکھایا۔ یہی وہ نظام ہے جو خواہش کو بھی پاکیزہ رکھتا ہے اور نسل کو بھی۔ نکاح دراصل انسانی زندگی کا وہ مرکز ہے جہاں فطرت، شریعت، اخلاق اور تہذیب ایک نقطے پر جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ محض دو افراد کے درمیان تعلق کا نام نہیں بلکہ نسلِ انسانی کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔
اسلام نے نکاح کو عبادت کا درجہ دے کر یہ واضح کر دیا کہ نسل کی حفاظت کوئی ثانوی مسئلہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری ہے۔ اگر انسانیت کو اخلاقی زوال، خاندانی انتشار اور نسلی بحران سے بچانا ہے تو نکاح کے تقدس کو بحال کرنا ہوگا، اسے آسان بنانا ہوگا اور اس کے فطری و شرعی مقام کو دوبارہ سمجھنا ہوگا، کیونکہ نکاح ہی وہ واحد راستہ ہے جو نسل کو پیدا بھی کرتا ہے، سنوارتا بھی ہے اور محفوظ بھی رکھتا ہے۔
