| عنوان: | خیارِ طلاق پر سوالیہ نشان (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا یٰسین اختر مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
کچھ طاقت اور فسادی عناصر بڑی باریک بینی و منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کے ذریعہ اسلام و مسلمین کو ہر شعبۂ زندگی میں اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ زبان و قلم سے نہیں مگر عمل سے اس کا واضح اعلان بار بار ہو چکا ہے کہ اسرائیل کی موساد، امریکہ کی سی آئی اے اور بھارت کی آر ایس ایس کے باہمی رشتے کافی مضبوط ہیں اور عالم اسلام کا محاصرہ کرنے میں ایک دوسرے کے تجربات کا ان کے درمیان اچھا خاصا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ اسلام کو ان سب نے اپنا مشترکہ دشمن بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مدت سے بڑی تیزی اور سرگرمی کے ساتھ یہودیوں اور عیسائیوں کی چبائی ہوئی ہڈیاں ہندوستان کے اندر سپلائی کی جا رہی ہیں اور ان کے قدیم و جدید سوالات و اعتراضات اور سازشوں و حملوں کے نمونے اور ٹیسٹ شہر شہر اور گاؤں گاؤں بکھیرنے کے لیے سنگھ پریوار (آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بھاجپا وغیرہ) کا نیٹ ورک خصوصی طور پر اپنے انداز سے اپنا کام کر رہا ہے۔
کچھ دہریے، کچھ کمیونسٹ، کچھ نام نہاد دانش ور اور کچھ خلل دماغ افراد کی مسلسل روش عام طور پر اسلام مخالف ہوا کرتی ہے، لیکن سنگھ پریوار اس وقت ان سب پر سبقت لے جا چکا ہے اور اس کی درجنوں شاخیں ہندو کے نام پر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے کے لیے ہمہ وقت آمادہ اور کمر بستہ رہتی ہیں۔
سماج، سیاست، صحافت، تعلیم، ملازمت، تجارت غرض کہ ہر شعبۂ زندگی میں مسلم دشمن عناصر کا یکساں سلوک و کردار ہے۔ ان کی نظر ہمیشہ اس پہلو پر رہتی ہے کہ اسلام کو کس طرح نشانۂ طعن و تشنیع بنایا جائے اور مسلمانوں کو کس طرح پریشان اور ہراساں کیا جائے۔ اردو اور عربی زبان میں صدیوں پہلے نکاح و طلاق پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن بعض لوگوں کا وطیرہ ہے کہ وہ بار بار ایک ہی بات دہرائے جاتے ہیں کہ طلاق کا حق شوہر ہی کو کیوں حاصل ہے؟ بیوی کو کیوں نہیں؟ تین طلاق کو ایک کیوں نہیں مانا جاتا ہے؟ حلالہ کی سزا سابقہ بیوی کیوں جھیلتی ہے؟ شوہر جب چاہتا ہے اپنی بیوی کو طلاق کیوں دے دیتا ہے؟ اور اس طرح کی باتیں شریعت کیوں مان لیتی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
جس نکاح سے عورت اپنے شوہر کی پابند ہو جاتی ہے اس پابندی کے اٹھا دینے کو طلاق کہا جاتا ہے۔ کبھی طلاق سے بیوی نکاح سے فوراً باہر ہو جاتی ہے۔ اس صورت کو طلاقِ بائن کہا جاتا ہے۔ کبھی عدت گزرنے کے بعد باہر ہوتی ہے۔ اس صورت کو طلاقِ رجعی کہا جاتا ہے۔
طلاقِ رجعی میں اپنے کسی قول یا عمل سے عدت کے اندر رجوع کر لینا کافی ہوتا ہے اور طلاقِ بائن میں نکاحِ جدید کی ضرورت پڑتی ہے اور بیک وقت یا الگ الگ تین طلاقیں دے دی ہیں اور طلاقِ مغلظہ واقع ہو گئی ہے تو پھر وہ مطلقہ اپنے سابق شوہر کے حق میں ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ ہاں! اگر اس نے بعد عدت کسی دوسرے مرد سے کبھی نکاح کر لیا اور اس کے پاس رہ چکی ہو اور کسی وجہ سے اس نے طلاق دے دی ہو تو بعد انقضاءِ عدت جس طرح وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے اسی طرح اپنے سابق شوہر سے بھی نکاح کر سکتی ہے۔
شراب یا بھنگ وغیرہ کے نشہ میں کسی نے طلاق دی، مذاق، دل لگی میں طلاق دی، غصہ میں طلاق دی، زبان سے یا تحریر کے ذریعہ طلاق دی تو ان سب صورتوں میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ نیند یا غصہ کی حالت میں زوالِ عقل ہو جائے تو اس کیفیت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
اگر شوہر کسی وقت لاپتہ ہو جائے اور اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہ معلوم ہو سکے کہ زندہ ہے یا مردہ تو بیوی اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کر سکتی ہے۔ مقدمہ پیش کیے جانے کے بعد قاضی اس مفقود الخبر شوہر کی تلاش و انتظار کا حکم دے گا۔ حضرت امام مالک کے مسلک کے مطابق اس تلاش و انتظار کی مدت چار سال تک ہے۔ اگر اس مدت میں شوہر کا کچھ پتہ نہ چل سکے تو قاضی فسخِ نکاح کر سکتا ہے۔ قاضی کے پاس اپنا معاملہ و مقدمہ پیش کیے بغیر یوں ہی اس بیوی نے دس برس سال بھی گزار دیا تب بھی وہ اپنا نکاح ثانی نہیں کر سکتی۔
تین طلاق کے سلسلے میں پہلے چند حدیثیں ملاحظہ فرمالیں۔ پھر آگے کچھ باتوں پر غور و خوض کیا جائے۔
ابن شہاب زہری سے مروی ہے کہ سہل بن سعد ساعدی نے انہیں بتایا کہ عویمر عجلانی ایک بار عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا: اگر کوئی شخص کسی اجنبی کو اپنی زوجہ کے پاس پائے تو بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہوگا؟ آپ برائے کرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کو دریافت کریں۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا۔
جب حضرت عاصم رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے اور حضرت عویمر کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدگی کے بارے میں بتایا تو عویمر نے کہا کہ بخدا میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کو دریافت کروں گا۔ پھر حضرت عویمر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مسئلہ دریافت کیا۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تمہارے اور تمہاری زوجہ کے بارے میں حکم نازل ہو گیا ہے۔ (یعنی حکم لعان) جاؤ اپنی زوجہ کو بلا لاؤ۔
سہل کہتے ہیں کہ ان دونوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کیا۔ پھر عویمر نے عرض کی یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اسے اپنی زوجیت میں رکھوں گا تو گویا میں جھوٹا رہا ہوں گا۔
پھر حضرت عویمر نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم دینے سے قبل ہی تین طلاقیں ایک بارگی دے دیں۔ [بخاری و مسلم]
