| عنوان: | خیارِ طلاق پر سوالیہ نشان (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا یٰسین اختر مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نافع رضی اللہ عنہ عبداللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی عورت کو اس کے حیض کی حالت میں ایک طلاق دی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رجعت کر لو۔ پھر جب طہر آئے پھر حیض تو پھر اتنی مدت چھوڑے رکھو کہ طہر آجائے۔ پھر اگر اس کے بعد چاہو تو طہر میں طلاق دے سکتے ہو جس میں وطی نہ کی ہے۔
جب کوئی شخص عبداللہ بن عمر سے اس بارے میں سوال کرتا تو آپ فرماتے۔ اگر کسی نے ایک یا دو مرتبہ طلاق دی ہے تو رجعت کر سکتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم فرمایا ہے۔ ہاں اگر تین طلاقیں دی ہیں تو عورت حرام ہو جائے گی یہاں تک کہ زوج ثانی سے نکاح و وطی کے بغیر اول کے لیے حلال نہ ہوگی۔ اس صورت میں وہ شخص خدا کا نافرمان بندہ ٹھہرے گا۔ [مسلم]
محمود بن لبید نے بیان کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا جس نے اپنی عورت کو تین طلاق دے دی تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت غضب میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اللہ کی کتاب سے مذاق کرتا ہے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے کہا۔ یا رسول اللہ! کیا اسے قتل نہ کر دوں؟ [سبل السلام للصنعانی]
رکانہ نے اپنی زوجہ کو طلاق البتہ دی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں نے ایک طلاق مراد لی ہے۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حلف لیا۔ [ابو داؤد و ابن ماجہ]
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دریافت کرنے کے بعد کہ ایک ہی مراد لی ہے۔ فرمایا: وہی واقع ہوگی جو مراد لی ہے۔ [ترمذی]
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے جد امجد نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دی۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بیان کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے جد نے خدا کا خوف نہیں کیا اس لیے تین تو واقع ہوں گی، باقی نو سو ستانوے (997) کو ظلم و عدوان شمار کیا جائے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے عذاب دے گا۔ چاہے تو مغفرت فرمائے گا۔ [مصنف عبدالرزاق]
ایک دوسری روایت میں ہے۔ تمہارے باپ نے خدا کا خوف نہیں کیا۔ لہذا اس کی بیوی تین میں بائنہ ہو جائے گی اور باقی کا گناہ اس کی گردن پر ہے۔ [نیل الاوطار]
عہد فاروقی میں ہی صحابہ کرام کا اجماع ہو گیا تھا کہ حکم و مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی ہے کہ جو شخص جتنی طلاقیں دے گا اتنی ہی واقع و نافذ ہوں گی اور اہلسنت کے ائمہ اربعہ امام اعظم ابو حنیفہ و امام محمد بن ادریس شافعی و امام مالک و امام احمد بن حنبل رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی اسی پر اجماع ہے کہ ایک طلاق ایک، دو طلاق دو، اور تین طلاق تین ہی شمار ہوں گی۔
بعد کے ادوار میں ابن تیمیہ نے اس مسلک سے اختلاف کرتے ہوئے ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک شمار کیا۔ جب کہ نجد کے متبعین شیخ محمد بن عبدالوہاب نے بہت پہلے ریاض (نجد) کے ایک فقہی سمینار میں کافی بحث و مباحثہ کے بعد یہی فیصلہ کیا کہ تین طلاقیں تین ہی سمجھی جائیں گی۔ البتہ ہندوستان کے غیر مقلدین بڑے شد و مد کے ساتھ تین طلاق کو ایک طلاق ماننے پر مصر ہیں اور انہیں کی آڑ لے کر ہندوستان کا نیشنل میڈیا جمہور امت مسلمہ کے مسلک پر طرح طرح کی لب کشائی اور انگشت نمائی کرتا رہتا ہے۔
کتاب و سنت میں صراحت سے بتلایا گیا ہے کہ طلاق دینے کا اختیار شوہر ہی کو حاصل ہے۔ اس کی وجہ اور اس کا سبب بیان کرتے ہوئے علمائے اسلام کہتے ہیں کہ عورت جذباتی اور جلد باز ہوتی ہے، جسے طلاق کا مکمل اختیار دیا جاتا تو معمولی باتوں پر آئے دن طلاق کی گرم بازاری سے خاندان کے تانے بانے بکھرتے اور ٹوٹتے رہتے۔
ہاں! علمائے کرام نے ایک صورت ضرور بتائی ہے کہ اگر شوہر نے بیوی سے کہا تجھے اختیار ہے یا کہا تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے اور اس سے مقصود طلاق دینا ہے تو بیوی اس مجلس میں اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے۔ چاہے وہ مجلس کتنی ہی طویل ہو، اور مجلس بدلنے کے بعد کچھ نہیں کر سکتی اور شوہر نے بیوی کو طلاق کا اختیار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تو جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے۔ اس کو تفویضِ طلاق کہا جاتا ہے اور ہر صورت میں شوہر کا اپنا اختیارِ طلاق باقی اور برقرار رہتا ہے۔ [در مختار و بہارِ شریعت و غیرہ]
اسی طرح خلع کی صورت ہے کہ عورت کچھ مال وغیرہ کے بدلے میں شوہر سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ اس کے مسائل بھی مشہور اور فقہی کتابوں میں تفصیل سے مذکور ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ نے حلالہ کا حکم نہ دیا ہے اور نہ اس کی ترغیب دی ہے۔ بلکہ حدیثِ رسول میں وارد ہے کہ:
لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحَلِّلِينَ وَالْمُحَلَّلَاتِ
شوقیہ حلالہ کرنے والوں اور حلالہ کرانے والوں پر اللہ کی لعنت ہے، جو اسے ایک پیشہ اور کاروبار بنالیں ان پر اللہ کا غضب نازل ہوگا۔
شریعت صرف یہ کہتی ہے کہ مطلقہ عورت بعدِ انقضائے عدت جس طرح کسی بھی مرد سے نکاح کر سکتی ہے جس سے اس کا نکاح جائز ہے، اسی طرح وہ اپنے سابق شوہر سے بھی نکاح کر سکتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ براہِ راست دوسروں کی طرح اپنے سابق شوہر کے نکاح میں نہیں آسکتی ہے۔ ہاں کسی مرد سے اس کا نکاح ہو چکا ہے اور وہ اس کے پاس رہ بھی چکی ہے اور پھر کسی وجہ سے اس سے طلاق پا جاتی ہے یا طلاق حاصل کر لیتی ہے یا اس شوہر کا انتقال ہو جاتا ہے تو بعدِ انقضائے عدت اپنے سابق شوہر سے بھی نکاح کر سکتی ہے۔ شریعت نے سابقہ شوہر بیوی کے باہمی نکاح ثانی پر کوئی جبر نہیں کیا ہے۔ یہ تو ان کے اپنے حالات اور اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ دوبارہ نکاح کریں یا نہ کریں۔
