| عنوان: | خلافتِ راشدہ میں ظاہری اور باطنی کی تقسیم: رافضیت کا چور دروازہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی فداء المصطفیٰ قادری مصباحی، اتر دیناج پور، بنگال |
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت، اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک نصوصِ شرعیہ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ اسی طرح آپ کی خلافت، خلافتِ راشدہ کی پہلی کڑی اور خلافتِ مطلقہ ہے، جس پر سلفِ امت، ائمۂ دین اور جمہور اہلِ سنت کا اتفاق ہے۔ اس مسئلے میں نہ کسی معتبر دلیل سے اختلاف ثابت ہے اور نہ کسی قابلِ اعتماد امام نے اس کے برخلاف کوئی ایسا مذہب اختیار کیا ہے جسے اہلِ سنت کا قول قرار دیا جا سکے۔
مگر اس بابت ہمارے زمانے میں ایک نئے فتنے نے جنم لیا ہے۔ جس سے جڑے افراد، جو بظاہر اپنے آپ کو اہلِ سنت سے منسوب کرتے ہیں، مگر عوام کے سامنے صوفیائے کرام کی بعض عبارات کو سیاق و سباق سے الگ کر کے یا ان کا غلط مفہوم پیش کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ خلافتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محض “خلافتِ ظاہری اور سیاسی” تھی، جبکہ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو “خلافتِ باطنی اور خلافتِ کبریٰ” جیسے بلند مرتبے کا حامل قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ اہلِ سنت کے مسلّمہ عقائد سے ہم آہنگ نہیں، بلکہ رافضیت کے لیے ایک خطرناک چور دروازہ ہے۔
اگر ان حضرات کے پاس اپنے دعوے کے حق میں واقعی کوئی مضبوط دلیل ہے تو وہ صراحت کے ساتھ میدان میں آئیں اور واضح طور پر ثابت کریں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ افضل البشر بعد الانبیاء نہیں ہیں۔ اور اگر وہ تقیہ یا مصلحت کے تحت ہی سہی، آپ کو افضل البشر بعد الانبیاء مانتے ہیں، تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ امت میں سب سے اعلیٰ غیر نبوی مرتبہ بھی آپ ہی کو حاصل ہے۔ اس حقیقت سے گریز کی آخر کیا وجہ ہے؟
اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت، خلافتِ مطلقہ نہیں تھی، یا یہ کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کسی معنی میں اس سے اعلیٰ خلافت حاصل تھی، تو ان پر لازم ہے کہ اس دعوے پر واضح، صحیح اور صریح دلیل پیش کریں۔ صوفیائے کرام کی عبارات کا غلط ترجمہ کرنا، انہیں سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کرنا، یا ان سے ایسا مفہوم اخذ کرنا جو خود ان کے مجموعی مذہب کے خلاف ہو، ہرگز دلیل نہیں، بلکہ ایک طرح کا دجل و فریب اور علمی دیانت کے منافی طرزِ استدلال ہے۔
بالفرض اگر کسی بزرگ کی کسی عبارت سے بادی النظر میں کوئی ایسا مفہوم سمجھ میں آئے جو اجماعِ اہلِ سنت کے خلاف معلوم ہوتا ہو، تو اہلِ علم کا طریقہ یہ نہیں کہ اس ایک عبارت کو بنیاد بنا کر امت کے اجماعی عقیدے کو مشکوک بنایا جائے، بلکہ اس عبارت کو محکم نصوص، اجماعِ امت اور خود اس بزرگ کی دیگر تصریحات کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔ اگر پھر بھی تعارض باقی رہے تو اسے صاحبِ قول کا تفرد یا خطائے اجتہادی قرار دیا جاتا ہے، نہ کہ اس کی بنیاد پر اجماعِ امت کو رد کیا جاتا ہے۔
قرآنِ مجید نے ایسے طرزِ استدلال کے بارے میں ایک عظیم اصول بیان فرمایا ہے:
فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ [سورۃ آل عمران: 7]
ترجمہ: پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ (محکم آیات کو چھوڑ کر) متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تاکہ فتنہ برپا کریں اور اپنی خواہش کے مطابق ان کی تاویل تلاش کریں۔
یہ آیت اگرچہ متشابہ آیات کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس سے ایک کلی اصول معلوم ہوتا ہے کہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہ یا مجمل نصوص سے اپنے نظریات اخذ کرنا اہلِ زیغ کا طریقہ ہے۔ یہی اصول بزرگانِ دین کی عبارات پر بھی منطبق ہوتا ہے؛ لہٰذا صوفیائے کرام کے کسی مجمل یا متشابہ کلام کو ان کے مسلّمہ عقائد، محکم نصوص اور اجماعِ امت سے الگ کر کے پیش کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
حق بات یہ ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں امت کے کسی فرد کے لیے آپ سے بلند مرتبہ ثابت کرنا، اہلِ سنت کے مسلّمہ اصولوں کے خلاف ہے۔ جس ذات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے افضلیت عطا فرمائی ہو، اور جس کی افضلیت پر صحابۂ کرام، تابعین، ائمۂ مجتہدین اور جمہور امت کا اجماع ہو، اس کے مقابلے میں کسی دوسرے کے لیے اعلیٰ ترین غیر نبوی مرتبہ ثابت کرنا نہ شرعاً درست ہے اور نہ اصولِ اہلِ سنت کے مطابق۔
یہ حقیقت خود وہ حضرات بھی بظاہر تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ “صدیق” ہیں، بلکہ صدیقِ اکبر ہیں۔ جب یہ بات مسلّم ہے تو پھر مقامِ صدیقیت کی حقیقت کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا [سورۃ النساء: 69]
ترجمہ: اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین؛ اور یہ کیا ہی بہترین رفیق ہیں۔
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مراتبِ قرب و فضیلت کی ترتیب بیان فرمائی ہے۔ پہلے انبیاء، پھر صدیقین، اس کے بعد شہداء اور پھر صالحین کا ذکر فرمایا۔ اس ترتیب سے واضح ہوتا ہے کہ امت میں نبوت کے بعد سب سے بلند مرتبہ صدیقیت کا ہے۔ اور جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صدیقِ اکبر ہیں تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ امت میں مقامِ صدیقیت کے اعلیٰ ترین مرتبے پر بھی آپ ہی فائز ہیں۔
اسی حقیقت کو اکابرِ صوفیاء نے نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَلَيْسَ بَيْنَ النُّبُوَّةِ الَّتِي هِيَ نُبُوَّةُ التَّشْرِيعِ وَالصِّدِّيقِيَّةِ مَقَامٌ وَلَا مَنْزِلَةٌ، فَمَنْ تَخَطَّى رِقَابَ الصِّدِّيقِينَ وَقَعَ فِي النُّبُوَّةِ الرِّسَالِيَّةِ. [الفتوحات المكية، الباب الثالث والثلاثون]
ترجمہ: نبوتِ تشریع اور صدیقیت کے درمیان کوئی مستقل مقام یا منزل نہیں۔ لہٰذا جو شخص صدیقین کے مرتبے سے آگے بڑھنے کا دعویٰ کرے، وہ نبوت کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔
اس عبارت سے واضح ہے کہ شیخِ اکبر کے نزدیک مرتبۂ صدیقیت اور مرتبۂ نبوت کے درمیان کوئی تیسرا مستقل مرتبہ موجود نہیں۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی غیر نبی کے لیے ایسا مرتبہ ثابت کرے جو صدیقیت سے بلند ہو تو اس کے قول کا لازم یہی ہوگا کہ اس نے نبوت کی طرف راہ کھول دی، کیونکہ ان دونوں کے درمیان کوئی مستقل منزل نہیں۔
اسی مضمون کو حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ نے نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا ہے:
آخِرُ نِهَايَاتِ الصِّدِّيقِينَ أَوَّلُ أَحْوَالِ الْأَنْبِيَاءِ، وَلَيْسَ لِنِهَايَةِ الْأَنْبِيَاءِ غَايَةٌ تُدْرَكُ. [التعرف لمذهب أهل التصوف، باب بيان فضل الأنبياء على الأولياء]
ترجمہ: صدیقین کے مقامات کی آخری حد، انبیائے کرام کے ابتدائی احوال ہیں، جبکہ انبیاء کے مراتب کی کوئی انتہا نہیں جس تک پہنچا جا سکے۔
یہ عبارت بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صدیقیت اپنی انتہا کو پہنچ کر نبوت کے ابتدائی درجے سے متصل ہو جاتی ہے، لیکن اس سے آگے کوئی مستقل ولایتی یا روحانی مرتبہ موجود نہیں۔ چنانچہ جو نظریہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صدیقیت کے باوجود کسی دوسرے کے لیے اس سے بلند غیر نبوی مرتبہ ثابت کرنے کی کوشش کرے، وہ اکابرِ صوفیاء کی ان تصریحات سے بھی متصادم ہے چہ جائیکہ وہ صوفیاء کا مذہب ہو۔
اکابرِ اہلِ سنت نے ہمیشہ یہ واضح فرمایا ہے کہ مرتبۂ صدیقیت، نبوت کے بعد تمام مراتب سے اعلیٰ ہے۔ البتہ صدیقین کے مراتب میں بھی تفاوت ہوتا ہے، اور ان سب میں سب سے اعلیٰ مقام حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہے۔ اسی حقیقت کو امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ نہایت نفیس انداز میں بیان فرماتے ہیں:
“میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ تعالیٰ سے ہے کہ یہ حدیث حضرت امیر المؤمنین کے لیے مرتبۂ صدیقیت کا حصول بتاتی ہے۔ صدیقیت ایک مرتبہ تلوِ نبوت ہے کہ اس کے اور نبوت کے بیچ میں کوئی مرتبہ نہیں، مگر ایک مقامِ ادق و اخفیٰ کہ نصیبۂ حضرت صدیقِ اکبر، اکرم و اتقیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔ تو اجناس و انواع و اصنافِ فضائل و کمالات اور بلندیِ درجات میں خصائص و ملزوماتِ نبوت کے سوا صدیقین ہر عطیۂ بہیہ کے لائق و اہل ہیں، اگرچہ باہم ان میں تفاوت و تفاضلِ کثیر و وافر ہو۔” [فتاویٰ رضویہ، جلد: 15، ص: 678، رسالہ: جزاء اللہ عدوہ بآبائہ ختم النبوۃ]
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ کی مذکورہ عبارت پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقامِ صدیقیت، صدیقیت کے اعلیٰ ترین مرتبے کا مظہر ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو مقام حاصل ہے وہ محض ایک عام مقام نہیں، بلکہ امتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام میں مقامِ صدیقیت کی انتہا اور اس کی سیادت کا مقام ہے۔
بلاشبہ صدیقین کی تعداد بہت ہے اور ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں میں صدیقین کا وجود رہا ہے، لیکن جس طرح انبیائے کرام علیہم السلام میں مراتب کا فرق ہے، اسی طرح صدیقین کے درمیان بھی درجات و کمالات کے اعتبار سے تفاوت پایا جاتا ہے۔ اور اہلِ سنت کے نزدیک ان تمام صدیقین میں سب سے بلند، کامل اور ممتاز مقام حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہے۔
لہٰذا جب مقامِ صدیقیت کی انتہا اور اس مرتبے کی سیادت حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہے، تو کسی غیر نبی کے لیے ایسا مرتبہ ثابت کرنا جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بلند ہو، نہ صرف اصولِ اہلِ سنت کے خلاف ہے بلکہ مقامِ صدیقیت کے مفہوم ہی کے منافی ہے۔ اس لیے اگر کوئی ایسا نظریہ پیش کرے جس میں حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت و سیادتِ صدیقین کو برقرار رکھتے ہوئے کسی دوسرے غیر نبی کے لیے اس سے بلند مقام ثابت کرنے کی کوشش کی جائے، تو یہ یا تو اس کا دماغی دیوالیہ پن ہے جس کی وجہ سے وہ اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے یا پھر تفضیلیت اس گھٹی میں پلائی جا چکی ہے جس کی بنیاد پر وہ حق جان کر بھی اس کی اتباع سے معذور ہے۔ (جاری)
