Loading...

تجدیدی کارنامے (قسط: تیسری) | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

تجدیدی کارنامے (قسط: تیسری)
عنوان: تجدیدی کارنامے (قسط: تیسری)
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اور نجدی کا رسالہ “رد الاشراک” ان کی نظر سے گزرا۔ اور انہوں نے اردو میں “تقویۃ الایمان” لکھی۔ اس کتاب سے مذہبی آزاد خیالی کا دور شروع ہوا۔ کوئی غیر مقلد ہوا، کوئی وہابی بنا، کوئی اہلِ حدیث کہلایا، کسی نے اپنے کو سلفی کہا، ائمہ مجتہدین کی جو منزلت اور احترام دل میں تھا وہ ختم ہوا۔ معمولی نوشت و خواند کے افراد امام بننے لگے۔ اور افسوس اس بات کا ہے کہ توحید کی حفاظت کے نام پر بارگاہِ نبوت کی تفہیم و احترام میں تقصیرات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

یہ ساری قباحتیں ماہِ ربیع الآخر 1240ھ کے بعد ظاہر ہونی شروع ہوئی ہیں۔ اس وقت کے تمام جلیل القدر علماء دہلی کی جامع مسجد میں اجتماع ہوا، اور ان حضرات نے باتفاق اس کتاب (تقویۃ الایمان) کو رد کیا۔ [مولانا اسمعیل اور تقویۃ الایمان مؤلفہ شاہ زید ابو الحسن فاروقی، شاہ ابوالخیر اکیڈمی، دہلی، ص: 9، 10]

انہیں علمائے کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امام احمد رضا قدس سرہ نے اسلامی خول میں چھپے چہروں کی نقاب کشائی کی اور دنیا کے سامنے ان کی فکری آوارگی اور ذہنی کج روی اور دین و مسلک میں فتنہ انگیزی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نصوصِ قطعیہ کے منکرین اور کفریات کا ارتکاب کرنے والوں سے شرعی مواخذہ فرمایا۔ یہ بھی واضح رہے کہ انہوں نے گستاخانِ رسول سے بغیر باز پرس حکمِ شرع بیان نہیں کیا بلکہ ان سے تحقیق کے لیے متعدد بار خط روانہ کیے۔ جیسا کہ “اَلْمُعْتَمَدُ الْمُسْتَنَدُ عَلَى الْمُعْتَقَدِ الْمُسْتَنَدِ” میں اس کی وضاحت بھی کی ہے کہ جب مولانا رشید احمد گنگوہی کے رد میں “سُبْحَانَ السُّبُّوْحِ عَنْ عَيْبِ كَذِبٍ مَّقْبُوْحٍ” نامی رسالہ تحریر فرمایا تو اسے اس کے پاس روانہ بھی کیا، ڈاک خانے سے روانگی کی رسید بھی مل گئی، مگر 8 سال گزرنے کے بعد بھی کوئی جواب نہ ملا۔ [المعتمد المستند علی المعتقد المستند، ص: 225 تا 229]

مسلسل مطالبہ کے باوجود جب جواب نہیں آیا تو اعلیٰ حضرت نے حکمِ شرع بیان کرتے ہوئے تکفیر کا حکم صادر نہیں فرمایا اور یہ نہیں کہ اپنی تحقیق پر اکیلے تھے بلکہ آپ نے تمام کفری عبارتوں کو یکجا کر کے اپنے شرعی فیصلے کے ساتھ علمائے عرب و عجم کے سامنے پیش کیا، چنانچہ انہوں نے مہرِ تصدیق ثبت کی جسے “حُسَامُ الْحَرَمَيْنِ عَلَى مَنْحَرِ الْكُفْرِ وَالْمَيْنِ” (1323ھ) کے نام سے شائع کیا گیا۔

امام احمد رضا اپنی ایمانی بصیرت، علمی صلاحیت اور تحریری قوت سے زندگی کی آخری سانس تک اس کے خلاف برسرِ پیکار رہے۔ اس کام میں آپ خوب پیش پیش تھے اور صحیح یہ ہے کہ انہیں وہابیت سے قلبی نفرت تھی۔ وہ مسلمانوں کے لیے اسے سب سے خطرناک اور ایمان سوز فرقہ خیال فرماتے تھے۔

ردِ وہابیت و نجدیّت میں آپ کے کارنامے کا اندازہ اس سے بخوبی ہوتا ہے کہ اس باب میں آپ کا نام سب سے زیادہ مشہور ہو گیا اور آپ کو ردِ وہابیہ کا نشان سمجھا جانے لگا۔ اور غیروں نے یہ شیوہ بنا لیا کہ وہ دوسرے ہزاروں علمائے اہلِ سنت کا نام چھوڑ کر صرف امام احمد رضا بریلوی کا نام لے کر مسلمانوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے تکفیر کا بیڑا اٹھایا اور وہابیوں کے خلاف ہندوستان میں اتنی شورش پیدا کی۔

حکمت و فلسفہ

فلسفہ ایک ایسا علم ہے جس کی فنی ایجاد اور اس میں کمال و مہارت کا سہرا اہلِ یونان کے سر ہے۔ عہدِ عباسی میں جب فلاسفہ اور ملاحدہ نے اس کے ذریعہ اسلامی عقائد و نظریات پر حرف گیری شروع کی تو انہی کی زبان اور وضع کردہ اصول و ضوابط کی روشنی میں ان کا مشت و دنداں شکن جواب دینے کے لیے علمائے اسلام نے فلسفہ کی طرف توجہ دی اور علمائے اسلام نے انہی کے اصول و ضوابط کی روشنی میں ان کے مزعومات کو تارِ عنکبوت کے مانند بکھیر کر رکھ دیا۔

لیکن امام احمد رضا قدس سرہ کا دور بھی سائنسی اختراعات کا تھا، فلسفہِ جدیدہ کے ذریعہ اسلام مخالف نظریات کی تشہیر کی جا رہی تھی، انہوں نے قلم اٹھایا۔ فلسفیوں کی رودارِ فکر جہاں ٹھوکر کھائی تھی اس کی نشان دہی کی اس کی نوک پلک کو درست کیا اور اسلام مخالف افکار کی زبردست بیخ کنی کی ان کی فاش غلطیوں پر سخت گرفت کی اور ان کی انوکھی تشریحات سے متاثر ذہنوں کو غلط تعبیرات سے آگاہی بخش جن سے دین مجروح ہو رہا تھا ردِ فلسفہ و حکمت کے حوالے سے محدثِ بریلوی کی مندرجہ ذیل کتابیں معرضِ وجود میں آئیں:

  1. مُبِيْنُ مُبِيْنٍ بِرَدِّ شَمْسٍ وَّسُكُوْنِ أَرْضٍ

  2. فَوْزُ مُبِيْنٍ دَر رَدِّ حَرَكَتِ زَمِيْنٍ

  3. اَلْفَلَكَةُ الْمَشْحُوْنَةُ

  4. نُزُوْلُ آيَاتِ فُرْقَانٍ بِسُكُوْنِ زَمِيْنٍ وَّآسْمَانٍ

  5. مَقَامِعُ الْحَدِيْدِ

تحریکِ ندوہ

تحریکِ ندوہ کی داغ بیل علمائے اہلِ سنت نے ڈالی تھی، اس وقت پیش پیش رہنے والے مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا احمد حسن کانپوری اور حضرت شاہ محمد حسین الہ آبادی وغیرہ شامل تھے۔ لیکن چور دروازے سے چند ایسے لوگ بھی شامل ہو گئے تھے جو فرقہ ہائے باطلہ کے ساتھ ذہنی و فکری ارتہاب رکھتے تھے جس کے سبب اس میں خرابیاں در آئیں یہاں تک کہ ان کے مقاصد و عزائم کا لب لباب یہ قرار پایا کہ استقبالِ قبلہ کی بنیاد پر تمام کلمہ گو ایک صف میں کھڑا کر دیا جائے، اعتقادی اختلاف اور نزاعی صورت کو مٹا دیا جائے، کوئی کسی کی تکفیر نہ کرے۔ محدث بریلوی قدس سرہ نے ان کی بیمار ذہنیت کی شفایابی، ان کی تلبیسات کی پردہ دری میں درج ذیل سترہ کتابیں تصنیف فرمائیں:

  1. فَتَاوَى اللّٰهِ وَالْكَشْفُ دَفِيْنُ اللّٰهِ

  2. مَرَاسَلَاتُ وَسُنَّةُ نَدْوَةٍ

  3. سُؤَالَاتُ حَقَائِقِ نَمَايَه، رَدِّ نَدْوَةِ الْعُلَمَاءِ

  4. تَاجُ الْحَرَمَيْنِ بِرَجْفِ نَدْوَةٍ وَّأَيْمَنَ

  5. تَرْجَمَةُ الْفَتْوَى وَجْهُ دَمِ الْبِيْلَوِيِّ

  6. خَلَصُ فَوَائِدِ فَتْوَى

  7. سَرْگُذَشْت و مَاجَرَائے نَدْوَة

  8. إِشْتِهَارَاتِ خَمْسَة

  9. غَزْوَةُ أَبَدِ سِمَاكِ النَّدْوَةِ

  10. ندوہ کا نتیجہ رودادِ سوم کا نتیجہ

  11. بارشِ بہاری بر صدفِ بہاری

  12. سُيُوْفُ الْأَعِزَّةِ عَلَى ظَمَائِمِ النَّدْوَةِ

  13. آَمَالُ الْأَبْرَارِ وَآلَامُ الْأَشْرَارِ

  14. سِكِّيْنٌ وَّنُوْرَةٌ بَرَ كَاكُلِ پَرِيْشَانِ نَدْوَة

  15. صَمْصَامُ الْقَيُّوْمِ عَلَى تَاجِ النَّدْوَةِ عَبْدِ الْقَيُّوْمِ

  16. اَلْأَسْئِلَةُ الْفَاضِلَةُ عَلَى الطَّوَائِفِ الْبَاطِلَةِ

  17. سوالاتِ علماءِ جواباتِ ندوۃ العلماء

تحریکِ خلافت و ترکِ موالات

پہلی جنگِ عظیم (1914ء تا 1918ء) میں ترکوں نے پوری طاقت اور اپنی روایتی شان و شوکت کے ساتھ حصہ لیا تھا اور ایک عالم گیر شورش برپا ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب انگریزوں کی سازش سے ترکی کے اندر خانہ جنگی کے حالات پیدا ہوئے تو 1919ء میں سلطنتِ عثمانیہ کی حمایت و امانت کے لیے حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی لکھنوی نے “تحریکِ خلافت” کی داغ بیل ڈالی جس نے مسلمانانِ ہند کے درمیان عجیب و غریب جوش و خروش پیدا کر دیا تھا۔ اور ہر طرف اس تحریک کا شور و ہنگامہ نظر آنے لگا۔ چونکہ مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی اور مولانا عبد الماجد بدایونی و مولانا احمد کانپوری نیز مفتی کفایت اللہ دہلوی و ابوالکلام آزاد و حکیم اجمل خاں و ڈاکٹر مختار احمد انصاری و شوکت علی اور بہت سے علماء و مسلم قائدین بھی اس میں شامل ہو گئے اس لیے اس کے اثر سے تحریک نے کافی وسعت اور جذباتی شدت اختیار کر لی۔ حضرت مولانا عبد الباری فرنگی محلی لکھنوی کا ایک خطبہ صدارت جس میں 15 سطور اس موضوع سے متعلق تھیں اس میں انہوں نے کہا کہ خلافت کے لیے شرطِ قریشیت صرف حضراتِ شوافع کے نزدیک ہے۔ اور بعض احناف کا کلام بھی ہے۔ اس میں بھی تصریح نہیں۔

اس سلسلے میں ایک سائل نے حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے یہ سوال کیا کہ “سلطنتِ عثمانیہ کی اعانت مسلمانوں پر لازم ہے یا نہیں؟ فرضیتِ اعانت کے لیے بھی سلطان کا قرشی ہونا شرط ہے یا صرف خلافتِ شرعیہ کے لیے یہ کسی کے لیے نہیں؟”

اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے اس کا تشفی بخش جواب دیا، تقریباً پچاس احادیثِ کریمہ اور کتبِ عقائد، تفسیر، حدیث، فقہ کی 92 عبارتوں سے خلافت کے لیے قریشیت کا شرط ہونا ثابت کیا۔

مسئلہ خلافت کی شرعی تحقیق اور وضاحت کے لیے کتاب “دَوَامُ الْعَيْشِ فِيْ أَئِمَّةٍ مِنْ قُرَيْشٍ” (1339ھ) اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی طرف سے شائع کی گئی اور مسئلہ خلافت کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی تھیں اس کا پرزور رد فرمایا۔

تحریکِ ترکِ موالات

1920ء میں ترکِ موالات کا اعلان ہوا، یہ اعلانِ تحریکِ خلافت کے پلیٹ فارم ہی سے ہوا تھا پھر یہ کہ مسلم اتحاد کی راہ ہموار ہونے لگی۔ غیر مسلموں کو اس اتحادی سیاست سے کچھ فرق پڑنے والا نہیں تھا اس لیے وہ کہیں بھی تقریر سننے اور کرنے کے لیے جا سکتے تھے مگر اس سے ہندی مسلمانوں کی مذہبی اور تہذیبی صورت مسخ ہو رہی تھی، تاہم مسلم قائدین کی خود سپردگی پر حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے انگریزوں سے ترکِ موالات کے پسِ پردہ اسلامی احکام اور مذہبی مقامات کی عظمتوں کی پامالی پر خاموشی اختیار کر لی تھی بلکہ وہ خود پیش قدمی کرتے اور اس کی دعوت دیتے۔ علمائے اہلِ سنت، مسلم قائدین اور ان کے زیر اثر مسلمانوں کی بے اعتدالی پر سخت نالاں تھے کہ اگر مسلم لیڈروں کی ہندو نوازی کا یہی جذبہ رہا تو کہیں مسلمان مستقبل میں اپنی شخصیت کا سودا نہ کر ڈالیں۔ امام احمد رضا قدس سرہ کے پیشِ نظر غیر مسلم لیڈروں کی شاطرانہ چال اور مسلم قائدین کی ناعاقبت اندیشی دونوں تھی۔ اس لیے آپ کا دور اندیشانہ مشورہ یہی تھا کہ بلا شبہ ملک کو سفید فام حاکموں سے آزاد کرانا چاہیے، لیکن ہندوؤں سے اتحاد و یگانگت درست نہیں بلکہ ترکِ موالات ہر دو سے لازم و ناگزیر ہے۔

امام احمد رضا قدس سرہ کا یہی نظریہ تھا کہ انگریزوں اور مشرکوں دونوں سے ترکِ موالات کی جائے اور آپ نے مسلمانوں کو تنبیہ بھی فرمائی کہ مسلمان جسے اپنا خیر خواہ سمجھ کر ان کو خوش کرنے کے لیے اپنے ایمان برباد کر رہے ہیں، موقع پاتے ہی انہیں ہلاک کر دیں گے پھر آپ نے بلا خوف لومۃ لائم اپنی تحریروں اور فتاویٰ میں شریعت کی روشنی میں واضح فرمایا کہ ساری غیر مسلم قوم مسلمانوں کی دشمن ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!