Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کچھ پیسے الگ جمع کرکے رکھیں!

کچھ پیسے الگ جمع کرکے رکھیں!
عنوان: کچھ پیسے الگ جمع کرکے رکھیں!
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی
منجانب: جامعۃ المدینہ سورت

7 جون 2026

ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی ضروریات کو محدود رکھے اور اپنی ماہانہ آمدنی میں سے کچھ رقم باقاعدگی سے بچا کر الگ جمع کرتا رہے، تاکہ ضرورت کے وقت وہی جمع پونجی کام آ سکے۔

کیوں کہ زندگی میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جب اچانک پیسوں کی شدید ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ اگر اس وقت اپنے پاس کچھ نہ ہو تو دوسروں سے ادھار لینا پڑتا ہے، اور ایسے حالات میں بسا اوقات غیر تو دور کی بات، اپنے بھی ساتھ نہیں دیتے۔

چند ماہ قبل ممبئی کے فیضانِ مدینہ میں شیخ الحدیث مفتی یحییٰ رضا مصباحی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اس موقع پر حضرت نے ایک نہایت قیمتی نصیحت فرمائی کہ اپنی آمدنی میں سے کچھ رقم ہمیشہ الگ جمع کر کے رکھا کریں، جس کا علم صرف آپ کو ہو، کسی اور کو نہ ہو، تاکہ ضرورت کے وقت وہ رقم کام آ سکے۔

زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات پیش آ جاتے ہیں جب انسان کو پیسوں کی شدید ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ ایسے وقت میں دوسروں سے مدد کی امید بھی اکثر پوری نہیں ہوتی؛ غیر تو دور کی بات، کبھی اپنے بھی ساتھ نہیں دے پاتے۔

مشکل گھڑی

کئی دنوں سے والدۂ ماجدہ علیل ہیں۔ لاکھوں روپے علاج پر خرچ ہو چکے، مگر خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکا۔ جب دوسرے ہسپتال لے گئے تو وہاں بتایا گیا کہ علاج پر مزید دس سے بارہ لاکھ روپے تک خرچ آ سکتا ہے، اس لیے پہلے اتنی رقم کا انتظام کر لیجیے۔

اس موقع پر شدت سے یہ احساس ہوا کہ کاش ہمارے پاس اتنی رقم موجود ہوتی کہ علاج کے معاملے میں کسی مجبوری کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

محترم قارئین!

یقین جانیے، زندگی میں جب مشکل وقت آتا ہے تو آخرکار انسان کو خود ہی اپنے حالات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ لوگ ہمدردی ضرور کرتے ہیں، دلاسا بھی دیتے ہیں، لیکن جب عملی مدد کی باری آتی ہے تو اکثر غیر تو دور کی بات، اپنے بھی کسی نہ کسی مجبوری کا اظہار کر کے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

اس لیے اپنی زندگی کو ہر اعتبار سے بہتر انداز میں منظم کیجیے، اپنی آمدنی میں سے کچھ رقم مستقل بچا کر رکھیے، تاکہ ضرورت کے وقت آپ کو کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے۔

ضرورت سے زیادہ خرچ

ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کی عادت سے خود کو بچائیے۔ ہمارے بزرگوں نے ایک نہایت حکمت بھری بات سکھائی ہے:

“پاؤں اتنے ہی پھیلاؤ جتنی بڑی چادر ہو۔”

جس چیز کو خریدنے کی آپ میں استطاعت نہیں، اس کی خواہش کو اپنے دل و دماغ پر سوار نہ ہونے دیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو عطا فرمایا ہے، اس پر قناعت اور شکر کے ساتھ زندگی گزاریں۔ کیوں کہ “مزید، مزید” کی حرص انسان کو کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتی، بلکہ ہمیشہ بے چینی اور بے قراری میں مبتلا رکھتی ہے۔

مفتیِ اہلِ سنت مفتی قاسم عطاری صاحب کا ایک نہایت خوبصورت جملہ ہے:

“جو چاہیے وہ حاصل کرلو، یا پھر جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے، اپنی خوشی اسی سے جوڑ لو۔”

اگر ہم اس سنہرے اصول کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ان شاء اللہ دل کو سکون، زندگی میں اطمینان اور معاشی معاملات میں برکت نصیب ہو گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فضول خرچی سے بچنے، قناعت اختیار کرنے اور اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!