Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کاش کہ دل میں اتر جائے یہ بات۔۔۔۔! | بنت اسلم برکاتی

کاش کہ دل میں اتر جائے یہ بات۔۔۔۔!
عنوان: کاش کہ دل میں اتر جائے یہ بات۔۔۔۔!
تحریر: بنت اسلم برکاتی

دین دشمنوں، باطل فرقوں اور بد مذہبوں نے آج ہمیں ایسے کاموں میں مشغول کر دیا ہے جن کا دینِ اسلام سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں! آج اغیار نے ہمیں برتھ ڈے، اینی ورسریز، مدرز ڈے، فادرز ڈے اور نہ جانے کیسے کیسے ان گنت لایعنی کاموں میں الجھا دیا ہے، اور وہ خود اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مشن پر شب و روز مصروف ہیں اور آئے دن نت نئے طریقے ایجاد کر رہے ہیں۔

ہم نے دوسروں سے ان کی تہذیب تو سیکھ لی لیکن اپنی روشن اسلامی تہذیب سے ہاتھ دھو بیٹھے! ہر دن ایک نیا ٹرینڈ آتا ہے اور ساری قوم اسی کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ نہ دین کا درد باقی رہا، نہ امت کی بدحالی کا کوئی غم! آج ہم نے برتھ ڈے منانے اور مبارکباد دینے کو فرض نہ سہی، لیکن واجب کا درجہ ضرور دے دیا ہے، الا ماشاء اللہ عزوجل! اگر کسی کو اس دن وش (Wish) نہ کیا جائے، تو منہ پھلا لینا اور بات چیت بند کر دینا ایک عام عادت بنتی جا رہی ہے۔ کسی کی سالگرہ کو یادگار بنانے کے لیے مہینوں پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور نئے نئے بلاوجہ کے چوچلے ایجاد کیے جاتے ہیں۔

اب تو حد ہی پار ہو چکی ہے؛ ایک ہی شخص کا برتھ ڈے سال میں دو دو بار منایا جاتا ہے۔ جی ہاں، بالکل صحیح پڑھا آپ نے! سال میں دو بار اس طرح کہ ایک ہجری سال کی تاریخ کے لحاظ سے اور ایک انگریزی تاریخ کے مطابق۔ اغیار نے تو سال میں ایک ہی دن برتھ ڈے منانے کا طریقہ سکھایا تھا، لیکن ہم ان سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر دو دو دن منانے لگے، اور نادانی میں اسی کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھے کہ بھئی ہم تو ان سے آگے نکل گئے۔

ہمیں ان بے سود اور لایعنی کاموں کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے۔ ہماری پیدائش کا مقصد تو کچھ اور ہی بلند و بالا ہے، جسے ہم نے سرے سے ہی بھلا دیا ہے۔ بس اپنی ذات کو خوش کرنے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے رات دن ایک کیے ہوئے ہیں۔ نہ رب کریم کی رضا کی فکر ہے، نہ رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی کی تمنا، نہ وقت کی قدر و قیمت کا احساس، نہ علم پر عمل کا جذبہ اور نہ ہی فکرِ آخرت!

اگر کسی کو برتھ ڈے یا اینی ورسریز منانے سے منع کیا جائے، تو سامنے سے فوراً جواب آتا ہے کہ "اس میں کیا حرج ہے؟ ہماری نیت تو اللہ کا شکر ادا کرنے اور کسی مومن کا دل خوش کرنے کی ہے۔" عزیزو! سچی عرض یہ ہے کہ یہ سب بہانے بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ اس نے ہمارا ذہن ایسا بنا دیا ہے کہ ہم ان فضولیات سے باہر ہی نہ نکل سکیں! شیطان نے ان کاموں کو ہماری نظروں میں اس قدر خوشنما اور پرکشش بنا دیا ہے کہ ان کی اصل حقیقت ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے۔ کبھی کبھی نفس و شیطان ہمیں ایسے کاموں میں الجھا دیتے ہیں جو بظاہر تو اچھے اور نیک معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کا حقیقی نتیجہ بالکل صفر ہوتا ہے!

ان کاموں میں فقط عام عوام ہی نہیں، بلکہ ایک اچھا خاصا نام نہاد دیندار طبقہ بھی ملوث ہے۔ نتیجتاً وہ حقیقی کرنے والے کاموں سے کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں، الا ماشاء اللہ تعالیٰ! عوام کا تو چلو سمجھ آتا ہے کہ وہ کرنے اور نہ کرنے والے کاموں میں باریک فرق نہیں جانتے، لیکن خود کو دیندار کہنے اور سمجھنے والے بھی اگر ایسے کاموں میں پیش پیش ہوں گے، تو پھر عوام کا کیا بنے گا؟

دنیا میں فقط ایک ہی مبارک و مقدس ذات ہے جو اس بات کی حقدار ہے کہ کائنات میں صرف ان ہی کا یومِ ولادت منایا جائے، اور وہ ہیں رب کے حبیب، ہمارے اور آپ کے پیارے نبی، تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ! لہٰذا اگر منانا ہی ہے تو اسی پاک ہستی کا یومِ ولادتِ مسعود منائیں۔ کریم آقا ﷺ کا یومِ پیدائش منانے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی پاکیزہ تعلیمات کو بھی عام کریں اور ان پر خود عمل کرنے اور دوسروں کو کروانے کی مخلصانہ کوشش میں لگ جائیں!

خدارا! ہوش کے ناخن لیں! اپنے قیمتی اوقات کی قدر کریں اور اغیار کی ان گہری چالوں کو سمجھیں، ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں ان نئے نئے ٹرینڈز میں الجھا کر دین کے دشمن ہماری اینٹ سے اینٹ بجا دیں! اب بھی وقت ہے، خدا کے لیے ان بے کار اور فضول کاموں سے باہر نکلیں۔ اپنی ذات اور نفسانی خواہشات کے خول سے باہر آ کر امتِ مسلمہ کے عروج اور خوشی کو اپنی حقیقی خوشی اور کامیابی مانیں، کیونکہ ایک سچے مومن کا شیوہ اور طرزِ زندگی یہی ہوتا ہے۔

اگر آپ کو رب تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ہی ادا کرنا ہے، تو وارثانِ انبیائے کرام علیہم السلام اور مہمانانِ رسول (دینی طلبہ) کی مخلصانہ خدمت کریں، ان کی مالی امداد فرمائیں، ان کی ضروریاتِ زندگی کو پورا کریں اور غربا و مساکین کی مدد کو اپنا شعار بنائیں! جب یہ سب نیک کام کر کے آپ ان اللہ والوں سے دعا کی درخواست کریں گے، تو بلا شبہ آپ کی دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی بھلی ہو جائے گی۔

باتیں تو بہت سی کرنے کی ہیں، لیکن اسی پر اکتفا کرتی ہوں۔ جس مخلصانہ مقصد اور تڑپ سے یہ تحریر لکھی ہے، اللہ کرے کہ دل میں اتر جائے یہ بات! اللہ کریم ہمیں اپنے اوقات کی قدر کرنے والا بنائے۔ رب تبارک و تعالیٰ ہمیں محض کہنے سننے سے زیادہ اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اغیار کی چالوں کو بروقت سمجھنے کی فراست دے۔ آمین یا رب العالمین! [بنتِ اسلم برکاتی، 20 محرم الحرام 1448ھ]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!