Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کیا سنیں؟ کیا پڑھیں؟ | بدمذہبوں کی صحبت سے اجتناب

کیا سنیں؟ کیا پڑھیں؟
عنوان: کیا سنیں؟ کیا پڑھیں؟
تحریر: محمد آصف اقبال
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

اہلِ باطل جب خود نفع سے بہرہ ور ہیں تو ان کی بات سُن کر دوسروں کو کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، ذرا اس قول پر نظر ڈال لیجیے، حضرت سفیان بن سعید ثوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے کسی بدمذہب سے کچھ سنا اللہ تعالیٰ اُس کو اس میں نفع عطا نہیں فرمائے گا اور جس نے بدمذہب سے ہاتھ ملایا اُس نے اسلام کو کڑی کڑی کر کے توڑ دیا۔

ایک اور موقع پر آپ ہی سے کسی شخص نے عرض کی: حضور! میرے دروازے کے سامنے مسجد ہے جس کا امام بدمذہب ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا۔ اس نے کہا: کبھی رات میں بارش بھی ہوتی ہے اور میں بوڑھا آدمی ہوں؟ ارشاد فرمایا: تب بھی اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا۔ [حلیة الاولیاء، ج ۷، ص ۳۰]

اور حضرت ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت زائدہ بن قدامہ ثقفی رحمۃ اللہ علیہ کسی منکرِ تقدیر اور بدمذہب سے حدیث بیان نہیں کرتے تھے۔ [مستخریج ابی عوانہ، ج ۵، ص ۵۶]

یہ بزرگانِ دین بدمذہبوں کی صحبت اور ان سے میل جول کو اس قدر ناپسند کیوں فرماتے تھے؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل پیرا تھے اور انہیں اپنا دین و ایمان ہر شے سے بڑھ کر عزیز تھا لہٰذا ہر وہ شے جو دین و ایمان کے لیے خطرہ ہو وہ اس سے بیزار ی کا اظہار فرماتے تھے اور نہ صرف خود بلکہ اپنے متعلقین کو بھی ایسے معاملات سے دوری کا حکم دیتے تھے اور یہی سنت کی پیروی ہے کیوں کہ ہادی دو عالم ﷺ نے دوٹوک فرما دیا: بدمذہبوں کو خود سے اور خود کو ان سے دور رکھو۔ [صحیح مسلم، مقدمہ، ص ۱۶]

یہ تھی ہمارے اسلاف کی تعلیمات بدمذہبوں کی صحبت کے متعلق اور اب یہ پڑھئے کہ دینِ اسلام کی قدآور شخصیات ایسوں کی بات سننے کے حوالے سے کیا رائے رکھتی ہیں؟ وہ ان کی باطل باتیں سننا تو کجا ان کی زبان سے قرآن و حدیث سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے (جیسا کہ فتاویٰ رضویہ شریف کے حوالے سے بھی گزرا)، یاد رہے کہ بدمذہبی والی بات زبان سے سنی جائے یا کتاب سے پڑھی جائے دونوں کا ایک ہی حکم ہے جیسا کہ معروف ہے: القلم احد اللسانين۔

اگر کوئی بد مذہب اپنی بات سنانے پر تلا جاتا تو سلف صالحین کا ردِ عمل کیا ہوتا؟ ملاحظہ کیجیے، حضرت معمر کا بیان ہے کہ امام ابن طاؤس رحمتہ اللہ علیہ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ایک بدمذہب (معتزلی) آیا اور اُس نے بات کرنا شروع کر دی، حضرت نے اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور اپنے بیٹے سے بھی فرمایا: بیٹا! اپنی انگلیاں کانوں میں کس کر ڈال لو اور اس کی ذرا سی بھی بات مت سننا کیوں کہ دل بہت کمزور ہے۔ [اعتقاد اهل السنة اللالكائي، ج ۱، ص ۱۳۵]

واقعی دل کمزور ہوتے ہیں اور اگر دل میں کوئی شبہ داخل ہو جائے تو وہ اسے مزید کمزور کر دیتا ہے، کسی بزرگ سے عرض کی گئی: آپ بد مذہبوں کی بات کیوں نہیں سنتے؟ ارشاد فرمایا: دل شبہات کی وجہ سے مجبور ہو جاتے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ بد مذہب کوئی بات کہے تو وہ میرے دل میں اتر جائے اور پھر نہ نکلے۔

امام ابن طاؤس رحمۃ اللہ علیہ نے اس بد مذہب کے بات کرنے پر جو انداز اپنایا اس میں ہماری رہنمائی کے ساتھ ساتھ اولاد کی تربیت کا یہ پہلو بھی موجود ہے کہ اولاد کی تربیت نہ صرف اخلاقیات کے اعتبار سے ضروری ہے بلکہ اعتقادات (عقیدے کی حفاظت) کے لحاظ سے کئی گنا زیادہ اہم ہے، اسی لیے حضرت ابن طاؤس نے اپنے صاحبزادے کو بھی بد مذہب کی بات سننے سے روک دیا۔ کیا آج ہم اپنی اولاد کے ایمان و عقیدے کے حوالے سے فکر مند ہیں، کیا ہم نوٹ کرتے ہیں کہ ہماری اولاد کہاں سے کیا سُن اور کیا پڑھ رہی ہے؟ کیا کبھی اپنے بچوں کے موبائل، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ چیک کیے کہ اُس کی ہارڈ ڈسک میں کون سے مقررین کی تقریریں اور پی ڈی ایف وغیرہ کی شکل میں کن مصنفین کی کتب ہیں یا کس قسم کے ویڈیو کلپس وغیرہ ہیں؟ فوراً سے پیشتر "جامع تلاشی" لیجیے، خدانخواستہ کہیں بد مذہبی کے طوطے ان کچی فصلوں کو برباد نہ کر ڈالیں اور کہیں ان کی "سادہ تختیوں" پر ایمان و معرفت کی تحریریں جگمگانے کے بجائے ایمان سوز اور معرفت دشمن نظریات درج نہ ہو جائیں۔ مگر اس کے لیے پہلے خود والدین کو تربیت کی سخت حاجت ہے، اس کے لیے مستند و قابلِ اعتماد علمائے اہل سنت کی تحریر و تقریر اور درس قرآن و حدیث سے استفادہ کیجیے۔ نیز کسی جامع شرائط شیخ طریقت سے نہ صرف خود بلکہ اپنے اہل و عیال کو بھی بیعت کروائیے تاکہ قرآن و سنت کے مطابق عقائد و اعمال اور اخلاق و احوال کی درست تربیت ہو سکے اور جب ایسا کر لیں گے تو پھر اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ایمان کی بد مذہبوں سے حفاظت آسان ہو جائے گی۔ یاد رکھیے یہ ہماری شرعی ذمہ داری ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ [پ ۲۸، التحریم: ۶]
اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ (ترجمہ از کنز الایمان)

بد مذہب سے کچھ سننا انتہائی ہلاکت خیزی کا سبب ہے اور کیوں نہ ہو کہ کسی دشمن دین کی بات پر دھیان دینا ایک طرح سے دین سے بغاوت ہے اور جو کسی بغاوت کا مرتکب ہوتا ہے اس سے امان اٹھا لی جاتی ہے، حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے کسی بد مذہب کی بات توجہ کے ساتھ سنی وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی امان سے نکل گیا۔ [حلیۃ الاولیاء، ج ۷، ص ۲۸]

آپ سے یہ قول اس طرح بھی ہے: جس نے کسی بد مذہب کی بات توجہ سے سنی اور اسے اس کا بد مذہب ہونا معلوم تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ سے نکال کر نفس کے سپرد کر دیا گیا۔ [حلیۃ الاولیاء، ج ۷، ص ۳۶]

حضرت محمد بن نضر حارثی رحمہ اللہ نے بھی اس سے ملتی جلتی بات ارشاد فرمائی ہے: جس نے کسی بد مذہب کی طرف اپنے کان لگائے اور وہ جانتا بھی ہو کہ یہ بد مذہب ہے تو اس سے عصمت و حفاظت ختم کر دی جائے گی اور اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ [المجالسة و جواھر العلم، ج ۲، ص ۲۰۹]

پھر یہ کہ اہلِ باطل جب خود نفع سے بہرہ ہیں تو ان کی بات سن کر دوسروں کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، ذرا اس قول پر نظر ڈال لیجیے، حضرت سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کسی بد مذہب سے کچھ سنا اللہ تعالیٰ اس کو اس میں نفع عطا نہیں فرمائے گا اور جس نے بد مذہب سے ہاتھ ملایا اس نے اسلام کو کڑی کڑی کر کے توڑ دیا۔ [تلبیس ابلیس، ص ١٤]

یہاں دو اقوال مزید پڑھیے کہ اہلِ حق باطل سننے سے کس قدر بچتے تھے، کسی بد مذہب نے حضرت ایوب سختیانی رحمہ اللہ سے کہا: مجھے آپ سے صرف ایک بات پوچھنی ہے۔ تو آپ نے اس سے یہ کہتے ہوئے منہ پھیر لیا کہ "نہیں، آدھی بھی نہیں۔" اور انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دوبارہ بات کہی۔ [اعتقاد اہل السنۃ اللالکائی، ج ۱، ص۱۴۳]

اور منقول ہے کہ امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ اگر کسی بد مذہب کے کلام سے ایک کلمہ سنتے تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے۔ پھر فرماتے: "میرے لیے اس سے بات کرنا حلال نہیں ہے۔" حتیٰ کہ وہ آپ کی مجلس سے اٹھ جاتا۔ [الابانة الکبریٰ لابن بطة، ج ۲، ص ٤٧٣]

اب ہم چند واقعات تحریر کرتے ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ بد مذہبی اور بے ادبی پر مشتمل کتب پڑھنا اور اپنے پاس رکھنا کس قدر محرومی و حرماں نصیبی لاتا ہے اور ایسی کتب نورِ ایمان و نورِ معرفت کو کس طرح مدہم کر دیتی ہیں بلکہ بسا اوقات اس کو بجھا بھی دیتی ہیں۔

حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اپنی کتاب ”روح القدس فی مناصحة النفس“ میں حضرت ابو عبد اللہ بن زین یابری کے حالات میں لکھتے ہیں: آپ کا شمار اولیاءِ ہند میں ہوتا ہے۔ آپ ایک رات حجۃ الاسلام امام غزالی کے رد میں لکھی ہوئی ایک کتاب پڑھ رہے تھے کہ بینائی چلی گئی اور نظر آنا بند ہو گیا۔ آپ اسی وقت بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوگئے اور گریہ و زاری کرنے لگے اور قسم کھائی کہ میں آئندہ کبھی یہ کتاب نہیں پڑھوں گا اور اسے خود سے دور رکھوں گا۔ چنانچہ اسی وقت بینائی واپس لوٹ آئی۔ عارف باللہ علامہ عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ حضور حجۃ الاسلام امام غزالی کی کرامت ہے جو بعدِ انتقال حضرت ابو عبد اللہ بن زین کے ذریعے ظاہر ہوئی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)۔ [کشف النور عن اصحاب القبور مع الحدیقة الندیة، ۸/۲]

فقیہ العصر مفتی محمد امین صاحب متعنا اللہ بطول حیاتہ اپنی کتاب البرہان میں ”اظہارِ تشکر“ کے عنوان کے تحت یہ واقعہ نقل فرماتے ہیں: مفتی محترم سید ڈاکٹر ابراہیم حسن نے جو کہ نہایت ہی سچے پکے مومن تھے بیان فرمایا کہ کسی نے براہِ تعصب علامہ یوسف نبہانی رحمہ اللہ کے خلاف ایک رسالہ لکھ دیا اور وہ رسالہ مصنف نے ایک مدنی بزرگ جو کہ اکثر طور پر سید دو عالم، شفیعِ معظم ﷺ کے دیدار سے مشرف ہوتے رہتے تھے ان کو دیا اس مدنی بزرگ کا بیان ہے کہ وہ رسالہ میں نے گھر میں رکھ دیا تو زیارت والا انعام رک گیا یعنی کافی عرصہ زیارتِ مصطفیٰ ﷺ سے محروم رہا جس کی وجہ سے میں بہت غمگین ہوا اور پھر عرصہ کے بعد جب میں ایک دن زیارتِ سید الانام ﷺ سے نوازا گیا اور میں نے اس عرصہ تک زیارت سے محرومی کے متعلق عرض کیا تو سید دو عالم ﷺ نے فرمایا: كيف ترانی عندك هذا الكتاب الذی یطعن فيه صاحبه على حبيبنا النبهاني. یعنی تو میرا دیدار کیسے حاصل کر سکتا ہے حالانکہ تیرے گھر میں وہ کتاب ہے جس میں مصنف نے ہمارے محبوب ہمارے پیارے نبہانی پر نکتہ چینی کی ہے۔ میں بیدار ہوا تو میں نے اس کتاب کو آگ لگا کر جلا دیا اور اس جلانے کے بعد پھر مجھے زیارت والا انعام شروع ہو گیا۔ [جامع کرامات اولیاء ، ج ۱، ص ۷]

اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ ہمارے ایک بزرگ جناب فخر الدین صاحب سلمہ (جن کو حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ سے شرفِ نیاز حاصل ہے، آج کل علیل ہیں، رب کریم انہیں شفائے کاملہ عطا فرمائے۔ آمین) نے آج سے تقریباً اٹھارہ سال قبل راقم کو سنایا تھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے شہر نواب شاہ (سندھ) کی جامع مسجد (نزد سول ہسپتال) اوقاف کی زیرِ نگرانی ہے، مسجد کے احاطہ میں مدفون اس کے ایک سابق خطیب و امام حضرت مفتی ہاشم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو روزانہ رات کو خواب میں حضور خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ کی زیارت کا شرف ملتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مسجد چونکہ اوقاف کی نگرانی میں تھی لہٰذا ایک بار وہاں بد مذہبوں نے کوئی اجتماع کیا جہاں خطاب کے لیے کوئی مقرر مدعو تھا۔ حضرت امام صاحب نے خادم سے فرمایا: اجتماع کی رات مسجد کی چھت پر کرسی ڈال دینا میں بھی تو سنوں یہ کیا کہتے ہیں؟ پس حضرت نے اُس بد مذہب کی تقریر سن لی مگر اس وقت سے مسلسل چار راتیں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت سے محروم رہے، پانچویں روز جب زیارت سے مشرف ہوئے تو بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! چار راتیں کرم نہیں فرمایا؟ تو ارشاد فرمایا: ”تم ہمارے دشمنوں کی تقریریں سنو اور ہم تمہیں اپنی زیارت کراتے رہیں، یہ کیوں کر ممکن ہے۔“ پھر انہوں نے سچی توبہ کی تو زیارت والی نعمت پھر سے بحال ہو گئی۔

اب یہ بھی سن لیجیے کہ بد مذہبوں کی تقریریں سننے اور ایسوں کی تحریریں پڑھنے کے متعلق برِصغیر سے تعلق رکھنے والے دورِ اخیر کے اکابر مفتیانِ اسلام و مشائخ عظام کی کیا رائے ہے؟

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر کوئی، معاذ اللہ بد مذہب ہے تو وہ نائبِ شیطان ہے اس کی بات سننی سخت حرام ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج ۲۳، ص ۳۷۸]

ایک اور مقام پر فرمایا: نہ وہ کتابیں کہ بے دینوں یا بد مذہبوں نے لکھیں کہ ایسی کتابیں پڑھنا پڑھانا حرام ہے۔ [فتاویٰ رضویہ ، ج ۲۳، ص ۶۹۳ ملتقطاً]

بد مذہب تو اپنی جگہ رہے اگر کوئی سنی صحیح العقیدہ مگر جاہل وعظ کہتا تو امامِ اہلِ سنت اُس کی بات سننے سے بھی سختی کے ساتھ منع کرتے، چنانچہ فرماتے ہیں: جاہل خود بیان کرنے بیٹھے تو اسے وعظ کہنا حرام ہے اور اُس کا وعظ سننا حرام ہے اور مسلمانوں کو حق ہے بلکہ مسلمانوں پر حق ہے کہ اُسے منبر سے اتار دیں کہ اس میں نہی منکر ہے اور نہی منکر واجب۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاویٰ رضویہ، ج ۲۳، ص ٤٠٩]

فتاویٰ رضویہ، ج ۲۹، ص ۷۰ پر واعظ میں چار باتوں کا ہونا شرط قرار دیا: (۱) مسلمان ہونا (۲) سنی ہونا (۳) عالم ہونا اور (۴) فاسق نہ ہونا۔ دوسری شرط کو یوں بیان فرمایا: دوسری شرط سنی ہونا غیر سنی کو واعظ بنانا حرام ہے اگرچہ بالفرض وہ بات ٹھیک ہی کہے۔ حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: من وقر صاحب بدعة فقد اعان علی هدم الاسلام۔ جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی اس نے دینِ اسلام کے ڈھانے پر مدد دی۔ [کنز العمال، ج ۱، ص ۲۱۹]

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بد مذہبیت پر مشتمل بعض کتب کے متعلق فرماتے ہیں: ان کتابوں میں کلماتِ کفریہ ہیں، بغیر ضرورتِ دینیہ ان کتابوں کا دیکھنا جائز نہیں، جو (عالم) انکار (تردید) کرنا چاہتا ہے یا مسلمانوں کو ان کی خباثتوں سے آگاہ کرنا چاہتا ہے اُسے جائز ہے ورنہ ویسے ان کا پڑھنا پڑھانا حرام ہے۔ [فتاویٰ امجدیہ، ج ۴، ص ۹۹]

بد مذہبی کی اشاعت کے لیے کوشاں ایک جماعت کی کتابیں پڑھنے کے متعلق مفتی اعظم ہند محمد مصطفیٰ رضا خان نوری رحمۃ اللہ علیہ کا تصدیق شدہ ایک فتویٰ ملاحظہ فرمائیے: ان کے لٹریچر و کتاب پڑھنے کا وہی حکم ہے جو ان کی تقریر سننے اور ان کے پاس بیٹھنے کا ہے (اور وہ یہ ہے کہ ان سے دور و نفور رہنا بحکمِ قرآن و حدیث فرض ہے) مسجدوں میں ان کے لٹریچروں، ان کی کتابوں کا سننا اور سننا سخت منع ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتنہ سے بچائے، ان کا ایمان سلامت رکھے آمین ثم آمین۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاویٰ مفتی اعظم، ج ۵، ص ۳۲۳]

مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: انسانی قلب کا حال حدیث میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے: ”مثل القلب مثل الريشة تقلبها الرياح بفلاة. یعنی انسانی دل کی مثال اس ”پر“ کی طرح ہے جو کسی میدان میں پڑا ہو اور ہوائیں اُس کو اڑا کر الٹ پلٹ کرتی رہیں۔“ [مقدمه سنن ابن ماجه] اسی لیے کسی کتاب کو پڑھنے سے پہلے یا کسی وعظ و تقریر سننے سے پہلے یہ اطمینان کر لینا ضروری ہے کہ کتاب کے مصنف یا مقرر کے نظریات و اعتقادات کیسے ہیں؟ کچھ آگے جا کر فرماتے ہیں: مقصد یہ ہوا جس کے عقیدے میں خرابی ہے اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی ایسی بات وعظ و تقریر کرتے ہوئے یا کوئی کتاب لکھتے ہوئے اپنی طرف سے اس میں شامل کر دے جو غلط ہو اور سننے والے کے دل میں بیٹھ جائے۔ جس سے اس کا ایمان ختم ہو جائے۔ چند سطور کے بعد تحریر فرماتے ہیں: آج کل کے عوام جو عربی زبان سے بھی ناواقف اور صحیح مذہبی معلومات سے بھی کماحقہ آگاہ نہیں ہیں، ان کو کتابیں لکھ کر اور لچھے دار تقریریں سنا کر، جن میں اپنے اعتقادات کو ایسی خوب صورتی کے ساتھ ملادیا جاتا ہے جس کو عوام بے سمجھے قبول کر لیتے ہیں اور گمراہ ہو جاتے ہیں۔ آج کل جتنے فرقے اہل سنت کے خلاف اپنے مذہب و اعتقادات کو پھیلا رہے ہیں ان کا طریقہ کار یہی ہے۔ [وقار الفتاویٰ ، ج ۱، ص ۳۲۰]

فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ کے ”فتاویٰ فیض الرسول“ میں بد مذہبی کا پرچار کرنے والے دو مصنفین کی کتب کے بارے میں درج ہے: مسلمانوں کو سخت ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر وہ اپنے دین و ایمان کا بھلا چاہیں تو شمعِ نیازی مرتد اور راشد الخیری گمراہ کی کتابیں ہرگز ہر گز نہ پڑھیں ورنہ شیطانِ مردود ان کے ایمان اور عقیدہ کو برباد کر کے جہنم میں دھکیل دے گا۔ والعیاذ بالله رب العالمین۔ [فتاویٰ فیض الرسول ، ج ۱، ص ۸۰]

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی بدایونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی شخص اپنے ایمان پر اعتماد نہ کرے، ہر کتاب نہ پڑھے، ہر ایک کا وعظ نہ سنے، جب حضرت عمر جیسے صحابی کو توریت جیسی کتاب پڑھنے سے روک دیا گیا تو ہم کس شمار میں ہیں۔ ایمان کی دولت چوراہے میں نہ رکھو، ورنہ چوری ہو جائے گی۔ [مراٰة المناجیح ، ج ۱، ص ١٨٤]

ایک مقام پر بد مذہب قدریوں کے ساتھ نشست و برخاست اور کلام کی ممانعت کے بارے میں وارد ایک حدیث شریف کے تحت فرمایا: اس سے پتہ لگا کہ بےدینوں کے جلسوں میں جانا، ان کی کتب کا مطالعہ کرنا، انہیں دعوتیں کھلانا سب ناجائز ہیں۔ [مراٰة المناجیح ، ج ۱، ص ۱۱۱]

شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: مذہب اہل سنت و جماعت پر قائم رہیں جو سلف صالحین اور گزشتہ علماے حرمین شریفین کا مذہب ہے۔ سنیوں کے جتنے مخالف مذاہب ہیں، ان سب سے جدا رہیں اور سب کو اپنا دینی دشمن اور مخالف جانیں۔ نہ ان کی باتوں کو سنیں نہ ان کی صحبت میں بیٹھیں۔ ان کی تقریروں اور تحریروں کو نہ سنیں نہ پڑھیں کیوں کہ شیطان کو (معاذ اللہ) دل میں وسوسہ ڈالتے دیر نہیں لگتی۔ آدمی کو جہاں مال یا آبرو کے برباد ہونے کا اندیشہ ہو وہاں ہرگز کوئی عقل مند نہیں جا سکتا اور دین و ایمان تو مسلمان کی سب سے زیادہ عزیز چیز ہے۔ لہٰذا اس کی محافظت میں حد سے زیادہ جدوجہد اور کوشش فرض ہے۔ مال اور دنیا کی عزت اور دنیا کی زندگی تو فقط دنیا ہی تک محدود ہیں اور دین و ایمان سے تو آخرت اور ہمیشگی کے گھر میں کام پڑنے والا ہے اس لیے جان و مال اور دنیاوی عزت سے بڑھ کر دین و ایمان کی حفاظت کا سامان کرنا بے حد ضروری ہے۔ [جہنم کے خطرات، ص ۱۹۱]

امیر اہلسنت حضرت مولانا محمد الیاس عطار قادری زید مجدہ الکریم تحریر فرماتے ہیں: یاد رکھیے! اسلامی نظریات اور شرعی احکامات سے ٹکرانے والی تقریرات سننا اور تحریرات پڑھنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ایک غیر شرعی کتاب کے متعلق جب میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی خدمت میں استفتا پیش ہوا تو جواباً فرمایا: وہ کتاب مذہبِ اہلسنت کے خلاف ہے بلکہ اس میں خود اسلام کی بھی مخالفت ہے اس کا دیکھنا، پڑھنا سننا حرام ہے۔ ہاں جو عالم اس کا مطالعہ کرے اس کی تردید کے لیے یا اس میں جو کفر بیان ہوا اس کے انکشاف کے لیے تو اس کے لیے پڑھنا دیکھنا حرام نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاویٰ رضویہ ، ج ۱۴، ص ۳۵۸]

ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ وہ اچھی صحبت اختیار کرے، صرف اور صرف علماے اہل سنت کے مضامین اور انہیں کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔ [کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص ۵۰۱]

محترم قارئین! ہم نے اس مضمون میں بد مذہبوں سے میل جول، اُن کی صحبت، اُن سے بات چیت، ممانعت پر قرآنِ کریم، احادیثِ طیبہ، اسلاف کرام کے آثار و احوال مستند واقعات اور فقہا و مشایخ کے فتاویٰ و اقوال پیش کر دیے تاکہ ہمارے سنی بھائیوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ کیا سنیں؟ کیا پڑھیں؟ اور کیا نہ پڑھیں اور کیا نہ سنیں؟ اس طرح وہ اہلِ باطل کے دامِ فریب میں نہ آئیں اور اپنا اور اپنے اہل و عیال اور دوست احباب کا ایمان بچائیں بالخصوص وہ اہلِ سنت جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں ان سب پر لازم ہے کہ کسی بھی بد مذہب کی تقریر کا کلپ ہو یا تحریر ہی امیج اُسے پُر جوش نہ ہی شیئر کریں بلکہ ایسی چیزوں کو بلاک (Block) کرنے کی سعیِ مشکور کریں کیوں کہ اس عمل میں اچھی نیت اور جائز طریقہ ہونے پر ثواب کی امید ہے۔ اپنے مضمون کا اختتام علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی رحمہ اللہ کی اس نصیحت پر کرتا ہوں: ”ہم اپنے سنی حنفی بھائیوں کو یہی مخلصانہ مشورہ بلکہ حکم دیتے ہیں کہ ان گمراہوں کی تقریروں، تحریروں اور صحبتوں سے بالکل قطعی طور پر پرہیز کریں کیوں کہ گمراہی کے جراثیم بہت جلد اثر کر جاتے ہیں اور ہدایت کا نور بڑی مشکل اور بے حد جدوجہد کے بعد ملتا ہے۔ خداوندِ کریم ہمارے برادرانِ اہل سنت کے ایمان و عقائد کی حفاظت فرمائے اور تمام گمراہوں، بد دینوں اور بے دینوں کے شر سے بچائے رکھے۔ (آمین)۔ [کراماتِ صحابہ، ص ۷۱]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!