| عنوان: | اردو تراجم قرآن کو دوسری عجمی زبانوں کے رسم الخط میں لکھنے کا حکم (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد اختر کمال قادری |
| پیش کش: | محمد کوثر العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے بائیسویں فقہی سیمینار کا ایک سوال "اردو تراجم قرآن کو دوسری عجمی زبانوں کے رسم الخط میں لکھنے کا حکم" مرتبہ حضرت صدر المدرسین و ناظم مجلس شرعی حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی صاحب، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا ہے۔ سوال نامہ کا آغاز ان الفاظ سے ہے:
"قرآن حکیم کو رسم عثمانی میں لکھنا واجب ہے، اس پر تو اجماع ہے، یوں ہی قرآن حکیم اور حدیث و فقہ اور تاریخ و سیر کی کتابوں کا عربی سے اردو، ہندی، گجراتی وغیرہ زبانوں میں ترجمہ جائز ہے۔ اس پر سب کا اتفاق ہونا چاہیے کہ شرعاً کوئی وجہ ممانعت نہیں پائی جاتی اور بعض عجمی زبانوں میں بہت سے علماے اہل سنت نے قرآن و حدیث کے ترجمے کیے ہیں جو بلا نکیر عوام و خواص میں رائج و مقبول ہیں۔
لیکن قرآن و حدیث اور فقہ و سیر وغیرہ کے اردو تراجم اور علماے اہل سنت کی اردو کتابوں کو ہندی، گجراتی اور انگریزی زبانوں کے رسم الخط میں لکھنا (اس طرح کہ زبان، الفاظ اور محاورات بعینہ اردو ہی رہیں) جائز ہے یا نہیں، یہ مسئلہ زیر غور ہے۔
عربی، فارسی اور اردو کے بہت سے حروف ایسے ہیں جن کے بدلے میں انگریزی، ہندی اور گجراتی حروف نہیں پائے جاتے تو عربی زبان کے کلمات کو انگریزی حروف میں بدلنا ایک طرح کی تحریف ہوگی، یہی حال گجراتی، ہندی، رومن کا بھی ہے۔ "رومن" کا مطلب ہے ایک زبان کے کلمات کو دوسری زبان کے حروف میں لکھنا۔ تو جہاں دوسری زبان کے حروف میں عربی کلمات لکھنے سے لفظی یا معنوی تحریف نہ ہو وہاں دوسری زبان کے حروف و کلمات میں لکھنا جائز ہے اور جہاں تحریف ہو وہاں دوسری زبان میں لکھنے کی اجازت غور طلب ہے۔"
اس کے بعد مثالوں کے ذریعہ اس کی تفصیل اردو سے ہندی رسم الخط کا چارٹ اور بعض حضرات کی طرف سے جواز کی رائے اور ان کے دلائل ذکر کرنے کے بعد حضرت استاذی الکریم نے آپ حضرات سے تین سوالات کے جوابات طلب فرمائے ہیں:
-
عربی، فارسی، اردو کے ۲۹ حروف مشترک ہیں تو کیا زبانوں کے اختلاف سے ان حروف کے مخارج بھی مختلف ہو جاتے ہیں؟
-
کیا ہندی میں خاص خاص حروف کے نیچے نقطے رکھ دینا یا انگریزی میں کچھ حروف کے ساتھ H بڑھا دینا یا گجراتی میں اس طرح کا کوئی سسٹم جاری کر دینا انھیں عربی کے متعلقہ حروف کے ہم مخرج بنا دے گا یا کم از کم ان حروف کے مخارج و صفات کی نشان دہی کے لیے کافی ہو گا اور تحریف کا ارتکاب لازم نہیں آئے گا؟
-
ان کے سوا اور کوئی شرعی حل آپ کی نگاہ میں ہے تو اسے بھی بیان فرمائیں۔
مجلس شرعی مبارک پور کی طرف سے سو سے زیادہ مندوبین کو سوال نامہ ارسال کیا گیا، جن میں ۲۶ مندوبین نے اس سوال نامہ کا جواب ارسال کیا، جس کے کل صفحات ستر (۷۰) ہیں۔ زیادہ تر مقالے مختصر مگر جامع ہیں۔ ۲ مقالے ذرا تفصیلی ہیں، ایک مولانا خالد ایوب شیرازی مصباحی استاذ شعبۂ تدریب الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور کا آٹھ صفحات کا اور دوسرا چھ صفحات کا مولانا محمد ناصر حسین مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا ہے۔
پہلا سوال
عربی، فارسی، اردو کے ۲۹ حروف مشترک ہیں تو کیا زبانوں کے اختلاف سے ان حروف کے مخارج بھی مختلف ہو جاتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں مندوبین حضرات دو خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ زبانوں کے اختلاف سے حروف کے مخارج فی الحقیقت مختلف نہیں ہوتے بلکہ مخارج وہی رہتے ہیں، کیوں کہ ہر حرف کا مخرج متعین ہے، اس میں تبدیلی کا مطلب ایک ہی حرف کے لیے کئی مخارج کا ثابت کرنا اور یہ مسموع نہیں۔
مولانا محمد مسیح احمد قادری بلرام پور، لکھتے ہیں:
"عربی، فارسی اور اردو کے ۲۹ حروف مشترکہ کے مخارج زبانوں کے اختلاف سے مختلف نہیں ہوتے، کیوں کہ ہر حرف کا مخرج متعین ہے۔ جب کوئی حرف متعین مخرج سے ادا ہو گا تو وہ صحیح اور درست قرار دیا جائے گا۔ زبانوں کے اختلاف سے حروف کے مخارج نہیں بدلتے، البتہ حروف کی ادائیگی میں مخارج کا لحاظ نہ کرنے کی وجہ سے بظاہر مخارج کا اختلاف نظر آتا ہے۔
زبان عربی میں حروف کے ادا کرنے میں ان کے مخارج و صفات کی بھرپور رعایت کی جاتی ہے۔ عربی کے علاوہ فارسی، اردو وغیرہ زبانوں میں ان کے حروف کی ادائیگی میں کماحقہ رعایت نہیں ہوتی۔“
[مقالہ، ص: ۵/۱]
مولانا شیر محمد خان مصباحی لکھنؤ رقم طراز ہیں:
”اردو اور فارسی حروف کے مخارج و صفات کا تعین اہل فن نے نہیں فرمایا ہے۔ جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو اور فارسی کلمات کے حروف تقریباً وہی ہیں جو عربی کلمات کے حروف ہیں۔ لہذا ان دونوں زبانوں کے حروف کے مخارج و صفات بھی تقریباً وہی ہوں گے جو عربی کلمات کے حروف کے ہیں۔ مخرج میں اس طرح تبدیلی کرنا کہ لفظ اور معنی دونوں بدل جائے، یہ لحن جلی ہے، ورنہ لحن خفی، یہ بات مسلم ہوتے ہوئے کہ اردو و فارسی حروف کے مخارج و صفات وہی ہیں جو عربی کلمات کے حروف کے ہیں، مگر اس کے باوجود اہلِ علم و ادب مذکورہ دونوں زبانوں کے حروف کی ادائیگی میں وہ لحاظ نہیں فرماتے ہیں جو شدت رعایت عربی میں کرتے ہیں۔“
[مقالہ، ص: ۳۲/۱]
مولانا آل مصطفٰے مصباحی جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی لکھتے ہیں:
"زبانوں کے اختلاف سے حروف کے مخارج مختلف نہیں ہوتے کہ جس حرف کی ادائیگی کے لیے جو مخرج متعین ہے اس میں تبدیلی کا مطلب ایک ہی حرف کے لیے کئی مخارج ثابت کرنا ہے۔ اور یہ مسموع نہیں۔ ہاں بعض حروف کے تلفظ میں اس کے مخرج کے بجائے دوسرے حرف کے مخرج کی ادائیگی بعض زبانوں میں کی جاتی ہے اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا جیسے ”ضاد“ کا مخرج اردو و فارسی میں اس کا تلفظ ”ظا“ سے کرتے ہیں تو اسے مخرج کا اختلاف نہ کہیں گے بلکہ ایک حرف کے متعین مخرج کو چھوڑ کر دوسرے حرف کے مخرج کا تلفظ کہیں گے۔“
[مقالہ، ص: ۲۲/۱]
عربی، اردو کے ۲۹/ حروف مشترکہ کے مخارج میں متحد الحقیقت ہیں اور عام بول چال میں سہل پسندی کے سبب عملاً اور عرفاً ان میں مخارج و صفات کی رعایت نہیں ہوتی۔
مولانا خالد ایوب مصباحی لکھتے ہیں:
”آج تک ان حروف کے مخارج و صفات میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی کی بات نہیں کی جاتی، بلکہ محض ادا اور اظہار کی حد تک یہ کوتاہی یا سہل پسندی روا رکھی جاتی ہے، اور بس، یعنی گویا سہل پسندی کے پیشِ نظر مخارج و صفات کی ادائیگی میں جس طرح کی رعایت کرنی چاہیے تھی وہ رعایت نہیں کی جاتی، ورنہ حقیقت ان کی بھی وہی ہے جو ان کے ماخذ اصلی یعنی عربی حروف کی ہے۔“
مفتی انفاس الحسن چشتی اپنے مقالے میں لکھتے ہیں:
”زبانوں کے اختلاف سے حروف کے مخارج فی الحقیقت مختلف نہیں ہوتے بلکہ مخارج وہی رہتے ہیں یہ اور بات ہے کہ بعض زبانوں میں بول چال کے وقت ان مخارج کی پوری رعایت ضروری ہوتی ہے اور بعض میں نہیں۔ مثلاً عربی زبان کہ اگر مخارج کی ادائیگی میں ذرا سی کوتاہی برتی گئی تو معنوی تبدیلی کا خدشہ لاحق ہوتا ہے، اس کے برخلاف فارسی اور اردو زبان میں ان مخارج کی ادائیگی کا اہتمام نہیں ہوتا، بلکہ بسا اوقات ان زبانوں میں مخارج کی رعایت کلام کے حسن کو زائل کردیتی ہے۔ ان زبانوں میں مخارج کی عدم رعایت کو معنوی تبدیلی کا سبب بھی نہیں سمجھا جاتا، اور نہ ہی اہل زبان اس وجہ سے معانی کے افہام و تفہیم میں کسی قسم کی دشواری محسوس کرتے ہیں۔“
[مقالہ، ص: ۴۰/۱]
اکثر مندوبین اسی مذکورہ خیال کے حامی ہیں۔
دوسری طرف کچھ مندوبین اس بات کے قائل ہیں کہ زبانوں کے اختلاف سے بعض حروف کے مخارج بدل جاتے ہیں۔
اسی سوال (۱) کے جواب میں قاضی فضل احمد مصباحی، بنارس لکھتے ہیں:
”عربی، فارسی، اردو کے اٹھائیس یا انتیس حروف علی اختلاف القولین صورتاً مشترک تو ہیں، مگر زبانوں کے اختلاف کی وجہ سے ان کے مخارج کلی طور پر تو نہیں مگر جزئی طور پر ضرور مختلف ہیں۔ مثلاً ”ض“ عربی اور اردو، دونوں رسم الخط کے اعتبار سے ایک ہی ہے، مگر مخرج اور ادائیگی میں دونوں میں فرق ہے۔ چوں کہ نظمِ قرآن کو غیر عربی و غیر رسم عثمانی میں لکھنا جائز ہی نہیں؛ اس لیے اشتراک ہو یا نہ ہو، عدمِ جواز کے حکم میں فرق نہیں پڑتا۔ البتہ ترجمہ میں اردو لفظ کی ادائیگی مخرج کے اعتبار سے درست ہوگی۔“
[مقالہ، ص: ۳]
مولانا نظام الدین قادری مصباحی، جمدا شاہی نے اپنے مقالے میں باباے اردو مولانا عبدالحق کی ایک عبارت سے استدلال کیا ہے، باباے اردو کی عبارت یہ ہے:
”لیکن بات یہ ہے کہ اردو کو علاوہ ہندی کے عربی سے بھی تعلق ہے، اس لیے کثرت سے اس کے الفاظ زبان میں موجود ہیں اور اس وجہ سے لامحالہ اس کے تمام حروف بھی اردو ابجد میں آگئے، ورنہ عربی الفاظ کی صحتِ تحریر قائم نہ رہتی، چناں چہ ز، ذ، ض، ظ، چار الگ حروف ہیں جن کی آواز قریب قریب یکساں معلوم ہوتی ہے، اسی طرح س، ث، اور ت، ط، اور ح، ہ۔ گو عرب کا باشندہ یا وہ شخص جو تلفظ کی صحت کا خاص طور پر خیال رکھتا ہے، ان حروف کے تلفظ میں فرق کر سکے، مگر ہر ایک کے لیے اس کا امتیاز دشوار ہے، اور بول چال میں عام طور پر ان حروف کے تلفظ میں کچھ زیادہ فرق نہیں پایا جاتا ہے۔“
مولانا نظام الدین صاحب استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اس تفصیل سے یہ عیاں ہوا کہ ایک زبان کے کلمات اگر دوسری زبان میں بولے جانے لگیں تو ان کے مخارج میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ چناں چہ مشاہدہ ہے کہ روزمرہ کی گفتگو ہو یا علمی مجالس کی گفتگو، اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں کا علم رکھنے والے عام طور پر اردو، فارسی میں کلام کے وقت ز، ض، ظ، یوں ہی س اور ص کے تلفظ میں کوئی فرق نہیں کرتے ہیں، یوں ہی شعراء بھی دورانِ شعر کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔“
[مقالہ، ص: ۵۸/۷]
مفتی عبد الرحیم اکبری، سوجا شریف نے صَرف کی مشہور کتاب پنج گنج کی ایک عبارت سے زبانوں کے اختلاف سے مخارج کے اختلاف پر دلیل پیش کی ہے، پنج گنج میں ہے:
”وازیں جملہ بست و یک حرف مشترک است میاں تازی و پارسی و هشت حروف مخصوص است بسخن تازی کہ در سخن پارسی نباشد و نظام وے ”صعصق ثظ حفظ“ اما صادیکہ بزبان فارسی می گویند چوں ”صرخ وصد“ سین است ای ”سرخ وسد“ وهِم چنیں عین الف است و قاف کاف، وطا تا وحا هَا۔“ [پنج گنج، ص: ۵۷]
مفتی اکبری صاحب لکھتے ہیں:
”مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ یہ آٹھ حروف عربی کے ساتھ خاص ہیں اور فارسی میں اسی شکل سے لکھے جاتے ہیں، مگر انھیں مخارج سے ادا نہیں کیے جاتے ہیں، پس ثابت ہوا کہ زبانوں کے اختلاف سے مخارج بھی مختلف ہو جاتے ہیں۔ فارسی میں اختلافِ مخارج باعثِ تحریف نہیں تو دیگر زبانوں میں اختلافِ مخارج سے تحریف کا ارتکاب لازم نہیں آنا چاہیے۔“
[مقالہ، ص: ۱۲/۱]
مولانا ناصر حسین مصباحی اور مولانا اختر حسین فیضی نے بھی اسی دعویٰ پر پنج گنج کی مذکورہ عبارت سے دلیل پیش کی ہے۔ اور راقم الحروف نے پنج گنج کی اس عبارت سے اختلافِ مخارج پر نہیں، بلکہ عام بول چال میں مشابہ آواز والے حروف کے مخارج میں خلط ملط اور ادائیگی میں پاس و لحاظ نہ کرنے پر استدلال کیا ہے۔
مولانا محمد ناصر حسین مصباحی نے زبانوں کے اختلاف سے بعض حروف کے مخارج بدل جانے پر مزید کچھ شواہد پیش کیے ہیں:
(۱) عربی کے جو کلمات اردو رسم الخط میں لکھے جاتے ہیں ان کے حوالے سے عوام و خواص سب کا عمل یہ ہے کہ کتابت میں عربی حروف کے رسم کی پابندی تو کرتے ہیں، لیکن تلفظ میں بہت سے حروف کے مخارج اور صفات کا کوئی لحاظ نہیں کرتے۔ نہ صرف یہ کہ لحاظ نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی شخص اردو زبان بولتے وقت عربی حروف کے مخارج و صفات کی مکمل رعایت کر کے بولے تو اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً سفر اور صفر، دو الفاظ ہیں اردو میں دونوں کی کتابت تو الگ الگ ہوتی ہے مگر دونوں کا تلفظ یکساں ہے۔ الغرض کتابت میں تو عربی حروف کا لحاظ کیا جاتا ہے لیکن تلفظ میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ اور تلفظ کا مختلف ہونا مخارج کے مختلف ہونے کو مستلزم ہے۔ اگر تلفظ برقرار نہ رہا تو سمجھیے کہ مخارج بھی برقرار نہ رہے۔ لہٰذا دوسری زبان میں منتقل ہونے کی وجہ سے جب ان حروف کا تلفظ بدل گیا تو اسی سے ظاہر ہو گیا کہ ان حروف کا مخرج بھی بدل گیا۔
(۲) عربی زبان میں عجمی زبانوں کے بہت سے حروف نہیں پائے جاتے، جیسے اردو، فارسی اور ہندی کے یہ حروف: پ، ٹ، چ، ڈ، ڑ۔ جب ان حروف سے مرکب اردو، ہندی یا فارسی کے الفاظ عربی رسم الخط میں لکھے جاتے ہیں تو نہ صرف مخارج و صفات بلکہ تلفظ بلکہ رسم الخط بلکہ سرے سے حرف ہی بدل جاتا ہے۔ اور حرف کا بدلنا مخارج ہی کے بدلنے سے ہوتا ہے، مثلاً:
| اصل لفظ (اردو/ہندی) | عربی رسم الخط میں تبدیلی |
|---|---|
| پکوڑی | بکوری |
| ٹماٹر | طماطم |
| لڈو | لڈو |
| چین | صین |
| جاپان | جابان |
| مبارک پور | مبارک فور |
| اعظم گڑھ | اعظم جره |
| گنگا | غنغا |
| چراغ | سراج |
| اصفہان | اصفهان |
| احمد چلیپی | احمد شلبی |
| یزدگرد | یزد جرد |
(۳) ہر زبان میں کچھ ایسے حروف ہوتے ہیں جو دوسری زبان کے حروف سے آواز میں باہم متفق ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ حروف ایسے ہوتے ہیں کہ دوسری زبان میں نہ اُن کے متبادل حروف ہوتے ہیں اور نہ ان حروف کی آواز۔ مثلاً: عربی زبان میں جتنے حروف ہیں دوسری زبانوں میں متبادل کے طور پر اتنے حروف نہیں ہیں۔
عربی میں ض، ز، ذ، ظ — ص، س، ش، ث — ت، ط — ع، أ — ح، ھ — وغیرہ۔
ان تمام حرفوں کی آوازیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ ممتاز ہیں۔ لیکن ہندی، انگریزی، گجراتی زبانوں میں ان مختلف آوازوں کی تعبیر کے لیے کوئی حرف نہیں ہے۔ لہٰذا بعض اردو، عربی کلمات کی آوازوں کی تعبیر دوسری زبان کے حروف سے ہو ہی نہیں سکتی۔ تو جب ایسے کلمات کو دوسری زبانوں کے ناقص رسم الخط میں لکھا جائے گا تو یقیناً تلفظ بدل جائے گا۔ اور اس کی وجہ سے مخارج بھی بدل جائیں گے۔
(۴) جس زبان میں دوسری زبان کا متبادل حرف نہیں ہے، جب اُس کے رسم الخط میں اُس دوسری زبان کے لفظ کو لکھا جاتا ہے، اس کے مخارج بدل جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض زبانوں میں صرف تلفظ بدلتا ہے جب کہ بعض میں تلفظ اور رسم الخط دونوں ہی بدل جاتے ہیں۔ تو نہ صرف رسم الخط اور نہ صرف تلفظ، بلکہ پورا پورا حرف ہی بدل جاتا ہے۔ جیسا کہ عربی بولنے والے پ، ٹ، چ، ڈ، ڑ وغیرہ ہندی، اردو یا انگریزی الفاظ کے تلفظ میں کرتے ہیں۔ اور یہ بات صرف عربوں ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ ہر زبان والے دوسری زبان کے لفظ کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں، مثلاً بہار کے بعض علاقوں میں ”ڑ“ کا متبادل حرف نہیں ہے، تو وہ ”ڑ“ کی جگہ ”ر“ کا تلفظ کرتے ہیں۔
لہٰذا جب ان سے ”گھوڑا سڑک پر دوڑا“ کا تلفظ کرایا جائے تو وہ کہیں گے: ”گھورا سرک پر دورا“۔ اسی طرح اردو میں انگریزی کا لفظ ڈوکٹر کو بدل کر ڈاکٹر اور ”ٹیلی پھون“ کو بدل کر ”ٹیلی فون“ بولتے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ زبان کے اختلاف سے مخارج بدل جاتے ہیں۔
مولانا محمد مبشر رضا ازہر مصباحی کے نزدیک ۲۹/ حروف کے مخارج کے مشترک یا مختلف ہونے کا فیصلہ کرنا ایک مشکل امر ہے۔ مگر پھر بھی وہ بعض حروف کے مخارج میں معمولی فرق مان رہے ہیں۔ لکھتے ہیں:
”راقم سطور کی معلومات میں فارسی اور اردو حروف کی ادائیگی کے لیے باضابطہ کوئی ایسا قاعدہ جاری نہ ہوا، جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ فارسی یا اردو حروف کے مخارج کیا ہیں۔
فارسی اور اردو حروف کے صوتی تلفظ میں اب تک یہ طریقہ رائج ہے کہ جو حروف نقوش کے اعتبار سے عربی حروف کے مشابہ ہیں انھیں عربی حروف کے مخارج کا ہم مخرج قرار دے کر تلفظ کرتے ہیں اور بعض حروف تو نقوش میں مشترک ہو کر بھی فارسی میں عربی کا ہم مخرج نہیں ہیں۔ جیسے: ”ع“ کا مخرج تو تینوں زبانوں میں ایک ہے لیکن ”ص“ کا مخرج فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں عربی سے مختلف ہے کیوں کہ ”ص“ عربی زبان میں نوکِ زبان اوپر نیچے کے دانتوں سے ادا ہوتا ہے اور فارسی اور اردو میں اس کا مخرج اس طرح نہیں ہے۔ اسی طرح ”ض“ کا مخرج عربی اور اردو میں مختلف ہے۔
اس لیے یہ فیصلہ کرنا کہ عربی فارسی اور اردو کے ۲۹/ حروف کے مخارج مشترک ہیں یا مختلف، بہت مشکل امر ہے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام بول چال میں عربی فارسی اور اردو کے ۲۹/ حروف کے مخارج ایک جیسے ہیں اور بعض حروف میں معمولی فرق بھی ہے۔“
[مقالہ، ص: ۸/۱]
