Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مزاراتِ اولیاء پر ہونے والی خرافات اور ان کا سدِ باب

مزاراتِ اولیاء پر ہونے والی خرافات اور ان کا سدِ باب
عنوان: مزاراتِ اولیاء پر ہونے والی خرافات اور ان کا سدِ باب
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

اسلامی تاریخ میں اولیاء اللہ اور ان کے مزارات کا ایک خاص مقام ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلَا اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ﴾ (یونس: 62)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کے مقرب بندے دنیا و آخرت میں امن و سکون کے حامل ہیں۔ ان کے مزارات امت کے لیے ایمان، محبت اور روحانیت کے مراکز ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب زیارت کیا کرو کہ یہ تمہیں آخرت یاد دلاتی ہے۔“ (صحیح مسلم: 2260)۔

مزارات پر حاضری کی شرعی حیثیت

اہل سنت و جماعت خصوصاً مسلکِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کے نزدیک مزارات پر حاضری جائز اور مستحب ہے، بشرطیکہ شرعی آداب اور حدود کا خیال رکھا جائے۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق نبی اکرم ﷺ شہداءِ اُحد کے مزارات پر تشریف لے جاتے تھے اور خلفائے راشدین نے بھی یہ عمل جاری رکھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ امام ابو حنیفہؒ کے مزار پر حاضر ہو کر برکت حاصل کرتے تھے۔ یہ اہل علم اور محدثین کا قدیم عمل ہے۔

مزارات پر حاضری کے شرعی آداب

امام احمد رضا خان محدثِ بریلوی فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں: ”مزار کے پائنتی طرف سے داخل ہو، چار ہاتھ کے فاصلے پر ادب سے کھڑا ہو، فاتحہ، سورۂ اخلاص، آیت الکرسی وغیرہ پڑھ کر ایصالِ ثواب کرے اور دعا کرے۔ نہ طواف کرے، نہ بوسہ دے، نہ سجدہ کرے؛ ادب اسی میں ہے۔“

مزارات پر ہونے والی خرافات کا تحقیقی جائزہ

  • طواف اور سجدہ: خانہ کعبہ کے علاوہ کسی اور جگہ تعظیمی طواف ناجائز اور غیر اللہ کو سجدہ کرنا حرام ہے۔
  • آتش بازی اور اسراف: عرس میں آتش بازی، کھانے کا لٹانا اور بے ضرورت روشنی اسراف ہے، جو حرام ہے۔
  • رقص و سرود اور آلاتِ لہو: مزامیر، آلاتِ لہو و لعب کا مزارات پر استعمال اور رنڈیوں کا ناچ صریح حرام ہے۔
  • چراغ اور لوبان جلانا: قبر پر شمع یا لوبان محض قبر کے لیے جلانا بدعت ہے، البتہ قرآن خوانی یا روشنی کے مقصد کے لیے ضرورت ہو تو جائز ہے۔
  • فرضی مزارات: فرضی مزار بنانا اور اس پر اصل مزار کا سا ادب کرنا ناجائز اور بدعت ہے۔
  • عورتوں کی حاضری: عورتوں کا عام مزارات پر جانا ناجائز اور لعنت کا باعث ہے، البتہ روضہ رسول ﷺ کی زیارت مستثنیٰ ہے۔

عرس اور ایصالِ ثواب کی حقیقت

امام احمد رضا خان فرماتے ہیں کہ اولیاء کرام کی ارواح وصال کے دن اپنی قبور کی طرف متوجہ ہوتی ہیں، اس لیے یہ وقت برکات کے لیے زیادہ موزوں ہے، اسی لیے عرس اور ایصالِ ثواب جائز ہے، مگر منکرات (برائیوں) سے پاک ہونا شرط ہے۔

خرافات کے سدباب کے لیے تجاویز

  • علمی رہنمائی: منتظمین اور زائرین کو امام احمد رضا خان کے فتاویٰ کی روشنی میں آداب سکھائے جائیں۔
  • انتظامی کنٹرول: مزارات پر منشیات، موسیقی، رقص اور آتش بازی کی مکمل ممانعت کی جائے۔
  • عوامی بیداری: خطباء اور علماء اپنے خطبات میں مزارات کے صحیح آداب بیان کریں۔
  • شرعی پردہ و نظم: اختلاطِ مرد و زن ختم کیا جائے اور عورتوں کو مزارات پر حاضری سے روکا جائے۔
  • خالص دینی ماحول: قرآن خوانی، ذکر و اذکار اور دینی تعلیم کا اہتمام ہو تاکہ یہ روحانی مراکز بنیں۔

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ مزارات پر حاضری کے صحیح شرعی آداب سیکھے، خرافات سے بچے اور ان مقامات کو روحانی اصلاح کا مرکز بنائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!