Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مذہبی رواداری اور اسوۂ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم (قسط: اول)

مذہبی رواداری اور اسوۂ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم (قسط: اول)
عنوان: مذہبی رواداری اور اسوۂ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم (قسط: اول)
تحریر: محمد ضیاء الدین برکاتی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

عہدِ حاضر کا مؤرخ مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب میں دنیا کی سو (100) عظیم شخصیات میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے رکھا ہے اور اس کی وجہ بھی بیان کی ہے:

"قارئین میں سے ممکن ہے کچھ لوگوں کو تعجب ہو کہ میں نے دنیا جہان کی مؤثر ترین شخصیات میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سرِفہرست کیوں رکھا اور مجھ سے توجیہ طلب کریں گے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں صرف وہی ایک ایسے انسان تھے جو دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے غیولی طور پر کامیاب، اور سرفراز ٹھہرے۔"

رواداری انسانوں کے فطری حقوق کی پاس داری کا نام ہے۔ یہ حقوق مختلف قسم کے ہیں: مذہبی اعمال اور قوانین کو برتنے کے حقوق، قبائلی اور علاقائی حقوق، خانگی اور معاشرتی حقوق اور پھر جانوروں، درختوں، سبزہ زاروں اور فطری خوب صورتی کے حقوق اور ان سب کی عملی طور سے پاس داری کا نام رواداری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس رواداری کا صحیح منظرنامہ دنیا نے عہدِ رسالت میں دیکھا، جب محسنِ انسانیت نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کی زمین پر حقیقی رواداری کے سبزے اگائے اور حقوق کی پاس داری کا خوش گوار چمن آباد کر دیا۔

لیکن ہر دور میں دشمنانِ اسلام دینِ اسلام کی حقانیت کو مجروح کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے رہے، خصوصاً کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ اسلام کی عالمگیر مقبولیت کے خلاف عنادیہ پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے، جزیہ کی وصولی کو وہ غیر مسلموں کو مجبور کر کے اسلام میں داخل کرنے کا حربہ قرار دیتے ہیں، وہ اپنے دلوں کی منافقت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں پر ہر طرح سے ظلم و جبر کو روا رکھا، ان کے حقوق تلف کیے اور مذہبی رواداری کے نام پر اسلام کی تبلیغ کی حالانکہ تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ ساری باتیں بے بنیاد اور بے اصل ہیں اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان لگائے جا رہے ہیں۔

حق یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دس سال کی انتہائی مختصر مدت میں دینِ اسلام کو عربوں اور دنیا کے مختلف المزاج بے شمار انسانوں کے دل و دماغ میں پیوست کر دیا، عربی زبان سے نہیں بلکہ عمل کی زبان سے، کسی ہتھیار سے نہیں بلکہ اخلاق کی زبان سے اور سخت گیر قوانین سے نہیں بلکہ روادارانہ نظام کے ذریعے۔ اس حقیقت کا اعتراف دنیا کے تمام مفکرین اور تاریخ دانوں بلکہ بادشاہوں اور حکمرانوں نے بھی کیا ہے اور گنتی کے چند افراد نے منفی باتیں بھی لکھی ہیں لیکن ان کی تعداد سو میں ایک فیصد بھی نہیں، اس لیے ان کا تذکرہ کرنا اپنا وقت ضائع کرنا ہے جیسے انہوں نے اپنا وقت ضائع کیا ہے۔ اب ملاحظہ کریں مذہبی رواداری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ کریم کے منظرنامے:

یہودیوں کے ساتھ مذہبی رواداری

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس وقت مدینہ میں یہودیوں کا کافی زور تھا، مدینہ کے اطراف میں یہودیوں کے تین قبیلوں بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کا بڑا رعب تھا، انہوں نے اپنے لیے بڑے بڑے قلعے بنا لیے تھے اور مدینہ کے دو قبیلے اوس اور خزرج کو اپنی فتنہ انگیزیوں سے لڑایا کرتے، جس سے یہ قبیلے پریشان رہا کرتے تھے، جب دھیرے دھیرے اسلام کا زور بڑھنے لگا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کی شر انگیزیوں اور بد باطنی سے واقفیت رکھنے کے باوجود ان کے اور مسلمانوں کے تعلقات خوش گوار بنانے اور مذہبی رواداری کو قائم کرنے کی کوشش فرمائی اور ایک معاہدہ لکھوایا جس کے شرائط یہ قرار پائے:(۱)

  • (1) خوں بہا اور فدیہ کا جو طریقہ پہلے سے چلا آتا تھا، اب بھی قائم رہے گا۔

  • (2) یہود کو پوری مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔

  • (3) یہود اور مسلمان آپس میں دوستانہ تعلقات رکھیں گے۔

  • (4) فریقین میں سے جب کسی تیسرے فریق سے جنگ ہوگی تو وہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔

  • (5) کوئی فریق قریش کو امان نہ دے گا۔

  • (6) کوئی بیرونی طاقت مدینہ پر حملہ کرے گی تو دونوں مل کر مدافعت کریں گے۔

  • (7) کسی دشمن سے اگر ایک فریق صلح کرے گا تو دوسرا بھی شریک ہوگا، البتہ مذہبی لڑائیاں اس سے مستثنیٰ رہیں گی۔

جنگِ خیبر ۷ھ مسلمانوں نے یہودیوں کے جانور اور مال لوٹ لیے، اس پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو گیا، اور آپ نے تمام لوگوں کو جمع کر کے فرمایا: "خدا نے تم لوگوں کے لیے یہ نہیں جائز کیا کہ اہل کتاب کے گھروں میں گھس جاؤ مگر بااجازت اور نہ یہ کہ ان کی عورتوں کو مارو، نہ یہ کہ ان کے پھل کھاؤ۔" (۲)

ایک دفعہ ایک یہودی نے برسرِ بازار کہا کہ قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ کو تمام انبیاء پر فضیلت دی۔ ایک صحابی نے یہ سن کر پوچھا ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی“ تو اس نے کہا ”ان پر بھی“ صحابی نے غصہ میں آکر اس کو ایک تھپڑ مار دیا۔ وہ یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی، آپ نے صحابی پر برہمی کا اظہار فرمایا۔(۳)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی رواداری کا یہ عالم تھا کہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں پر کافروں کے ذریعے ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے تو اس سے متاثر ہو کر ایک صحابی نے عرض کیا کہ ان دشمنوں کے حق میں بد دعا فرمائیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو گیا۔(۴)

کفار و مشرکین کے ساتھ مذہبی رواداری

مکہ میں جن دنوں مسلمانوں پر مظالم ہو رہے تھے تو سخت قحط پڑ گیا، لوگ ہڈی اور مردار کھانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید دشمن ابوسفیان (جو فتح مکہ کے موقعے پر اسلام لائے) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ محمد ! تمہاری قوم ہلاک ہو رہی ہے، اللہ سے دعا کرو کہ یہ مصیبت جاتی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اور اللہ نے اس مصیبت کو دور کر دیا۔(۵)

حضرت اسماء بنتِ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میری والدہ جو کہ مشرکہ تھیں معاہدۂ قریش کے زمانے میں اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیں، تو میں نے ان کے بارے میں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا اور عرض کیا کہ میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ مجھ سے ملاقات کی خواہش مند ہیں، کیا میں ان سے مل سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہاں! تم ان سے مل سکتی ہو۔(۶)

عیسائیوں کے ساتھ مذہبی رواداری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی لڑائی عیسائیوں سے نہیں ہوئی، ان سے معاہدے ہوتے رہے۔ ۶ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینا پہاڑی کے راہبوں کو بڑی مراعات دیں جو رواداری کی شاندار مثال ہے۔

اس چارٹر میں آپ نے اپنے پیرووں کی طرف سے یہ ضمانت لی کہ عیسائیوں کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے گا، ان کے گرجے اور ان کے پادریوں کی پوری حفاظت کی جائے گی، ان سے غیر منصفانہ طور پر ٹیکس نہیں لگائے جائیں گے، کسی عیسائی کو جبر سے اس کے مذہب سے منحرف نہ کیا جائے گا، کوئی راہب اپنی خانقاہ سے نہ نکالا جائے گا، کوئی عیسائی اپنے مقدس مقامات کی زیارت کو جائے گا تو اس سے کوئی مزاحمت نہ کی جائے گی، کسی گرجے کو منہدم کر کے مسجد یا کسی مسلمان کا گھر نہیں بنایا جائے گا، جو عیسائی عورتیں مسلمانوں کے نکاح میں ہیں ان کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی پوری اجازت ہوگی، ان پر مذہب کی تبدیلی کے لیے کوئی جبر اور زور نہ ڈالا جائے گا، اگر عیسائیوں کو ان کے گرجوں، خانقاہوں اور مذہبی عمارتوں کی مرمت کے لیے امداد کی ضرورت ہوگی تو مسلمان ان کو مالی امداد دیں گے، ان شرائط کی خلاف ورزی مسلمان کریں گے تو ان کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔(۷)

عیسائیوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اچھا سلوک کیا۔ حاتم طائی کے بیٹے عدی اپنے قبیلے کے سردار اور مذہباً عیسائی تھے۔ جس زمانے میں اسلامی فوجیں یمن گئیں یہ بھاگ کر شام چلے گئے، ان کی بہن گرفتار ہو کر مدینہ آئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بڑی عزت کے ساتھ رخصت کیا۔ وہ اپنے بھائی عدی کے پاس گئیں اور کہا کہ جس قدر جلد ہو سکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، وہ پیغمبر ہوں یا بادشاہ، ہر حال میں ان کے پاس جانا مفید ہے۔ عدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ایسے متاثر ہوئے کہ اسلام قبول کر لیا۔(۸)

نجران کے عیسائیوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو برتاؤ رہا، وہ رواداری کی بڑی بے نظیر مثال ہے۔ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ نبوی میں نمازِ عصر پڑھ کر فارغ ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجدِ نبوی میں ٹھہرایا، جب ان کی نماز کا وقت قریب ہوا تو ان کو اپنے طریقے پر مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی۔(۹)

قاصدوں کے ساتھ مذہبی رواداری

پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلم قاصدوں کے ساتھ مذہبی رواداری کا برتاؤ پیش کرتے اور ان کی عزت و آبرو کے حفاظت کرنے کی تاکید کرتے تھے، ان کی اعلیٰ ضیافت کا انتظام فرماتے، واپسی کے وقت قیمتی تحائف پیش فرماتے۔ ایک بار بادشاہِ ہرقل کا قاصد سرکار کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی واپسی پر انہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے توسط سے ایک قیمتی صفوری جوڑا عنایت فرمایا۔(۱۰)

حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ مجھے قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بنا کر بھیجا، جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا تو میرے دل میں اسلام ڈال دیا گیا، لہٰذا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب میں قریش کے پاس لوٹ کر نہیں جاؤں گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، بے شک میں بد عہدی نہیں کرتا اور نہ ہی میں قاصدوں کو ذلیل کرتا ہوں، لہٰذا تم واپس جاؤ اگر تمہارے دل میں جو چیز ہے، باقی رہے پھر آنا۔(۱۱)

تاریخ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ جن پر قبولِ اسلام سے پہلے نقض عہد کا الزام تھا اور وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قریش کے قاصد کی حیثیت سے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کوئی تعرض نہ فرمایا، نقض عہد کا جرم لائقِ گردن زدنی تھا لیکن چوں کہ وہ مشرکین کے قاصد کی حیثیت سے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، اس لیے انہیں رواداری کو قائم رکھنے کے لیے جانے دیا۔(۱۲)

جنگ میں مذہبی رواداری

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہبی رواداری کا لحاظ جنگ جیسے نازک موقعوں پر بھی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں لڑنے کے جو اصول و قوانین مرتب کیے ان میں سے سبھی قابلِ ذکر ہیں، چند ملاحظہ کریں:(۱۳)

  • (1) کسی بوڑھے، کسی بچے یا کسی عورت کو قتل نہ کیا جائے۔

  • (2) دورانِ جنگ دشمن کے مال اور خاندان کو نہ لوٹا جائے۔

  • (3) مقتولوں کا سر کاٹ کر گشت نہ کرایا جائے۔

  • (4) دشمن کو گرفتار کر کے کسی چیز سے باندھ کر تیروں سے نشانہ یا تلواروں سے نہ کاٹا جائے۔

  • (5) جنگ میں جو لوگ گرفتار ہوں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے۔

  • (6) دشمن اگر صلح کے لیے جھکیں تو ان سے صلح کر لی جائے۔

  • (7) معاہدہ کا پیام لے کر کوئی قاصد آئے تو اس کے جان کی پوری حفاظت کی جائے ، اگر اس سے اختلاف بھی ہو تو کسی حال میں قتل نہ کیا جائے۔

  • (8) دشمنوں سے معاہدہ کی پابندی ہر حال میں کی جائے۔

  • (9) جنگ میں قتل ہونے والے مقتولین کا مثلہ نہ کیا جائے، ان کے ناک، کان، آنکھ نہ کاٹے جائیں، ان کے چہرے کو مسخ نہ کیا جائے۔

حضرت رباح بن ربیع کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کسی چیز پر اکٹھا دیکھا تو ایک شخص کو بھیجا کہ لوگ کیوں جمع ہیں، اس نے آکر بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے ارد گرد جمع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ تو جنگ نہیں کر رہی تھی، خالد بن ولید اس لشکر کے امیر تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک شخص کے ذریعے حکم دیا کہ خالد سے کہو کہ عورت اور کسی مزدور کو قتل نہ کیا جائے۔(۱۴)

اس سے بہتر جنگ میں بھی مذہبی رواداری قائم کرنے کے اصول و ضوابط دنیا، نہ پیش کر سکتی ہے اور نہ ہی دکھا سکتی ہے۔

جنگی قیدیوں کے ساتھ مذہبی رواداری

جنگِ بدر کے خاتمہ کے بعد دشمنانِ اسلام اسیرانِ جنگ بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جنگی قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ نفسِ رواداری کی اعلیٰ مثال ہے۔ یہ قیدی دو دو، چار چار کر کے صحابہ کرام میں تقسیم کر دیے گئے، جن کے پاس کپڑے نہیں تھے انہیں کپڑا دلوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی کہ وہ آرام کے ساتھ رکھے جائیں۔ صحابہ نے اس حکم کی تعمیل کی، وہ خود کھجور کھا کر رہ جاتے مگر اپنے دشمنوں کو پورا کھانا کھلاتے تھے۔(۱۵)

ان قیدیوں میں ابو عزیز کا بیان ہے کہ انصار جب صبح یا شام کو کھانا لاتے تو روٹی میرے سامنے رکھ دیتے اور خود کھجوریں اٹھا لیتے، مجھے کو شرم آتی اور روٹی ان کو ہاتھ میں دے دیتا لیکن وہ ہاتھ بھی نہ لگاتے اور مجھ کو واپس دے دیتے اور یہ اس بنا پر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کی تھی کہ قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں سے فدیہ لے کر ان کو رہا کر دیا اور مکہ واپس جانے کی اجازت دے دی۔ ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جا سکتی تھی اور اگر وہ قبول نہ کرتے تو ان کو قتل کیا جا سکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔(۱۶)

اسی طرح اسیرانِ جنگ میں سے ایک شخص سہیل بن عمرو تھا جو عام مجمعوں میں ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اشتعال انگیز اور گستاخانہ تقریریں کیا کرتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ اس گستاخ کے نیچے کے دانت اکھڑوا دیجیے تاکہ یہ آپ کی شان میں گستاخانہ تقریریں نہ کر سکے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ میں نبی ہوں لیکن پھر بھی اگر اس کا کوئی عضو بیکار کر دوں گا تو اس کے لیے روزِ قیامت جواب دہ ہوں گا۔ (۱۷)

دنیا کی تاریخ میں کوئی بھی ایسا واقعہ پیش نہیں کیا جا سکتا کہ کسی قوم نے اپنے جانی دشمنوں کے ساتھ ایسا شریفانہ سلوک کیا ہو۔

مجرموں کے ساتھ مذہبی رواداری

یہودیوں کے قبیلہ بنو نضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی، ان پر دو آدمیوں کے قتل کا خوں بہا واجب الادا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مطالبہ کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے تو ایک یہودی نے ایک کوٹھے پر سے پتھر لڑھکا کر آپ کو شہید کرنے کی کوشش کی مگر آپ کو اس کی پہلے ہی خبر ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے۔ چند دنوں کے بعد یہودیوں میں سے بنی قریضہ نے گذشتہ معاہدے کی تجدید کرلی، بنو نضیر سے بھی اس کی تجدید کرنے کو کہا گیا تو وہ راضی نہیں ہوئے بلکہ اس کے بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ آپ تین آدمی لے کر تشریف لائیں وہ بھی تین عالم ساتھ لائیں گے، اگر ان کے عالم آپ پر ایمان لائے تو وہ بھی آپ پر ایمان لائیں گے۔ آپ نے منظور فرمایا، لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ انھوں نے اس بہانہ سے شہید کرنے کے لیے بلایا ہے۔ ان کی اس سرکشی سے مجبور ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا، پندرہ دن بعد انھوں نے صلح کر لی اور اپنے مال و متاع کے ساتھ خیبر منتقل ہو جانے کے طلب گار ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی اور وہ اپنے پورے مال و متاع کے ساتھ منتقل ہو گئے اور ان سے کسی قسم کی باز پرس بھی نہ کی گئی۔ (۱۸)

حضرت جعدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز دیکھا کہ ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا ارادہ کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: لن تراع، لن تراع (ہرگز خوف نہ کھاؤ، ہرگز خوف نہ کھاؤ) پھر ارشاد فرمایا کہ اگر تو ارادہ کرتا، تب بھی اللہ تعالیٰ تجھ کو مسلط نہ کرتا۔ (۱۹)

دشمنوں سے ایسی رواداری کی مثال کسی اور قوم کی تاریخ میں ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملے گی، جب کہ یہودیوں کی کتاب توریت میں لڑنے والے دشمنوں کے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ سب کے سب قتل کر دیے جائیں، ان کی عورتیں اور بچے گرفتار کر لیے جائیں اور ان کا سارا سامان مالِ غنیمت سمجھا جائے۔

کافروں کے مال و متاع کے ساتھ مذہبی رواداری

فتح خیبر کے بعد مسلمانوں نے وہاں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا، یہودیوں نے درخواست کی کہ زمینیں ان کے قبضہ میں رہنے دی جائیں، وہ پیداوار کا نصف حصہ ادا کیا کریں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی التجا کو منظور کر لیا۔ بٹائی کا وقت آیا تو غلہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور یہودیوں سے کہا گیا کہ ان میں جو حصہ چاہیں وہ لے لیں۔ (۲۰)

جنگِ خیبر کے موقع پر مسلمانوں کو مالِ غنیمت کے ساتھ ساتھ توریت کے چند نسخے بھی ہاتھ آئے، یہودی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان نسخوں کو طلب کرنے کے لیے حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ مذہبی رواداری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے صحابہ کو حکم دیا کہ یہودیوں کو توریت کے نسخے واپس کر دیے جائیں۔ (۲۱)

صلحِ حدیبیہ میں مذہبی رواداری

۶ھ میں صلحِ حدیبیہ واقع ہوئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی رواداری کی اعلیٰ ترین مثال ہے، یہ صلح بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھی مگر مذہبی رواداری کو قائم کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کر لیا۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور یہودیوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس کے چند دفعات مندرجہ ذیل ہیں: (۲۲)

  • (1) مسلمان اس سال مدینہ واپس چلے جائیں، مکہ کے اندر نہ آئیں آئندہ سال آئیں، تین دن قیام کریں مگر ان کی تلواریں نیام میں رہیں۔

  • (2) قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ پہنچ جائے گا تو وہ اس کے ولی کے پاس بھیج دیا جائے گا۔

  • (3) اگر مدینہ سے کوئی شخص قریش کے پاس جائے گا تو واپس نہیں کیا جائے گا۔

کیا دنیا کی کوئی قوم اپنا نقصان اٹھا کر مذہبی رواداری کی یہ مثال قائم کر سکتی ہے؟

محترم قارئین کرام اس دلچسپ موضوع کا آخری حصہ مطالعہ کرنے کے لیے قسط دوم اوپن (سرچ) کریں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!