Loading...

شیر بیشۂ اہل سنت علامہ حشمت علی خاں پیلی بھیتی (قسط دوم)

شیر بیشۂ اہل سنت علامہ حشمت علی خاں پیلی بھیتی (قسط دوم)
عنوان: شیر بیشۂ اہل سنت علامہ حشمت علی خاں پیلی بھیتی (قسط دوم)
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

القابات و خطابات

آپ کے مشہور القابات و خطابات درج ذیل ہیں:

  • (۱) ابوالفتح
  • (۲) روحانی بیٹا
  • (۳) ولد المرافق و غیظ المنافق

حضور شیرِ بیشہ سنت، امامِ اہل سنت کے ان شاگردوں میں سے تھے جن سے امامِ اہل سنت ان کی کم عمری کے باوجود ان کی دینی خدمات اور علمی صلاحیت سے متاثر تھے اور پھر اس بنیاد پر امامِ اہل سنت نے انہیں حوصلہ افزا القاب سے نوازا۔ حضور شیرِ بیشہ سنت کو کن القاب سے اور کب نوازا؟ اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں:

ابوالفتح

۱۳۳۸ھ میں تھانوی کا مرید و خلیفہ خاص مولوی یاسین خام سرائی نے ہلدوانی منڈی میں سنیوں کو چیلنجِ مناظرہ دیا جس پر وہاں کے سنیوں نے امامِ اہل سنت کو خط لکھا جسے خود شیرِ بیشہ سنت نے آپ کو پڑھ کر سنایا اور ساتھ ہی مناظرہ کے لیے اجازت طلب فرمائی۔ پھر آپ نے اس مولوی کو شکستِ فاش دی اور کامیاب و کامران ہو کر واپس حضور اعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں لوٹے۔ آگے کا واقعہ علامہ محبوب علی خاں کی زبانی سنیے، لکھتے ہیں:

”اب حضرت شیرِ بیشہ سنت حضور پُر نور اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام و قدم بوسی کے بعد ایک کنارے بیٹھ گئے اور ان مشاہدین (مناظرہ ہلدوانی) نے یہ عریضہ پیش کیا چشم دید تمام واقعات زبانی عرض کیے، تمام باتوں کو حضور اعلیٰ حضرت نے بغور سماعت فرمایا اور تبسم کناں حضرت شیرِ بیشہ سنت کی طرف دیکھا اور فرمایا: ماشاء اللہ آپ ”ابوالفتح“ ہیں، قریب بلایا اور خود کھڑے ہو کر حضرت کو سینہ اقدس سے لگایا، اپنا عمامہ مبارک حضرت شیرِ بیشہ سنت کے سر پر رکھ دیا، اپنا جبہ شریف عطا فرمایا“۔

[سوانح شیرِ بیشہ سنت از علامہ محبوب علی خاں، مطبوعہ: النوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، ص: ۴۳]

روحانی بیٹا

مذکورہ واقعہ کے بعد امامِ اہل سنت نے آپ کو اپنا روحانی بیٹا فرمایا اور ساتھ ہی ماہانہ آپ کے لیے پانچ روپے کا وظیفہ مقرر فرمایا اور مدرسہ کے قبض الوصول میں اسے تحریر بھی فرما دیا۔ علامہ محبوب علی خاں لکھتے ہیں:

”اس کے بعد حضور اعلیٰ حضرت نے مدرسہ کا قبض الوصول طلب فرما کر اپنے قلم سے تحریر فرمایا کہ حشمت علی میرا روحانی بیٹا ہے، آج سے میں ان کا پانچ روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرتا ہوں“۔

[ایضاً، ص: ۴۳]

ولد المرافق و غیظ المنافق

ہندوستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ گاندھی نے ایک ایسی تحریک چلائی کہ گاندھی کی اس آندھی میں عوام تو عوام خواص بھی زد میں آگئے انہیں میں ایک علامہ عبد الباری قیام الدین فرنگی محلی بھی تھے لیکن طویل خط و کتابت کے بعد انہوں نے توبہ کیا ان تمام خطوط کو حضور مفتی اعظم ہند نے جمع کر کے ”الطاری الداری لہفوات عبد الباری“ کے نام سے شائع فرمایا ان میں سے ایک خط میں امامِ اہل سنت نے شیرِ بیشہ سنت کو ”ولد المرافق غیظ المنافق“ سے یاد کرتے ہوئے تحریر فرمایا:

”ہاں! ولد المرافق غیظ المنافق عزیزی مولوی حافظ حشمت علی قادری برکاتی لکھنوی زادہ اللہ تعالیٰ من فیضہ الا جلی نے جناب کے ان دونوں خطوط سے ان چاروں کمالات مع کفریات و رفض و خروج و وقاحت و گستاخی ائمہ و سفاہت و انوہت و فرار سرکار کا انتخاب کیا تھا جس میں پچاس سے زائد تھے اور فقیر دیکھے تو غالباً اس سے بھی زیادہ نکلیں گے ۔ اگر تفصیل کا موقع آیا تو ان شاء اللہ العزیز دکھا دوں گا“۔

[الطاری الداری از حضور مفتی اعظم ہند، مطبوعہ: حسنی پریس، بریلی شریف، حصہ: ۳، ص: ۵۵]

[امام احمد رضا اور القاب نوازی | صفحات: ۱۶۳ تا ۱۶۷]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!