| عنوان: | موضوع امام احمد رضا اور فن نحو (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا طارق انور مصباحی (کیرلا) |
| پیش کش: | سعدیہ سلطانہ عطاریہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
اسم تفضیل کے استعمال میں ایجادی نکتہ
اگر آیت کریمہ: {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} سے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مراد لیا جائے تو کیا اس سے یہ لازم آئے گا کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و تمام پیغمبروں سے بھی زیادہ متقی ہیں؟ ایسے موقع پر اسم تفضیل کا کیا معنی ہوگا؟
امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا کہ ایسے مواقع پر عرف میں جو مراد ہوتے ہیں، وہی مراد ہوں گے۔ یہاں معلوم ہے کہ کوئی غیر نبی کسی نبی سے افضل نہیں ہو سکتے، پس حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اس میں شامل ہی نہیں ہوں گے، اور نہ ہی حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مستثنیٰ قرار دینے کے لیے کسی خاص قرینہ یا قید کی ضرورت ہوگی۔ اس اعتبار سے آیت کریمہ سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صرف تمام امتیوں سے افضل ہونا ثابت ہوگا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یا حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مستثنیٰ قرار پائیں گے۔ امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا:
اقول: پھر میں کہتا ہوں کہ اس مقام میں ایک دوسرا نکتہ ہے، جو عقلوں کے قبول ہونے کے زیادہ لائق ہے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ کسی کو اس نکتہ کی جانب توجہ ہوئی، اور وہ نکتہ یہ ہے کہ افعل التفضیل (صیغہ اسم تفضیل) کے لیے مفضل علیہ ضروری ہے، تو اس صیغہ پر جب لام تعریف داخل ہوگا تو ایسے مقام میں ان تمام افراد پر فضیلت ہوگی، جن کے درمیان ایسے مواقع پر تفاضل سمجھا جاتا ہے، جیسے اناج کی قسمیں (مراد ہیں) ہمارے جملہ ”گیہوں کی روٹی ہی اچھی ہے“ میں، اور وہی زیادہ تر مستعمل ہے، اس مقام میں جس کے بارے میں ہم گفتگو کر رہے ہیں، یا اس صیغہ سے بعض پر فضیلت سمجھی جائے گی اور بعض پر فضیلت نہیں سمجھی جائے گی، یا نہ پہلی صورت ہوگی، نہ دوسری صورت، بلکہ دونوں کا احتمال ہوگا۔ پہلی تقدیر پر ہمارا مدعا حاصل ہے اور دوسری تقدیر بداہتہً باطل ہے۔
توضیح: امام ممدوح نے اسم تفضیل کے استعمال کی تین صورتیں بیان فرمائیں۔ (1) جن اشیا کے مابین تفاضل معہود و متعارف ہے، انہی امور پر فضیلت مراد ہو۔ (2) بعض پر فضیلت سمجھی جائے اور بعض پر نہیں (3) دونوں صورتوں کا احتمال ہو، لیکن کسی کا تعین نہ ہو سکے۔ صورت اول کی وضاحت کے لیے گیہوں کی روٹی کی مثال دی۔ ہمارے عرف میں گیہوں و دیگر اناج کی روٹی استعمال کی جاتی ہے تو جب کہا جائے کہ گیہوں کی روٹی سب سے اچھی ہے تو اس سے مراد یہی ہوگی کہ دیگر اناجوں کی بہ نسبت گیہوں کی روٹی اچھی ہے۔ یہ نہیں مراد ہو گی کہ ہر قسم کی روٹی سے گیہوں کی روٹی اچھی ہے۔ کیا گیہوں کی روٹی بادام کی روٹی سے بھی افضل ہوگی، ہرگز نہیں لیکن مذکورہ جملے سے بادام کی روٹی کا مفضول ہونا مراد نہیں ہوگا، کیوں کہ بادام کی روٹی عام طور پر استعمال نہیں کی جاتی۔ ممکن ہے کہ دوا کے طور پر حکیم و طبیب اسے استعمال کا حکم دیں اور وہ بطور دوا یا بطور غذا استعمال کی جائے۔ صورت دوم کو آپ نے باطل قرار دیا کہ بعض افراد پر تفضیل ہو، اور بعض پر تفضیل نہ ہو۔ بلا تخصیص وبلا تقیید بعض افراد کا استثنا کیوں کر ہوگا؟ تیسری صورت کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ نے رقم فرمایا:
تیسری تقدیر پر ہر آیت مفضل علیہم کے حق میں مجمل ہوگی، اور مجمل آیت کا بیان اگر نہ ہوا ہو تو وہ متشابہ آیتوں میں شمار ہوگی، حالاں کہ اس آیت کو کسی نے متشابہات میں شمار نہ کیا لیکن ہم نے بحمد اللہ تعالیٰ اس آیت کا بیان صاحب بیان حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پایا۔ امام ابو عمر ابن عبد البر مالکی نے حدیث مجالد بروایت شعبی کی تخریج کی کہ امام شعبی نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے دریافت کیا، یا ان سے سوال ہوا کہ لوگوں میں سب سے پہلے کون اسلام لایا؟ انہوں نے جواب دیا: کیا تم نے حسان بن ثابت کے یہ شعر نہ سنے۔
(ترجمہ اشعار) جب تجھے سچے دوست کا غم یاد آئے تو اپنے بھائی ابوبکر کو ان کے کارناموں سے یاد کر جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد ساری مخلوق سے بہتر، سب سے زیادہ متقی، سب سے زیادہ انصاف کرنے والے، سب سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والے، جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں رہے، جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے سفر ہجرت میں چلے، جن کا منظر محمود ہے اور لوگوں میں سب سے پہلے جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 28، ص: 612، 613، جامعہ نظامیہ لاہور]
توضیح: حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان اشعار میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے متقی و دیگر صفات سے متصف فرمایا۔ یہ اشعار عہد رسالت میں کہے گئے تھے۔ حضرات صحابہ کرام اس پر مطلع تھے، یہاں تک کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بھی یہ اشعار حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنائے تھے۔ امام اہل سنت نے لکھا:
ترجمہ: امام ابو عمر یوسف بن عبد البر مالکی نے "الاستیعاب" میں بیان فرمایا کہ روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حسان سے فرمایا: کیا آپ نے ابوبکر کے بارے میں کچھ کہا؟ انہوں نے عرض کیا: جی، اور حضرت حسان نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ اشعار سنائے اور ان میں چوتھا شعر ہے، اور وہ یہ ہے۔ غار شریف میں وہ دوسری جان در آں حالے کہ دشمن اس کے گرد چکر لگاتے تھے، جب وہ پہاڑ پر چڑھے تھے۔
پس حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان اشعار کو سن کر خوش ہوئے اور فرمایا: اے حسان! تم نے اچھا کیا اور ان میں پانچواں شعر بھی مروی ہوا۔ وہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دوست ہیں، لوگوں کو یہ معلوم ہے۔ تمام مخلوق سے بہتر، جن کے برابر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں رکھا۔ (امام ابن عبد البر مالکی کی عبارت تمام ہوئی)
میں کہتا ہوں: مصرع ثانی کی جگہ اس طرح بھی مروی ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مخلوق میں سے کسی کو ان کے برابر نہیں رکھا۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 28، ص: 613، 614، جامعہ نظامیہ لاہور]
توضیح: آیت کریمہ: {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} سے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے افضلیت صدیقی سے متعلق حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اشعار سن کر انکار نہ فرمایا، بلکہ تحسین فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی اسی کو ثابت رکھا۔ یہ امام المفسرین ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے لیے علم قرآن کی دعا فرمائی تھی۔ غیر قیاسی امور میں صحابی کا قول حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔ امام موصوف نے تحریر فرمایا:
ترجمہ: اصول فقہ کے عالم کو معلوم ہے کہ ایسی صورت میں موقوف حدیث، مرفوع حدیث کی طرح ہے، اس لیے کہ مجمل کا بیان رائے سے نہیں ہوتا، لہٰذا اگر شارع نے بیان نہ کیا اور قرآن کا نزول بند ہو گیا تو مجمل متشابہ ہو جائے گا، پھر بیان، مبین (مجمل) سے ملحق ہوگا، اس لیے کہ بیان کا یہی فائدہ ہے کہ شک دور کر دے اور محتمل معانی میں سے کسی ایک کو متعین کر دے، پس بیان کا وہی حکم ہے، جو قرینہ کا ہے، اور کلام کا مفاد کلام ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے، جیسا کہ اصول فقہ نے واضح کیا تو اس آیت سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت تقویٰ میں ہر امتی پر ثابت ہوگئی، اور اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی نعمتوں پر حمد ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 28، ص: 615، 616، جامعہ نظامیہ لاہور]
توضیح: اسم تفضیل کے استعمال کی تیسری صورت میں امام موصوف نے فرمایا تھا کہ ماقبل کی دونوں صورتوں کا احتمال ہو، لیکن کسی کا تعین نہ ہو سکے۔ اس کے تعین کے لیے بیان کی ضرورت ہوگی۔ اب اگر آیت کریمہ: {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} میں استعمال کی تیسری صورت مراد لی جائے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اشعار کو سن کر ثابت رکھنا اس اجمال کے لیے بیان کی منزل میں ہے اور اس طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تقویٰ میں ساری امت سے افضل ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔ یہ نحوی قانون امام ممدوح کے ایجادی واضافی قواعد میں سے ہے: فالحمد للہ علی ذلک۔
لو شرطیہ سے مسئلہ کی تفہیم
حالت سجدہ میں نیند آ جائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، یعنی سجدہ کی مسنون حالت پر سوئے کہ پیٹ ران سے جدا ہو، کلائیاں زمین پر بچھی ہوئی نہ ہوں، بازو کروٹوں سے جدا ہو۔ سجدہ کی ہیئت مسنونہ پر نماز میں نیند آ جائے یا بیرون نماز سجدہ کی مسنون حالت پر نیند آ جائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، کیوں کہ ہیئت مسنونہ میں سونے سے اعضا کے ڈھیلے پڑ جانے کا احتمال ختم ہو جاتا ہے، اور کسی مفسد وضو کے وجود کا امکان معدوم ہو جاتا ہے۔ نماز میں وضو نہ ٹوٹنے کا بیان حدیث شریف میں آیا ہے لیکن بیرون نماز بھی سجدہ کی ہیئت مسنونہ پر کسی کو نیند آجائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اس حکم میں ایک قسم کا خفا تھا، اسی لیے فقہائے کرام نے اس کی صراحت فرمائی۔ امام احمد رضا قادری نے فقہ حنفی کی مشہور کتاب ”در مختار“ کی عبارت پر کلام کرتے ہوئے نحوی قانون کی روشنی میں اس مسئلہ کی عمدہ توضیح فرمائی ہے۔
سجدہ کی حالت مسنونہ میں نیند آ جانے کے سبب وضو نہ ٹوٹنے کا بیان ان لفظوں میں آیا: وہ نیند ناقض نہیں جو مسنون ہیئت پر سجدہ کی حالت میں ہو، گرچہ غیر نماز میں ہو، یہی معتمد ہے، اسے حلبی نے ذکر کیا۔ [الدر المختار مع رد المحتار، جلد اول، ص: 153، دار الفکر بیروت]
علامہ سید ابن عابدین شامی نے عبارت مذکورہ کے حاشیہ میں رقم فرمایا: ان کا قول {ولو في غير الصلوة} ان کے قول {على الهيأة المسنونة} پر مبالغہ کے لیے ہے۔ اس سے ان کے قول {ساجدا} پر مبالغہ مقصود نہیں، یعنی اس کا مسنون ہیئت پر ہونا وضو نہ ٹوٹنے کے لیے قید ہے، گرچہ نماز میں ہو۔ [رد المحتار، جلد اول، ص: 153، دار الفکر بیروت]
در مختار کی عبارت میں {ولو في غير الصلوة} پر کلام کرتے ہوئے امام احمد رضا قادری نے فرمایا کہ 'لو' وصلیہ شرطیہ کے مدخول کی نقیض، حکم کے باب میں اولیٰ ہوا کرتی ہے، جیسے کہا جائے کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ شفقت کرو، گرچہ وہ تمہارے ساتھ نا انصافی کرے۔ یہاں نا انصافی کرنے کی نقیض انصاف کرنا ہے، پس مفہوم یہ ہوگا کہ انصاف کرنے کی صورت میں بدرجہ اولیٰ شفقت کرو۔
حدیث شریف میں نماز کے سجدہ میں نیند آجانے پر وضو نہ ٹوٹنے کا بیان آیا۔ اب بیرون نماز حالت سجدہ میں نیند آ جائے تو وضو ٹوٹے گا یا نہیں؟ اس میں ایک قسم کا خفا تھا، حالاں کہ وضو نہ ٹوٹنے کی علت یعنی استرخائے مفاصل کا فقدان بیرون نماز کے سجدہ میں بھی موجود ہے۔ در مختار کی مذکورہ بالا عبارت کی روشنی میں امام احمد رضا قادری نے اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی کہ بیرون نماز مسنون حالت میں سجدہ کیا جائے اور سجدہ میں نیند آجائے تو بھی وضو نہیں ٹوٹے گا یعنی نہ حالت نماز میں وضو ٹوٹے گا، نہ ہی نماز کے باہر۔ امام ممدوح نے تحریر فرمایا:
ترجمہ: پس غیر نماز کے سجدے کو حدیث کے شامل ہونے میں ایک قسم کا خفا آ جاتا ہے، یہاں تک کہ بدائع الصنائع، تبیین الحقائق وغیرہ میں صرف سجدہ نماز کے ذکر پر اکتفا کیا اور فرمایا کہ نص (حدیث شریف) صرف نماز کے بارے میں وارد ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔ جب صورت حال یہ ہے تو سجدہ میں نیند آنے سے وضو نہ ٹوٹنے کا حکم نماز کے بارے میں زیادہ ظاہر ہے، اور وضو نہ ٹوٹنے کے لیے ہیئت مسنونہ کی شرط لگانا غیر نماز سے متعلق زیادہ ظاہر ہے، کیوں کہ نماز سے متعلق تو نص کا ظاہری اطلاق خود ہی موجود ہے، اور مبالغہ خفی کو ذکر کر کے کیا جاتا ہے، اس لیے کہ حکم کے باب میں کلمہ شرط وصلیہ کے مدخول کی نقیض مدخول سے زیادہ اولیٰ ہوتی ہے۔
پس اگر اعتراض کیا جائے کہ (صاحب در مختار کا قول) ”ولو فی الصلوۃ“ ان کے قول ”على الهيأة المسنونة“ پر مبالغہ ہے، جیسا کہ محشی علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ذکر کیا، اس لیے کہ نماز کے اندر ہیئت کی شرط خفی ہے، سجدے میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم خفی نہیں، لیکن جب شارح نے فرمایا: ”ولو في غير الصلوة“ تو یہ ان کے قول ”ساجدا“ پر مبالغہ ہوا۔ ہیئت مسنونہ پر مبالغہ نہ ہوا، اس لیے کہ غیر نماز میں ہیئت کی شرط ہونا کھلی ہوئی بات ہے۔ خفی صرف یہ حکم ہے کہ اس میں بھی وضو نہ ٹوٹے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب علامہ محشی سید ابن عابدین شامی نے اسے ہیئت پر مبالغہ قرار دیا تو مجبوراً یہ تعبیر کرنی پڑی کہ ”ولو في الصلوة“۔ در مختار کے جو نسخے ہمارے یہاں ہیں، ان میں ہے: ”ولو في غير الصلوة“ اور حاشیہ لکھتے وقت علامہ شامی نے بھی اسی طرح نقل کیا: ”قوله ولو في غير الصلوة“۔ اگر ان کے اسی حاشیہ میں یہ لفظ نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ ان کے پاس جو در مختار کا نسخہ تھا اس میں لفظ 'غیر' ساقط تھا۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد اول، ص: 514، 515، جامعہ نظامیہ لاہور] [ماخوذ از: مصنف اعظم، ص: 726 تا 730]
