| عنوان: | دارالافتاء اہلِ سنت: منتخب شرعی مسائل |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
دارالافتاء، اہلِ سنت (دعوتِ اسلامی) مسلمانوں کی شرعی رہنمائی میں مصروفِ عمل ہے۔ تحریری، زبانی، فون اور دیگر ذرائع سے ملک و بیرونِ ملک سے ہزار ہا مسلمان شرعی مسائل دریافت کرتے ہیں۔ آپ کے پوچھے گئے مسائل کے جوابات ذیل میں درج ہیں:
1. بحالتِ روزہ ناک میں دوا ڈالنے کا حکم
سوال: میں نے روزے کی حالت میں ناک میں دوائی ڈال لی، مجھے معلوم تھا کہ میں روزہ سے ہوں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سے روزہ فوت ہو جاتا ہے، میرے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب: آپ کو معلوم تھا کہ آپ روزہ سے ہیں، اس کے باوجود ناک میں دوائی ڈالی، اگرچہ غلطی سے ڈالی ہو، تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ گیا، اس روزہ کی قضا لازم ہوگی۔ [البحر الرائق، 2/293؛ بہارِ شریعت، 1/325-326]
2. روزہ اور غسلِ جنابت میں تاخیر کا حکم
سوال: اگر کسی نے غسلِ فرض ہونے کی حالت میں روزہ رکھا اور عصر کے بعد غسل کیا، تو کیا اس کا روزہ ادا ہو گیا؟
الجواب: جس شخص پر غسل لازم ہو اسے نہانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر بلاوجہ غسل میں اتنی تاخیر کی کہ نمازیں قضا ہو گئیں تو وہ سخت گنہگار ہوا، توبہ اور نمازوں کی قضا اس پر لازم ہے۔ البتہ اس کے روزے پر فرق نہیں پڑے گا، روزہ ادا ہو جائے گا، لیکن رمضان کے بعد اس روزے کی قضا کرنا آپ کے ذمہ لازم نہیں ہوگا (کیونکہ روزہ صحیح ہے)۔ [بدائع الصنائع، 2/204؛ بہارِ شریعت، 1/987]
3. مستحقِ زکوٰۃ کو بطورِ قرض زکوٰۃ دینے کا حکم
سوال: زید نے مستحقِ زکوٰۃ کو قرض کہہ کر زکوٰۃ کی رقم دی جبکہ دل میں زکوٰۃ کی نیت تھی، کیا زکوٰۃ ادا ہو گئی؟ نیز کیا زید اس رقم کو واپس لے سکتا ہے اگر بکر اسے لوٹانا چاہے؟
الجواب: زکوٰۃ دیتے وقت اگر دل میں زکوٰۃ کی نیت موجود ہو تو مستحق کو بتانا ضروری نہیں، قرض کہہ کر دینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ تاہم، زکوٰۃ میں دی گئی رقم بعد میں بکر سے واپس وصول کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ زکوٰۃ کا مطلب مال کا مالک بنا دینا ہے، اب وہ آپ کی ملکیت نہیں رہا۔ [مجمع الانھر، 1/290؛ فتاویٰ رضویہ، 10/67]
4. مقدارِ نصاب سے کم سونے پر زکوٰۃ کا حکم
سوال: اگر زید کے پاس ساڑھے سات تولے سے کم صرف سونا ہو اور کوئی دوسرا مالِ زکوٰۃ نہ ہو، کیا قیمت بڑھ جانے پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟
الجواب: جی نہیں، زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔ سونے کا نصاب اس کے وزن (ساڑھے سات تولے) کے حساب سے شمار کیا جاتا ہے، قیمت کے اعتبار سے نہیں۔ ساڑھے سات تولے سے کم پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ [بدائع الصنائع، 2/107؛ بہارِ شریعت، 1/902]
5. کیا واجب الادا مہر نصابِ زکوٰۃ میں شمار ہوگا؟
سوال: میرے پاس نصاب کے برابر رقم ہے لیکن میں نے بیوی کو پچاس ہزار روپے حقِ مہر دینا ہے، کیا اسے نصاب سے تفریق کیا جا سکتا ہے؟
الجواب: نصاب سے حقِ مہر کو منہا (تفریق) نہیں کیا جائے گا۔ آپ اس پچاس ہزار کو بھی نصاب میں شامل کریں گے اور اگر آپ صاحبِ نصاب بن جاتے ہیں، تو آپ پر زکوٰۃ لازم ہوگی۔ [البحر الرائق، 2/357؛ فتاویٰ رضویہ، 10/143]
