Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

محرم میں کیا صحیح اور کیا غلط؟ (قسط: دوم)|محمد سمیر احمد عطاری

محرم میں کیا صحیح اور کیا غلط؟ (قسط: دوم)
عنوان: محرم میں کیا صحیح اور کیا غلط؟ (قسط: دوم)
تحریر: محمد سمیر احمد عطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

بعض وہ جاہل طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں کہ محرم الحرام کا مہینہ تشریف لانے سے پہلے ہی گناہوں کا بازار گرم کر رہے ہوتے ہیں، لایعنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہوتے ہیں، کہیں ڈھول تاشے بازی کر رہے ہوتے ہیں، تو کہیں ماتم و نوحہ کر رہے ہوتے ہیں، تو کہیں دس دن تک سوگ منا رہے ہوتے ہیں۔ الغرض طرح طرح کی خرافات و غیر شرعی رسومات کو انجام دے رہے ہوتے ہیں، اور وہ بڑے اہتمام کے ساتھ ان رسومات کی ادائیگی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارا اس بیان کا موضوع اسلامی سال کے پہلے بابرکت اور حرمت والے مہینے محرم الحرام میں پائی جانے والی خرافات و بدعات ہیں، جن کے سبب اس ماہِ مقدس کی نہ صرف بے حرمتی ہوتی ہے بلکہ اسلامی اقدار کا کھل کر مذاق بھی اڑایا جاتا ہے نیز ہمارے شہدائے اسلام بالخصوص شہدائے کربلا کی یاد منانے کی آڑ میں ایسے غیر شرعی کام سرانجام دیے جاتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔

سیاہ، سبز اور لال کپڑے پہننا

محرم الحرام میں اہلسنت کے نزدیک تین طرح کے کپڑے پہننا ناجائز ہے اس لیے کہ یہ اہل بدعت کا شعار بنا ہے۔ حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: محرم میں سبز اور سیاہ کپڑے علامت سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے خصوصاً سیاہ کہ شعار رافضیاں لیام ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 23، ص: 757]

حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایام محرم میں یعنی پہلی محرم سے بارہویں تک تین قسم کے رنگ نہ پہنے جائیں، سیاہ کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے اور سبز کہ یہ مبتدعین یعنی تعزیہ داروں کا طریقہ ہے اور سُرخ کہ یہ خارجیوں کا طریقہ ہے، کہ وہ معاذ اللہ اظہارِ مسرت کے لیے سُرخ پہنتے ہیں۔ [بہار شریعت، حصہ: 16، ص: 419]

عَلم، تعزیہ اور مصنوعی کربلا

حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: تعزیہ رائجہ مجمع بدعات شنیعہ سئیہ ہے، اس کا بنانا دیکھنا جائر نہیں اور تعظیم و عقیدت سخت حرام و اشد بدعت ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 490]

دوسری جگہ مزید فرماتے ہیں: علم، تعزیہ، بیرق، مہندی، جس طرح رائج ہیں، بدعت ہیں اور بدعت سے شوکت اسلام نہیں ہوتی، تعزیہ کو حاجت روا یعنی ذریعہ حاجت روا سمجھنا جہالت پر جہالت ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 500]

آج کل اکثر گاؤں میں مصنوعی کربلا دیکھنے کو ملتا ہے جہاں لوگ مروجہ تعزیہ لے جا کر گڑھے میں پھینک دیتے ہیں، یہ تضیع مال اور ناجائز و گناہ ہے۔ حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہ ساختہ کربلا مجمع بدعات ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 23، ص: 100]

نوحہ اور مرثیہ خوانی کرنا

اِثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ۔ [صحيح مسلم، رقم الحديث: 131]

ترجمہ: لوگوں میں دو کفر “کی علامت” ہیں؛ کسی کے نسب پر طعنہ اور میت پر نوحہ۔

إِنَّ هَؤُلَاءِ النَّوَائِحَ يُجْعَلْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَفَّيْنِ فِي جَهَنَّمَ صَفٌّ عَنْ يَمِينِهِمْ وَصَفٌّ عَنْ يَسَارِهِمْ فَيَنْبَحْنَ عَلَى أَهْلِ النَّارِ كَمَا تَنْبَحُ الْكِلَابُ۔ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 484]

ترجمہ: یہ نوحہ کرنے والیاں قیامت کے دن جہنم میں دو صفیں کی جائیں گی دوزخیوں کے دائیں بائیں، وہاں ایسے بھونکیں گی جیسے کتیاں بھونکتی ہیں۔

نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْمَرَاثِي۔ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 506]

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا۔

حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: تحریم نوحہ “نوحہ کے حرام ہونے” میں احادیث متواترہ موجود ہیں۔ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 487]

مرثیے کے متعلق فرماتے ہیں: یہ رائج مرثیے معصیت ہیں۔ [فتاوی رضویہ، ج: 23، ص: 100]

مرثیہ، ماتم اور ڈھول بجانا

حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ڈھول، تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم، مصنوعی کربلا کو جانا، عورتوں کا تعزیے دیکھنے کو نکلنا، یہ سب باتیں حرام و گناہ و ناجائز و منع ہیں۔ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 499]

سینہ کوبی اور چھری مارنا

اکثر جگہوں پہ اس حرمت والے مہینے میں لوگ سینہ پیٹتے ہیں، زنجیر اور چھری سے مارتے ہیں، یہ ناجائز و حرام ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ۔ [صحيح البخاري، رقم الحديث: 1294]

ترجمہ: جس نے رخسار پیٹے اور گریبان چاک کیا اور اہل جاہلیت کی طرح پکارا، وہ ہم میں سے نہیں۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ماتم کرنا، چھاتی پیٹنا بھی حرام ہے، حسن حسن بتشدید کہنا تو جہالت ہی تھا مگر ماتم سخت منع ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 497]

چوک اور تعزیہ پر فاتحہ

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: فاتحہ دینا جائز ہے۔ روٹی، شیرینی، شربت چاہے جس چیز پر ہو، مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے ہونا جہالت ہے اور اس پر چڑھانے کی سبب تبرک سمجھنا حماقت ہے۔ ہاں تعزیہ سے جدا جو خالص سچی نیت سے حضرات شہدائے کرام رضی اللہ عنہم کی نیاز ہو وہ ضرور تبرک ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 499]

امام حسین کے نام پر فقیر بنانا

امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر بچوں کو فقیر بنانا اور منت ماننا کہ اگر ہمارا بچہ زندہ رہا تو اس کو امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر فقیر بنائیں گے، یہ ممنوع ہے۔

حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: فقیر بنا کر بلا ضرورت و مجبوری بھیک مانگنا حرام اور ایسوں کو دینا بھی حرام، اس لیے کہ یہ گناہ کے کام پر دوسرے کی امداد کرنا ہے اور وہ منت ماننی کی دس برس تک ایسا کریں گے، سب مہمل و ممنوع ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 495]

خلاصہ کلام بزبان صدر الشریعہ علیہ الرحمہ

صدر الشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے خلاصہ کلام کے طور پر ساری چیزیں واضح کر دیں، فرماتے ہیں تعزیہ داری کہ واقعات کربلا کے سلسلہ میں طرح طرح کے ڈھانچے بناتے اور ان کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضۂ پاک کی شبیہ کہتے ہیں، کہیں تخت بنائے جاتے ہیں، کہیں ضریح بنتی ہے “ایک قسم کا تعزیہ جو گنبد نما ہوتا ہے” اور علم اور شدے “جھنڈے یا نشان جو محرم میں شہدائے کربلا کی یاد میں تعزیوں کے ساتھ نکالے جاتے ہیں” نکالے جاتے ہیں، ڈھول تاشے اور قسم قسم کے باجے بجائے جاتے ہیں، تعزیوں کا بہت دھوم دھام سے گشت ہوتا ہے، آگے پیچھے ہونے میں جاہلیت کے سے جھگڑے ہوتے ہیں، کبھی درخت کی شاخیں کاٹی جاتی ہیں، کہیں چبوترے کھدوائے جاتے ہیں، تعزیوں سے منتیں مانی جاتی ہیں، سونے چاندی کے عَلَم چڑھائے جاتے ہیں، ہار پھول ناریل چڑھاتے ہیں، وہاں جوتے پہن کر جانے کو گناہ جانتے ہیں بلکہ اس شدت سے منع کرتے ہیں کہ گناہ پر بھی ایسی ممانعت نہیں کرتے، چھتری لگانے کو بہت برا جانتے ہیں۔ تعزیوں کے اندر دو مصنوعی قبریں بناتے ہیں، ایک پر سبز غلاف اور دوسری پر سرخ غلاف ڈالتے ہیں، سبز غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی قبر اور سرخ غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی قبر یا شبیہ قبر بتاتے ہیں اور وہاں شربت مالیدہ وغیرہ پر فاتحہ دلواتے ہیں۔ یہ تصور کر کے کہ حضرت امام عالی مقام کے روضہ اور مواجہۂ اقدس میں فاتحہ دلا رہے ہیں پھر یہ تعزیے دسویں تاریخ کو مصنوعی کربلا میں لے جا کر دفن کرتے ہیں گویا یہ جنازہ تھا جسے دفن کر آئے، پھر تیجہ، دسواں، چالیسواں سب کچھ کیا جاتا ہے اور ہر ایک خرافات پر مشتمل ہوتا ہے۔

حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کی مہندی نکالتے ہیں گویا ان کی شادی ہو رہی ہے اور مہندی رچائی جائے گی اور اسی تعزیہ داری کے سلسلہ میں کوئی پیک “قاصد، پیغام رساں” بنتا ہے جس کی کمر سے گھنگرو بندھے ہوتے ہیں گویا یہ حضرت امام عالی مقام کا قاصد اور ہرکارہ ہے جو یہاں سے خط لے کر ابن زیاد یا یزید کے پاس جائے گا اور وہ ہرکاروں کی طرح بھاگا پھرتا ہے۔

کسی بچہ کو فقیر بنایا جاتا ہے اس کے گلے میں جھولی ڈالتے اور گھر گھر اس سے بھیک منگواتے ہیں، کوئی سقہ “پانی بھر کر لانے والا” بنایا جاتا ہے، چھوٹی سی مشک اس کے کندھے سے لٹکتی ہے گویا یہ دریائے فرات سے پانی بھر کر لائے گا، کسی علَم پر مشک لٹکتی ہے اور اس میں تیر لگا ہوتا ہے، گویا یہ حضرت عباس علَم دار ہیں کہ فُرات سے پانی لا رہے ہیں اور یزیدیوں نے مشک کو تیر سے چھید دیا ہے، اسی قسم کی بہت سی باتیں کی جاتی ہیں یہ سب لغو و خرافات ہیں ان سے ہرگز سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ خوش نہیں، یہ تم خود غور کرو کہ انہوں نے اِحیائے دین و سنت کے لیے یہ زبردست قربانیاں کیں اور تم نے معاذ اللہ اس کو بدعات کا ذریعہ بنا لیا۔

بعض جگہ اسی تعزیہ داری کے سلسلہ میں براق بنایا جاتا ہے جو عجب قسم کا مجسمہ ہوتا ہے کہ کچھ حصہ انسانی شکل کا ہوتا ہے اور کچھ حصہ جانور کا سا۔ شاید یہ حضرت امام عالی مقام کی سواری کے لیے ایک جانور ہوگا۔ کہیں دلدل بنتا ہے، کہیں بڑی بڑی قبریں بنتی ہیں، بعض جگہ آدمی ریچھ، بندر، لنگور “ایک قسم کا بندر جس کا منہ کالا اور دُم لمبی ہوتی ہے، یہ عام بندر سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے” بنتے ہیں اور کودتے پھرتے ہیں جن کو اسلام تو اسلام انسانی تہذیب بھی جائز نہیں رکھتی ایسی بری حرکت، اسلام ہرگز جائز نہیں رکھتا۔ افسوس کہ محبت اہلِ بیت کرام کا دعویٰ اور ایسی بے جا حرکتیں، یہ واقعہ تمہارے لیے نصیحت تھا اور تم نے اس کو کھیل تماشہ بنا لیا۔

اسی سلسلے میں نوحہ و ماتم بھی ہوتا ہے اور سینہ کوبی ہوتی ہے، اتنے زور زور سے سینہ کوٹتے ہیں کہ ورم ہو جاتا ہے، سینہ سرخ ہو جاتا ہے بلکہ بعض جگہ زنجیروں اور چھریوں سے ماتم کرتے ہیں کہ سینے سے خون بہنے لگتا ہے۔ تعزیوں کے پاس مرثیہ “وہ نظم جس میں شہدائے کربلا کے مصائب اور شہادت کا ذکر ہو” پڑھا جاتا ہے اور تعزیہ جب گشت کو نکلتا ہے اس وقت بھی اس کے آگے مرثیہ پڑھا جاتا ہے، مرثیہ میں غلط واقعات نظم کیے جاتے ہیں، اہل بیتِ کرام کی بے حرمتی اور بے صبری اور جزع فزع کا ذکر کیا جاتا ہے اور چونکہ اکثر مرثیہ رافضیوں ہی کے ہیں، بعض میں تَبَرَّا بھی ہوتا ہے مگر اس رو میں سنّی بھی اسے بے تکلف پڑھ جاتے ہیں اور انہیں اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں، یہ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں۔

اظہارِ غم کے لیے سر کے بال بکھیرتے ہیں، کپڑے پھاڑتے اور سر پر خاک ڈالتے اور بھوسا اڑاتے ہیں، یہ بھی ناجائز اور جاہلیت کے کام ہیں، ان سے بچنا نہایت ضروری ہے، احادیث میں ان کی سخت ممانعت آئی ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے امور سے پرہیز کریں اور ایسے کام کریں جن سے اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوں کہ یہی نجات کا راستہ ہے۔

تعزیوں اور علم کے ساتھ بعض لوگ لنگر لٹاتے ہیں یعنی روٹیاں یا بسکٹ یا اور کوئی چیز اونچی جگہ سے پھینکتے ہیں، یہ ناجائز ہے، کہ رزق کی سخت بے حرمتی ہوتی ہے، یہ چیزیں کبھی نالیوں میں بھی گرتی ہیں اور اکثر لوٹنے والوں کے پاؤں کے نیچے بھی آتی ہیں اور بہت کچھ کچل کر ضائع ہوتی ہیں۔ اگر یہ چیزیں انسانیت کے طریق پر فقرا کو تقسیم کی جائیں تو بے حرمتی بھی نہ ہو اور جن کو دیا جائے انہیں فائدہ بھی پہنچے، مگر وہ لوگ اس طرح لٹانے ہی کو اپنی نیک نامی تصور کرتے ہیں۔

اللہ رب العزت ہمیں اور آپ کو ان ساری باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور محبتِ صحابہ و اہل بیت علیہم الرضوان کے نام پر مرنا جینا ہماری مقدر کرے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!