Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

محرم میں کیا صحیح اور کیا غلط؟ (قسط اول) | محمد سمیر احمد عطاری

محرم میں کیا صحیح اور کیا غلط؟ (قسط: اول)
عنوان: محرم میں کیا صحیح اور کیا غلط؟ (قسط: اول)
تحریر: محمد سمیر احمد عطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

جب محرم الحرام کا مہینہ تشریف لاتا ہے، تو اہل ایمان کے دل خوشی سے جھوم جاتے ہیں، محبِ صحابہ و اہل بیت علیہم الرضوان ہر طرف خوشی منا رہے ہوتے ہیں، ہر طرف خوشیوں کا ماحول ہوتا ہے، شعراء حضرات اپنے خوبصورت آواز کے ذریعے اہل حق کے لیے باعثِ مسرت بن رہے ہوتے ہیں، تو کہیں مقرر حضرات اپنے خطاب کے ذریعے اہل ایمان کو فضائلِ محرم الحرام سنا رہے ہوتے ہیں، تو کہیں مدرس حضرات اپنے شاگردوں کو شانِ صحابہ و اہل بیت بیان کر رہے ہوتے ہیں، بچوں بچوں کی زبان پر نعرۂ حسنین کریمین رواں ہو رہا ہوتا ہے، محرم الحرام شروع ہوتے ہی گھر گھر میں قرآن خوانی، فاتحہ و نیاز ہو رہی ہوتی ہے، بعض لوگ تو پورے مہینے غریبوں کو کھانا کھلا رہے ہوتے ہیں، الغرض جن سے جو ہو سکے نیکیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

اور بعض وہ جاہل طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں کہ محرم الحرام کا مہینہ تشریف لانے سے پہلے ہی گناہوں کا بازار گرم کر رہے ہوتے ہیں، لایعنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہوتے ہیں، کہیں ڈھول تاشے بازی کر رہے ہوتے ہیں، تو کہیں ماتم و نوحہ کر رہے ہوتے ہیں، تو کہیں تو دس دن تک سوگ منا رہے ہوتے ہیں، الغرض طرح طرح کے خرافات و غیر شرعی رسومات کو انجام دے رہے ہوتے ہیں، اور وہ بڑے اہتمام کے ساتھ ان رسومات کی ادائیگی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارا اس بیان کا موضوع اسلامی سال کے پہلے بابرکت اور حرمت والے مہینے محرم الحرام میں پائی جانے والی خرافات و بدعات ہیں، جن کے سبب اس ماہِ مقدس کی نہ صرف بے حرمتی ہوتی ہے بلکہ اسلامی اقدار کا کھل کر مذاق بھی اڑایا جاتا ہے، نیز ہمارے شہدائے اسلام بالخصوص شہدائے کربلا کی یاد منانے کی آڑ میں ایسے غیر شرعی کام سرانجام دیے جاتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔

محرم الحرام میں کیا جائز؟
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اسلام میں کسی بھی شخصیت کی یاد منانا، ان کے نام پر ایصالِ ثواب کرنا، ان کے نام سے حاجت مندوں کی حاجت دور کرنا، ان کے نام سے صدقہ و خیرات کرنا، الغرض ان کے نام سے ہر وہ کام کرنا جائز ہے جس کی اجازت شریعت میں ہو۔

ذکرِ اہل بیت علیہم الرضوان:
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: "جو مجلسِ ذکرِ شریف حضرت سیدنا امام حسین و اہل بیتِ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ہو جس میں روایاتِ صحیحہ معتبرہ سے ان کے فضائل و مناقب و مدارج بیان کیے جائیں اور ماتم و تجدیدِ غم وغیرہ امورِ مخالفۂ شرع سے یکسر پاک ہو، فی نفسہٖ حسن و محمود ہے۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 624]

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کے متعلق فرماتے ہیں: "عشرۂ محرم میں مجلس منعقد کرنا اور واقعاتِ کربلا بیان کرنا جائز ہے جبکہ روایاتِ صحیحہ بیان کی جائیں، ان واقعات میں صبر و تحمل، رضا و تسلیم کا بہت مکمل درس ہے اور پابندیٔ احکامِ شریعت و اتباعِ سنت کا زبردست عملی ثبوت ہے کہ دینِ حق کی حفاظت میں تمام اعزہ و اقربا و رفقا اور خود اپنے کو راہِ خدا میں قربان کیا اور جزع و فزع کا نام بھی نہ آنے دیا، مگر اس مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا بھی ذکرِ خیر ہو جانا چاہیے تاکہ اہل سنت اور شیعوں کی مجالس میں فرق و امتیاز رہے۔" [بہارِ شریعت، حصہ 16، صفحہ 649، مکتبۃ المدینہ]

شربت کی سبیل لگانا:
پانی یا شربت ہر مسلمان کو پلا سکتے ہیں اور میلے میں سبیل نہ لگائی جائے، نہ اس وجہ سے کہ سبیل کی مخالفت ہے بلکہ میلے میں شرکت کی وجہ سے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 510، رضا فاؤنڈیشن، لاہور]

پانی یا شربت کی سبیل لگانا جبکہ بہ نیتِ محمود اور خالصاً لوجہ اللہ ثواب رسانیِ ارواحِ طیبہ ائمہ اطہار مقصود ہو، بلاشبہ بہتر و مستحب و کارِ ثواب ہے۔ مگر لنگر لٹانا جسے کہتے ہیں لوگ چھتوں پر بیٹھ کر روٹیاں پھینکتے ہیں، کچھ ہاتھوں میں جاتی ہیں کچھ زمین پر گرتی ہیں، کچھ پاؤں کے نیچے آتی ہیں، یہ منع ہے کہ اس میں رزقِ الٰہی کی بے تعظیمی ہے۔ [ایضاً، صفحہ 521]

نیاز کس چیز پر دلوائیں؟
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس کے متعلق فرماتے ہیں: "حضرت شہزادۂ گلگوں قبا امام حسین شہیدِ کربلا و دیگر شہدائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نامِ پاک پر جس قدر ہو سکے تصدق و ایصالِ ثواب کریں بلکہ ان روزوں وغیرہا تمام حسنات کا ثواب اسی جنابِ گردوں قباب کی نذر کریں، گرمیوں میں ان کے نام پر شربت پلائیں، جاڑے میں چائے پلائیں اور نیک نیت و پاک مال سے شربت، چائے، کھانے کو جتنا چاہیں لذیذ و بیش قیمت کریں، سب خیر ہے؛ کھچڑا، پلاؤ، فرنی جو چاہیں اور بے دقت میسر ہو برادری میں بانٹیں، محتاجوں کو کھلائیں، اپنے گھر والوں کو کھلائیں، نیک نیت سے، سب ثواب ہے۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 495]

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: "ماہِ محرم میں دس دنوں تک خصوصاً دسویں کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہدائے کربلا کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں، کوئی شربت پر فاتحہ دلاتا ہے، کوئی شیر برنج (چاولوں کی کھیر) پر، کوئی مٹھائی پر، کوئی روٹی گوشت پر, جس پر چاہو فاتحہ دلاؤ جائز ہے، ان کو جس طرح ایصالِ ثواب کرو مندوب ہے۔ بہت سے پانی اور شربت کی سبیل لگا دیتے ہیں، جاڑوں (سردیوں) میں چائے پلاتے ہیں، کوئی کھچڑا پکواتا ہے، جو کارِ خیر کرو اور ثواب پہنچاؤ ہو سکتا ہے، ان سب کو ناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ بعض جاہلوں میں مشہور ہے کہ محرم میں سوائے شہدائے کربلا کے دوسروں کی فاتحہ نہ دلائی جائے، ان کا یہ خیال غلط ہے، جس طرح دوسرے دنوں میں سب کی فاتحہ ہو سکتی ہے، ان دنوں میں بھی ہو سکتی ہے۔" [بہارِ شریعت، حصہ 16، صفحہ 647، مکتبۃ المدینہ]

محرم الحرام میں شادی کرنا:
محرم الحرام میں شادی بیاہ و دیگر تقریبات کو ممنوع اور باعثِ نحوست سمجھنا غلط ہے، حالانکہ بعض روایات کے مطابق حضرت علی اور سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا نکاح محرم الحرام میں ہی ہوا تھا، بعض لوگ محرم الحرام میں شادی کرنے کو برا تصور کرتے ہیں۔ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ہوئی، اگرچہ اس قول کے علاوہ دیگر اقوال بھی ملتے ہیں۔ [تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، جلد 3، صفحہ 128، دار الفکر]

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا نکاح سنہ 2 ہجری میں ہوا؛ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ مہینہ کون سا تھا، تو اس میں تین طرح کے اقوال ملتے ہیں: محرم الحرام، صفر المظفر اور ذوالحجہ! ابن عساکر اور طبری رحمہما اللہ نے محرم الحرام کے مہینے میں نکاح ہونے کی روایت کو ترجیح دی ہے۔ ماہِ محرم الحرام میں شادی وغیرہ کرنے کو نامبارک اور ناجائز سمجھنا سخت گناہ اور اہلِ سنت و جماعت کے عقیدے کے خلاف ہے۔

امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے ایک سوال ہوا کہ اہلِ سنت جماعت عشرہِ محرم الحرام کو نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ بعدِ دفنِ تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔ (2) ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے ہیں۔ (3) ماہِ محرم میں بیاہ شادی نہیں کرتے ہیں۔ (4) ان ایام میں سوائے امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کے کسی کی نیاز فاتحہ نہیں دلاتے ہیں، آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

ارشاد فرمایا: "پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے اور چوتھی بات جہالت ہے، ہر مہینہ، هر تاریخ میں ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہو سکتی ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 11، صفحہ 266]

ایک اور مقام پہ سوال ہوا کہ ماہِ محرم اور خصوصاً 9 تاریخ ماہِ مذکورہ کی شب میں نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: "جائز ہے۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 194]

خداوندِ متعال ہمیں قرآن و حدیث کو صحیح معنوں میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور دونوں جہان میں بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!