Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بدعہد، غدار، خائن اور دھوکے باز کی مذمت ( قسط:سوم) | امام احمد بن حجر مکی

بدعہد، غدار، خائن اور دھوکے باز کی مذمت (قسط: سوم)
عنوان: بدعہد، غدار، خائن اور دھوکے باز کی مذمت (قسط: سوم)
تحریر: شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

78۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”بہترین مؤمن قناعت پسند ہوتا ہے جبکہ بدترین مؤمن لالچی ہوتا ہے۔“ [فردوس الاخبار للدیلمی، باب الخاء، الحدیث: 2707، ج 1، ص 365]

79۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”بنی اسرائیل میں ایک بکری کے بچے کو اس کی ماں دودھ پلایا کرتی اور اسے سیراب کر دیتی تھی، پھر اس کی ماں مر گئی تو ریوڑ کی دوسری بکریاں اسے دودھ پلاتیں مگر وہ شکم سیر نہ ہوتا، تو اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل کی طرف وحی بھیجی کہ ’اس کی مثال اس قوم کی سی ہے جو تمہارے بعد آئے گی، ان میں سے ایک شخص کو اتنا مال دیا جائے گا جو ایک اُمّت اور قبیلے کے لئے کافی ہوگا پھر بھی وہ شکم سیر نہ ہو گا۔‘“ [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحدیث: 7126، ج 3، ص 60]

80۔ دو جہاں کے تاجوَر، سلطانِ بحر و بَر صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”میری اُمّت کے بدتر لوگوں میں سے سب سے پہلے جہنم کی طرف ہانکے جانے والے لوگ وہ سردار ہوں گے جو کھاتے ہیں تو شکم سیر نہیں ہوتے اور جب جمع کرتے ہیں تو غنی نہیں ہوتے۔“ [المرجع السابق، الحدیث: 7132، ص 161]

81۔ سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”جو اپنے رزق پر راضی نہ ہوا اور جو اپنی بیماری کی خبر عام کرنے لگے اور اس پر صبر نہ کرے اس کا کوئی عمل اللہ عزوجل کی طرف بلند نہ ہوگا اور وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔“ [حلیۃ الاولیاء، یوسف بن اسباط، الحدیث: 12162، ج 8، ص 268]

82۔ شفیعِ روزِ شمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگار عزوجل صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”جس کا مال کم ہو، اہلِ وعیال زیادہ ہوں، نماز اچھی ہو اور وہ مسلمانوں کی غیبت بھی نہ کرے تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو میرے ساتھ اس طرح ہوگا جس طرح یہ دو انگلیاں ہیں۔‘‘ [مسند ابی یعلی الموصلی، مسند ابی سعید خدری، الحدیث: 986، ج 1، ص 428]

83۔ حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوبِ ربِّ اکبر عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! اگر تم (آخرت میں) میرے ساتھ ملنا چاہتی ہو تو تمہارے لئے دنیا سے اتنا ہی کافی ہے جتنا ایک مسافر کا توشہ ہوتا ہے، اغنیاء کے ساتھ بیٹھنے سے بچتی رہو اور کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھو جب تک اس میں پیوند نہ لگا لو۔‘‘ [جامع الترمذی، ابواب اللباس، باب ماجاء فی ترقیع الثوب، الحدیث: 1780، ج 1، ص 1833]

84۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اللہ عزوجل فرماتا ہے: ’’میرے نزدیک اپنے بندے کی سب سے پسندیدہ عبادت لوگوں سے خیر خواہی کرنا ہے۔‘‘ [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحدیث: 17197، ج 3، ص 166]

85۔ نبیِ مکرم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’بے شک دین خیر خواہی کا نام ہے، بے شک دین خیر خواہی ہے، بے شک دین خیر خواہی کو کہتے ہیں۔‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی ’’یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! کس کے ساتھ خیر خواہی؟‘‘ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزوجل، اس کی کتاب، اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم، ائمۂ مسلمین اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی۔‘‘ [سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی النصیحۃ، الحدیث: 4944، ص 585]

86۔ رسولِ اکرم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو قیامت کے دن پانچ چیزیں لے کر آئے گا اسے جنت سے نہ روکا جائے گا: (1) اللہ عزوجل (2) اس کے دین (3) اس کی کتاب (4) اس کے رسول اور (5) مسلمانوں کی جماعت کی خیر خواہی۔‘‘ [کنز العمال، قسم الاقوال، کتاب الاخلاق، الحدیث: 17199، ج 3، ص 166]

87۔ حضورِ پاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’مؤمن اس وقت تک اپنے دین کے حصار میں رہتا ہے جب تک اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی چاہتا ہے اور جب اس کی خیر خواہی سے الگ ہو جاتا ہے تو اس سے توفیق کی نعمت چھین لی جاتی ہے۔“ [فردوس الاخبار للدیلمی، باب اللام الف، الحدیث: 7722، ج 2، ص 429]

88۔ اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو خاندانی غیرت کے جھنڈے تلے عصبیت (یعنی اقرباء) کی مدد کرتے ہوئے مارا جائے اور وہ عصبیت کے لئے غضب غصہ رکھتا ہو تو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہے۔“ [صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ...... الخ، الحدیث: 4792، ص 1010، یغضب بدلہ ”یدعو“]

89۔ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن و جمال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”جو عصبیت (یعنی اقرباء کی جماعت) کی طرف بلائے وہ ہم میں سے نہیں، جو عصبیت کی وجہ سے لڑے وہ بھی ہم میں سے نہیں اور جو عصبیت پر مرے وہ بھی ہم میں سے نہیں۔“ [سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی العصبية، الحدیث: 5121، ص 1598]

90۔ دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جود و نوال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”لوگوں میں سب سے برا اور بدتر ٹھکانا اس شخص کا ہے جو دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کر دے۔“ ایک اور روایت میں ہے: ”سب سے زیادہ ندامت اسی شخص کو ہو گی۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”وہ قیامت کے دن مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بدتر شخص ہو گا۔“ [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب العصبية، الحدیث: 7656، 57، 58، ج 3، ص 203، ”اشر“ بدلہ ”اشد“]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!