| عنوان: | بدعہد، غدار، خائن اور دھوکے باز کی مذمت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
59۔ سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جس نے کسی مسلمان کے ساتھ بددیانتی کی یا اسے نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔" [جامع الاحادیث للسیوطی، قسم الاقوال، الحدیث: 18096، ج 5، ص 190]
60۔ شفیعِ روزِ شمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار ﷺ نے ارشاد فرمایا: "دغاباز، بخیل اور احسان جتلانے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔" [جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ما جاء فی البخل، الحدیث: 1963، ص 1849]
61۔ حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوبِ ربِّ اکبر عزوجل و ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس نے کسی مسلمان کے اہل خانہ میں بددیانتی کی اور نقصان پہنچایا وہ ہم میں سے نہیں۔" [المطالب العالیہ، باب تفسیر الکبائر، الحدیث: 2947، ج 7، ص 444، "ضارہ" بدلہ "خادعھم"]
62۔ نبیِ کریم، رؤف و رحیم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جس نے کسی خادم کو اس کے مالک کی سرکشی پر ابھارا اور عورت کے تعلقات اس کے شوہر سے خراب کئے وہ ہم میں سے نہیں۔" [المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرہ، الحدیث: 9168، ج 3، ص 356]
63۔ نبیِ مکرم، نُورِ مُجَسَّم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جس نے کسی غلام کو اس کے آقا سے بگاڑا وہ ہم میں سے نہیں۔" [کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحدیث: 7826، ج 3، ص 219]
64۔ رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’خواہشاتِ نفسانی سے بچتے رہو کیونکہ یہ اندھا اور بہرہ کر دیتی ہیں۔‘‘ [جامع الاحادیث للسیوطی، قسم الاقوال، الحدیث: 9319، ج 3، ص 391]
65۔ حضورِ پاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزوجل کے نزدیک آسمان کے نیچے پیروی کی جانے والی نفسانی خواہش سے بڑھ کر پوجا جانے والا کوئی خدا نہیں۔‘‘ [المعجم الکبیر، الحدیث: 5027، ج 8، ص 103]
66۔ اللہ کے محبوب، دانائے عیوب، منزہ عن العیوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی اپنے کسی گناہ کا عذر پیش کرے اور وہ اس کا عذر قبول نہ کرے تو کل قیامت کے دن حوضِ کوثر پر نہ آ سکے گا۔‘‘ [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب قبول المعذرۃ، الحدیث: 2028، ج 3، ص 153]
67۔ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حسن و جمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو کسی مستحق یا غیر مستحق کا عذر قبول نہیں کرتا وہ قیامت کے دن حوضِ کوثر پر نہ آ سکے گا۔‘‘ [المرجع السابق، الحدیث: 2029]
68۔ دافعِ رنج و ملال، صاحبِ جود و نوال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’چھ چیزیں عمل کو ضائع کر دیتی ہیں: مخلوق کے عیوب کی ٹوہ میں لگے رہنا، دل کی سختی، دنیا کی محبت، حیا کی کمی، لمبی امید، اور حد سے زیادہ ظلم۔‘‘ [کنز العمال، کتاب المواعظ، قسم الاقوال، باب الفصل السادس، الحدیث: 44016، ج 16، ص 36]
69۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’قیامت کے دن 8 قسم کے افراد اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہوں گے: جھوٹ بولنے والے، تکبر کرنے والے، وہ لوگ جو اپنے سینوں میں اپنے بھائیوں سے بغض چھپا کر رکھتے ہیں جب وہ ان کے پاس آتے ہیں تو یہ ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں، وہ لوگ کہ جب انہیں اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو ٹال مٹول کرتے ہیں اور جب شیطانی کاموں کی طرف بلایا جاتا ہے تو اس میں جلدی کرتے ہیں، وہ لوگ جو کسی دنیوی خواہش کی تکمیل پر قدرت پاتے ہیں تو قسمیں اٹھا کر اسے جائز سمجھنے لگتے ہیں اگرچہ وہ ان کے لئے جائز نہ بھی ہو، چغلی کھانے والے، دوستوں میں جدائی ڈالنے والے، اور نیک لوگوں کے لئے گناہ میں مبتلا ہونے کی تمنا کرنے والے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ عزوجل ناپسند فرماتا ہے۔‘‘ [المرجع السابق، الحدیث: 44037، ج 16، ص 39]
70۔ خاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن ﷺ نے ارشاد فرمایا: "کیا میں تمہیں سب سے بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ وہ شخص ہے جو خود تو کھائے مگر اپنے مہمان کو کھانے سے روک دے، تنہا سفر کرے اور اپنے غلام کو مارے۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ وہ ہے جو لوگوں سے بغض رکھے اور لوگ بھی اس سے بغض رکھیں۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ وہ ہے جس سے شر کا خوف تو رکھا جائے مگر بھلائی کی اُمید نہ رکھی جائے۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ وہ ہے جو دوسرے کی دنیا کے عوض اپنی آخرت بیچ ڈالے۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ وہ ہے جو دین کے بدلے دنیا کھائے۔" [المرجع السابق، الفصل الثامن، الحدیث: 44038، ج 16، ص 20]
71۔ سَیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "اے ابنِ آدم! تیرے پاس کفایت کے مطابق مال موجود ہے پھر بھی تو ایسی چیز مانگتا ہے جو تجھے سرکش بنا دے۔ اے ابنِ آدم! تو قلیل پر قناعت کرتا ہے نہ کثیر سے شکم سیر ہوتا ہے، اے ابنِ آدم! جب تو اس حالت میں صبح کرے کہ تیرا جسم تندرست ہو، تیرا دل بے خوف ہو اور تیرے پاس اس ایک دن کی خوراک بھی موجود ہو تو اب دنیا پر خاک پڑے (یعنی پھر تجھے دنیا کی کسی چیز کی تمنا نہیں ہونی چاہئے)۔" [شُعَبُ الایمان، باب فی الزہد...... الخ، الحدیث: 10360، ج 7، ص 292]
72۔ شفیعُ المُذنبِین، اَنِیسُ الغَرِیبِین، سِراجُ السَّالِکِین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ”جب اللہ عزوجل کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اپنی تقسیم پر راضی کر دیتا ہے اور اس کے لئے اس کے حصہ میں برکت ڈال دیتا ہے۔“ [فردوس الاخبار للدیلمی، باب الالف، الحدیث: 947، ج 1، ص 174]
73۔ محبوبِ ربِّ العٰلمین، جنابِ صادِق وامِین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ”جب تم میں سے کوئی کسی ایسے شخص کو دیکھے جسے اس پر جسم اور مال میں فضیلت حاصل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے سے کمتر پر بھی نظر ڈال لے۔“ [شعب الایمان، باب فی تعدید نعم اللہ وشکرھا، الحدیث: 4454، ج 4، ص 137]
74۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبُوَّت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ”جب تم میں سے کوئی کسی ایسے شخص کو دیکھے جسے اس پر مال اور صورت میں فضیلت حاصل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے سے کمتر پر بھی نظر ڈال لے۔“ [صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب لینظر الی من ھو اسفل...... الخ، الحدیث: 6490، ص 544]
75۔ مَخْزَنِ جُود و سخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ”جب اللہ عزوجل کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے نفس کو غنا اور دل کو خوف سے بھر دیتا ہے اور جب کسی بندے سے برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے فقر کو اس کے سامنے کر دیتا ہے۔“ [فردوس الاخبار للدیلمی، باب الالف، الحدیث: 941، ج 1، ص 146]
76۔ محبوبِ رَبِّ العزت، محسنِ انسانیت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ”تم میں سے کسی کو اتنا ہی کافی ہے جس پر اس کا نفس قناعت کر لے، پھر وہ چار گز قبر کی طرف چلا جائے گا اور معاملہ تو آخرت ہی کی طرف لوٹے گا۔“ [جامع الاحادیث للسیوطی، قسم الاقوال، الحدیث: 8189، ج 3، ص 206، شبر بدلہ ”سبع]
77۔ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے میرا پسندیدہ ترین اور قریب ترین وہ ہو گا جو مجھے اسی حال میں ملے جس میں مجھ سے جدا ہوا تھا۔“ [کنز العمال، کتاب الفضائل، فضائل الصحابہ، الحدیث: 36658، ج 13، ص 15]
