| عنوان: | نزولِ قرآن کے مقاصد اور حکمتیں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ابوالنور راشد علی عطاری مدنی |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات، ہدایت کا سرچشمہ اور رحمت کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اس کتاب عظیم کے نزول کی حکمتوں، مقاصد اور اسباب کو بیان فرمایا ہے۔ کہیں ”نَزَّلَ“ اور ”اَنْزَلَ“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو کہیں ”اٰتَیْنٰا“ اور دیگر الفاظِ عطا کے ساتھ یہ مقاصد واضح کیے گئے ہیں۔ یہ مقاصد اتنے جامع اور ہمہ گیر ہیں کہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہیں۔ ذیل میں ہم قرآن کریم کی روشنی میں ان مقاصد اور حکمتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں:
ہدایت اور راہِ راست کی طرف رہنمائی
نزولِ قرآن کا سب سے بنیادی اور اہم مقصد قرآن کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں فرمایا:
﴿ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ۪ۛ فِيْهِ ۪ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲)﴾ [سورۃ البقرة: 2]
ترجمۂ کنزُالایمان: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو۔
اسی طرح سورۂ البقرہ میں ماہِ رمضان کے تذکرے کے ساتھ فرمایا:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ﴾ [سورۃ البقرة: 185]
ترجمۂ کنزُالایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں ۔
مزید سورۂ یونس میں ارشاد ہے:
﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)﴾ [سورۃ یونس: 57]
ترجمۂ کنزُالایمان: اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔
یہ آیاتِ کریمہ واضح کرتی ہیں کہ قرآن کا بنیادی مقصد انسانیت کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لانا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے سچائی کا طالب ہے لیکن شیطانی وساوس، نفسانی خواہشات اور ماحول کے منفی اثرات اسے راہِ راست سے بھٹکا دیتے ہیں۔ قرآن وہ نورِ ہدایت ہے جو ہر دور میں، ہر معاشرے میں اور ہر فرد کے لیے راہِ نجات متعین کرتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ معاشرے میں جب لوگ قرآن کی ہدایت سے دور ہو جاتے ہیں تو انتشار، بے راہ روی اور اخلاقی زوال جنم لیتا ہے، لیکن جب قرآن کی تعلیمات پر عمل ہوتا ہے تو معاشرہ امن، سکون اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
حق و باطل میں فرق اور فیصلہ
نزولِ قرآن کا ایک اہم مقصد قرآن کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب حق اور باطل میں فرق کرنے والی اور فیصلہ کن ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃُ الفرقان میں فرمایا:
﴿تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًاۙ(۱)﴾ [سورۃ الفرقان: 1]
ترجمۂ کنزُالایمان: بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو۔
قرآن کریم کو ”الفرقان“ کا نام اس لیے دیا گیا کہ یہ ہر معاملے میں حق اور باطل کے درمیان واضح خط کھینچتا ہے۔ یہ صرف عقائد میں ہی نہیں بلکہ اخلاقیات، معاشرتی معاملات، معاشی نظام، سیاسی امور اور زندگی کے ہر شعبے میں صحیح اور غلط کا معیار متعین کرتا ہے۔ آج کی دنیا میں جہاں نسبیت پسندی (Relativism) کا غلبہ ہے، وہاں قرآن واضح اور قطعی معیارات فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کو تاریکی میں بھٹکنے سے بچاتا ہے اور اسے یقین کی راہ دکھاتا ہے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کر کے معاشرہ ایک واضح اخلاقی ڈھانچے کا حامل بن جاتا ہے۔
مؤمنوں کے لیے بشارت اور خوشخبری
نزولِ قرآن کا ایک مقصد قرآن کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب ایمان لانے والوں کے لیے بشارت اور خوشخبری ہے۔
سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ(۹)﴾ [سورۃ الاسراء: 9]
ترجمۂ کنزُالایمان: بے شک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں کہ ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔
سورۃُ النحل میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا:
﴿وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠(۸۹)﴾ [سورۃ النحل: 89]
ترجمۂ کنزُالایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔
یہ آیات بتاتی ہیں کہ قرآن صرف ڈر سنانے کے لیے نہیں بلکہ ایمان والوں کو امید دلانے اور ان کے دلوں میں اطمینان پیدا کرنے کے لیے بھی نازل ہوا۔ مؤمن جب قرآن کی تلاوت کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اسے اللہ کی رضا، جنت کی نعمتوں اور ابدی کامیابی کی خوشخبری ملتی ہے۔ یہ بشارتیں انسان کے دل میں امید اور عزم پیدا کرتی ہیں۔ دنیا کی مشکلات اور آزمائشوں میں جب انسان تھک جاتا ہے تو قرآن کی یہ خوشخبریاں اسے تازہ دم کرتی ہیں۔ معاشرے میں جب مایوسی اور ناامیدی پھیلتی ہے تو قرآن کی یہ بشارتیں مؤمنوں کو مثبت سوچ اور عمل کی طرف راغب کرتی ہیں۔
کافروں کے لیے انتباہ اور تنبیہ
نزولِ قرآن کا ایک مقصد قرآن کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب منکرین اور کافروں کو خبردار کرنے اور انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرانے کے لیے نازل کی گئی۔
سورۂ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ(۲) اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ(۳)﴾ [سورۃ طه: 2-3]
ترجمۂ کنزُالایمان: اے محبوب ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ تم مشقت میں پڑو ہاں اس کو نصیحت جو ڈر رکھتا ہو۔
سورۂ حٰم السجدہ میں فرمایا:
﴿فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ(۱۳)﴾ [سورۃ فصلت: 13]
ترجمۂ کنزُالایمان: پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک کڑک سے جیسی کڑک عاد اور ثمود پر آئی تھی۔
سورۂ الفرقان میں بھی یہ مضمون ہے:
﴿تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًاۙ(۱)﴾ [سورۃ الفرقان: 1]
ترجمۂ کنزُالایمان: بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو۔
قرآن کا یہ انذاری پہلو انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ انسان کو اس کے انجام سے آگاہ کرتا ہے۔ جو لوگ اللہ کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں، اس کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور ظلم و فساد میں مبتلا رہتے ہیں، قرآن انہیں دنیا اور آخرت کے عذاب سے خبردار کرتا ہے۔ یہ تنبیہ رحمت ہی کا حصہ ہے کیونکہ اس سے انسان کو توبہ اور اصلاح کا موقع ملتا ہے۔ گزشتہ قوموں کے واقعات اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ موجودہ نسل عبرت حاصل کرے۔ معاشرے میں جب برائیاں عام ہو جاتی ہیں اور لوگ اخلاقی حدود کو پامال کرنے لگتے ہیں تو قرآن کی یہ تنبیہات انہیں احتساب کی طرف بلاتی ہیں۔ یہ ڈرانا محض خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انسان کو تباہی سے بچانے کی کوشش ہے۔
دلوں کی تسکین اور اطمینان
نزولِ قرآن کا ایک مقصد قرآن کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب مومنوں کے دلوں کو سکون اور اطمینان فراہم کرتی ہے۔
سورۂ رعد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)﴾ [سورۃ الرعد: 28]
ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
سورۂ یونس میں فرمایا:
﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)﴾ [سورۃ یونس: 57]
ترجمۂ کنزُالایمان: اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ قرآن دلوں کی دوا اور روحوں کی غذا ہے۔ جب انسان قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے معانی پر غور کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک خاص قسم کا سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے جو دنیا کی کسی دوسری چیز سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ آج کی دنیا میں جہاں ذہنی بیماریاں، ڈپریشن، بے چینی اور اضطراب عام ہیں، وہاں قرآن کا یہ روحانی علاج انتہائی مؤثر ہے۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
«اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَأْدُبَةُ اللهِ فَتَعَلَّمُوْا مِنْ مَأْدُبَتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ» [المعجم الكبير للطبراني: 8646، ج: 9، ص: 130]
”بیشک یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے، پس اس کے دسترخوان سے جتنا سیکھ سکو سیکھو۔“
معاشرے میں جب لوگ قرآن سے تعلق مضبوط کرتے ہیں تو ان میں صبر، شکر، توکل اور رضا جیسے صفات پیدا ہوتی ہیں جو زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔
