Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عربی عبارت کیسے درست ہو ؟

عربی عبارت کیسے درست ہو ؟
عنوان: عربی عبارت کیسے درست ہو ؟
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

قرآن کریم عربی زبان میں نازل کیا گیا تاکہ انسان اس کے معنی اور مفاہیم کو آسانی سے سمجھ سکے۔ عربی زبان تمام زبانوں سے زیادہ فصیح اور جامع ہے، اور اس زبان میں مہارت حاصل کرنا ہر طالب علم اور مدرس کے لیے ضروری ہے۔ علم دین کو درست طریقے سے سمجھنے اور سکھانے کے لیے عربی عبارت کی صحت اور اس کی نحوی و صرفی قواعد کے مطابق تفہیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ذیل میں عربی عبارت کو درست کرنے، صیغوں کی پہچان اور ترکیب کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے چند اہم علمی اور عملی اصول پیش کیے جا رہے ہیں:

﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾ [سورۃ یوسف: 2]

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو۔

تفسیر صراط الجنان: اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو عربی زبان میں نازل فرمایا کیونکہ عربی زبان سب زبانوں سے زیادہ فصیح ہے اور جنت میں جنتیوں کی زبان بھی عربی ہو گی اور اسے عربی میں نازل کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ تم اس کے معنی سمجھ کر ان میں غوروفکر کرو اور یہ بھی جان لو کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

﴿رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ [سورۃ طہ: 114]

اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔

«مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» [صحيح البخاري: 71]

اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔

عبارت درست ایسے کریں

جو طالب علم عبارت تیار کرتے وقت ان پانچ باتوں کا خیال رکھے گا، ان شاء اللہ عزوجل وہ ایک اچھا مدرس بنے گا:

  1. درست عبارت۔

  2. عبارت کا اعراب کے مطابق ترجمہ۔

  3. عبارت میں استعمال ہونے والے صیغوں کی صرفی تحقیق۔

  4. وجوہ اعراب۔

  5. اسی عبارت اور ترجمہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آسان خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کرنا۔

صیغوں کی پہچان اور اس میں مہارت کیسے ملے؟

اسی کے متعلق چند باتیں عرض کرتا ہوں۔ جو صیغہ آپ کے پاس ہے، اس کی تعیین کریں کہ یہ صیغہ واحد کا ہے یا تثنیہ کا ہے یا جمع کا ہے؟ پھر اس کے بعد یہ دیکھیں کہ یہ صیغہ فعل ہے یا اسم؟ اگر فعل ہے تو کون سا فعل ہے؟ اگر اسم ہے تو اسماء میں سے کون سا اسم ہے؟ اس کے بعد یہ دیکھیں کہ یہ صیغہ کس باب سے ہے۔ (اس کے لیے آپ کو تمام ابواب کی علامات کا یاد ہونا بے حد ضروری ہے۔) آیا کہ یہ صیغہ ثلاثی مجرد کا ہے یا ثلاثی مزید فیہ کا؟ وعلی ہذا القیاس۔ اب آپ کے لیے اصلی حروف نکالنا اور تعلیل کرنا بے حد آسان ہو جائے گا۔ مذکورہ بالا طریقہ اختیار کرتے ہوئے آپ صیغوں کی تکرار کریں۔ ان شاء اللہ عزوجل چند دنوں میں آپ کا ذہن کھل جائے گا اور صیغوں کی پہچان کرنا آپ کے لیے مشکل نہ رہے گا۔

ترکیبوں کی کمزوری کیسے دور ہو؟

علم النحو کی ایک شاخ ترکیب بھی ہے۔ نحو کے طالب علم کو عبارت کی ترکیب بھی کرائی جاتی ہے اور یہ ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے۔ اگر کوئی ترکیبوں میں کمزور ہے تو عبارت کا سمجھنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے اور یہ طالب علم تعیین نہیں کر پاتا کہ یہ کلمہ اس مقام پر کیا بن رہا ہے۔ پھر ایسا طالب علم کچھ عرصے کے بعد احساسِ کمتری اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اگر یہ طالب علم فقط کچھ عرصے کے لیے صحیح انداز سے ترکیبوں پر محنت کرتا تو اس کے لیے ترکیبیں کرنا آسان ہو جاتیں۔ اگر کوئی طالب علم ترکیبوں میں عبور حاصل کرنا چاہ رہا ہے تو ان چھ باتوں پر عمل کر لے۔ ان شاء اللہ عزوجل آپ کی ترکیبوں کی کمزوری دور ہو جائے گی۔

  1. صرف و نحو کے قواعد کا سمجھ لینا اور یاد ہونا بے حد ضروری ہے ۔

  2. صیغوں کی صرفی تحقیق مع تعلیل کے آنا ضروری ہے ۔

  3. اس کے بعد کسی کتاب کے ابتدائی تین یا چار لفظوں پر آپ خود اعراب لگائیں۔ جو اعراب دیا اس کی وجہ بھی آنی چاہیے ۔

  4. پھر کسی کے ساتھ اسی تیار شدہ عبارت کی تکرار کر لیں ۔

  5. مستقل مزاجی کے ساتھ عمل کریں۔ ابتداً تین لفظوں پر، پھر پانچ پر، وعلی ہذا القیاس کرتے کرتے ایک دن ایسا آئے گا کہ آپ ترکیبوں میں مضبوط ہو جائیں گے ۔

  6. عند اللہ دعا اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم پر درودِ پاک پڑھتے رہنا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عربی عبارت کو صحیح پڑھنے، درست سمجھنے، اور قواعد کے مطابق صحیح لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری علمی محنت کو قبول فرمائے، غلطیوں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں علمِ نافع کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!