| عنوان: | سوانح حیات اعلیٰ حضرت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
تاریخ ولادت
آپ کی ولادت باسعادت بروز ہفتہ، 10 شوال المکرم 1272ھ مطابق 14 جون 1856ء بوقت ظہر، محلہ جسولی بریلی شریف (انڈیا) میں ہوئی۔ خود امام اہلِ سنت نے اپنی ولادت کا سن ہجری (1272ھ) اس آیت مبارکہ سے اخذ کیا ہے:
أُوْلٰئِكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ [پ: 28، سورۃ المجادلہ: 22]
جیسا کہ امام اہلِ سنت اپنی ولادت کی تاریخ کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: “بحمد اللہ تعالیٰ میری ولادت کی تاریخ اس آیت کریمہ میں ہے:”
أُوْلٰئِكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ [پ: 28، سورۃ المجادلہ: 22]
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ (عزوجل) نے ایمان نقش فرما دیا ہے اور اپنی طرف سے روح القدس کے ذریعہ سے ان کی مدد فرمائی ہے۔
اور اس کا صدر (یعنی آیت کا ابتدائی حصہ) ہے:
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَلَوْ كَانُوْا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيْرَتَهُمْ [پ: 28، سورۃ المجادلہ: 22]
ترجمہ: نہ پائیں گے آپ ان لوگوں کو جو اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم) اور یومِ آخر پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ ورسول کے مخالفوں سے دوستی رکھیں اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کی اولاد یا ان کے بھائی یا ان کے قبیلے ہی کے کیوں نہ ہوں۔
اسی کے متصل فرمایا: “أُوْلٰئِكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْإِيْمَانَ” بحمد اللہ تعالیٰ بچپن سے مجھے نفرت ہے اعداء اللہ سے اور میرے بچوں کے بچوں کو بھی بفضل اللہ تعالیٰ عداوت اعداء اللہ (یعنی اللہ کے دشمنوں سے دشمنی) گھٹی میں پلا دی گئی ہے اور بفضلہ تعالیٰ یہ وعدہ بھی پورا ہوگا۔
“أُوْلٰئِكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْإِيْمَانَ” بحمد اللہ اگر قلب کے دو ٹکڑے کیے جائیں تو خدا کی قسم ایک پر لکھا ہوگا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دوسرے پر لکھا ہوگا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم۔
اور بحمد اللہ تعالیٰ ہر مذہب پر ہمیشہ فتح و ظفر (یعنی کامیابی و مدد) حاصل ہوئی رب العزت جل جلالہ نے روح القدس سے تائید (یعنی مدد) فرمائی اللہ (عزوجل) پورا فرمائے۔
وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِيْنَ فِيْهَا رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ أُوْلٰئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ملفوظات اعلیٰ حضرت، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، ص: 410، 411]
ترجمہ: اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں ہیں ان میں ہمیشہ رہیں اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے۔
سلسلہ نسب
آپ کا نسب سلسلہ افغانستان کے مشہور و معروف قبیلہ بڑِیچ سے ہے۔ اسی قبیلے کے ایک خاندان میں آپ نے اپنی آنکھیں کھولیں جو دینی اور دنیوی دونوں طرح کی عزت و شہرت اور محاسن و فضائل سے آراستہ تھا اور شجاعت، صداقت، علم، عمل، آپ کے آبا و اجداد کی وراثت تھی۔ یہ خاندان قندھار سے ہندوستان آکر یہاں رہائش پذیر ہوا۔ آپ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے:
اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں بن محمد اعظم خاں بن محمد سعادت یار خاں بن محمد سعید اللہ خاں رحمۃ اللہ علیہم۔
اسمِ گرامی
آپ کا پیدائشی نام “محمد” ہے، آپ کی والدہ ماجدہ محبت میں “متن میاں” فرمایا کرتی تھیں، والدِ ماجد اور دیگر اعزہ “احمد میاں” کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے جدِ امجد نے آپ کا اسم شریف “احمد رضا” رکھا اور آپ کا تاریخی نام “المختار” ہے اور اعلیٰ حضرت خود اپنے نام سے پہلے “عبد المصطفیٰ” لکھا کرتے تھے۔ [تجلیات امام احمد رضا، محمد امانت رسول، قادری]
القابات و خطابات
آپ کے مشہور و معروف القاب میں جسے سب سے زیادہ شہرت ملی وہ “اعلیٰ حضرت” ہے بلکہ یہ لقب اب آپ کے علم کا درجہ رکھتا ہے کہ جب مطلق اعلیٰ حضرت کہا جاتا ہے تو ذہن خود بخود آپ کی ذاتِ گرامی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے القابات و خطابات ہیں جن سے علمائے اہل سنت نے آپ کو یاد کیا ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، امام اہل سنت، مجددِ دین و ملت، پروانہ شمع رسالت، عالم شریعت، واقفِ اسرارِ حقیقت، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، مخزنِ علم و حکمت، پیکرِ رشد و ہدایت، عارف شریعت و طریقت، غواصِ بحرِ حقیقت و معرفت، امام ربانی، شیخ الہند، سبحان الہند، امام الہند، حکیم الامۃ، رئیس الاحرار، شاعر مشرق، تاجدارِ ولایت، شیخ الاسلام والمسلمین، محبۃ اللہ فی الارضین، تاج الفحول الکاملین، ضیاء الملہ والدین، وارث الانبیاء والمرسلین، سراج الفقہاء والمحدثین، زبدۃ العارفین والسالکین، آیت من آیت اللہ رب العالمین، معجز من معجزات رحمتہ للعالمین، تاج المحققین، سراج المدققین، حامی السنن، ماحی الفتن، بقیۃ السلف، حجۃ الخلف، مجددِ اعظم، وغیرہ۔
حلیہ مبارک
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا حلیہ مبارک کیسا تھا؟ اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے علامہ عبدالمجتبیٰ رضوی اپنی کتاب “تذکرہ مشائخ قادری رضویہ” میں رقم طراز ہیں:
“مجددِ اعظم، امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت عظیم البرکت قدس سرہ کا شبستانِ عقیدت اس طور پر ہے، آنکھیں موزوں اور خوبصورت، نگاہِ قدرے تیز جو حقائق کی تہ تک پہنچنے میں بے مثال اور مشہورِ روزگار تھی۔”
پیشانی
کشادہ، بلند اور دمکتی ہوئی، جس پر عظمتِ اسلام کی لکیریں ہویدا تھیں۔ مخالفتوں کے طوفان اور پیہم یلغار میں بھی جس پر کبھی بل نہ آیا۔
چہرہ
ملیح، شگفتہ و شاداب، جلال و جمال کی کھلی ہوئی تفسیر جس پر پیار و محبت اور خلوص و وفا کی شعائیں جھلمل جھلمل کرتی نظر آتیں اور اگر کبھی تیور بگڑ جاتے تو دہکتا ہوا شعلہ اور برستا ہوا انگارہ۔
ناک
جو ہمیشہ اونچی اور سربلند رہی جس نے خارجی اور داخلی ہر محاذ پر اسلام دشمن طاقتوں کی ناکیں خاک آلود کر دیں۔
آواز
نکلتی تو دہن سے پھول جھڑتے، نہایت پر درد اور کسی قدر بلند بھی تھی، اور اگر گرجدار ہوتی تو دل سینوں میں لرز اٹھتے اس میں ایسی گھن گرج اور غراہت شامل ہوتی کہ گویا: ضیغم ڈکارتا ہوا نکل رہا ہے۔
سینہ
علوم و معارف کا گنجینہ، حاملِ شریعت و طریقت، امینِ ادب و شاعری جو عشقِ رسول کی آتشِ سوزاں میں انگاروں کی طرح بھڑکتا اور آتشِ مجمر کی طرح سلگتا رہا۔
دل
آئینہ کی طرح صاف و شفاف، خوفِ خدا، فکرِ آخرت، فروغِ دین، اصلاحِ امت کے لیے بے قرار اور مہکتے ہوئے ارمانوں کا گہوارہ جو اپنوں کے لیے وسیع تھا اور غیروں کے لیے جس میں کوئی جگہ نہ تھی، کیوں کہ وہ لذتِ چشیدہ بادۂ حبِ نبی تھا۔
ذہن و دماغ
عالمانہ و مجتہدانہ، باریک بیں و نکتہ رس، ذکاوت و فطانت جس کی بے نظیر، دینی و علمی مباحث و مسائل میں بڑا اثر نگاہ اور فکری کج روی کی گرفت شہرۂ آفاق۔
پنجہ
فولادی اور اسدُ اللہی، جس سے گستاخانِ رسول کا خون ہمیشہ ٹپکتا رہا۔ جس نے بڑے سورماؤں کی کلائیاں مروڑ کر رکھ دیں۔
قلم
رواں دواں، سیال، لیکن محتاط اور ذمہ دار، نڈر اور بے باک، شارحِ دینِ متین، محافظِ ناموسِ رسالت جو دنیا کے ہر حربے کا جواب اپنی تحریر سے دے سکتا تھا اور جو سینۂ باطل میں نشتر بن کر چبھ جاتا گویا:
کلکِ رضا ہے خنجرِ خونخوارِ برق بار
اعداء سے کہ دو خیر منائیں نہ شر کریں
قدم
جو ہمیشہ صراطِ مستقیم پر گامزن رہا جس کے لیے بوریا اور سریرِ سلیمان دونوں برابر تھے اور جس کی دھمک سے ایوانِ باطل کے فصیلیں لرز اٹھیں۔
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
[تذکرہ مشائخ قادری رضویہ، ص: 432، 431]
