| عنوان: | سوانح اعلیٰ حضرت حیات (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
تعلیم و تربیت
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی رسمِ بسم اللہ کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا، آپ نے چار برس کی ننھی عمر میں ناظرہ قرآن مجید ختم کر لیا۔ چھ سال کی عمر میں ماہِ ربیع الاول شریف کی تقریب میں ایک بہت بڑے اجتماع کے سامنے “میلاد شریف” کے موضوع پر ایک پر مغز اور جامع بیان کر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام سے تحسین و آفرین کی داد وصول کی۔ ابتدائی اردو اور فارسی کی کتب پڑھنے کے بعد “میزان و منشعب” حضرت مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔ پھر آپ نے اپنے والدِ ماجد سند المحققین حضرت مولانا شاہ نقی علی خان علیہ الرحمہ سے اکیس علوم حاصل کیے۔ “شرح چغمینی” کا بعض حصہ حضرت علامہ مولانا عبدالعلی رام پوری علیہ الرحمہ سے پڑھا۔ ابتدائی “علم تکسیر و جفر” شیخ المشائخ حضرت شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل کیے۔ علمِ تصوف کی تعلیم استاذ العارفین مولانا سید آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل فرمائی۔ تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر میں 12 شعبان المعظم 1286ھ مطابق 19 نومبر 1879ء کو فارغ التحصیل ہوئے اور دستارِ فضیلت سے نوازے گئے۔
حیاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے:
“آپ کی تعلیم و تربیت جد امجد حضرت مولانا شاہ رضا علی خاں صاحب و والدِ گرامی حضرت مولانا شاہ نقی علی خاں صاحب قدس سرہما کی آغوشِ تربیت و محبت میں ہوئی، اور باقاعدہ 1275ھ کے اوائل میں تعلیم کا آغاز فرمایا چنانچہ اس وقت ایک حیرت انگیز واقعہ پیش ہوا۔ جو اس طرح ہے کہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کے بعد استاذ محترم کے پڑھانے کے مطابق آپ ابجدی تمام حروف کو پڑھتے رہے اور جب “لا” کی باری آئی تو خاموش رہے۔ استاذ نے کہا: پڑھو میاں؟ تو آپ نے فرمایا: علیحدہ علیحدہ تو دونوں حرفوں کو پڑھ چکا ہوں دوبارہ کیوں؟ جدِ امجد مولانا شاہ رضا علی خاں صاحب قدس سرہ موجود تھے آپ نے فرمایا: بیٹا استاذ کا کہا مانو؟ حسبِ الحکم پڑھ تو لیا مگر چہرے سے الجھن دور کرنے کے لیے فرمایا:”
“بیٹا! تمہارا خیال درست ہے اور تمہارا سمجھنا بجا ہے، مگر بات یہ ہے کہ شروع میں جس کو تم نے الف پڑھا تھا حقیقت میں وہ ہمزہ ہے اور لام کے ساتھ الف ہے چونکہ الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے اس لیے لام کے ساتھ ملا دیا گیا۔ تو آپ نے پھر اعتراض کیا کہ اس کو کسی بھی حرف کے ساتھ ملا دینا کافی تھا۔ لام ہی کے ساتھ کیوں ملایا گیا؟ جد مکرم نے غایت محبت سے گلے سے لگا لیا اور فرمایا: بیٹا دراصل لام اور الف میں صورۃً اور سیرۃً دونوں اعتبار سے مناسبت ہے۔ ظاہر لکھنے میں دونوں کی صورت ایک ہی سی ہوتی ہے اور سیرۃً اس وجہ سے کہ لام کا قلب الف ہے اور الف کا قلب لام ہے یعنی وہ اس کے بیچ ہے اور وہ اس کے درمیان، تب آپ مطمئن ہو کر استاذ کے پڑھانے کے مطابق پڑھتے رہے۔” [حیاتِ اعلیٰ حضرت، مطبوعہ: اکبر بک سیلرز، لاہور، ص: 52]
آپ کی عمر شریف ابھی چار سال کی تھی کہ آپ نے قرآن پاک کا ناظرہ ختم کر لیا۔ چھ سال کی عمر شریف میں ربیع الاول کی تقریب میں منبر پر رونق افروز ہو کر بہت بڑے مجمع کی موجودگی میں میلاد شریف پڑھا، آٹھ سال کی عمر میں فنِ نحو کی مشہور کتاب ہدایۃ النحو پڑھی اور خداداد علم کے زور کا یہ عالم تھا کہ اس ننھی عمر میں ہدایۃ النحو کی شرح عربی میں لکھ ڈالی۔ نیز کتاب کا صرف چوتھائی حصہ استاذ سے پڑھتے اور باقی خود سنا دیتے۔ اردو فارسی کی ابتدائی کتابیں آپ نے جناب مرزا غلام قادر بیگ بریلوی علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔ (بعد میں مرزا صاحب نے آپ سے ہدایہ کا سبق لیا) پھر تمام دینیات کی تعلیم و جملہ علوم و فنون اپنے والد ماجد امام المتکلمین حضرت مولانا شاہ نقی علی خاں صاحب قدس سرہ العزیز سے مکمل فرمائی۔
فراغت
13 سال 10 ماہ 5 دن کی نہایت قلیل عمر میں آپ نے علومِ درسیہ سے فراغت حاصل کی۔ آپ خود اپنی فراغت کے تعلق سے لکھتے ہیں:
وَذٰلِكَ لِمُنْتَصَفِ شَعْبَانَ 1286ھ وَمِائَتَيْنِ وَسِتٍّ وَثَمَانِيْنَ وَأَنَا إِذْ ذَاكَ ابْنُ ثَلَاثَةَ عَشَرَ عَامًا وَعَشَرَةِ أَشْهُرٍ وَخَمْسَةِ أَيَّامٍ وَفِيْ هٰذَا التَّارِيْخِ فُرِضَتْ عَلَيَّ الصَّلَاةُ وَتَوَجَّهَتْ إِلَيَّ الْأَحْكَامُ. [الاجازات المتینہ، ص: 20]
ترجمہ: وسط شعبان 1286ھ میں علومِ درسیہ سے فراغت حاصل کی اور اس وقت میں 13 سال دس ماہ اور 5 دن کا ایک نو عمر لڑکا تھا اور اسی تاریخ کو مجھ پر نماز فرض ہوئی اور شرعی احکام میری طرف متوجہ ہوئے۔
بعد فراغت فتویٰ نویسی
بعدِ فراغت آپ نے پہلا فتویٰ تحریر فرمایا جو بالکل صحیح تھا جسے دیکھ کر رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ نے آپ کو مسندِ افتا کی بھی ذمہ داری سونپ دی جسے آپ نے بطریق احسن انجام دیا۔ چنانچہ آپ خود اپنی فتویٰ نویسی کے آغاز سے متعلق فرماتے ہیں:
“یہ وہی فتویٰ ہے جو چودہ شعبان 1286ھ کو سب سے پہلے اس فقیر نے لکھا اور اسی 14 شعبان 1286ھ کو منصبِ افتا عطا ہوا، اور اسی تاریخ سے بحمد اللہ تعالیٰ نماز فرض ہوئی اور ولادت 10 شوال المکرم 1272ھ بروزِ شنبہ (یعنی ہفتہ) وقت ظہر مطابق 14 جون 1856ء، 11 جیٹھ سدی 1913 سمبت کو ہوئی تو منصبِ افتا ملنے کے وقت فقیر کی عمر 13 برس دس مہینہ چار دن کی تھی جب سے اب تک برابر یہی خدمتِ دین لی جا رہی ہے وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 63]
اساتذہ کرام
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر فراغت تک جن اساتذہ کرام سے حصولِ علم کیا ان کی فہرست مختصر ہے اور ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
-
مرزا غلام قادر بیگ بریلوی (متوفی 1301ھ / 1883ء)
-
مولانا نقی علی بریلوی (متوفی 1297ھ / 1880ء)
-
مولانا عبدالعلی رام پوری (متوفی 1303ھ / 1885ء)
-
سید شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی (متوفی 1297ھ / 1879ء)
-
سید شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی (متوفی 1324ھ / 1906ء)
-
شیخ احمد بن زینی دحلان شافعی مکی (متوفی 1302ھ / 1886ء)
-
شیخ عبدالرحمن سراج مکی (متوفی 1301ھ / 1883ء)
-
شیخ حسین بن صالح (متوفی 1302ھ / 1883ء)
