| عنوان: | شراب کی لعنت اور اس کے مہلک اثرات (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مبارک حسین مصباحی |
| پیش کش: | محمد کوثر العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
شراب برائیوں کی ماں
امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے حضور نبی رحمت ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "برائیوں کی ماں (یعنی شراب) سے بچو، کیوں کہ تم سے پہلے ایک شخص تھا جو لوگوں سے الگ تھلگ رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا۔ ایک عورت اس کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور اس کی طرف خادم کو کہلا بھیجا کہ گواہی کے سلسلے میں تمھاری ضرورت ہے۔ وہ وہاں پہنچ گیا اور جس دروازے سے داخل ہوتا جاتا وہ بند کر دیا جاتا۔ وہ ایک نہایت حسین و جمیل عورت کے پاس جا پہنچا جس کے قریب ایک لڑکا کھڑا تھا اور وہاں شیشے کا ایک بڑا برتن تھا جس میں شراب تھی۔ وہ عورت بولی:
'میں نے تمھیں کسی قسم کی گواہی دینے کے لیے نہیں بلایا، بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ تم اس لڑکے کو قتل کر دو یا میری نفسانی خواہش کو پورا کر دو یا پھر شراب کا ایک جام پی لو، اگر انکار کیا تو میں شور کر دوں گی اور تمھیں ذلیل و رسوا کر دوں گی۔'
جب اس شخص نے دیکھا کہ چھٹکارے کی کوئی راہ نہیں تو شراب پینے پر راضی ہو گیا۔ عورت نے شراب کا ایک جام پلایا تو اس نے (نشے میں جھومتے ہوئے) مزید شراب مانگی، وہ اس طرح شراب پیتا رہا کہ نہ صرف اس عورت کے ساتھ منہ کالا کیا بلکہ لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "لہٰذا تم شراب سے بچتے رہو۔ اللہ عزوجل کی قسم! بے شک ایمان اور شراب نوشی دونوں کسی ایک شخص کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔" (اگر کوئی ایسا کرے گا تو) ایمان اور شراب میں سے ایک دوسرے کو نکال کر باہر کر دے گا۔ [الإحسان بترتيب صحيح ابن حبان، كتاب الأشربة، الحدیث: 5324، ج: 7، ص: 367]
اس عابد نے پہلے قتل اور بدکاری سے انکار کیا اور مجبوری کی وجہ سے شراب نوشی کے لیے تیار ہو گیا۔ شراب بلا شبہ ام الخبائث یعنی برائیوں کی ماں ہے۔ شراب پی اور اتنی پی کہ اس نے بدکاری بھی کی اور نوجوان کو قتل بھی کیا۔ عہدِ حاضر میں شراب نوشی ایک وبا کی طرح پھیل چکی ہے، بلکہ فیشن کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ درجنوں مواقع ہیں جہاں شراب کا اہتمام کیا جاتا ہے، حالانکہ ہمارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جو لوگ دنیا میں کسی نشہ کرنے والے کے پاس جمع ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو آگ میں جمع فرما دے گا تو وہ ایک دوسرے پر ملامت کرتے ہوئے آئیں گے، ان میں سے ایک دوسرے سے کہے گا: اللہ عزوجل تجھے میری طرف سے اچھا بدلہ نہ دے، تو نے ہی مجھے اس جگہ پہنچایا، تو دوسرا بھی اسی طرح جواب دے گا۔" [كتاب الكبائر للذهبي، الكبيرة التاسعة عشرة: شرب الخمر، ص: 95]
آج کل عورتوں اور جوان لڑکیوں نے بھی شراب پینا شروع کر دیا ہے اور معاملہ صرف اسی حد تک نہیں رہتا بلکہ اس کے بعد زنا کاری اور بدکاری جیسے جرائم بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح غیر مسلموں اور کافروں کو شراب پلانے کا اہتمام کرنا بھی حرام ہے اور بچوں کو علاج وغیرہ کی نیت سے پلانے کا بھی یہی حکم ہے۔ بعض لوگ انگریزوں کی دعوتیں کرتے ہیں، انہیں شراب بھی پلاتੇ ہیں، وہ گنہگار ہیں، اس شراب نوشی کا وبال انہی پر ہے۔ ان تمام مسائل کی تفصیلات [ہدایہ، کتاب الاشربہ، ج: 4، ص: 398] میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
دنیا میں نیو ایئر نائٹ پر ہونے والی فحاشی اور عیاشی کا ایک عام رواج بلکہ نوجوانوں کا ایک لازمی فیشن ہو گیا ہے۔ ان محفلوں میں چھلکتے جاموں کے درمیان وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان مواقع پر ہوٹلوں میں کمرے دستیاب ہونے مشکل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح شادیوں کی تقریبات میں بھی عیاشی اور شراب نوشی کی انتہا رہتی ہے۔ جام پر جام بنتے ہیں، ہاتھ کہیں اور آنکھ کہیں کے شیطانی مناظر ہوتے ہیں۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
اسلام میں شراب کی حرمت اور اس کے قبیح نتائج
آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت، مردار اور اس کی کمائی، خنزیر اور اس کی کمائی کو حرام قرار دیا ہے۔" [سنن ابی داؤد، کتاب الاجارۃ، باب فی ثمن الخمر والمیتۃ]
آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: "جس چیز کا ایک فرق (صاع کے برابر ایک پیمانہ) نشہ دے، اس کا چلو بھر بھی حرام ہے۔" [جامع الترمذی، کتاب الاشربۃ، باب ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام، ج: 3، ص: 343]
صحیح مسلم میں ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شراب کے متعلق سوال کیا تو حضور ﷺ نے منع فرمایا۔ انہوں نے عرض کی: ہم تو اسے دوا کے لیے بناتے ہیں۔ فرمایا: "یہ دوا نہیں ہے، یہ تو خود بیماری ہے۔" [صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب تحریم التداوی بالخمر... إلخ، الحدیث: 12 (1984)، ص: 1097]
امام احمد نے ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "قسم ہے میری عزت کی! میرا جو بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی پیے گا، میں اس کو اتنی ہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا، میں اس کو حوضِ قدس سے پلاؤں گا۔" [المسند للإمام أحمد بن حنبل، حدیث ابی امامۃ الباھلی، الحدیث: 22281، ج: 8، ص: 286]
ترمذی و ابن ماجہ نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کے بارے میں دس (10) شخصوں پر لعنت کی:
بنانے والا
بنوانے والا
پینے والا
اٹھانے والا
جس کے پاس اٹھا کر لائی گئی
پلانے والا
بیچنے والا
اس کی قیمت (دام) کھانے والا
خریدنے والا
جس کے لیے خریدی گئی
[جامع الترمذی، کتاب البیوع، باب النہی ان یتخذ خلا، الحدیث: 1299، ج: 3، ص: 47]
امام مالک نے ثور بن زید سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدِ خمر کے متعلق صحابہ سے مشورہ کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: "میری رائے یہ ہے کہ اسے اسی (80) کوڑے مارے جائیں، کیونکہ جب یہ پیے گا تو نشہ ہوگا، اور جب نشہ ہوگا تو بیہودہ بکے گا، اور جب بیہودہ بکے گا تو بہتان (افترا) باندھے گا۔" لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی (80) کوڑوں کا حکم دیا۔ [الموطا للإمام مالك، کتاب الاشربۃ، باب الحد فی الخمر، الحدیث: 1615، ج: 2، ص: 351]
خمر حرامِ بعینہ ہے، اس کی حرمت نصِ قطعی سے ثابت ہے اور اس کی حرمت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اس کا قلیل و کثیر سب حرام ہے، اور یہ پیشاب کی طرح نجس ہے، اور اس کی نجاست غلیظہ ہے۔ جو اس کو حلال بتائے وہ کافر ہے کہ نصِ قرآنی کا منکر ہے۔ مسلم کے حق میں یہ متقوم نہیں، یعنی اگر کسی نے مسلمان کی یہ شراب تلف (ضائع) کر دی تو اس پر ضمان نہیں، اور اس کو خریدنا صحیح نہیں، اس سے کسی قسم کا انتفاع (نفع اٹھانا) جائز نہیں۔ اس کے پینے والے کو حد ماری جائے گی اگرچہ نشہ نہ ہوا ہو۔ [الدر المختار، کتاب الاشربۃ، ج: 1، ص: 33 وغیرہ]
اور اب دیگر مقامات پر بھی شراب پر پابندی کا مطالبہ
اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں شراب کی کشید اور فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ اور احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں ہر سال دو سو کھرب لیٹر شراب فروخت ہوتی ہے جو ہمارے ملک اور نوجوان نسل کو شراب میں ڈبو کر تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ آج ہندوستان شراب کی کھپت اور پیداوار میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور اگر یہی حال رہا تو ہمارا ملک پہلے مقام پر آ جائے گا۔ شراب کی فروخت کی سب سے بڑی ذمہ دار صوبائی حکومتیں ہیں جو زیادہ پلاؤ اور زیادہ کماؤ کے فارمولے پر عمل کر رہی ہیں۔ حکومتِ اتر پردیش چھ فیصد ٹیکس وصول کرتی ہے، 32 روپے کی بوتل 235 روپے میں فروخت کر کے 14 ہزار کروڑ روپے کا سالانہ نفع کماتی ہے اور حکومت 65 فیصد نوجوانوں کو شرابی بنا رہی ہے، کیونکہ صوبے میں یومیہ 25 کروڑ شراب کی بوتلیں فروخت ہوتی ہیں۔
بات صرف یوپی کی نہیں، بلکہ ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ انسانی صلاح و فلاح کے لیے پورے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں شراب پر شدید پابندی عائد کی جائے، شراب کی پیداوار، اس کی ترسیل اور اس کا پینا انتہائی مہلک جرم ہے۔ اسلام ایک آسمانی اور ہمہ گیر مذہب ہے، اس کے اصول سچے اور صد قابلِ افتخار ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوری دنیا کو شراب کی لعنت سے محفوظ فرمائے۔ آمین!
