Loading...

سید الموذنین حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ (قسط اول)

سید الموذنین حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ (قسط اول)
عنوان: سید الموذنین حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ (قسط اول)
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

موذن رسول، عاشق صادق حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار ان نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی راہ میں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کیا لیکن پائے استقلال میں ذرا سا بھی جنبش نہیں آنے دی۔

آپ کا نام مبارک بلال اور لقب موذن رسول ہے۔ ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کو سید الموذنین یعنی اذان دینے والوں کے سردار کا خطاب عطا فرمایا۔ آپ کے والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ تھا اور آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔

قبول اسلام

حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے حوالے سے سیرت کی کتب میں مختلف روایتیں موجود ہیں۔ منقول ہے کہ آپ ان سات اشخاص میں سے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق، حضرت خدیجہ، حضرت علی، حضرت زید بن حارثہ، حضرت عمار اور حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اسلام کے دامن میں آچکے تھے۔

آپ پر مظالم

حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ آپ کے اسلام قبول کرنے سے وہ آگ ببولہ ہو گیا اور اس نے آپ پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔ اس نے اپنا یہ معمول بنا لیا تھا کہ روزآنہ نصف النہار کے وقت حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گرم ریت پر لٹا کر سینے پر تپتی ہوئی چٹانیں رکھ دیتا۔ اس حالت میں آپ پر کوڑے برسائے جاتے اور کہا جاتا کہ ان کے باطل خدا کو خدا تسلیم کرو لیکن امیہ کے اتنے ظلم و ستم کے باوجود حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے عزم و استقلال میں ذرا سا بھی فرق نہیں آیا۔ آپ اس کے ظلم و ستم کے جواب میں ایک ہی آواز بلند کرتے "احد، احد" یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک روز حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرا۔ اس وقت آپ کو گرم کنکریوں پر لٹایا گیا تھا اور وہ کنکریاں اتنی شدید گرم تھیں کہ اگر ان پر گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا جائے تو وہ پک جاۓ۔ اس سب کے باوجود حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان پر ایک ہی کلمہ جاری تھا، احد احد۔ امیہ بن خلف کے ظلم و ستم کی وجہ سے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کمر پر زخم ہو گئے تھے جن سے خون بہتا تھا۔

آزمائش کا دور ختم

وقت کے گزرنے کے ساتھ امیہ بن خلف کا حضرت بلال پر ظلم و ستم بھی بڑھتا جا رہا تھا کبھی وہ حضرت بلال کو رسی میں باندھ کر بچوں کے حوالہ کر دیتا تھا وہ بچے حضرت بلال کو گھسیٹتے ہوئے گلیوں میں گھماتے تھے۔ آخر کار ایک دن ایسا آیا جب حضرت بلال کا یہ آزمائش کا دور ختم ہوا۔ ایک دن امیہ بن خلف حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھمبے سے باندھ کر کوڑے بر سا رہا تھا۔ ادھر سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزر ہوا تو آپ نے امیہ بن خلف سے کہا کہ تم کب تک اس مظلوم پر ظلم ڈھاتے رہوگے؟ امیہ بن خلف نے جواب میں کہا کہ اگر تمہیں اس پر زیادہ ترس آرہا ہے تو تم اس کو خرید لو۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً تیار ہو گئے اور اس سے قیمت پوچھی۔ امیہ بن خلف نے دو سو درہم مانگے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خرید کر آزاد کر دیا۔ اس طرح حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آزمائش کا دور ختم ہوا۔

اور اب جب آپ آزاد ہو گئے تو آپ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے اور جان و دل سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دنیا کو سکھایا کہ نبی سے کیسا عشق ہونا چاہیے، آپ نے اپنا تن من دھن سب حضور پر قربان کر دیا۔ آپ نے اپنی خواہشات، مال و اَسباب، اَولاد و قریبی رِشتہ دار حتّٰی کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر اللہ کریم اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مَحَبَّت کی اور اس مَحَبَّت کو ہمیشہ اپنے دل میں بسائے رکھا، نتیجۃً آپ کے عمل سے خُوش ہو کر رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کئی مواقع پر آپ کی تعریف وتوصیف فرمائی اور جنت میں اپنے غلام کے قدموں کی آواز کو بھی سنا۔

قدموں کی آہٹ

معراج کی رات نبیِّ کریم، خاتمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جنت میں کسی کے قدموں کی آہٹ سُنی، جس کے بارے میں آپ کو بتایا گیا کہ یہ حضرت بلالِ حبشی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے قدموں کی آواز ہے۔ [مشکاۃ المصابیح، حدیث: 6037 ملتقطا]

حضرت بلال کے فضائل سید الانبیاء کے فرمان کی روشنی میں

سرکار دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک مرتبہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی طرف اِشارہ کرکے فرمایا: بروزِ قیامت جنتی اُونٹنی پر سُوار ہو کر اذان کہیں گے اور جب اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمّدًا رَّسُوْلُ اللہ کے کلمات کہیں گے تو تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلام اور اُن کے اُمّتی حضرت بلال (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) کو دیکھ رہے ہوں گے۔ نبیوں اور شہیدوں کے بعد سب سے پہلے بلالِ حبشی کو جنتی لباس پہنایا جائے گا۔ [ابن عساکر، رقم: 974، بلال بن رباح، 10/459، حدیث: 2655، ملتقطاً]

حُضور نبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: بروزِ قیامت حضرت بلال (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) ایسے اُونٹ پر سُوار ہوکر آئیں گے جس کا کجاوہ سونے اور یاقوت سے آراستہ ہوگا، اُن کے ساتھ ایک جھنڈا ہو گا، تمام مؤذنین اُس جھنڈے کے پیچھے پیچھے ہوں گے حتّٰی کہ اُنہیں جنت میں داخل کر دے گا یہاں تک کہ وہ بھی جنت میں داخل ہوجائے گا جس نے صِرْف چالیس (40) دن اللہ پاک کی رِضا کے لئے اذانیں دی ہوں گی۔ [ابن عسا کر، رقم: 974، بلال بن رباح، 10/460، حدیث: 2657]

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے وقت حضرت بلال کی حالت

سیر و تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس دنیا سے وصال ظاہری فرمایا اس وقت حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ غم سے نڈھال ہو گئے تھے، آپ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کے سامنے بیٹھ کر روتے رہتے تھے، آپ نے اذان دینا بھی بند کر دی تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب نماز کا وقت ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضرت بلال سے اذان دینے کو کہا تو آپ نے کہا کہ مجھ میں اب اتنی ہمت نہیں ہے کہ اذان دے سکوں۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کر حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی اور پھر وہی مسجد نبوی کے موذن مقرر ہوئے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب اذان نہ دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اب خود میں یہ ہمت نہیں پاتا کہ جب اذان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام لوں اور انہیں سامنے نہ پاؤں۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ غمیگن رہنے لگے، آپ ہر وقت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو تلاش کرتے رہتے اور جب کہیں نظر نہیں آتے تو آپ بے اختیار رونا شروع فرما دیتے تھے۔ آپ کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب دنیا میں تنہا رہ گئے ہیں اور گوہر مقصود ہاتھ سے نکل گیا ہے۔

جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو حضرت بلال نے آپ سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی لیکن حضرت ابو بکر صدیق نے یہ کہتے ہوئے منع فرما دیا کہ میری عمر اب زیادہ نہیں بچی ہے تم مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ، تو حضرت بلال نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات مان لی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!