Loading...

امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ)

امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) - قسط ہفتم (آخری)
عنوان: امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) - قسط ہفتم (آخری)
تحریر: ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

اس رسالہ میں اسی طرح کے مزید بہت سارے علمی نکات ہیں جو فنِ فقہ سیکھنے والوں کے لئے بیش بہا خزانہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

أجود القرى لطالب الصحة في إجارة القرى (1302ھ)

دیہات کے ٹھیکہ کی صحت کے طلبگار کیلئے بہترین مہمانی:
امامِ اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجارہ سے متعلق ایک سوال کیا گیا جس میں سائل نے جو صورت بیان کی اس کے مطابق وہ صورت شائع و ذائع ہے یعنی اس کا خوب رواج ہے۔ صورت یہ تھی کہ زمین اولاً مزارع کرایہ پر لیتے تھے پھر ایک اور کرایہ داری کا معاملہ اسی پر ہوتا کہ کسی اور ٹھیکیدار کو اس کی آمدنی کرایہ پر دے دی جاتی، یہ ایک ناجائز صورت تھی۔ امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ نے عقدِ اجارہ کے اصولوں کی روشنی میں اس کا تفصیلی جواب عطا فرمایا۔ اجارہ کے نوازل کے تعلق سے یہ ایک عمدہ رسالہ ہے۔

جوال العلو لتبين الخلو (1336ھ)

مسئلہ خلو کی وضاحت کے لیے بلندی گردش:
ہمارے دور میں پگڑی سسٹم پر خرید و فروخت عام معمول سے ہٹ کر ایک طریقہ کار ہے جس پر ہمیشہ ہی فقہی کلام ہوتا رہا ہے کیوں کہ یہ طریقہ کار فقہی ضابطوں پر پورا نہیں اترتا۔ پرانے زمانے میں "خلو" ایک طریقہ کار ہوتا تھا جس میں کچھ اسباب پر اجرت پر جائیداد لینے والے کے لیے بقائے دائمی کا حق تسلیم کیا جاتا تھا۔ یعنی اس شخص سے مالک یہ جگہ حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ یہ طریقہ کار فقہ حنفی کے اصولوں کے خلاف تھا۔ امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ سے پانچ سوالوں پر مشتمل ایک استفتاء میں اس کی تفریحات پر سوال کیا گیا، جس کے جواب میں امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ نے جو ابحاث فرمائیں وہ وقف، اجارہ اور حقوقِ مجردہ کے باب میں بہت ہی اہم نکات پر مبنی ہیں۔

فتح المليك في حكم التمليك (1308ھ)

رب العزت کی طرف سے تملیک کے حکم میں ملنے والا شرح صدر:
اس رسالہ میں ہبہ کے سبب ملکیت بننے، دستاویز لکھنے سے ہبہ کے ثابت ہونے، ہبہ مشاع اور تملیک کے لفظ کے اطلاقات جیسی معرکہ الآراء ابحاث شامل ہیں۔ یہ رسالہ بھی فقہ المعاملات میں ایک اہم ذخیرہ ہے۔

الرمز المرصف على سؤال مولينا السيد آصف (1339ھ)

مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ:
اس رسالہ میں کانپور کے مولانا آصف نے امامِ اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو سوالات بالخصوص کفار کے ساتھ معاملات اور لین دین کے تعلق سے کئے تھے، ان کا جواب دیا گیا ہے۔ اس رسالہ میں کفار کے ساتھ بیع و شراء کرنے، اجارہ کرنے اور کافر طبیب سے علاج کروانے جیسے معاملات پر تفصیلی انداز میں فقہی گفتگو کی گئی ہے۔

عطاء النبي لافاضة أحكام ماء الصبي (1334ھ)

بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام سے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کا عطیہ:
اسلامی معاشیات میں "نظریہ تملیک" کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اقتصادِ اسلامی کی شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو جس میں اسبابِ تملیک اور ملکیتِ فرد پر متفرع ہونے والے مسائل و احوال سے گفتگو نہ کی جاتی ہو۔ عمومی طور پر کتب میں اس حوالے سے صرف تعارف اور چند موٹی موٹی ابحاث ہی موجود ہوتی ہیں، جن میں زیادہ تر تعریف و اقسام اور اسبابِ ملکیت ہی بیان کیے جاتے ہیں۔ لیکن نظریہ تملیک اور اس کی تفریحات اور ثمرات کو اگر کوئی گہرائی سے دیکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ فتاویٰ رضویہ میں موجود "عطاء النبی لافاضۃ احکامِ الصبی" رسالہ کا مطالعہ کرے (جو کہ فتاویٰ رضویہ جلد 2، رضا فاؤنڈیشن کے صفحہ 494 تا 541 پر موجود ہے)۔ اس قدر گہرائی سے کلام کرنا یقیناً ایک عظیم فقیہ ہی کا کام ہے۔

اس رسالہ کا محور تو اگر چہ نابالغ کی تملیک پر متفرع ہونے والے مسائل ہیں۔ نابالغ کی ملک کی حفاظت کو قرآن کریم نے کئی مقام پر تاکید سے بیان کیا ہے۔ جس نابالغ کے والد زندہ ہوں شریعت نے ان والدین کے لئے بھی نابالغ کے بہت سارے اہم مسائل بیان کیے ہیں۔ ایسا نہیں کہ نابالغ کی ملکیت پر انہیں ہر طرح کا تصرف کرنے کا اختیار ہو۔ چونکہ اس مسئلے میں بے احتیاطیاں زیادہ تھیں اور فقہی طور پر کئی باتیں قابلِ وضاحت و تنقیح تھیں اسی لئے قدرے تفصیل سے اس مسئلہ پر قلم اٹھایا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رسالہ دراصل ایک اور رسالہ کا ذیلی حصہ ہے جس کا نام "النور والنورق لاسفار الماء المطلق (1334ھ)" ہے، جس میں اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نے وضو کے تعلق سے پانی کی ماہیت، مائے مطلق اور پانی کی اقسام پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ اس میں صفحہ 452 سے 596 تک پانی کی 160 اقسام بیان کیں کہ جن سے وضو جائز ہے، اور اس کے ضمن میں درجنوں فقہی ابحاث کا افادہ کیا۔

تبصرہ بر مقصد

چونکہ اصل رسالہ وضو ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے پانی کی اقسام پر تھا، ایسے میں یہ بحث بھی آئی کہ وہ پانی جو "ملکِ غیر" ہو اس کے کیا احکام ہوں گے؟ ویسے تو ملکِ غیر کا معاملہ سادہ تھا کہ غصب کے پانی سے وضو تو ہو جائے گا لیکن تصرف نا جائز رہے گا اور تاوان دینا ہو گا۔ لیکن یہ بحث اس وقت طوالت اختیار کر گئی جب یہ سوال اٹھا کہ نابالغ، جو اپنی ملکیت کو منتقل کرنے کا مجاز نہیں، اس کی ملکیت سے کس حد تک استفادہ ممکن ہے؟ اور چونکہ نہروں اور ندی نالوں کا پانی مباح ہوتا ہے، لہٰذا نابالغ کے بھرے ہوئے پانی سے وضو کرنے کی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ یہ وہ پس منظر ہے جو ایک عظیم علمی تحقیق کو سامنے لایا اور اعلیٰ حضرت نے نظریہ ملکیت پر ایسا جامع کلام فرمایا جو کہیں اور نہ ملے گا۔

قسم خامس: جدید معاشی مسائل کا حل اور امام احمد رضا کا منہج

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے فقہ المعاملات میں جو عرق ریزی کی، وہ معاصر فقہاء کے لیے کس قدر فائدہ مند ہے، اس کا ایک مختصر جائزہ ملاحظہ ہو:

  • فقہ حنفی میں جدید مسائل کا حل: امامِ اہل سنت کے زمانے میں منی آرڈر جیسے پیچیدہ مسائل سامنے آئے، اور آپ نے فقہی تنقیح کے ذریعے فقہ حنفی میں رہتے ہوئے ان کا حل فرمایا۔ فقہ حنفی کوئی جمود زدہ مذہب نہیں، اس کے قواعد کی روشنی میں ہر چیز کا حل موجود ہے۔
  • کمپنی اور شخصِ قانونی کا مسئلہ: جدید دور میں کمپنی کے وجود اور شخصِ قانونی (Legal Entity) پر اشکالات ہیں۔ امامِ اہل سنت نے اشارتاً کلام فرمایا کہ "بینک پر جمع رقم بینک پر دین ہے" (فتاویٰ رضویہ، ج 16، ص 244)۔ اسی طرح ڈاکخانے کو "اجیرِ مشترک کی دکان" قرار دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ان اداروں کی تجارتی حیثیت کو تسلیم کرتے تھے۔
  • اسلامک فنانس اور مائیکرو فنانس: موجودہ کمرشل اسلامک بینکنگ کے بجائے مسلمانوں کو ایسی انجمنیں بنانی چاہئیں جو غرباء کو قرضِ حسنہ دیں یا مائیکرو فنانس کے ذریعے ان کی مدد کریں۔ مضاربت اور شراکت کے ذریعے جائز نفع کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے سود سے بچنے کے حیلوں کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔

امامِ اہل سنت کا منہجِ تحقیق (راہِ اعتدال)

امامِ اہل سنت کی تحقیق کے اہم اجزاء یہ ہیں:

  • سوال کی پوری تحقیق: آپ صرف جواب نہیں دیتے تھے بلکہ نفسِ سوال اور موضوع کے اجزائے ترکیبی کو سمجھتے تھے۔ (جیسے آج کے دور میں بٹ کوائن کے سسٹم کو سمجھے بغیر فتویٰ نہیں دیا جا سکتا)۔
  • مسئلے کی ماہیت پر مکمل گفتگو: آپ شش جہات سے موضوع کا جائزہ لے کر ہر رخ پر حقیقت کے مطابق حکم عائد کرتے تھے۔
  • قولِ راجح کی تلاش: علمِ فقہ میں قولِ راجح پر فتویٰ دینا آپ کی نمایاں مہارت تھی۔
  • آسانی و یسر کی تلاش: فقہاء مسلمانوں کی تنگی کو سامنے رکھتے ہوئے گنجائش نکالتے ہیں۔ امامِ اہل سنت نے بھی باطل عقود کے باوجود فساد کا حکم بیان کیا اور ترجیح کے ذریعے امت کو آسانی عطا فرمائی۔

آخر میں خاص طور پر حضرت مفتی فیضان المصطفیٰ ابن الاخ محدثِ کبیر صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا خاص کر شکر گزار ہوں کہ ان کی ایما پر اس مقالہ کو لکھنے کی ادنیٰ سعی کرنے کے قابل ہوا۔ اہل علم سے گزارش ہے کہ کوئی غلطی یا خطا دیکھیں تو ضرور مطلع کریں۔ قارئین یہ بھی نوٹ فرما لیں کہ اس مقالہ میں فتاویٰ رضویہ کے صفحات نمبر رضا فاؤنڈیشن والے نسخہ سے لکھے گئے ہیں۔

طالبِ دعا: ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی (2 صفر المظفر 1440ھ بمطابق اکتوبر 2018ء)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!