Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق اور عصرِ جدید (قسط: اول)|مولانا ارشاد عالم نعمانی مصباحی

طلاق اور عصرِ جدید (قسط: اول)
عنوان: طلاق اور عصرِ جدید (قسط: اول)
تحریر: مولانا ارشاد عالم نعمانی مصباحی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

طلاق مباح چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس لیے اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نہ اس کی ترغیب دی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے والوں کی کسی طرح کی کوئی حوصلہ افزائی کی ہے۔ بلکہ جگہ جگہ اس کے تعلق سے وعیدی احکام ذکر کر کے اس جذبے یا عمل کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے تاکہ کوئی بغیر ضرورت کے اس کا استعمال نہ کرے۔ کیوں کہ زندگی کا اصل مسئلہ موافقتِ زوجین ہے نہ کہ مخالفت۔ لہٰذا نکاح کے مقدس، محترم اور پاکیزہ رشتہ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر وہ تدبیر بروئے کار لائی جائے جو میاں بیوی کی زندگی کو خوشگوار بنا سکے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: “شادیاں کرو اور طلاق مت دو کیوں کہ اللہ صرف مزہ لینے والے مردوں اور مزہ لینے والی عورتوں سے محبت نہیں کرتا۔” [كَنْزُ الْعُمَّال، ج: 9، ص: 289]

مزید فرماتے ہیں: ساری مباح چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔ [ابْنِ مَاجَه، ص: 322]

مستدرک میں ہے: “اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور جب اپنی ضرورت اس سے پوری کر لے تو اسے طلاق دے دے اور اس کا مہر بھی نہ ادا کرے۔” [اَلْمُسْتَدْرَك، ج: 2، ص: 198]

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: “جو عورت بلا کسی وجہ شوہر سے طلاق مانگے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔” [سُنَن تِرْمِذِي، ص: 310]

مندرجہ بالا احادیث کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام میں طلاق کسی بھی صورت میں پسندیدہ عمل نہیں ہے بلکہ اللہ و رسول کی ناراضگی، آخرت میں خسارے اور نقصان کا باعث ہے، اور یہ ہر بندہ مومن و مومنہ کے لیے آبرومندانہ زندگی گزارنے کی نفسیاتی تلقین بھی ہے اور دائمی عہد و پیمان بھی اور آپسی محبت و مودت اور الفت و ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کا سخت تادیبی حکم بھی۔

طلاق ایک سماجی ضرورت

بلا شبہ اسلام کا قانونِ طلاق انسانی سماج کے لیے ایک نجات دہندہ اصول ہے۔ اس لیے کہ انسانی سماج میں آپسی نااتفاقی، کشمکش، مسلسل کشیدگی کی صورت میں اگر قانونِ طلاق نہ ہو تو پھر خاندان افراتفری، باہمی کشاکش کی آماجگاہ بن جائے گا۔ اس لیے اسلام نے طلاق کی سماجی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے اس کے جواز کی اجازت کچھ قیود کے ساتھ دی ہے۔ جو انسانی نفسیات اور معاشرتی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ کیوں کہ اگر شادی ایسی ہو کہ لڑکا یا لڑکی میں سے ایک یا دونوں ایک دوسرے کو پسند نہ کرتے ہوں یا شادی دلی اعتبار سے پہلے سے متعین کی ہوئی جگہ میں نہ ہو، لڑکا کسی اور کو چاہتا ہو اور لڑکی خود کسی اور کو چاہتی ہو، یا لڑکا نامرد یا ہجڑا ہو، یا لڑکی بدصورت یا فاحشہ ہو یا لڑکا، لڑکی کی کفالت نہ کرتا ہو تو ظاہر ہے ان سب صورتوں میں اگر سماج کے اندر ضابطۂ طلاق کا کوئی تصور نہ ہو تو ایسی صورت میں معاشرہ ہلاکت و ہیجانیت کا شکار ہو جائے گا۔ اس لیے ماہرین سماجیات نے بھی طلاق کے ان عوامل کے پیش نظر طلاق کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔

چنانچہ جس سماج میں طلاق ممنوع ہے اور اس پر قطعی پابندی عائد کر دی گئی ہے وہ معاشرہ انسانیت سے کوسوں دور اور بے شرمی و بے غیرتی کا گہوارہ نظر آتا ہے۔ اس سماج میں زوجین کی ناموافقت، تکلیف دہ اختلاف، حالات کے باوجود شوہر اور بیوی ایک ساتھ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں اور خوشگواری کے بجائے گھٹ گھٹ کر زندگی بسر کرتے ہیں جس کی وجہ سے عموماً آئے دن انسانیت کش حالات پیش آتے ہیں اور شوہر اور ان کے گھر والے عورت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسے نذرِ آتش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے یا وہ خود خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خاندان کا خاندان تباہ و برباد ہو جاتا ہے، اور گھریلو زندگی خوشگوار ہونے کی بجائے جہنم بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی معاشرہ میں انسانی نفسیات، معاشرتی پیچیدگیوں اور ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ضابطۂ طلاق جیسے رہنما اصول کے موجود ہونے کی وجہ سے معاشرہ انسانیت کش اقدام سے مکمل محفوظ نظر آتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب ان مذاہب نے بھی طلاق کے جواز کو تسلیم کر لیا ہے جس میں طلاق کا کوئی تصور نہیں تھا، اور بیشتر ممالک میں طلاق کے لیے قانون بھی وضع کر لیا گیا ہے۔

معاشرے میں طلاق کی کثرت اور اس کا تدارک

اس زمینی حقیقت سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ پہلے کی بہ نسبت آج طلاق کی شرح بڑھ گئی ہے۔ نیز طلاق کا غیر ضروری استعمال بھی آئے دن دیکھنے کو ملتا ہے۔ بعض افراد کے اپنے اختیارِ طلاق کا غلط استعمال کرنے کی وجہ سے آج کا جدید ذہن پورے شد و مد کے ساتھ اس کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے کہ طلاق کے عمل پہ ہی پابندی عائد کر دی جائے تاکہ گھر برباد ہونے سے محفوظ رہے۔ میرے نزدیک مسئلے کا یہ حل نہیں ہے کہ اس شرعی حق ہی کو ختم کر دیا جائے کیوں کہ جس طرح اختیار کا غلط استعمال اس حق کے ساتھ ہے وہ کسی بھی دوسرے کے حق میں پایا جا سکتا ہے۔ میری رائے میں مسئلہ کا صحیح اور منطقی حل یہ ہے کہ لوگوں میں روحانی اور اخلاقی اسپرٹ پیدا کی جائے۔ اسے طلاق کے احکام اور اس کے صحیح استعمال سے واقف کرایا جائے۔ مسئلہ طلاق کی خوب خوب اشاعت اور تشہیر کی جائے۔ جب صحیح مسئلہ سے آگاہی ہو جائے گی تو خود بخود طلاق کا بے محابا اور غلط استعمال ختم ہو جائے گا۔ اسے یہ باور کرایا جائے کہ طلاق اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ فعل ہے۔ بے ضرورت اس کا استعمال اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کو دعوت دینا ہے اور اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں بربادی اور ہلاکت کا سامان تیار کرنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر عام طبقہ میں مسئلہ طلاق کی اشاعت جنگی پیمانے پر ہو جائے تو طلاق کے تعلق سے بڑھتی ہوئی شرح اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا خود بخود ازالہ ہو جائے گا۔ ذیل میں اس کے حل اور تدابیر کی ہم چند اہم تجاویز و تدابیر ذکر کرتے ہیں جس پہ عمل کے ذریعہ بہت حد تک اس سماجی ناسور سے معاشرہ محفوظ ہو سکتا ہے۔ بقول مولانا یٰسین اختر مصباحی:

  1. ذرائع ابلاغ کو اپنی مضحکہ خیز مذہبی دانشوری اور نام نہاد شرعی اصلاح کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

  2. مذہبی مسائل سے صحیح واقفیت کے لیے دینی کتب و رسائل کا مسلسل مطالعہ جاری رکھا جائے۔

  3. دینی علم اور فہم و بصیرت رکھنے والی قابلِ اعتماد شخصیتوں کی صحبت و تربیت اور ان سے استفادہ و تبادلۂ خیال کر کے درپیش مسائل میں اپنے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جائے۔

  4. دینی بصیرت اور ایمانی فراست سے محروم افراد کی باتوں پر اعتماد نہ کیا جائے۔

  5. کورٹ اور اسمبلی و پارلیمنٹ کو نہیں بلکہ کتاب و سنت کو اپنی پناہ گاہ سمجھا جائے، اور مذہبی مشکلات کا حل کتاب و سنت کے دائرے میں رہ کر تلاش کیا جائے۔

  6. ذہنی ورزش، تفریحِ طبع اور سیاسی تشہیر کے لیے مذہبی موضوعات کا استعمال نہ کیا جائے۔

  7. اخلاص و دردمندی کے ساتھ مسلم معاشرہ کے مفاسد کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔

  8. زوجین اپنے حقوق و فرائض اور مسائلِ طلاق سے خصوصی طور پر واقفیت رکھیں اور اپنی عملی زندگی میں ان کی پابندی کریں۔

  9. شوہر سے نکاح کے وقت یہ عہد و پیمان لیا جا سکتا ہے کہ اگر وہ اپنی بیوی کے فلاں فلاں جائز حقوق و فرائض استطاعت کے باوجود نہ ادا کرے یا فلاں فلاں ظلم یا زیادتی دانستہ طور پر روا رکھے اور اہلِ خانہ کی تنبیہ و ہدایت کے باوجود اپنی اصلاح پر آمادہ نہ ہو تو بیوی کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق خود اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے۔

  10. نکاح کے وقت ہی شوہر سے یہ عہد و پیمان بھی لیا جا سکتا ہے کہ بحالتِ مجبوری جب اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نوبت آئے تو وہ سنت کے مطابق دو عادل گواہوں کی موجودگی میں ایک طہر میں صرف ایک طلاق دے گا اور کسی بھی حال میں وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ [سہ ماہی اسلام اور عصرِ جدید، جلد 25، شمارہ 3، 4، جولائی / اکتوبر 1993ء]

  11. نکاح کے وقت ہی مہر کی ایک خاص رقم مقرر کر دی جائے کیوں کہ مہر بیوی کا حق ہے۔ جب مہر کی رقم خاصی ہوگی تو اس وجہ سے بھی شوہر طلاق سے باز رہ سکتا ہے۔

  12. “تحفظِ شریعت بورڈ” قائم کیا جائے جس کے ذریعہ ہنگامی یا غیر ہنگامی حالات میں ہر ایک میں مسائلِ طلاق و نکاح کی تفہیم اور صحیح طور پر ادائیگیِ حقوق کی تلقین کی جائے۔

  13. پورے ملک میں اسلامی عدالتوں اور شرعی پنچایتوں کا ایسا نظام قائم کیا جائے کہ مسلمان اپنے سارے معاملات (عائلی و خانگی) انہی کے ذریعہ حل کرائیں اور ان کے مقدمات کا تصفیہ انہی کے اندر ہوا کرے، خدا پر بھروسہ کر کے عزم و حوصلہ سے کام لیا جائے تو یہ کام کوئی مشکل نہیں اور اس کے لیے صرف حکمت و دانائی اور مضبوط کردار و عمل کی ضرورت ہے۔ [مسلم پرسنل لا کا تحفظ، ص: 36]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!