Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

میں نے لکھنا کیسے سیکھا؟ ابو حامد کا تحریری سفر|عمران رضا عطاری مدنی

میں نے لکھنا کیسے سیکھا؟ ابو حامد کا تحریری سفر
عنوان: میں نے لکھنا کیسے سیکھا؟ ابو حامد کا تحریری سفر
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی
پیش کش: مجمع التصانیف

جن دنوں میں درسِ نظامی کے درجۂ ثانیہ میں زیرِ تعلیم تھا، اسی زمانے سے مطالعے کا شوق و ذوق نصیب ہوا اور کثرتِ مطالعہ میری عادت بن گئی۔ پھر جب درجۂ ثالثہ میں پہنچا تو مطالعے کے ساتھ ساتھ اہم نکات اور مفید اقتباسات قلم بند کرنے کا ذہن بنا، چنانچہ باقاعدہ نوٹس تیار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ مطالعے کی رفتار اور علمی ذوق میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ بعد ازاں جب راقمُ الحروف حصولِ علمِ دین کی غرض سے مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال حاضر ہوا تو وہاں کا علمی و روحانی ماحول نہایت دل آویز اور منفرد محسوس ہوا۔ وہاں کے جلیل القدر اساتذۂ کرام نے طلبہ کے دلوں میں مطالعے کا ایسا شوق، علم سے ایسی محبت اور تحریر و مضمون نگاری کا ایسا ذوق پیدا کر رکھا تھا کہ سبحان اللہ! ہر طرف علمی انہماک، تحقیقی مزاج اور قلمی کاوشوں کا خوش گوار منظر دکھائی دیتا تھا۔ یہی ماحول میرے لیے بھی مزید علمی ترقی، مطالعے میں وسعت اور تحریری صلاحیتوں کے نکھار کا سبب بنا۔

جب میں درجۂ خامسہ میں پہنچا تو میرے اندر تحریر و تصنیف کا شوق بھی پروان چڑھنے لگا۔ اساتذۂ کرام کی رہنمائی اور ترغیب پر درجۂ خامسہ میں مشکوٰۃ المصابیح کے ساتھ مرآۃ المناجیح کا مطالعہ شروع کیا۔ مطالعے کا ذوق اس قدر بڑھا کہ پوری کتاب (8 جلدوں) کا مطالعہ مکمل کر ڈالا۔ اس دوران جہاں جہاں اہم علمی، تحقیقی اور فکری نکات نظر آتے، انہیں باقاعدگی سے قلم بند کرتا رہتا۔ چنانچہ جب مطالعہ مکمل ہوا تو ایک موٹی کاپی قیمتی نکات سے بھر چکی تھی، جسے اگر مناسب ترتیب کے ساتھ مرتب کر کے شائع کیا جائے تو غالباً تین سو صفحات سے بھی زائد کی ایک ضخیم کتاب بن جائے۔

میری پہلی کتاب: علم و علما کے فضائل

بعد ازاں جب درجۂ سادسہ میں پہنچا تو استاذِ گرامی مفتی وسیم اکرم مصباحی اور مفتی سرفراز احمد مصباحی صاحبان کی خصوصی توجہ اور حوصلہ افزائی نے میرے تحریری ذوق کو مزید جِلا بخشی۔ ان حضرات کی علمی صحبتوں نے دل میں باقاعدہ کتاب لکھنے کا جذبہ پیدا کر دیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر قلم اٹھایا اور “علم و علما کے فضائل” کے موضوع پر لکھنا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تقریباً ساٹھ صفحات پر مشتمل ایک کتاب تیار ہو گئی، جو آج بھی میرے گھر کی لائبریری میں مخطوطے کی صورت میں محفوظ ہے۔

درجۂ سابعہ اور دورۂ حدیث کے زمانے میں مضمون نگاری کا شوق مزید بڑھ گیا۔ مختلف موضوعات پر مضامین لکھ کر ماہنامہ فیضانِ مدینہ میں ارسال کرنے لگا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے چند مضامین شائع بھی ہوئے۔ اپنی تحریروں کو رسالے کی زینت بنتا دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی، جبکہ اساتذۂ کرام کی حوصلہ افزائی نے اس ذوق کو مزید تقویت بخشی۔ یوں مضمون نگاری رفتہ رفتہ محض ایک شوق نہ رہی بلکہ میری علمی زندگی کا مستقل حصہ اور روزمرہ معمول بن گئی۔

میری دوسری کتاب: تذکرۃ المصنفین

دورۂ حدیث کے زمانے میں دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ درسِ نظامی میں شامل کتابوں اور ان کے مصنفین کے تعارف پر ایک جامع کتاب تصنیف کی جائے، تاکہ طلبۂ علم کو اپنے نصاب اور مصنفین کے حالاتِ زندگی سے واقفیت حاصل ہو سکے۔ چنانچہ جب عرسِ حافظِ ملت میں شرکت کا موقع ملا تو آبروئے قلم حضرت علامہ عبدالمبین نعمانی مصباحی کی بارگاہ میں اس کتاب کی تصنیف کا ارادہ عرض کیا۔ حضرت نے نہ صرف اس خیال کو پسند فرمایا بلکہ بھرپور حوصلہ افزائی کے ساتھ قیمتی راہ نمائی بھی عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ پہلے ایک خاکہ مرتب کر کے مجھے ارسال کریں۔

اس سلسلے میں مزید معلومات اور مشورے حاصل کرنے کے لیے راقم الحروف نے ماولانا عطاء النبی حسینی مصباحی اور مولانا فیضان سرور مصباحی صاحبان سے بھی رابطہ کیا۔ ان حضرات نے بڑی شفقت کے ساتھ رہنمائی فرمائی اور مختلف پہلوؤں سے مفید مشورے دیے، جس سے اس منصوبے کی راہ مزید ہموار ہو گئی۔ یوں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کتاب پر باقاعدہ کام کا آغاز ہو گیا۔

جب تقریباً سو صفحات تیار ہو گئے تو مخطوطہ لے کر استاذِ محترم حضرت مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت نے نہایت توجہ کے ساتھ کام کا جائزہ لیا، خوشی کا اظہار فرمایا اور چند اہم علمی و تحقیقی نکات کی طرف توجہ دلائی، جن سے کتاب کے معیار میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ بعد ازاں مسلسل محنت، مطالعے اور تحقیق کے بعد کتاب کی تکمیل ہوئی۔

قبلۂ محترم علامہ عبدالمبین نعمانی مصباحی صاحب نے اپنی بے شمار مصروفیات کے باوجود مسلسل پانچ دن عنایت فرمائے اور پوری کتاب کی از اوّل تا آخر تصحیح فرمائی۔ ان کی اصلاحات، تجاویز اور دعاؤں نے اس تصنیفی کاوش کو مزید مؤثر اور قابلِ اعتماد بنا دیا۔ چنانچہ بحمدِ اللہ تعالیٰ، تصنیف کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد یہ کتاب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آ گئی، اور یوں ایک دیرینہ علمی آرزو پایۂ تکمیل کو پہنچی۔

ماہرِ قلم سے تربیت

راقم الحروف کی یہ خوش قسمتی ہے کہ تحریر و تصنیف کے میدان میں مجھے حضرت علامہ عبد المبین نعمانی قادری مصباحی مدظلہ العالی سے استفادے کا شرف حاصل ہوا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قلم و قرطاس کی غیر معمولی مہارت اور فکری بصیرت سے نوازا ہے۔ حضرت کی بارگاہ میں مجھے متعدد تصانیف مثلاً تذکرۃ المصنفین، امام احمد رضا بحیثیتِ مصنفِ اعظم، رضا کی زباں تمہارے لیے وغیرہ پیش کرنے کا موقع ملا، جن کی حضرت نے نہایت توجہ اور شفقت کے ساتھ تصحیح فرمائی۔ اس دوران جابجا اصلاحات کے ذریعے نہ صرف اغلاط کی نشاندہی فرمائی بلکہ یہ بھی سکھایا کہ تحریر کیسے مضبوط، مربوط اور مؤثر بنتی ہے۔

حضرت نے اس امر کی طرف خصوصی توجہ دلائی کہ کن امور کا لحاظ ضروری ہے، کن علمی و اسلوبی پہلوؤں سے احتیاط برتنی چاہیے، اور کون سی اہم باتیں تحریر میں رہ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یوں مختصر عرصے میں تحریر و تحقیق کے بہت سے بنیادی اصول سیکھنے کا موقع ملا۔

یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، اور جب بھی حضرت کی بارگاہ میں حاضری نصیب ہوتی ہے تو تحریر کے باب میں مزید رہنمائی اور علمی استفادے کا موقع میسر آتا ہے۔ حالیہ ایام میں جب حاضری ہوئی تو راقم الحروف نے تقریباً پانچ صفحات پر مشتمل ایک مضمون پیش کیا، جسے حضرت نے نہایت غور و تدبر سے پڑھ کر حسبِ سابق اصلاح و رہنمائی سے نوازا۔ اگر میرے قلم سے کوئی بھی اچھا کام یا قابلِ ذکر تحریر سامنے آتی ہے تو وہ دراصل حضرت کی شفقت، تربیت اور کرم نوازی کا نتیجہ ہے۔

میرے دو قابلِ ذکر اساتذہ

تحریر و تصنیف کے فن کے حوالے سے مجھے اپنے دو نہایت شفیق اور قابلِ احترام اساتذہ سے خصوصی رہنمائی حاصل رہی، جنہوں نے نہ صرف اصولِ تحریر سمجھائے بلکہ عملی طور پر اس میدان میں قدم قدم پر میری تربیت فرمائی۔ ان میں مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی اور مفتی سرفراز احمد مصباحی شامل ہیں۔

ان دونوں حضرات نے ہر موقع پر نہایت شفقت کے ساتھ راہنمائی فرمائی، اور جب بھی کوئی تحریر یا کتاب منظرِ عام پر آئی تو حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے اپنی دعاؤں اور نیک تمناؤں سے نوازا۔

بلاشبہ حوصلہ افزائی انسان کے اندر ہمت، اعتماد اور نئی توانائی پیدا کرتی ہے، اور یہی وہ قوت ہے جو انسان کو مزید محنت اور کام کے لیے آمادہ رکھتی ہے۔ انہی بزرگانہ شفقتوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ آج تصنیفی میدان میں مزید آگے بڑھنے، مسلسل لکھنے اور علمی خدمات کے دائرے کو وسیع کرنے کا جذبہ اور شوق حاصل ہوا ہے۔

آخر میں اگر ان دو اساتذہ کا ذکر نہ کروں تو بڑی ناشکری ہو گی، جنہوں نے مضمون نگاری کے متعلق کئی چیزیں سمجھائیں: مولانا عطاء النبی حسینی مصباحی اور مولانا فیضان سرور مصباحی۔

زمانۂ تخصص میں کتاب نویسی

جن دنوں راقم الحروف مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار ناگپور میں تخصص فی الحدیث کی سعادت حاصل کر رہا تھا، وہ ایام نہایت منظم، مصروف اور علمی اعتبار سے انتہائی قیمتی تھے۔ صبح سے عشاء تک مکمل وقت تخصص کی تعلیمی سرگرمیوں میں صرف ہوتا تھا، جن میں اسباق کی تیاری، مطالعہ، اساتذہ کی رہنمائی اور علمی مباحثے شامل رہتے۔ عشاء کے بعد بھی علمی سفر رکتا نہ تھا، بلکہ رات 11 بجے تک المدینۃ العلمیہ کے تحت مختلف تحریری و تحقیقی امور انجام دیے جاتے۔ اس کے بعد بھی محنت کا سلسلہ جاری رہتا اور رات تقریباً 2 بجے تک ذاتی علمی و تصنیفی کام میں مشغولیت رہتی، جس میں نئے موضوعات پر مطالعہ اور تصنیفی کام شامل ہوتا تھا۔

اسی مسلسل جدوجہد اور محنتِ شاقہ کے نتیجے میں اس مختصر سے دورانیے میں تقریباً 15 سے زائد کتب تصنیف ہوئیں، جن میں خاص طور پر علومِ حدیث کے موضوع پر بھی متعدد قابلِ قدر اور اہم کتابیں شامل ہیں، جو علمی ذوق اور تحقیق کے میدان میں ایک نمایاں اضافہ ہیں۔ نام درج ذیل ہیں:

  • نصاب علمِ حدیث

  • نصاب علم رجالِ حدیث

  • مصنفینِ صحاح ستہ

  • قواعدِ جرح و تعدیل

  • تدوین: شرح اربعینِ نوویہ وغیرہ

بعد ازاں مضمون نگاری اور کتاب نویسی کا سلسلہ مسلسل آگے بڑھتا رہا۔ علمی ذوق، مطالعے کی وسعت اور تصنیفی شوق نے اس کام کو مزید تقویت بخشی، یہاں تک کہ یہ مشغلہ رفتہ رفتہ مستقل علمی خدمت کی صورت اختیار کر گیا۔ اسی تسلسل اور محنت کا نتیجہ یہ ہے کہ اب تک راقم الحروف کی 50 سے زائد کتابیں ترتیب پا چکی ہیں۔ ان تصانیف میں مختلف علمی، دینی اور اصلاحی موضوعات شامل ہیں، جن میں سے متعدد کتابیں منصۂ شہود پر بھی آ چکی ہیں اور اہلِ علم و قارئین کے درمیان پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔ یہ سفر ابھی جاری ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی یہ علمی سلسلہ مزید وسعت اور پختگی کے ساتھ جاری و ساری رہے گا، ان شاء اللہ۔

ماہ ناموں میں مضامین کی اشاعت

درجۂ دورۂ حدیث سے لے کر تادمِ تحریر مضمون نگاری کا سلسلہ بحمدِ اللہ مسلسل جاری ہے، جس کے نتیجے میں مختلف علمی، دینی، تحقیقی اور اصلاحی موضوعات پر مضامین لکھنے کا موقع ملا۔ وقتاً فوقتاً مختلف ماہ ناموں، سہ ماہی جرائد، خصوصی نمبرات اور یادگاری اشاعتوں میں مضامین کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا، جنہیں اہلِ علم و قلم کی جانب سے پسندیدگی اور حوصلہ افزائی بھی حاصل ہوئی۔

اب تک جن ماہ ناموں، سہ ماہی جرائد اور خصوصی نمبرات میں راقم الحروف کے مضامین شاملِ اشاعت ہوئے، ان کی تفصیل درجِ ذیل ہے:

  • ماہ نامہ فیضانِ مدینہ

  • ماہ نامہ اشرفیہ

  • ماہ نامہ فخرِ بہار

  • سہ ماہی امجدیہ

  • سہ ماہی قومی آواز

  • سہ ماہی شعیب الاولیا

  • سہ ماہی القلم

  • ماہ نامہ التحقیقات

خصوصی نمبرات:

  • نکاح نمبر (تجلیاتِ زینت)

  • سیرتِ معلمِ کائنات نمبر

  • سیرتِ محمد رسول اللہ ﷺ

  • اسلام اور انسانی حقوق

  • اسلامی تعلیمات اور حقوق

تصانیفِ ابو حامد مدنی

بحمدہ تعالیٰ اساتذہ کے فیضان سے راقم الحروف کی پچاس سے زیادہ کتب و رسائل ہو چکے ہیں، اور کئی ایک پر کام جاری ہے۔ چند کتب و رسائل کے نام درج ذیل ہیں:

  1. تذکرۃ المصنفین

  2. مشاجراتِ صحابہ اور نظریۂ اہل سنت

  3. اختیاراتِ مصطفیٰ ﷺ

  4. جہان علومِ حدیث

  5. حلیۂ مصطفیٰ ﷺ

  6. شہرِ مصطفیٰ ﷺ

  7. حقوقِ مصطفیٰ ﷺ

  8. مصنفینِ صحاحِ ستہ

  9. قیامت کا دن

  10. لکھنا ضروری ہے

  11. مصنف بننے کی قیمت

  12. امام احمد رضا بحیثیتِ مصنف اعظم

  13. امام احمد رضا کے مختصر جوابات

  14. فضائل اصحاب مصطفیٰ

  15. رضا کی زباں تمھارے لیے

  16. خود کشی: اسباب و تدارک

  17. کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے

  18. شان صدیق اکبر بزبان محبوب اکبر

  19. ترجمہ: حسن الظن باللہ

  20. فیضان تاج الشریعہ

  21. نصاب علمِ حدیث شریف

  22. نصاب علمِ رجالِ حدیث

  23. قواعد جرح و تعدیل

  24. تدوین: شرح اربعین نوویہ

  25. جہان علوم حدیث

  26. تدوین: تاریخ علمِ حدیث

  27. ترجمہ: ائمہ جرح و تعدیل

  28. آبِ زم زم: فضائل و برکات

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!