| عنوان: | ”تصوف“ کیا ہے؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | سید سیف الدین اصدق چشتی (آستانہ چشتی چمن پیر بیگھہ شریف نالندہ، بہار) |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
”تصوف“ ایک ایسا نام ہے کہ جس کے ہم نواؤں اور چاہنے والوں کی جہاں کمی نہیں، وہیں بعض مکاتبِ فکر اسے شریعت کے منافی اور ایک باطل مذہب قرار دینے میں بھی پیش پیش ہیں، جبکہ علما اور صوفیہ کی اکثریت اسے قرآن و سنت کی روشنی میں باطنی پاکیزگی اور روحانی ترقی کا راستہ مانتی ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس کے لیے جھوٹے مدعیانِ تصوف بھی صدیوں سے مخالفینِ تصوف کو مواد و مواقع فراہم کرتے آ رہے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے تصوف کی تعریف اور حقیقت و ماہیت کو بیان کرنا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔
حدیثِ جبرائیل اور دین کے بنیادی احکامات:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اجنبی شخص آیا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سوالات شروع کیے:
۱: ”مَا الْإِيْمَانُ؟“ ایمان کیا ہے؟
۲: ”مَا الْإِسْلَامُ؟“ اسلام کیا ہے؟
۳: ”مَا الْإِحْسَانُ؟“ احسان کیا ہے؟
حضور پُرنور ﷺ نے سوالوں کے جوابات دیئے، تو ہر جواب کے آخر میں سائل ”صَدَقْتَ“ کہتا، جو ہمارے لیے باعثِ حیرت تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مہمان چلا گیا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھ سے فرمایا: اے عمر! تمہیں معلوم ہے یہ سائل کون تھا؟ میں نے عرض کیا کہ: اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:
”فَإِنَّهُ جِبْرِيْلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِيْنَكُمْ“
یعنی: ”یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔“ (صحیح مسلم، ج:۱، ص:۲۷-۲۸)
یہ سوالات و جوابات حدیثِ جبرائیل علیہ السلام کے نام سے معروف ہیں۔ حضور پاک ﷺ کے غلبۂ ہیبت کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سوالات کرنے کی جرأت بہت کم ہوتی تھی، دینی حقائق کو جاننے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو انسانی شکل میں بھیجا، تاکہ وہ سوال کریں اور معلمِ کائنات ﷺ جواب میں گوہر افشانی فرمائیں اور اس انداز سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دامن، علمی جواہر پاروں سے بھر جائے۔
محدثین کرام فرماتے ہیں کہ ”حدیثِ جبرئیل“ میں دین کے تین بنیادی احکامات کی تصریح کی گئی:
- پہلے احکامات وہ ہیں، جن کا تعلق خالص عقیدے کے ساتھ ہے، ان کو احکامِ نظریہ کہتے ہیں۔
- دوسری قسم کے احکامات وہ ہیں، جن کا تعلق ظاہری اعمال کے ساتھ ہے، ان کو احکامِ فرعیہ کہتے ہیں۔
- تیسری قسم کے احکامات وہ ہیں، جن کا تعلق باطنی اعمال کے ساتھ ہے، ان کو علم الاحسان کہا جاتا ہے۔
- علم الکلام: تصحیحِ عقائد کے سلسلہ میں کتاب و سنت میں جو ہدایات دی گئیں، ان کی حفاظت و خدمت کے لیے ”علم الکلام“ مدون ہوا۔
- علم الفقہ: اعمالِ ظاہرہ کے متعلق جو رہنمائی کتاب و سنت نے کی تھی، اس کی تشریح کے لیے ”علم الفقہ“ کو مدون کیا۔
- علم التصوف: اصلاحِ باطن کے متعلق جو باتیں کتاب و سنت نے بتائی ہیں، ان کی تفصیلات کے لیے ”علم الاحسان، علم الاخلاق“ یا ”علم التصوف“ مدون ہوا۔
اصلاحِ ظاہری و باطنی کا مفہوم:
یہ تینوں علوم قرآن و سنت سے کوئی الگ چیز نہیں، بلکہ کتاب و سنت کی روح اور ان کے ثمرات ہیں۔ حدیثِ جبرئیل کی رو سے ”علم الاحسان“ دین کا ایک اہم شعبہ ہے، جو زمانۂ حاضرہ میں ”علم التصوف“ کے نام سے زیادہ معروف ہے۔ اس میں انسان کے دل اور نفس کو پاک اور صاف کر کے اس کی اصلاح کی جاتی ہے، تاکہ اللہ کا دھیان اور رضا حاصل ہو جائے۔ اس اصلاح کے دو اجزاء ہیں:
- ظاہری اصلاح: اس سے مراد یہ ہے کہ ظاہری اعضاء سے صادر ہونے والے گناہ جیسا کہ جھوٹ، غیبت، چوری، زنا وغیرہ چھوٹ جائیں اور عبادات، معاملات اور معاشرت یعنی زندگی کے ہر شعبے میں اچھی صفات اپنا کر مکمل دین پر عمل ہونے لگے۔
- باطنی اصلاح: اس سے مراد یہ ہے کہ عقائد درست ہو جائیں، اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان مضبوط ہو جائے، دل و نفس کے گناہ اور بری صفات جیسے: حسد، بغض، کینہ، ریا اور تکبر وغیرہ کی اصلاح ہو جائے اور اللہ کی محبت اور اچھی صفات مثلاً: عاجزی، اخلاص، صبر، شکر، توکل، تسلیم و رضا اور خوفِ الٰہی وغیرہ حاصل ہو جائے۔
اکابرین و صوفیائے کرام کے نزدیک تصوف کی تعریف:
- امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ (م:۱۱۴ھ): ”تصوف اچھے اخلاق کا دوسرا نام ہے، جو اچھے اخلاق میں تجھ سے زیادہ ہے وہ تصوف میں زیادہ ہے۔“ (حقیقتِ تصوف و سلوک، ص:۹۶)
- حضرت ابوالحسین نوری رحمۃ اللہ علیہ (م:۲۹۵ھ): ”تصوف حظِ نفس چھوڑنے کا نام ہے۔“ (کشف المحجوب: باب سوم فی التصوف)
- حضرت ابو محمد جریری رحمۃ اللہ علیہ (م:۳۱۱ھ): ”تصوف ہر نیک خصلت سے مزین ہونا اور تمام بری عادتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا نام ہے۔“ (رسالہ قشیریہ، ص: ۱۲۷)
- حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (م:۲۹۸ھ): آپ فرماتے تھے کہ تصوف وہی پا سکتا ہے جس کے دائیں ہاتھ میں قرآن کریم اور بائیں ہاتھ میں سنّتِ رسول ﷺ ہو اور وہ ان ہی دو چراغوں کی روشنی میں اپنی زندگی کا راستہ طے کرے، تاکہ نہ شبہے کے گڑھوں میں گرے اور نہ بدعت کی تاریکی میں پھنسے۔ (تذکرۃ الاولیا: ص: ۸)
- حضرت محمد بن علی القصاب رحمۃ اللہ علیہ (م:۳۶۰ھ): ”تصوف اُن کریمانہ اخلاق کا نام ہے جو کسی کریم زمانہ میں کسی کریم انسان سے شریف لوگوں کے سامنے ظہور پذیر ہوں۔“ (رسالہ قشیریہ، ص: ۲۱۸)
- حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ (م:۱۰۳۴ھ): ”تصوف شریعت پر اخلاص سے عمل کرنے کا نام ہے۔“ (تصوف و سلوک، ص: ۱۳)
- حضرت احمد خرویہ رحمۃ اللہ علیہ: ”تصوف باطن کی گندگی اور کدورتوں سے پاکیزگی حاصل کرنے کا نام ہے۔“ (تصوف و سلوک، ص: ۱۲)
- حضرت مرتعش رحمۃ اللہ علیہ: ”تصوف اچھے اخلاق کے مجموعہ کا نام ہے۔“ (تصوف و سلوک، ص: ۱۲)
