Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق کے عادلانہ اصول (قسط: دوم)

طلاق کے عادلانہ اصول (قسط: دوم)
عنوان: طلاق کے عادلانہ اصول (قسط: دوم)
تحریر: مفتی محمد نظام الدین رضوی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ہاں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی شوہر بے رحم مل جاتا ہے اور بیوی کو ستاتا ہے، اسے لٹکائے رکھتا ہے جس کے باعث اس کی زندگی بھنور میں پھنسی رہتی ہے اور وہ اس کے آزار سے اس لیے چھٹکارا نہیں حاصل کر پاتی کہ طلاق کا اختیار اس کے ہاتھ میں نہیں، یا کبھی شوہر نامرد ہوتا ہے اس لیے عورت کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور شوہر اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا، یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یتیم بچی کا نکاح دور کے رشتہ والے غیر مناسب شخص کے ساتھ کر دیتے ہیں اور یہ اس کے لیے باعثِ اذیت ہوتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ شوہر پردیس گیا اور لاپتہ ہو گیا، اس کی زندگی بموت کا کوئی حال نہیں معلوم ہوتا اور عورت اس کے گھر پر بے سہارا نان و نفقہ سے محتاج ہونے کے ساتھ وظیفۂ زوجیت سے بھی محروم ہوتی ہے۔ اِن کے سوا بھی اس کی زندگی میں دوسری مشکلات پیش آتی رہتی ہیں جن سے دنیا اس کی نگاہوں میں تاریک سی نظر آتی ہے۔

اس کا علاج کیا ہے؟ کیا اسلام نے اس کی زندگی کو معمول پر لانے اور خوش گوار بنانے کے لیے کچھ انتظامات کیے ہیں؟ یہی وہ فکر انگیز سوال یا نازک موڑ ہے جہاں بعض خواتین پہنچ کر واویلا مچانے لگتی ہیں، کیوں کہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ اسلام نے صرف شوہر کو طلاق کا اختیار دے کر مصیبت زدہ اور بے سہارا عورتوں سے صَرفِ نظر کیا ہے اور جب انھیں کوئی حل نظر نہیں آتا تو وہ کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں۔

ہم ایسی بہنوں کو خاص کر اور تمام انسانی برادری کو عام طور پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام میں سارے آپشن (Option) کھلے ہوئے ہیں۔ اسلام نے یتیم بچیوں اور دوسری بلاؤں میں پھنسی ہوئی عورتوں کو وہ سہارا عطا کیا ہے جسے محسوس کر کے زبانِ دل بیساختہ رحمتِ اسلامی کی قائل ہو جاتی ہے۔
اسلام ایسی عورتوں کو بڑی فراخ دلی اور بشاشت کے ساتھ یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے سب سے بڑے عالم دین، مرجع فتویٰ کے یہاں عرضِ حال کریں پھر وہ جانچ کرے اور بیانات درست ہوں تو کچھ ضروری کارروائی کے بعد نکاح فسخ کر کے عدت کے بعد عورت کو اپنی صواب دید کے مطابق دوسرے شخص سے نکاح کی اجازت دے دے۔ ہمارے یہاں دارالافتاء جامعہ اشرفیہ [مبارک پور، ضلع اعظم گڑھ، اتر پردیش، ہند] میں ایسے تمام امور کی سماعت ہوتی ہے اور تفتیش و تحقیق کے بعد فیصلہ صادر کر کے عورتوں کی خوش گوار زندگی کا سامان مہیا کیا جاتا ہے۔

تفویضِ طلاق:
شوہر کے ممکنہ ظلم یا اُس پر افتاد کی صورت میں مصیبت سے رہائی کی ایک "صورت" تفویضِ طلاق بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عورت یا اُس کا وکیل نکاح کے وقت جب نکاح کا ایجاب کرے تو اس میں یہ شرط لگا دے کہ شوہر کی طرف سے پیش آنے والی مصیبت کی صورت میں اسے اپنے آپ کو طلاق بائن دینے کا حق حاصل ہوگا۔ اگر مرد عورت کی اس شرط کو نکاح میں قبول و منظور کر لیتا ہے تو اس کی طرف سے کوئی ظلم و زیادتی ثابت ہونے یا اُس کے لاپتہ ہونے پر بیوی کے مصیبت سے دوچار ہونے کی صورت میں اسے یہ حق ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو طلاق دے کر آزاد کر لے۔

اسلامی شریعت کی صدیوں پرانی کتابوں جیسے فتاویٰ قاضی خاں، ہدایہ، فتح القدیر، نہایہ، تبیین الحقائق، بحر الرائق، درمختار (وغیرہ) میں اور اردو زبان کی معروف و مستند کتابوں جیسے فتاویٰ رضویہ اور بہارِ شریعت (وغیرہ) میں بھی اس کے بارے میں واضح تصریحات موجود ہیں بلکہ اس کی بعض صورتوں کا ذکر تو صحیح بخاری و صحیح مسلم کی حدیثوں میں بھی ہے اور اس طرح اس کا تاریخی رشتہ عہدِ رسالت سے جڑا ہوا ہے۔
"تفویضِ طلاق" کا معنی ہے "طلاق کا اختیار سونپ دینا"۔ چوں کہ ہونے والا شوہر عورت یا اُس کے وکیل نکاح کے ذریعہ پیش کی گئی شرط پر اسے طلاق کا اختیار سونپ دیتا ہے اس لیے اسے بھی طلاق دینے کا حق مل جاتا ہے۔ اصل مالک طلاق کا، شوہر ہی ہے اور یہ بات سماج کے ہر صاحبِ فہم پر روشن ہے کہ کسی چیز کا مالک اپنے اختیارِ خاص سے دوسرے کو بھی اختیار سونپ کر اسے مالک بنا سکتا ہے بلکہ بناتا بھی ہے۔

فسخِ نکاح کی صورتیں:
مرجعِ فتویٰ مفتی کے ذریعہ نکاح فسخ کر کے عورت کو شوہر سے آزاد کرنے کی چند صورتیں یہ ہیں:

  1. تنگیِ نفقہ: شوہر غربت و افلاس کے باعث نفقہ کے انتظام سے عاجز ہو۔ اور تحقیق سے یہ ثابت ہو جائے کہ عورت مسلسل تنگیِ نفقہ کے آزار میں مبتلا ہے اور شوہر کی حالت جوں کی توں بنی ہوئی ہے یعنی محتاج ہے اور بیوی کے حق میں حاجتِ دائمہ متحقق ہے تو پہلے شوہر کو حکم ہوگا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر آزاد کر دے۔ اگر شوہر آمادہ نہ ہو تو حرجِ عظیم کے ازالہ کے لیے اجازت ہے کہ اب قاضی یہ نکاح فسخ کر دے۔
  2. مفقود الخبر: شوہر ایسا لاپتہ ہے کہ اس کی موت وحیات کا بھی سراغ نہیں ملتا، ساتھ ہی وہ نقد وجنس بھی مفقود ہے جس سے عورت کا کام چل سکے۔
  3. غیبتِ مُنقطعہ: شوہر غائب ہے اور یہ معلوم نہیں کہ کہاں ہے؟ کب آئے گا؟ ہاں! یہ معلوم ہے کہ وہ زندہ ہے خواہ کہیں بھی ہو۔
  4. نفقہ کی عدم فراہمی: شوہر غائب ہے مگر غیبتِ مُنقطعہ نہیں یعنی معلوم ہے کہ فلاں جگہ ہے مگر آتا نہیں اور نہ ہی کسی طرح اس سے نفقہ حاصل ہو پاتا ہے۔
  5. عورت کو لٹکائے رکھنا: شوہر موجود ہے مگر اس نے بیوی کو لٹکا رکھا ہے، نہ طلاق دے کر اسے آزاد کرتا ہے، نہ ہی اس کے حقوق (نان ونفقہ وغیرہ) ادا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان صورتوں میں عورت جہاں نان و نفقہ سے محروم ہے وہیں حقوقِ زوجیت سے بھی محروم ہے جس کے باعث اس زمانہ میں عورتوں کے مبتلاے گناہ ہونے کا عظیم خطرہ درپیش ہے۔ ان تمام صورتوں میں بھی آخر کار فسخِ نکاح کی اجازت ہے۔
  6. خیارِ بلوغ: میاں، بیوی کم عمر ہوں اور باپ، دادا کے علاوہ کسی اور نے ان کا نکاح کر دیا تو انھیں یہ اختیار ہے کہ بالغ ہو کر اپنے نفس کو اختیار کریں، پھر مفتی کے یہاں عرضِ حال کر کے نکاح فسخ کرا لیں۔
  7. مقطوع الذکر: شوہر مقطوع الذکر ہے یعنی اس کا آلۂ تناسل کٹا ہوا ہے۔
  8. عنین: یا عنین ہے یعنی آلۂ تناسل تو ہے مگر نامرد ہے۔ (یہ دونوں صورتیں ثابت ہونے پر بھی عورت کو شریعت فسخِ نکاح کا حق عطا کرتی ہے)۔
  9. خصی: جس مرد کے خصیے نکال لیے گئے ہوں۔
  10. خنثیٰ: یا شوہر خنثیٰ (ہیجڑا) ہے اور مرد کی طرح پیشاب کرتا ہے۔ یہ دونوں بھی عنین کے حکم میں ہیں۔

مزید تفصیل کے لیے کتاب "مجلسِ شرعی کے فیصلے"، (مطبوعہ مجلسِ شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور) کا مطالعہ مفید ہوگا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ فسخِ نکاح کا حق کس قاضی و مفتی کو حاصل ہے۔ جو عورت شوہر کی وجہ سے مبتلائے آفات ہو جائے اس کے لیے اسلامی شریعت نے آسانی کے جو راستے کھلے رکھے ہیں یہ ان کا ایک خاکہ ہے۔ اربابِ قانون و انصاف کے لیے دارالافتاء جامعہ اشرفیہ (قصبہ مبارک پور، ضلع اعظم گڑھ، اتر پردیش، ہند) کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ وہ یہاں سے مسلم پرسنل لا کے تعلق سے شرعی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

[ماخوذ از: اسلام کا نظامِ طلاق | صفحات: 77 تا 83]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!