”تصوف“ کیا ہے؟ (قسط: سوم)

”تصوف“ کیا ہے؟ (قسط: سوم)
عنوان: ”تصوف“ کیا ہے؟ (قسط: سوم)
تحریر: سید سیف الدین اصدق چشتی (آستانہ چشتی چمن پیر بیگھہ شریف نالندہ, بہار)
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

حضرات علمائے کرام نے علمی و نظری دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جبکہ حضرات صوفیہ نے اپنے اعمال و اخلاق اور سیرت و کردار سے اسلام کی صداقت کو مبرہن اور آشکارا کیا، اس لیے تصوف یا طریقت شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں تصوف اسلام کا عطر اور اس کی روح ہے، لیکن کوئی انسانی تحریک خواہ وہ کتنی اچھی کیوں نہ ہو جب افراط و تفریٹ، عمل و ردِ عمل کا بازیچہ بنتی ہے تو اس کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہتی۔

چنانچہ متکلمین نے اسلام کو یونانی فلسفہ کی زد سے بچانے میں بڑی قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے، لیکن آگے چل کر جب علمِ کلام کو شکوک و شبہات پیدا کرنے کا ذریعہ بنا لیا گیا تو یہی علمِ کلام مسلمانوں میں ذہنی انتشار برپا کرنے کا سبب بن گیا۔ یہی حال تصوف کا بھی ہوا کہ تصوف کی ہمہ گیر مقبولیت اور ہر دلعزیزی دیکھ کر جاہل یا نقلی اربابِ غرض صوفیوں کے بھیس میں اس جماعتِ صوفیہ صافیہ میں در آئے اور اپنی مقصد برآری کے لیے شریعت و طریقت میں تفریق کا نظریہ شائع کر دیا؛ مجاز پرستی، قبروں کی تجارت اور قسم قسم کے رسومات کو ہی تصوف، طریقت اور روحانیت کا نام دے دیا گیا۔ ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ محققین صوفیہ نے ہمیشہ ان گمراہیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے، اور ان فاسد عناصر کو تصوف سے خارج کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

اس جعلی اور غیر اسلامی تصوف کی بنا پر سرے ہی سے تصوف کا انکار کر دیا جائے اور اسے نوعِ انسانی کے لیے بمنزلہ افیون بتایا جائے اور الزام عائد کیا جائے کہ تصوف زندگی کے حقائق سے گریز کی تعلیم دیتا ہے اور اس نے مسلمانوں کے قوائے عمل کو مضمحل یا مردہ بنا دیا ہے تو یہ سراسر ناانصافی اور اسلامی تصوف پر ظلم ہوگا۔

بدقسمتی سے خود مسلمانوں کا ایک طبقہ جو براہِ راست اسلام اور اسلامی مآثر کا مطالعہ کرنے کی بجائے مستشرقین اور عیسائی مصنفین کے واسطہ اور انھیں کی مستعار عینک سے اسلامی علوم و معارف کو دیکھنے کا عادی ہے، اسلامی تصوف پر اسی قسم کے بیجا اور غلط اعتراضات کرتا رہتا ہے۔ یہ بات حق و صداقت اور انصاف و عدالت سے کس قدر بعید ہے کہ ہدفِ ملامت تو بنایا جائے اسلامی تصوف کو اور قبائح مدِ نظر رکھی جائیں غیر اسلامی تصوف کی! اسلام کے ان نادان دوستوں نے اپنے اس رویہ سے نہ صرف علم و تحقیق کا خون کیا بلکہ لاکھوں بندگانِ خدا کو تصوف کی حسنات و برکات سے محروم کر دیا۔ اس لیے اہلِ تصوف بندے کو اللہ سے بصارت کے ساتھ ساتھ نورِ بصیرت مانگنے کی بھی تعلیم دیتے نظر آتے ہیں۔
علامہ اقبال نے انھیں کی خوب ترجمانی کی ہے:

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں


محترم مولانا عارف مصباحی صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ کرے آپ بخیر و عافیت ہوں۔

آپ کی اکیڈمی کی جانب سے دو ماہی مجلہ بنام ”اذانِ اقصی“ کے اجرا کی خبر سن کر خوشی ہوئی۔ مجھ فقیر کو بھی آپ نے اس رسالے میں شرکت کی دعوت دی تو اچھا لگا۔ کرم بالائے کرم کہ اس ناچیز کے مشورے پر ”انوارِ تصوف“ کے نام سے اس مجلہ میں ایک گوشہ بھی آپ نے مختص کیا، اس کے لیے میں بے حد مشکور ہوں۔ ان شاء اللہ العزیز تصوف سے متعلق مستقل کالم لکھنے کی خدمت میں انجام دینے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا۔ فی الوقت اس کی شروعات مضمون بنام ”تصوف کیا ہے؟“ سے کر رہا ہوں۔

کتاب، مطالعہ اور اردو سے دور ہوتے زمانے میں اردو کا یہ مجلہ شائع کرنا، کس قدر صبر آزما کام اور خاردار راہ ہے، اس سے ہر صاحبِ فکر و شعور کو آگاہی ہے۔ لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ دین و سنیت کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کی بھی بہترین خدمت ہے۔ اللہ کریم اس کاز میں آپ کے ساتھ جملہ ذمہ دارانِ اکیڈمی کو ثابت قدم فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبک سید المرسلین۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!