| عنوان: | ”تصوف“ کیا ہے؟ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | سید سیف الدین اصدق چشتی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
علما و صوفیہ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ: ”تصوف کی ابتداء ”اِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“ (بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے) اور انتہاء ”اَنْ تَعْبُدَ اللهَ کَاَنَّکَ تَرَاهُ“ (یہ کہ اللہ کی عبادت ایسا کرے کہ گویا تو اس کو دیکھ رہا ہے) ہے۔“ (حقیقتِ تصوف و سلوک، ص:۹۷)
اکابرین و اسلاف کی تعریفات سے تقریباً یہی بات ثابت ہوتی ہے، جو تمہید میں نتیجہ کے طور پر عرض کی گئی، لہٰذا تصوف کوئی نئی یا اچھوتی چیز نہیں، بلکہ نفس و قلب کی اصلاح کر کے تمام ظاہری اور باطنی گناہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا اور اخلاقِ حمیدہ سے متصف ہونے کا نام ہے۔
ظاہر و باطن کی اصلاح سے کون واقف نہیں! بعثتِ نبوی ﷺ کا مقصد کتاب و حکمت کی تعلیم ہے وہیں تزکیۂ نفوس بھی ہے۔ تعلیم کا تعلق ظاہر سے ہے تو تزکیہ کا تعلق باطن سے ہے۔ اللہ کی رضا پر راضی رہنا، صابر و شاکر رہنا، حرص و ہوس سے بچنا، دنیا سے کم رغبتی، عمل میں اخلاص وللہیت، کبر و غرور سے دور و نفور، غصے کو ضبط کرنا، عاجزی و انکساری اور خدمتِ خلق جیسے اعلیٰ اخلاق اپنانے کو ہی احسان و تصوف کہتے ہیں۔
کون بندۂ خدا نہیں چاہتا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں رہے، کیونکہ حسنِ اخلاق ہی کی بدولت انسان دوسروں کے دلوں میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں، اللہ رب العزت بھی انسان سے یہی چاہتا ہے۔ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے:
”وَذَرُوْا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ“
یعنی: ”اور ظاہری و باطنی سب گناہ چھوڑ دو۔“ (الانعام:۱۲۰)
صاحبِ تفسیر خازن اس آیت کریمہ کی تشریح میں فرماتے ہیں:
”اَلْمُرَادُ بِظَاهِرِ الْإِثْمِ أَفْعَالُ الْجَوَارِحِ وَبَاطِنُهُ أَفْعَالُ الْقُلُوْبِ“ (تفسیر خازن، ج:۲، ص:۱۴۶)
یعنی: ”ظاہری گناہ سے مراد اعضاء و جوارح کے اعمال اور باطنی گناہ سے مراد دل کے اعمال ہیں۔“
شریعت پر کامل عمل کا نام ”تصوف“ ہے:
اہلِ اللہ اور صوفیائے کرام کے اقوال و افعال پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں فرائض و سنن اور دین و شریعت پر عمل کے حوالے سے کوئی نرمی اور لچک نہیں، بلکہ شریعت پر عمل، جسم سے روح تک ان کی کتابِ زندگی کا اصول و منشور ہے۔
حضرت سہل بن عبداللہ تستری جو متقدمین صوفیہ میں امتیازی مقام و مرتبہ کے حامل تھے فرماتے ہیں:
”اصولنا سبعة اشیاء التمسک بکتاب الله والاقتداء بسنة رسول الله صلی الله علیه وسلم واکل الحلال وکف الاذی واجتناب المعاصی والتوبة واداء الحقوق“ (التاج المکلل)
یعنی: ہمارے سات اصول ہیں:
- کتاب اللہ پر مکمل عمل
- سنتِ رسول کی پیروی
- حلال روزی کھانا
- اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچنے دینا
- گناہوں سے بچنا
- توبہ و استغفار
- اور حقوق کی ادائیگی
سلطان الہند سیدنا خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ (م:۶۳۳ھ) کا یہ مقولہ تاریخ اجمیر میں موجود ہے:
”اے لوگو! تم میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ترک کرے گا وہ شفاعتِ رسول ﷺ سے محروم رہے گا۔“
حضرت مخدوم سید جہانگیر اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ (م:۸۲۸ھ) فرماتے ہیں:
”یکے از ہمہ شرائط ولی است کہ تابع رسول علیہ السلام قولاً و فعلاً و اعتقاداً بود“ (لطائف اشرفی)
یعنی: ”ولی کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے قول، فعل اور اعتقاد میں پیرو ہو۔“
تصوف دراصل وہ رہنما ہے جو سالک کو ہر آن باخبر رکھتا ہے کہ دیکھنا کہیں مقصود نگاہ سے اوجھل نہ ہو جائے۔ وہ ہدایت کرتا ہے کہ جب تو بارگاہِ خداوندی میں نماز کے لیے کھڑا ہو اور یہ دیکھے کہ قبلہ رو ہے یا نہیں، جائے نماز اور کپڑے پاک ہیں یا نہیں، تو اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھ کہ تیرا تصور پاک ہے یا نہیں، دل مالک کائنات کی طرف ہے یا نہیں۔ سلطان المحققین، مخدومِ جہاں حضرت شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ (م:۷۸۲ھ) فرماتے ہیں:
- نماز پڑھنے کی جگہ کو نجاست کی آلودگی سے پاک کرنا شریعت ہے، اور بشری کدورتوں سے دل کو پاک کرنا طریقت ہے۔
- نماز سے پہلے وضو کرنا شریعت ہے، اور ہمیشہ باوضو رہنا طریقت ہے۔
- نماز میں قبلہ رو رہنا شریعت ہے، اور اس میں دل کو حق کی طرف متوجہ رکھنا طریقت ہے۔
- حواس کے اعتبار سے جو کچھ پیش آئے ان سب کی رعایت کرنا شریعت ہے، اور جو کچھ پردۂ قالب کے اندر ہے اس کی رعایت کرنا طریقت ہے۔
غرض تصوف ہر ہر قدم پر سالک کو خبردار رکھتا ہے کہ مقصودِ اصلی خدائے ذوالجلال والاکرام کے خیال سے دل غافل نہ ہونے پائے۔ ایک مرتبہ امام احمد بن حنبل کے تلامذہ نے ان سے سوال کیا کہ آپ بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کیوں جاتے ہیں وہ تو عالم و محدث نہیں ہیں؟ تو امام صاحب نے فرمایا کہ میں کتاب اللہ سے واقف ہوں مگر بشر اللہ سے واقف ہیں۔ اکبر الہ آبادی مرحوم نے بہت خوب کہا ہے:
قرآن رہے پیش نظر، یہ ہے شریعت
اللہ رہے پیش نظر، یہ ہے طریقت
اس حقیقت کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ فقیہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ، اے بندے اللہ کا نام لے، اور صوفی بھی یہی کہتا ہے کہ اللہ کا نام لے مگر اس طرح کہ وہ تیرے دل میں اتر جائے، یعنی صوفی کا کہنا یہ ہے کہ صرف زبان سے اللہ کا نام لینا کافی نہیں ہے، زبان کے ساتھ تیرا دل بھی ذاکر ہونا چاہیے۔ حاصلِ کلام یہ نکلا کہ تصوف یا احسان دل کی نگہبانی کا اصطلاحی نام ہے۔ حدیث جبرئیل میں ”أَنْ تَعْبُدَ اللهَ، کَأَنَّکَ تَرَاهُ، فَإِنَّکَ إِنْ لَّا تَرَاهُ، فَإِنَّهُ یَرَاکَ“ کا جملہ اسی دل کی نگہبانی کی انتہائی بلیغ اور پیغمبرانہ تعبیر ہے، امام العرفاء سید الانبیاء ﷺ نے اس مختصر جملے سے احسان یا تصوف کی پوری حقیقت بیان فرمادی ہے کیوں کہ راہِ تصوف کے تمام جہد و عمل، ذکر و فکر، محاسبہ و مراقبہ وغیرہ کا منشاء و مقصد یہی ہے کہ دل مشاہدہ و حضور کی متاعِ عزیز سے ہمکنار ہو جائے۔
تصوف کی مستند کتابوں مثلاً قوت القلوب از شیخ ابوطالب مکی، طبقات الصوفیہ از شیخ عبدالرحمن سلمی، حلیۃ الاولیا از ابو نعیم اصفہانی، الرسالۃ القشیریہ از امام قشیری، کشف المحجوب از شیخ علی بن عثمان ہجویری، تذکرۃ الاولیاء از شیخ فرید الدین عطار، عوارف المعارف از شیخ سہروردی، فوائد الفواد ملفوظات شیخ نظام الدین اولیا، مکتوبات صدی و دو صدی از شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری، خیر المجالس ملفوظات شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی وغیرہ کے صفحے کے صفحے الٹ جائیے صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً بھی کتاب و سنت کی تلقین ملے گی، اور معتمد طور پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اکابر صوفیہ کے مجاہدات، ریاضات اور مراقبات کی اساس و بنیاد قرآن و حدیث کی تعلیمات ہی ہیں، اور ان کی پاکیزہ زندگیاں اسلام کی جیتی جاگتی تصویریں تھیں۔
اسلامی تعلیمات میں محبتِ الٰہی، مکارمِ اخلاق اور خدمتِ خلق کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے، تصوف کی تعلیمات بھی انھیں ارکانِ ثلثہ پر مبنی ہیں۔ تاریخی شواہد کی بنیاد پر بلاخوفِ تردید یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حضرات صوفیہ ہی نے اپنی عملی جدوجہد کے ذریعہ ہر زمانے میں اسلام کے اخلاقی و روحانی نظام کو زندہ رکھا، صوفیہ سے بڑھ کر تبلیغ اور تعمیرِ سیرت کا فریضہ کسی جماعت نے انجام نہیں دیا۔ متکلمین، معتزلہ اور حکما نے صرف دماغ کی آبیاری کی جب کہ صوفیہ نے دماغ کے ساتھ دل کی تربیت اور اصلاح کی اہم ترین خدمت بھی انجام دی اور یہ بات کسی بیان و تشریح کی محتاج نہیں ہے کہ اسلام میں اصلی چیز دل ہے نہ کہ دماغ، اگر دل فاسد ہو جائے تو دماغ کا فاسد ہو جانا یقینی ہے، چنانچہ نبی صادق و مصدوق ﷺ کا ارشاد ہے:
”أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ“
یعنی: ”انسان کے جسم میں ایک عضو ہے اگر وہ صالح ہو جائے تو سارا جسم صالح ہو جائے اور اگر وہ فاسد ہو جائے تو سارا جسم فاسد ہو جائے، آگاہ ہو جاؤ وہ قلب ہے۔“ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث:۵۲)
