| عنوان: | تواضع اور عاجزی کی فضیلت (قسط:چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
123۔ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی حدیث مبارکہ کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں کہ "حضور ﷺ کی بارگاہ میں ایک برتن پیش کیا گیا جس میں دودھ اور شہد تھا۔" اس کے آگے یہ الفاظ ہیں: ’میں اس کو حرام نہیں جانتا۔‘ مزید آگے الفاظ یہ ہیں: ’جو کثرت سے موت کا ذکر کرتا ہے اللہ عزوجل اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔‘ [اتحاف السادة المتقين، كتاب ذم الكبر، ج 10، ص 253]
124۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزولِ سکینہ، فیض گنجینہ ﷺ چند صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ کسی جگہ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ دروازے پر ایک ایسا سائل آیا جو ایک موذی و ناپسندیدہ مرض میں مبتلا تھا لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے اسے اندر آنے کی اجازت مرحمت فرما دی، جب وہ اندر آیا تو آپ ﷺ نے اسے اپنے زانوئے مبارک کے ساتھ ملا کر بٹھا لیا اور اس سے ارشاد فرمایا: ’کھاؤ۔‘ تو قریش کے ایک شخص کو یہ بات ناگوار گزری اور اس نے نفرت کا اظہار کیا، پس وہ شخص اس وقت تک نہ مرا جب تک خود اسی موذی مرض میں مبتلا نہ ہو گیا۔ [المرجع السابق، ص 254]
شیخ الاسلام زین عراقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس حدیث کی اصل نہیں ملی البتہ بعض ایسی روایات ملتی ہیں جن میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ کے کوڑھ میں مبتلا شخص کے ساتھ کھانا کھانے کا ذکر ہے۔
125۔ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگار ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جب اللہ عزوجل کسی بندے کو اسلام کی ہدایت دے، اس کی صورت بھی اچھی بنائے، اسے ایسی جگہ رکھے جو اسے عیب دار نہ کرے اور ساتھ ہی اسے تواضع بھی عطا فرمائے تو وہ اللہ عزوجل کا مخلص دوست ہی ہو سکتا ہے۔" [المرجع السابق، ص 256]
حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور تواضع:
حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "تواضع یہ ہے کہ جب تم اپنے گھر سے نکلو تو جس مسلمان سے بھی ملو اسے اپنے آپ سے افضل جانو۔"
حضرت سیدنا مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور تواضع:
حضرت سیدنا مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: "اللہ عزوجل نے جودی پہاڑ کو سفینۂ نوح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے ساتھ خاص فرمایا کیونکہ یہ دوسروں سے زیادہ عجز و انکسار کا اظہار کرتا تھا اور حرا پہاڑ کو اپنے محبوب ﷺ کی عبادت کے ساتھ اس لئے خاص فرمایا کیونکہ یہ دوسرے پہاڑوں سے زیادہ تواضع کرتا تھا اور اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کے قلبِ اطہر کو اس لئے دیگر مخلوق سے ممتاز فرمایا کیونکہ یہ عجز و انکساری میں ان پر فوقیت رکھتا تھا۔"
