| عنوان: | تواضع اور عاجزی کی فضیلت (قسط:پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
تواضع اور عبرت:
ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: "میں نے کوہِ صفا کے قریب ایک شخص کو خچر پر سوار دیکھا، کچھ غلام اس کے سامنے سے لوگوں کو دور کر رہے تھے، پھر میں نے اسے بغداد میں اس حالت میں پایا کہ وہ ننگے پاؤں اور حسرت زدہ تھا نیز اس کے بال بھی بہت بڑھے ہوئے تھے، میں نے اس سے پوچھا: ’اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟‘ تو اس نے جواب دیا: ’میں نے ایسی جگہ رفعت چاہی جہاں لوگ عاجزی کرتے ہیں تو اللہ عزوجل نے مجھے ایسی جگہ رسوا کر دیا جہاں لوگ رفعت پاتے ہیں۔‘ "
باطنی امراض اور کبیرہ گناہ کی فہرست:
- کبیرہ نمبر 5: دھوکا دینا
- کبیرہ نمبر 6: نفاق
- کبیرہ نمبر 7: ظلم کرنا
- کبیرہ نمبر 8: تکبر کی بناء پر مخلوق کو حقیر جاننا اور اس سے منہ پھیرنا
- کبیرہ نمبر 9: بے فائدہ کاموں میں غور و خوض کرنا
- کبیرہ نمبر 10: طمع (لالچ)
- کبیرہ نمبر 11: تنگدستی کا خوف
- کبیرہ نمبر 12: تقدیر پر ناراض ہونا
- کبیرہ نمبر 13: مال داروں پر نظر کرنا اور مال کی وجہ سے ان کی تعظیم کرنا
- کبیرہ نمبر 14: تنگ دستی کی بناء پر فقراء کا مذاق اڑانا
- کبیرہ نمبر 15: حرص
- کبیرہ نمبر 16: دنیاوی کاموں میں مقابلہ بازی کرنا اور اس پر فخر کرنا
- کبیرہ نمبر 17: مخلوق کی خاطر حرام ذرائع سے زیب و زینت حاصل کرنا
- کبیرہ نمبر 18: فریب کاری
- کبیرہ نمبر 19: ناکردہ عمل پر تعریف کا خواہاں ہونا
- کبیرہ نمبر 20: اپنے عیوب بھلا کر لوگوں کے عیوب کی جستجو میں رہنا
- کبیرہ نمبر 21: نعمت کو فراموش کر دینا
- کبیرہ نمبر 22: دینِ اسلام کے خلاف کسی کی طرف داری کرنا
- کبیرہ نمبر 23: شکر ادا نہ کرنا
- کبیرہ نمبر 24: تقدیر پر راضی نہ رہنا
- کبیرہ نمبر 25: انسان کا حقوقُ اللہ عزوجل اور فرض احکام کو ہلکا جاننا
- کبیرہ نمبر 26: اللہ عزوجل کے بندوں کا مذاق اڑانا، ان کو دھتکارنا اور حقیر جاننا
- کبیرہ نمبر 27: حق سے منہ پھیرنا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا
- کبیرہ نمبر 28: مکر اور دھوکا دہی سے کام لینا
- کبیرہ نمبر 29: دنیاوی زندگی کو مطمحِ نظر بنا لینا
- کبیرہ نمبر 30: حق بات سے عناد رکھنا
- کبیرہ نمبر 31: مسلمان سے بدگمانی رکھنا
- کبیرہ نمبر 32: حق کو قبول نہ کرنا اس وجہ سے کہ وہ خواہشِ نفسانی کے خلاف ہو یا پھر ناپسندیدہ اور مبغوض شخص سے ظاہر ہو
- کبیرہ نمبر 33: بندے کا گناہ پر خوش ہونا
- کبیرہ نمبر 34: گناہ پر اصرار کرنا
- کبیرہ نمبر 35: نیکی پر تعریف کا خواہاں ہونا
- کبیرہ نمبر 36: دنیاوی زندگی پر راضی اور مطمئن رہنا
- کبیرہ نمبر 37: اللہ عزوجل اور آخرت کو بھلا دینا
- کبیرہ نمبر 38: نفس کے لئے غصہ کرنا اور اس کی باطل ذرائع سے مدد کرنا
بعض متاخرین ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے پانچ سے لے کر اڑتیس (38) تک مندرجہ بالا تمام گناہوں کے باہم ایک دوسرے میں کثیر تداخل کے باوجود علیحدہ علیحدہ کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔ یہ ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فقہ و معرفت، علم و عمل، ہدایتِ سالکین اور تربیتِ مریدین، ظاہری کرامات اور بیشمار اعلیٰ احوال و اخلاق کے جامع تھے، چنانچہ اس بحث کی ابتدا میں فرماتے ہیں کہ جہاں تک باطنی کبائر کا تعلق ہے تو مکلف پر ان باطنی کبائر کی معرفت حاصل کرنا واجب ہے تاکہ وہ ان کو زائل کرنے کی کوشش کر سکے، کیونکہ جس کے دل میں ان میں سے ایک بھی مرض ہوگا وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قلبِ سلیم لے کر حاضر نہ ہو سکے گا۔ الْعِیَاذُ بِاللہِ۔
ان باطنی امراض میں مَعَاذَ اللہ کفر، نفاق، تکبر، فخر، غرور، حسد، خیانت، کینہ پروری، ظلم کرنا اور غیر اللہ کے لئے ناراض ہونا یا غیر اللہ کے لئے غصہ کرنا، ریا کاری یا شہرت کے لئے عمل کرنا، ملاوٹ کرنا، بددیانتی، بخل، اور حق سے منہ پھیرنا وغیرہ شامل ہیں۔ پھر اس کے بعد فرماتے ہیں: ’ان جیسے گناہوں پر بندے کی مذمت کرنا اس کے زنا، چوری، شراب نوشی اور ان جیسے دیگر بدنی کبیرہ گناہوں پر مذمت کئے جانے سے بھی عظیم ہے کیونکہ اس کا فساد زیادہ اور نتیجہ برا اور دائمی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان جیسے کبیرہ گناہوں کا اثر حالت اور کیفیت بن کر دل میں راسخ ہو جاتا ہے جبکہ دیگر بدنی گناہوں کے اثرات جلد زائل ہو جاتے ہیں مثلاً کبھی توبہ و استغفار کے ذریعے تو کبھی گناہ مٹا دینے والی نیکی کے ذریعے زائل ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات کوئی مصیبت و پریشانی ان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔‘
1۔ اللہ کے محبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بے شک جسم میں خون کا ایک لوتھڑا ہے، جب یہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جائے گا اور جب یہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جائے گا، سن لو! وہ دل ہے۔" [صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدينه، الحدیث: 52، ص 6]
2۔ دل سارے اعضاء کا بادشاہ ہے اور دیگر اعضاء اس کے لشکر اور تابع ہیں، جب بادشاہ بگڑ جائے تو سارا لشکر بگڑ جاتا ہے، جیسا کہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ’دل بادشاہ ہے جبکہ دیگر اعضاء اس کے لشکر ہیں، جب بادشاہ اچھا ہو تو فوج بھی اچھی ہوتی ہے اور جب بادشاہ ہی خبیث ہو جائے تو فوج بھی خبیث ہو جاتی ہے۔‘
لہٰذا جسے ان امراض سے محفوظ دل عطا کیا گیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ عزوجل کا شکر ادا کرے اور جو اپنے دل میں ان میں سے کوئی مرض پائے اس پر اس بیماری کے زائل ہو جانے تک اس کا علاج کرنا واجب ہے، اگر وہ اس کا علاج نہ کرے گا تو گناہ گار ہوگا اور ان امراض کی موجودگی میں بندہ اسی صورت میں گناہ گار ہوتا ہے جب کہ وہ کسی گناہ کی نیت اور ارادہ اپنے دل میں کرے، محض دل میں خیال آنے یا سبقتِ لسانی سے زبان سے نکل جانے سے گناہ گار نہیں ہوتا۔
ان تمام گناہوں کو کبیرہ کہنا فقط اہلِ تصوف و معرفت کے طریقے کے مطابق ہے اور امام فقیہ انہی بزرگوں میں سے ہیں اسی لئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے اہلِ مذہب علمائے شافعیہ کے خلاف کلام کیا البتہ ان گناہوں میں بعض مُتَّفَقٌ علیہ کبیرہ گناہ بھی ہیں جیسے حسد، کینہ، ریا کاری، شہرت کے لئے عمل کرنا، تکبر اور خود پسندی وغیرہ جن کا ذکر ہو چکا ہے، اسی طرح اور بہت سے گناہ ایسے ہیں جنہیں کبیرہ کہا جا سکتا ہے اور یہ آپ عنقریب جان لیں گے جب ہم ان کے بارے میں سخت وعید پر دلالت کرنے والی احادیث بیان کریں گے۔
اصطلاحی معنی کے اعتبار سے ظلم فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہِ صغیرہ ہے کبیرہ نہیں جیسا کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کی تصریح کی ہے، اسی طرح بعض گناہوں کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی جیسے ترکِ زکوٰۃ کے بیان میں بخل اور لالچ کی اور غیبت کے بیان میں بدگمانی کی تفصیل ذکر کی جائے گی۔
ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے اس بات کہ ’دنیا پر خوش ہونا حرام ہے۔‘ کی تصریح کرنے والوں میں حضرت سیدنا امام بغوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی شامل ہیں، شاید سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے انہی سے یہ قول لیا اور اس پر یہ اضافہ کر دیا کہ یہ کبیرہ گناہ ہے کیونکہ یہ ایسی برائیوں کا پیش خیمہ ہے جس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ دنیا پر خوش ہونے کی حرمت کا محل اسی صورت میں ہے کہ جب یہ تکبر و فخر اور ہم عصر لوگوں کی تحقیر وغیرہ جیسی خرابیوں اور برائیوں پر مشتمل ہو جبکہ اپنی عزت قائم رکھنے، اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو لوگوں کے مال کی محتاجی سے بچانے کے لئے ہو یا محتاجوں کی مدد کے لئے ہو تو یہ خوشی محمود ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ0 [پ 11، یونس: 58]
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ان تمام گناہوں کی بنیاد بد اخلاقی اور دل کی خرابی پر ہے لہٰذا ہم اپنے اس باب کی ابتدا ان احادیث سے کرتے ہیں جو ان امراض یا ان کے متعلقات کی مذمت میں وارد ہوئیں۔
[جہنم میں لے جانے والے اعمال | صفحات: 253 تا 266]
