تذکرہ ملا احمد جیون ھندی حنفی

تذکرہ ملا احمد جیون ھندی حنفی
عنوان: تذکرہ ملا احمد جیون ھندی حنفی
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی
پیش کش: مجمع التصانیف

نام اور تاریخِ ولادت

اسم گرامی: علامہ احمد بن ابی سعید بن بہاء الحق ملا جیون حنفی ہندی رحمۃ اللہ علیہ۔
تاریخِ ولادت: حضرت ملا احمد جیون امیٹھوی ۲۵ شعبان المعظم ۱۰۴۷ھ / ۲ جنوری ۱۹۳۸ء (بمطابق متن) سہ شنبہ (منگل) کو صبح صادق کے وقت ضلع امیٹھی (اترپردیش، ہند) میں پیدا ہوئے۔

تعلیم و تربیت

استاذ الفقہ ملا احمد جیون رحمۃ اللہ علیہ اپنی تعلیمی سرگزشت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ناظرہ و حفظ قرآن کی تکمیل کے بعد ظاہری علوم کی تحصیل شروع کی اور کتابوں کے درس و مطالعہ میں تقدیم و تاخیر کی رعایت ملحوظ نہ تھی، لیکن پھر بھی خدا تعالی کے فضل وکرم سے ہر کتاب کا مفہوم سمجھ لیتا تھا اور انشراح صدر حاصل ہو جاتا تھا۔

ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ نے چار سال کی عمر سے حسب قاعدہ و معمول کے مطابق قرآن کریم حفظ کرنا شروع کیا، اور سات سال کی عمر میں حفظ قرآن مکمل کر لیا۔ جہاں تک تعلیم و تربیت کا سوال ہے، تو اولاً آپ نے اپنے والد ابو سعید کی علمی صحبت سے فیض اٹھایا، اور ان کی نگرانی میں قرآن پاک بھی حفظ کیا۔ بعد ازاں شیخ محمد صادق سترکھی اور ملا لطف اللہ سے مختلف علوم حاصل کیے۔ یہ سلسلہ سولہ سال کی عمر تک جاری رہا۔ ملا جیون نے بیشتر کتابیں شیخ محمد صادق سترکھی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں اور ۲۲ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔

تدریسی خدمات

حضرت ملا احمد جیون رحمۃ اللہ علیہ ایک جامع معقول و منقول اور حاوی اصول و فروع عالمِ دین تھے۔ تقریباً ۱۰۶۹ھ میں ۲۲ سال کی عمر میں مروجہ علوم و فنون کی تحصیل سے فارغ ہو گئے۔ بعد ازاں والد ماجد شیخ ابوسعید امیٹھوی کی مسندِ تدریس پر متمکن ہوئے اور بے شمار تشنگانِ علوم کو بحرِ علم وحکمت سے سیراب کیا۔ آپ کی بافیض درس گاہ سے ہزاروں تلامذہ مستفیض ہوئے اور ہر ایک نے اپنے ظرف و استعداد کے مطابق فیض پایا۔

شہنشاہِ ہند اورنگزیب عالمگیر، زیب النساء بنت اورنگزیب، فتاویٰ عالمگیری کے مرتب شیخ احمد بن منصور کوپاموی اور مفتی تابع محمد لکھنوی جیسے نابغہ روزگار علما آپ ہی کے تلامذہ ہیں۔ ملا جیون سے شرفِ تلمذ حاصل کرنے والے یہ وہ خوش بخت افراد ہیں جن کے اسما تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔ ان کے علاوہ خدا جانے آپ کے شاگردوں کی تعداد کتنی ہوگی۔

ڈاکٹر خلیل احمد شیر صدیقی لکھتے ہیں: ملا جیون نے درس و تدریس کی غرض سے مختلف مقامات کا سفر کیا اور اپنے چشمۂ علم سے لوگوں کو سیراب کیا۔ آپ کے پیدائشی شہر امیٹھی کے علاوہ جن جن مقامات پر آپ کے قدم مبارک بھی بغرضِ درس و تدریس پڑے، ان میں دہلی، لاہور، اجمیر اور حیدر آباد دکن قابلِ ذکر ہیں۔ امیٹھی میں قیام کے باوجود دہلی اور اجمیر میں بھی باقاعدہ درس کا انتظام کر رکھا تھا۔ خصوصی ایام میں یہاں رہ کر پابندی کے ساتھ درس دیتے تھے اور بے شمار لوگ آپ کی تعلیم سے فیضیاب ہوتے تھے۔ لاہور اور حیدر آباد دکن بھی آپ کی دینی خدمات کے اہم مقامات رہے ہیں۔ جہاں آپ کی علمی لیاقت، سادہ پسندی اور صوفیانہ روش سے اہلِ شہر متأثر تھے، اور بہت سے شرعی معاملات میں آپ سے استفسار کرتے تھے۔

علمی مقام

حضرت ملا احمد جیون امیٹھوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے جامع معقول ومنقول اور حاوی فروع و اصول عالمِ دین ہونے کے ساتھ بلا کے ذہین، طباع اور حیرت انگیز قوتِ حافظہ کے مالک تھے، درسی کتابوں کی مغلق اور پیچیدہ عبارتیں لفظ بہ لفظ بلا تکلف پڑھ ڈالتے، طویل ترین قصیدہ ایک بار سن لیتے تو وہ حافظہ میں محفوظ ہوجاتا اور وقتِ ضرورت زبانی سنادیتے۔ آپ کی بے مثال ذہانت، فکرِ ثاقب اور حیرت انگیز قوتِ حافظہ کا اعتراف تقریباً سارے تذکرہ نگاروں نے کیا ہے۔

زیارت حرمین طیبین

ملا احمد جیون اپنے تمام تر محاسن کے باوجود زیارت حرمین طیبین کے شرف سے بھی مشرف تھے۔ شوقِ زیارت اور درِ رسول ﷺ پر حاضری کے جذبۂ صادق نے ہی آپ کے ذوقِ سخن کی آبیاری کی اور آپ نے محبتِ رسول میں خود کو فنا کر کے نعتیہ قصائد نظم کیے۔ آپ اپنی پوری زندگی میں دو بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔ ایک مرتبہ ۱۱۰۲ھ میں، اس وقت آپ کی عمر ۵۵ سال تھی۔ اور دوسری بار ۱۱۱۴ھ میں آپ حرمین طیبین زادہا اللہ شرفاً وتعظیماً کے لیے عازمِ سفر ہوئے۔

بیعت و خلافت

حضرت ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ کو شریعت و طریقت کا علم اور سلوک کی معرفت کی چاشنی اپنے خاندان کے جلیل القدر علما و مشائخ سے وراثت میں ملی تھی اور آپ اس کے مستحق بھی تھے، اپنے آبا واجداد کے علمی و روحانی مشن کو جاری اور قائم باقی رکھنے کے لیے ملا جیون نے پہلے شریعت کی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اپنے والد شیخ ابوسعید امیٹھوی اور دیگر ائمہ طریقت و مرشدانِ روحانیت سے سلوک و تصوف کا درس لیا۔ قطبِ وقت قاضی محمد صادق سترکھی سے آپ نے شریعت بھی سیکھی اور علمِ طریقت بھی حاصل کیا۔ تو اس اعتبار سے قاضی محمد صادق سترکھی شریعت اور طریقت دونوں میں ملا جیون کے استاذ، مربی اور مرشد ہیں۔

خود فرماتے ہیں: ہم نے اکثر مشائخِ وقت سے ترقیِ نفس، تہذیبِ باطن اور سلسلہ نقشبندیہ و قادریہ میں رائج ذکر واذکار حاصل کیے اور سلسلہ قادریہ و چشتیہ میں بیعت و ارادت اور خلافت و اجازت کی سند، قطبِ وقت استادِ مکرم حضرت شیخ محمد صادق سترکھی سے حاصل کی۔

تصانیف

حضرت ملا احمد جیون امیٹھوی رحمۃ اللہ علیہ نے کئی کتابیں لکھیں، یہ تمام تصانیف عربی اور فارسی زبان میں ہیں جن کی تفصیل اس طرح ہے:

  • نسخہ آدابِ احمدی
  • خطبات جمعہ و عیدین
  • رسالہ منتخبات شاطبی در علم قراءت و تجوید
  • تفسیراتِ احمدیہ
  • نور الانوار شرح منار
  • سوائح بر مجازات لوائح ملا جامی
  • مناقبِ اولیا
  • خود نوشت سوانح
  • مثنوی بہ طرز مولانا روم
  • نعتیہ قصائد بہ طرز قصیدہ بردہ بوصیری
  • دیوان بہ طرز حافظ
  • عربی قصائد

یہ کل بارہ تصانیف آپ کے فکر وفن کی خوب صورت یادگار ہیں۔ اس وقت آپ کی جملہ تصانیف میں صرف تفسیراتِ احمدیہ اور نور الانوار ہی مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور اہلِ علم کے درمیان رائج و مقبول ہیں۔

ماخذ: (ملا جیون امیٹھوی حیات و خدمات، ص: ۳۷، ۴۲، ۴۵، ۵۲، ۱۴۰)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!