| عنوان: | تذکرہ محدثِ حجاز علامہ سید علوی مالکی |
|---|---|
| تحریر: | عمران رضا عطاری مدنی (بنارس) |
| پیش کش: | مجمع التصانیف |
نام، نسب اور تاریخِ ولادت
اسم گرامی: محدثِ اعظم حجاز علامہ محمد حسن بن علوی بن عباس بن عبدالعزیز بن عباس مالکی رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب: آپ کا خاندانی تعلّق ساداتِ کرام سے ہے۔ ۲۸ واسطوں سے سلسلۂ نسب حضرت خاتونِ جنّت سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا تک منتہی ہوتا ہے۔ آپ کا خاندان مالکی المذہب ہے۔ (مفتیِ اعظم ہند اور ان کے خلفا، ص: ۵۱۰)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت ۱۳۶۲ھ مطابق ۱۹۴۳ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔ (محدثِ اعظم حجاز، ص: ۲۳)
تعلیم و تربیت
علامہ علوی مالکی رحمۃُ اللہ علیہ نے کم سنی ہی میں حفظِ قرآنِ کریم کی سعادت حاصل کی، ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی اور مکہ مکرمہ میں مسجدِ حرام میں مختلف علماے کرام کے حلقہ ہاے درس میں شریک ہو کر، کتبِ متدوالہ کی تکمیل کی۔ علاوہ ازیں اسکول کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ مکۂ مکرمہ کے معروف مدرسہ الصولتیہ میں باقاعدہ تحصیلِ علم میں مشغول رہے، اور جدّہ کے الفلاح اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی۔ آپ کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ صرف پندرہ برس کی عمر میں اپنے والدِ گرامی کے حکم سے مسجدِ حرام میں طلبہ کو علومِ اسلامیہ کی بعض کتب کی تدریس شروع کر دی تھی۔ بعد ازاں جامعۃ الازہر مصر کے کلیہ اصول الدین سے اصولِ دین کے مضمون میں ایم اے اور پچیس برس کی عمر میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ جامعہ ازہر سے پی ایچ ڈی کرنے والے یہ پہلے کم عمر سعودی طالب علم تھے۔ آپ نے مکہ مکرمہ کے علاوہ مراکش، مصر اور پاکستان و ہند کا سفر کرکے بھی تحصیلِ علم کیا۔
بیعت و خلافت
علامہ علوی مالکی رحمۃُ اللہ علیہ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اپنے والدِ گرامی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، انہوں نے جمیع علومِ اسلامیہ اور سلسلۂ قادریہ و شاذلیہ میں خلافت عطا فرمائی۔ نیز مکۃ المکرمہ کے پانچ مشائخ نے آپ کو مختلف سلاسل میں خلافتیں عطا فرمائیں:
- مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ شاہ مصطفیٰ رضا خان نور مظہرہ: نے آخری حج ۱۳۹۰ھ/۱۹۷۱ء کے موقع پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اجازت و خلافت عطا فرمائی۔
- قطبِ مدینہ علامہ ضیاء الدین احمد مدنی: سے سلسلۂ قادریہ اور مولانا عبدالغفور مہاجر مدنی سے سلسلۂ نقشبندیہ میں اجازت و خلافت پائی۔
تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری، ماہرِ رضویات ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی، علامہ عبدالحکیم شرف قادری، مولانا علی احمد سندیلوی، علامہ یٰسین اختر مصباحی جیسے جید علمائے کرام کو آپ سے اجازتیں حاصل ہیں۔ (محدث اعظم حجاز، ص: ۲۷) آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کے علم و فضل کے بڑے مدّاح تھے اور پاک و ہند کے علما سے امامِ اہلِ سنّت کی نسبت کا ذکر سن کر بے حد تعظیم و تکریم فرماتے تھے۔ (مفتیِ اعظم اور اُن کے خلفا، ص: ۵۱۶)
علمی مقام
موصوف رحمۃُ اللہ علیہ کا شمار عالمِ اسلام کے ان برگزیدہ اور مقتدر علما میں ہوتا ہے جو اپنے علم و فضل، زہد و تقویٰ، تحقیق و تصنیف اور وسعتِ فکری کے پیشِ نظر امتِ مسلمہ کی عقیدتوں کا محور و مرکز رہے۔ آپ نے سعودی عرب میں رہتے ہوئے علی الاعلان مسلکِ اہلِ سنّت کے موقف کی بھرپور حمایت اور زندگی بھر دلائل کے ساتھ مردانہ وار دفاع کیا۔
وصال پُر ملال
آپ کا وصال بروز جمعۃ المباركة، ۱۵ رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ مطابق ۲۹ اکتوبر ۲۰۰۴ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوا، اور جنت المعلیٰ میں سیدہ خدیجۃ الكبریٰ رضی اللہ عنہا کے قریب مدفون ہوئے۔ (محدث اعظم حجاز، ص: ۲۹)
تصانیفِ لطیف
علامہ سید علوی مالکی میدانِ تصنیف و تالیف کے شہسوار تھے، جن میں سے چند اہم کتب درج ذیل ہیں:
- القواعد الاساسیہ فی علوم القرآن
- القواعد الاساسیہ فی مصطلح الحدیث
- القواعد الاساسیہ فی أصول الفقہ
- زبدۃ الاتقان فی علوم القرآن
- فضل المؤطا
- علم الأسانید
- المختار والتحقیق والتعلیق
- حول الاحتفال بالمولد النبوی الشریف
- شفاء الفواد بزیارۃ خیر العباد
- الزیارۃ النبویۃ بين الشرعيۃ والبدعيۃ
- المدح النبوي بين اغلو و الانصاف
- تحقيق الآمال فيما ينفع الميت من الاعمال
- البيان والتعريف في ذكرى المولد النبوى الشريف
- الانسان الكامل
- ادب الإسلام فی نظام الاسرۃ
- الطالع السعید المنتخب من المسلسلات والاسانید
- الدعوۃ الاصلاحیۃ
- قل ہذا سبیلی
- فی سبیل الھدی والرشاد
- المنھل اللطیف فی أصول الحدیث
- حول خصائص القرآن
- زکریات ومناسبات
- حاشیہ المختصر فی السیرۃ النبویۃ
- فی رجال البیت الحرام
- المستشرقون بين الانصاف والعصبية
- کشف الغمۃ
(مفتیِ اعظم ہند اور ان کے خلفا، ص: ۵۱۸)
